Tahaffuz Foundation

Tahaffuz Foundation Human Rights Protection Organization

31/03/2026

ام رباب آپ نے فتح حاصل کی اور سرداری نظام کو
شکست کا سامنا کرنا پڑا

31/03/2026
سندھ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے لے کر ایوانِ عدل کے ٹھنڈے کمروں تک، آج ایک بار پھر قانون کی کتابیں وڈیرے کی دہلیز پر سجدہ ری...
31/03/2026

سندھ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے لے کر ایوانِ عدل کے ٹھنڈے کمروں تک، آج ایک بار پھر قانون کی کتابیں وڈیرے کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوگئیں۔
انصاف کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے! ایک طرف ریاست کے طاقتور ستون، ڈالروں کی چمک اور 'سرداروں' کا استبداد تھا، تو دوسری طرف 'ہوا کی بیٹی' کے ننگے پاؤں اور آٹھ سالہ تھکا دینے والی مسافت۔"
"کیا سندھ میں غریب کی زندگی کا سودا چائے کی پیالی سے بھی سستا ہو چکا ہے؟

ایان علی سے لے کر ڈاکٹر فضیلہ عباسی تک، جہاں 'منی لانڈرنگ' کے کرداروں کو شاہانہ پروٹوکول ملے، وہاں ام رباب چانڈیو جیسی بیٹیوں کا نصیب صرف عدالتوں کی دھول اور اپیلوں کا لامتناہی جال کیوں ہے؟ آج میہڑ کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ نہیں آیا، بلکہ سندھ کے مظلوم طبقے کی امیدوں پر خ د کش ح@لہ ہوا ہے۔

امام رباب چانڈیو کے دادا والد اور چچا کو ق ت ل کیا گیا۔ ق ا ت ل و ں کا تعلق کسی اور جماعت سے نہیں پیپلزپارٹی سے ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے نوجوان لڑکی نے ہر قسم کے دباؤ کے باجود کیس سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
صبح 6 بجے عدالت پہنچ جاتی ۔ انصاف کیلئے جدوجہد کرتی۔چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت سندھ مظلوم کی معاون کرتی۔ انصاف دلاتی ۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔
دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے ق ت ل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت تمام 8 نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔
اس کیس کی تفصیلات پر جانے سے پہلے آپ کو یاد کرواتے ہیں۔ ۔ اک اور وڈیرہ شارخ جتوئی۔ جس نے کراچی میں شاہ زیب نامی نوجوان کو ق ت ل کردیا۔ بعد میں اعلی عدلیہ سے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے بری ہوگیا۔
شاہ زیب ق ت ل کیس میں کیا ہوا تھا۔ یہ تلخ حقیقت یاد رکھیں۔
شاہ زیب خان ق ت ل کیس کی ایف آئی آر کے مطابق بڑی بہن کے ولیمے سے واپسی پر فلیٹ کے نیچے شاہ زیب خان کی بہن سے مرتضیٰ لاشاری نے بدتمیزی کی جس کے بعد فریقین میں تلخ کلامی ہوئی اور فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب خان مارے گئے۔ اس مقدمے میں شاہ رخ جتوئی، ان کے دوست نواب سراج تالپور، سجاد تالپور اور ان کے ملازم غلام مرتضیٰ لاشاری کو نامزد کیا گیا تھا۔
ملزمان کی گرفتاری کے عمل میں نہ آنے کے بعد کراچی کے سماجی کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ’جسٹس فار شاہ زیب خان‘ کے نام سے مہم چلائی گئی جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اس کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد مفرور شاہ رخ جتوئی کو دبئی، نواب سراج تالپور کو نوشہرو فیروز اور دیگر ملزمان کو سندھ کے دیگر علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔
جون 2013 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو سزائے موت جبکہ دو کو عمر قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی تھی
2019 میں سندھ ہائی کورٹ نے ہی شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی جانب سے دائر بریت کی اپیل مسترد کر دی تھی تاہم ان کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 2012 میں پیش آیا تھا۔ تاہم دس سال بعد یعنی اکتوبر 2022 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے 10برس بعد کراچی میں شاہ زیب خان نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انھیں مقدمے سے بری کر دیا تھا۔
شارخ جتوئی بھی اک وڈیرے کا فرزند تھا۔
جس نے بری ہونے کے بعد وکٹری کا نشان بنا کر عدالتی نظام کا مزاق اڑایا تھا۔

