23/08/2024
مختصر تذکرہ بحر العلوم تاج العلماء محسن علاقہ چھچھ مفتی
بابا جی پیرزئی شریف رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت1902ء۔۔۔ وصال1985ء)
*کسی زمانہ میں طالبانِ علم سالکانِ طریقت حصولِ علم کیلئے سمرقند بلخ وبخارا کا رخ کرتے تھے.پھر ایک وقت آیا چھچھ اور ہزارہ کی سرزمین کو وہ مقام حاصل ہو گیا اور علمی دنیا میں یوں مشہور ہوا " الچھچھ والھزارہ کالبلخ والبخارہ"
علاقہ چھچھ کو یہ علمی مقام دینے میں یہاں کے بڑے بڑے جید و مستند علماء کا علمی روحانی شہرہ تھا
کابل ،قندار ،افغانستان جیسے ملکوں کے طلباء شرعی علوم کی پیاس بجھانے میں یہاں آئے
چھچھ کے اُن نامور علمائے کرام میں ایک نام مرد درویش مردِ کامل شیخ الحدیث والتفسیر مردِ مجاھد استاذ الاساتذہ بحر العلوم شان ونشان علاقہ چھچھ حضرت مولانا مفتی محمد عبد الحق المعروف بابا جی صاحب پیرزئی شریف رحمۃاللّٰہ علیہ قدس سرہ کا بھی ھے*.
(پیدائش وخاندان)
حضرو شہر کے قریب گاؤں پیرزئی میں پٹھانوں کےمشھور قبیلے علی زئی میں 1902ءکو ایک نامورمذہبی شخصیت حضرت مولانا ملک شیر محمد خان علیہ الرحمہ کے گھرمیں آنکھ کھولی
آپ کے خاندان کا آبائی پیشہ زمینداری تھا.
آپ علیہ الرحمہ دو بھائی تھے عبدالحق اور فضل حق
فضل حق آپ کے چھوٹے بھائی تھے وہ زمیندارہ کرتے تھے اور آپ کو قبلہ والد صاحب نے دینی علوم کے حصول پر لگا دیا
آپ کے والد گرامی مولانا محمد شیر خان قادری رحمۃ اللہ علیہ صوفیا کے سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے
کافی عرصہ بغداد شریف (عراق)میں پیران پیر حضور غوث الاعظم الشیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف اور مسجد شریف کی خدمت کرتے رہے
حضور غوث پاک کی اولاد پاک میں اس زمانے کے جانشین سید صاحب رحمة اللہ علیہ کے دست حق پربیعت ہوئے یوں حضرت کو علم دین سے بہت ہی پیار اور شغف نصیب ہوا اسی جذبہ دینی کے تحت آپ کو اپنے بیٹے عبدالحق کو علم دین کے حصول کے لیے وقف کرنا پڑا*
(علمی پسِ منظر)
*ابتدائی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی.اس کے بعد امام الصرف مولانا محمد حسین المعروف کامری بابا جی علیہ الرحمہ امام المناطقہ مولانا قطب الدین علیہ الرحمہ غورغشتوی.مولانا عبدا للٰہ جان علیہ الرحمہ جلا لیہ مفتی اعظم میا ں محمد عبد الحق علیہ الرحمہ غورغشتوی استاذالعلماء علامہ یار محمد بندیالوی علیہ الرحمہ سے حسبِ ضرورت علوم اسلامیہ میں اکتسابِ فیض کیا,
فنون سے فراغت کے بعد علم حدیث کے حصول کے لیے ہندوستان کے مختلف مقامات میں اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ میں مہارت حاصل کی اور آخر میں حضرت مولانا عبدالرحمن امروئی رحمة اللہ علیہ سے حدیث پاک کی متداولہ کتب کا درس لیا قبلہ بابا جی عبدالحق رحمة اللہ علیہ اپنے استاد مولانا عبدالرحمن امروہی رحمۃ اللہ علیہ کے تقوی و طہارت اور مذہب فرعیہ حنفیہ میں پختہ ہونے کی تعریف اکثر فرمایا کرتے تھے اور عقیدہ میں ماتریدیہ عقائد کا پیروکار ہونا بیان فرماتے تھےواپس آ کر شعبہ تدریس سے منسلک ھو گئے یوں آپ نے علمی روحانی مشہور آستانے مکھڈ شریف و بھیرہ شریف میں کچھ عرصہ پڑھایا...پھر گاؤں واپس آکر کچھ دن آبائی گاؤں پیرزئی شریف کی مسجد میں چند طلباء کو درس دیتے رھے.... کنواں میاں صا حب حضرو میں بھی علوم اسلامیہ میں خدمات سرانجام دی.
(جامعہ مفتاح العلوم کی بنیاد)
1945ءکو جامعہ مفتاح العلوم کا پہلا افتتاح بن گئی گاؤں کی جامع مسجد میں چند طلباء کو اسباق شروع کروا کر کیاگیا..