سندھ کی بیٹی ام رباب چانڈیو کو 8 سال سے اوپر ہوگئے۔
عدالت کے مطابق سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام ملزمان کو باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ مقدمہ میہڑ کے تہرے قتل کیس سے متعلق تھا جو تقریباً 8 سال 3 ماہ تک عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ کیس کے دوران مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسین کلوڑ نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
فیصلہ سنانے سے قبل سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ ضلع بھر کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 6 ڈی ایس پیز اور 589 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل کی گئیں۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مدعی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں، دنیا حیران ہے کہ سندھ میں سردار وڈیروں کو ق ت ل کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے، میرے حوصلے بلند ہیں، میں عدالتی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کروں گی۔
امام رباب کو سندھ ہائیکورٹ میں اپیل کرنے سے انصاف نہ ملا تو راستہ اعلی عدلیہ کا ہے۔ یعنی وہاں تک جاتے مزید 8 سے دس لگ جائیں گئے۔ بعد میں وہی کہ کوئی شارخ جتوئی وکٹری کا نشان بناتے نکلے گا او ر نظام انصاف کا مزاق اڑائے گا۔
کچھ میڈیا رپورٹس کے "جب سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے قافلے اپنے علاقے میں پہنچے، تو فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی۔ یہ ہوائی فائرنگ محض جشن نہیں تھی، بلکہ یہ ام رباب کی آٹھ سالہ جدوجہد کے سینے پر چلنے والی گولیاں تھیں۔ یہ گولیاں اس عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ تھیں جو دس سال بعد شاہ رخ جتوئی کو 'وکٹری کا نشان' بنانے کی اجازت دیتا ہے۔"

"آج سندھ کا وڈیرہ سسٹم جیت گیا، مگر ریاست ہار گئی۔ آج قانون کی بالادستی کا تماشہ سرِ عام لگایا گیا۔ ام رباب چانڈیو نے تو کہہ دیا کہ وہ ہائی کورٹ جائیں گی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہائی کورٹ کی سیڑھیاں اسے انصاف دیں گی یا مزید دس سال کی ذلت؟ کیا پھر سے کوئی 'بااثر فرزند' قہقہہ لگاتے ہوئے زنجیریں توڑ کر نکل جائے گا؟"
"یاد رکھیے! جب عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا، تو پھر تاریخ کے فیصلے بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ ام رباب کے آنسو شاید آج کسی کو نظر نہ آئیں، لیکن بندوق کے سائے میں منایا جانے والا یہ جشن، اس نظام کی بربادی کا وہ نوحہ ہے جسے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔"

06/03/2026

تحفظ فاونڈیشن جیلوں میں قید ایسے قیدی جو کہ اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن عدم ادائیگی جرمانہ کی وجہ سے قید کاٹ رہے ہیں ان کی رہائی کے لئیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے

23/08/2025

آخر کیوں؟

رئوف کلاسرا

اگلا نشانہ اسلام آباد؟

مجھے اسلام آباد میں رہتے ہوئے 27 برس بیت چکے ہیں۔ یہیں کیریئر بنایا اور یہیں فیملی۔ بچے یہیں پیدا اور بڑے ہوئے۔ اسی شہر میں دوستیاں‘ دشمنیاں بنیں۔ پوٹھوہار کی اس دھرتی کا ہی کھایا پیا اور خود کو ہمیشہ اس دھرتی اور اس کے لوگوں کا وفادار محسوس کیا۔ انہی سے رشتے‘ دوستیاں گانٹھیں۔ کبھی مقامی لوگوں کے خلاف غصہ‘ نفرت یا بغض نہ رکھا جیسے عموماً باہر سے آنے والے لوگ ہر جگہ کرتے ہیں کہ خود کو مقامیوں سے بہتر سمجھو‘ یا ان کا مذاق اڑاؤ یا ان کے کلچر‘ زبان یا روایات کا احترام نہ کرو۔ اکثر لوگ احساسِ برتری کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ فطرتاً باہر سے آنے والا زیادہ محنتی اور ہوشیار ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس محنت کے علاوہ اور کوئی چانس نہیں ہوتا۔ اگر وہ محنت نہیں کرے گا تو وہ بھوکا مرے گا اور پھر واپس اپنے گاؤں چلا جائے گا۔ لہٰذا وہ ہر قسم کا کام کر لے گا اور خوب دل لگا کر کرے گا تاکہ جلدی وہ کامیاب ہو جائے۔

کامیاب ہو کر اکثر وہ مقامی لوگوں کو نالائق اور نکما سمجھ کر ان کی عزت نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ نالائق ہیں۔ اگر وہ کسی اہم عہدے یا کامیاب کاروبار کا مالک بن گیا ہے تو اب اسے سب لوگ نالائق اور نکٹھو لگتے ہیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ امریکہ میں بھی جو امیر پاکستانی ہیں وہ اکثر گلہ کرتے ہیں کہ مقامی گورے جب انہیں بڑی بڑی گاڑیوں یا ملین ڈالر گھروں میں رہتے دیکھتے ہیں تو ان کی شکایتیں ایف بی آئی یا دیگر اداروں کو کر دیتے ہیں کیونکہ وہ خود بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔

درحقیقت وہ اس طرح محنت نہیں کرتے جس طرح باہر سے آنے والا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی بقا کا مسئلہ ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی جان داؤ پر لگا دیتا ہے۔ جبکہ مقامی لوگ اکثر اس لیے زیادہ متحرک نہیں ہوتے کہ ان کے پاس زندگی کی سب بنیادی ضروریات موجود ہوتی ہیں۔ وہ سیٹل ہوتے ہیں لہٰذا وہ ویسی محنت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسی باہر سے آنے والے کرتے ہیں۔ یا وہ اپنے حصے کی محنت بہت پہلے کر چکے ہوتے ہیں اور اب ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر کچھ مطمئن ہوتے ہیں اور زندگی کا پہیہ چلا ر ہے ہوتے ہیں۔ باہر سے آنے والے نے ابھی وہ طویل سفر طے کرنا ہوتا ہے لہٰذا وہ دن رات محنت کرتا ہے۔ مقامی لوگ کسی مرحلے پر بھی باہر سے آنے والوں کو آگے نکلتے دیکھ کر حسد اور غیریقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں اور یوں دونوں طبقات کے درمیان ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی خطۂ پوٹھوہار کی‘ اس خطے کی اپنی خوبصورتی ہے جو آپ کو اپنے رومانس میں جکڑ لیتی ہے۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ یہ خوبصورتی شدید خطرے میں ہے۔ شہر کے اندر بھی اور شہر سے باہر بھی۔ اگر آپ شہر سے باہر کی خوبصورتی برباد ہونے کی تفصیل جاننے کی کوشش کریں تو اندازہ ہو گا کہ آپ اسلام آباد سے براستہ موٹر وے لاہور کی طرف جائیں تو معلوم ہو گا کہ ان چند برسوں میں وہاں کیا تباہی مچ گئی ہے۔ آپ کو ہر طرف رہائشی سکیمیں ہی نظر آتی ہیں۔ لوگوں نے پلاٹ لے کر رکھے ہیں کہ کسی دن ریٹ اچھا ملے گا تو بیچ کر مال کمائیں گے۔ کچھ نے وہاں رہائشی کالونیاں بنا لی ہیں‘ بڑی بڑی عمارتیں بن گئی ہیں۔ چکری کے قریب ہزاروں ایکڑ پر محیط پہاڑی علاقوں کو بلڈوز کرکے وہاں ہاؤسنگ سکیمیں بنا دی گئی ہیں۔ ابھی بارش ہوئی تو یہ سب نچلے علاقے ڈوب گئے کیونکہ وہ پہاڑی علاقوں میں بارشی پانی کے فطری راستے میں آتے تھے۔ ان ہاؤسنگ سکیموں نے سب کچھ ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے۔

حیران ہوتا ہوں کہ اسلام آباد صرف چوبیس کلو میٹر پر محیط شہر ہے‘ وہاں سینکڑوں ہاؤسنگ سکیموں کی کیا تُک بنتی ہے۔ چلیں آٹھ دس کی سمجھ آتی ہے لیکن سینکڑوں کیوں؟ مجھے یاد پڑتا ہے کہ چند برس قبل قومی اسمبلی میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد کی حدود میں 120 غیرقانونی ہاؤسنگ سکیمیں ہیں‘ مطلب جن کے پاس سی ڈی اے کا این او سی نہیں ہے۔ اب اندازہ کریں کہ 120 غیرقانونی سکیمیں تھیں تو قانونی کتنی ہوں گی۔ یوں اُس شہر میں جہاں نہ کوئی بڑی مل ہے‘ نہ انڈسٹری ہے‘ نہ ہی ساحلی علاقہ کہ وہاں سے تجارت ہوتی ہو‘ نہ ہی یہ کسی ایسے سنگم پر واقع ہے کہ یہاں سے دوسرے ملکوں کے قافلے یا تاجر گزرتے ہوں کہ یہاں تجارتی سرگرمیاں بہت زیادہ ہوں اور لیبر کی بہت ضرورت پڑتی ہو۔

دو‘ تین دہائیوں پہلے اسلام آباد چند کلومیٹرز پر مشتمل سرکاری ملازمین کا ایک شہر تھا‘ لیکن اب ایک بہت بڑا تجارتی شہر لگتا ہے‘ جو مزید پھیل رہا ہے۔ اس شہر میں پانی نہیں ہے لیکن ہر روز نئے پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اب اس شہر کا رُخ کر رہے ہیں۔ 1998ء میں اس شہر کی آبادی آٹھ لاکھ تھی جو اَب 30 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ شہر کا انفراسٹرکچر جو چند لاکھ افراد کیلئے بنایا گیا تھا‘ وہ بھی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
اب شہر کے اندر مزید گھروں کی گنجائش نہیں رہی تو لوگوں نے مارگلہ اور چکری کے پہاڑوں اور بارہ کہو کا رخ کر لیا ہے اور ہر طرف پہاڑوں کی کٹائی جاری ہے۔