پھر سڑک کے کنارے باقاعدہ افتتاح 1955ء کو کیا جہاں آج جامعہ کی عالیشان عمارت کھڑی ھے اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری ھے
آپ کے تلامذہ کا سلسلہ برصغیر میں کابل قندھار تک پھیلا ہواھے خصوصاً علاقہ چھچھ میں موجود جید علماء کرام ومفتیان عظام آپ کے تلامذہ میں شمار ھوتے ھیں...
تحریک پاکستان میں حصہ
جب تحریک پاکستان چلی تو قبلہ بابا جی علیہ الرحمة نے تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مسلم لیگ کا باقاعدہ پلیٹ فارم استعمال نہیں کیا مگر اپنے طور پر پاکستان بنانے کے لیے اپنے علاقے میں لوگوں کے ذہن ہموار کیے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے علماء مشائخ کی کوششوں سے پاکستان آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے خطے میں معرض وجود میں آیا*
(تحریک ختمِ نبوت میں مجاہدانہ کردار)
علاقہ چھچھ میں آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کیلئے ہمہ جہت کوششوں کے ساتھ ساتھ تحاریک ختم نبوت میں بھی حصہ لیا اور 1953ء کی تحریک میں آپ خود قائد تحریکِ ختمِ نبوت بن کر تقریباً گیارہ ماہ پابندِ سلاسل رھے....)
(جیل میں درس وتدریس)
علومِ اسلامیہ سے والہانہ محبت کیوجہ سے جیل میں بھی درس وتدریس کو جاری رکھا... کئی ایک طلباء کے علاوہ خطیب پاکستان مرحوم مولانا شفیع اکاڑوی علیہ الرحمہ جیسے جید عالم دین نے آپ سے اکتساب فیض کیاتھا....
(جیل میں مشقتیں)
عام قیدیوں کی طرح آپ کو بھی قید بامشقت رکھا گیا. آپ کو (بقول مفتی اظہر محمود اظہری صاحب مدظلہ کے) چکی پیسنے کو دی گئی...آپ کو جیل میں کھانا دیا جاتا تو آپ ایک ہاتھ جتنا ٹکڑا لے کر پانی سے کھا لیتے تھے باقی خادمین میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے.
(تحریک سینما بندی)
1971ء کو حضرو شہر میں سینما کی منظوری ھوئی تو لوگوں نے آپ کی طرف رجوع کیا.پھر آپ نے شہر قصبہ دیہات کو پیدل چل کر لوگوں سینما کے نقصانات اور نئی نسل کی بربادی پر واعظ فرمائے. لوگوں میں شعور آیا... لوگ آپکے ساتھ ھونے لگے پھر یہ معاملہ ایک تحریکی شکل اختیار کر گیا. آپ نے حضرت قبلہ بابو جی علیہ الرحمہ سے دعا کروائی اور لوگوں کا ایک بہت بڑا جلوس لے کر اٹک عدالت پہنچ گئے پہلے عدالت لکھ چکی تھی کہ حضرو کے لیے سینما منظور ہوگیا لیکن دنیا نے دیکھا ایک مرد مجاہد کی کوششوں سے حضرو جیسے مذہبی شہر کو اس لعنت سے عدالت نے نامنظور کر دیا..)
(آپ کی ایسی کرامت جس کو ہر کوئی تسلیم کرتا ھے) آپ سے آپ کے وفا دار شاگرد مولانا مفتی اظہر محمود اظہری صاحب مدظلہ نے دریافت کیا باباجیؓ آپ موجود ھیں تو کسی کو ہمت نھیں مگر آپ دنیا چھوڑ گئے تو یہ امیر وڈیرے بنا لے گے؟ آپ نے فرمایا حافظ جی میں نے ایسا لکھوایا ھے کہ قیامت تک حضرو گرد ونواح میں سینما نہ بن سکے گا..واقعی آج تک علاقہ چھچھ سینما کی لعنت سے محفوظ ھے.اللہ تعالی مستقبل میں بھی اس لعنت سے علاقہ کو محفوظ فرمائے *آمین ........
(بابا جی صاحب کو فوت ھونے کے بعد اظہر محمود اظہری صاحب خواب میں دیکھا پوچھا کونسا عمل کام آیا)
فرمایا سینما بندی کا عمل میری بخشش کا ذریعہ بن گیا).
اللّٰہ اکبر
( بیعت)
آپ نے تین دفعہ استخارہ فرمایا تو آپکو گولڑہ شریف کا ہی اشارہ ھوا پھر آپ نے حضرت قبلہ بابو جی علیہ الرحمہ کے ھاتھ پر قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے مزار پر چادر کے نیچے سے آپ کے ھاتھ کو ھاتھ میں پکڑ کر بیعت کی .......
(وصال مبارک)
*20 صفر المظفر بمطابق 4 نومبر 1985ء بروز سوموار تقریبا رات 11:00بجے یہ عظیم علمی روحانی شخصیت ہزاروں عقیدت مندوں کو پرنم چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی......اگلے روز آپ کی نماز جنازہ آپ کے استاد گرامی مفتی اعظم میاں عبدالحق غورغشتوی علیہ الرحمہ نے پڑھائی.....آپ کے نمازِ جنازہ میں محتاط اندازے سے ڈیڈھ لاکھ افراد شریک ھوئے تھے...نماز جنازہ کے بعد آپ کی میت مبارکہ کو جامعہ حنفیہ مفتاح العلوم بنگئی حضرو لایا گیا اور اسی جگہ مزار بنایا گیا جہاں آپ نے چالیس سال بیٹھ کر قال اللٰہ وقال الرسول پڑھایا تھا.....
آج بھی آپ کا مزار زیارت گاہ عام و خاص بنا ھوا ھے..
(نرینہ اولاد)آپ کے دو صاحبزادے تھے بڑے مفتی محمد امین الحق رحمة اللٰہ علیہ(سن وفات2002ء)
اپ کی ولادت 1941 کو موضع پیرزئی میں ہوئی .
بابا جی علیہ الرحمة نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا آپ نے اپنی تعلیم کا اکثر حصہ اپنے والد محترم سے حاصل کیا علوم و فنون کی فراغت کے بعد آپ اپنے والد گرامی کی موجودگی میں ہی مسند تدریس پر فائز ہوئے اور وصال تک یہ خدمات بجا لاتے رہے آپ کے سینکڑوں شاگرد موجود ہیں جو علماء بن کر دین کی خدمت کر رہے ہیں آپ ایک نہایت منکسر المزاج با اخلاق با ہمت شرم و حیا کے پیکر اور صبر و رضا کے شاہ سوار تھے
آپ علم و عمل میں ہر طرح سے اپنے والد کی تصویر تھے والد گرامی کی وفات کے بعد 17 سال تک جامعہ مفتاح العلوم کی خدمت کی بالاخر مختصر علالت کے بعد آپ 23 مارچ 2002ء کی شب کو اپنے خالق کی حقیقی سے جا ملے (اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن)
چھوٹھے صاحبزادے حافظ وقاری صاحبزادہ محمد اکرام الحق رحمة اللہ علیہ (سن وفات 2021)*
صاحبزادہ حافظ وقاری محمد کرام الحقؓ کی پیدائش 1946 کو پیرزئی گاؤں میں ہوئی آپ نے اپنے بھائی سے درس نظامی کی چند ابتدائی کتب پڑھی۔ بیماری کے باعث مکمل تعلیم حاصل نہ کر سکے اپنے قریبی گاؤں مراڑیہ وپہتی کی جامع مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور
اپنے بڑے بھائی کے وصال کے بعد تقریبا 18 سال تک جامعہ مفتاح العلوم کی میلاد کمیٹی حضرو اور علاقے کی خدمت پر مامور رہے
مختصر علالت کے بعد 19نومبر 2021بمطابق 13ربیع الثانی ١۴۴٣
آپکا وصال ہوگیا (اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن)
بابا جی کے دونوں صاحبزادگان آپ کے پہلو میں مدفون ہیں
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
صاحبزادہ مفتی محمد امین الحق صاحب رحمة اللہ علیہ کے دو صاحبزادے ہیں
صاحبزادہ محمد نصیر الحق
حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ محمد ظہیر الحق (مہتمم ومدرس جامعہ مفتاح العلوم بنگئی)
اور صاحبزادہ حافظ محمد اکرام الحق رحمة اللہ علیہ کے بھی دو صاحبزادے ہیں
حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ محمد احسان الحق جامی (نائب مہتمم ومدرس جامعہ مفتاح العلوم بنگئی )
حضرت صاحبزادہ حافظ وقاری محمد انوار الحق (ناظم اعلی ومدرس شعبہ حفظ وقرات جامعہ مفتاح العلوم بنگئی )
حضرت قبلہ بابا جی رحمة اللہ علیہ کا پوراخاندان آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بفضل خدا خدمت دین پر مامور ہے
حضرت قبلہ مفتی محمد عبدالحق رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال ماہ صفر المظفر میں عقیدت واحترام سے منایا جاتا ھے....
جس میں کثیر تعداد میں قرب و بعد سے علمائے کرام ومشائخ عظام آپ کے تلامذہ اور عقیدت مند شرکت کرتے ھیں
امسال بھی آپکا عرس مبارک مورخہ 18-19صفر المظفر بمطابق 24-25 اگست بروز ہفتہ اتوار 2024ء مرکزی جامعہ عربیہ حنفیہ مفتاح العلوم بن گئی تربیلہ روڈ تحصیل حضرو ضلع اٹک میں ھو گا.....
عام و خاص کی شرکت کی دعوت دی جاتی ھے*
منجانب۔شعبہ نشرواشاعت جامعہ عالیہ عربیہ حنفیہ مفتاح العلوم تربیلہ روڈ حضرو ضلع اٹک