اگر آپ ڈی12 سیکٹر میں کھڑے ہو کر سامنے شاہ اللہ دتہ میں مارگلہ پہاڑوں کو دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک بڑا سفید محل تعمیر ہو چکا ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ محل ایک افغان وار لارڈ کے کسی عزیز کا ہے جو اس نے مارگلہ پہاڑ کاٹ کر بنایا ہے۔

یہ اکیلا گھر نہیں ہے بلکہ اب پورا مارگلہ پہاڑ گھروں میں گھر گیا ہے۔ وہاں درختوں اور پتھروں کی کھدائی تیزی سے جاری ہے۔ ہر طرف آپ کو گھر ہی گھر نظر آتے ہیں۔ یہ سب گھر پچھلے ایک سال میں پہاڑوں کو گنجا کرکے اچانک تعمیر ہوئے ہیں۔

کل پرسوں میں حامد میر کے ایک پروگرام میں ایک ماہر کو سن رہا تھا‘ جس نے کہا کہ اب بونیر جیسا آسمانی طوفان یا کلاؤڈ برسٹ اسلام آباد میں بھی ہونے کا شدید خطرہ ہے اور وجہ وہی بونیر والی بتائی جا رہی ہے۔ بونیر میں بھی درخت کاٹے گئے‘ پہاڑوں سے درختوں کو نکالنے سے پتھروں کی جڑت کمزور ہوئی۔ یوں جب بارش شروع ہوئی تو پتھر‘ جو پہلے درختوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے‘ اب مٹی کے کھسکنے سے آسانی کے ساتھ پانی میں بہتے ہوئے انسانی آبادیوں کی طرف بڑھے اور یوں لگا جیسے بونیر میں پانی کی نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہوئی ہو۔ درخت ہی ان پتھروں کو روک سکتے تھے جو کاٹ کر بیچ دیے گئے تھے۔

اب ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جس طرح اسلام آباد کے گرد و نواح میں پہاڑوں کو گنجا کیا جا رہا ہے‘ ان کی کرشنگ کی جا رہی ہے‘ درخت کاٹے جا رہے ہیں اور مارگلہ پہاڑوں پر گھر تعمیر ہو رہے ہیں اور متعلقہ افسران سکون سے سو رہے ہیں‘ یہاں بھی اب خطرات بڑھ گئے ہیں کہ بونیر جیسی خطرناک صورتحال اسلام آباد میں بھی پیش آسکتی ہے۔ درختوں کے مسلسل کٹاؤ کی صورت میں مارگلہ اگر خدانخواستہ کسی کلاؤڈ برسٹ کو برداشت نہ کر سکا تو پورے شہر کو اس طرح پتھروں اور کیچڑ سے بھر دے گا جیسا بونیر میں ہوا ہے۔

یہ طے ہے کہ اس شہر کے حاکم ہوں یا سرکاری بابو‘ ان کے پاس نہ اتنا وژن ہے نہ ہی ان کی نیت ہے۔ اسلام آباد شہر کے اندر جو ترقیاتی کاموں کے نام پر کھدائی اور مارگلہ پہاڑوں پر درختوں اور پتھروں کی بربادی ہورہی ہے اور پہاڑوں پر گھر بسائے جارہے ہیں‘ ان کی وجہ سے ایک دن بے رحم فطرت پلٹ کر ہم سب پر حملہ آور ہو گی جیسے بونیر میں ہوئی ہے اور کسی کو نہیں چھوڑا۔ قدرت کے ساتھ چھیڑ خانی سب کو مہنگی پڑنے والی ہے کیونکہ قدرت اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی۔

04/12/2024

راولپنڈی میں زیر تعمیر زچہ و بچہ ہسپتال کی حالت زار پر تفصیلی رپورٹ۔

راولپنڈی میں  طویل عرصہ سے زیر التوا زچہ و بچہ ہسپتال کو مکمل کر کے  مریضوں کے لیے مکمل ظور پر فعال کرنے کے متعلق  " تحف...
22/11/2024

راولپنڈی میں طویل عرصہ سے زیر التوا زچہ و بچہ ہسپتال کو مکمل کر کے مریضوں کے لیے مکمل ظور پر فعال کرنے کے متعلق " تحفظ فاونڈیشن کی جانب لاہور ہایی کورٹ راولپنڈی میں رٹ پٹیشن داہر کر دی گیی رٹ پییٹشن کی پیروی ملک صالح ایڈووکیٹ نے کی عدالت عالیہ کے جج مرزا وقاص روف نے ملک صالح ایڈووکیٹ کے دلایل اور مفاد عامہ کے پیش نظر
چیف سیکرٹر ی پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ کو نوٹس جاری کردیا

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahaffuz Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share