تعلیمات اہلبیت

Call Directions Website Contact the organization

تعلیمات اہلبیت Online Quranic tutor is available for teaching Quranic knowledge with complete Qiraat and Tajweed.

23/08/2026
16/05/2026

علی حق تھا اور علی حق ہے
علی کے نسل ہمیشہ حق پر رہے گے

23/11/2025

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا
سورہ نساء آیت نمبر 82
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے۔
تفسیر آیات
۱۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ: یہ لوگ جو رسول خدا (ص) کے احکام پر توجہ نہیں دیتے اور ان کے فرامین کے خلاف رات کو سرگوشیاں کرتے ہیں، اگر قرآن کے بیان کردہ حقائق میں غور کرتے تو ان کا ایمان پختہ ہو جاتا اور حکم رسول (ص) کی دل سے اطاعت کرتے۔ وہ یہ تو غور کریں:
۲۔ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ:
i. اگر یہ قرآن محمد (ص) کی طرف سے ہوتا تو اس میں بیان کردہ ماضی کی داستانوں اور آنے والے حالات کی پیشگوئیوں میں فرق ہوتا۔
ii. اصول، عقائد اور فروعی احکام میں فرق ہوتا۔
iii. آداب و اخلاق اور اجتماعی و سیاسی مسائل میں اختلاف آتا۔
iv. آسمانوں، زمین اور کائنات کے بارے میں بیان کردہ حقائق میں تضاد بیانی ہوتی۔
v. احوال آخرت، حساب و کتاب، ثواب و عقاب، جہنم و جنت کے بارے میں بیانات میں یکسوئی نہ ہوتی۔
vi. تئیس سالوں پر محیط مختلف حالات میں پیش کردہ اقوال و سیرت میں ناہم آہنگی ہوتی۔
vii. حالت امن، حالت جنگ، حالت سفر اور حالت تنگی و حالت فراخی میں بیان کردہ دستورات میں اضطراب ہوتا۔
viii. مکی و مدنی، قدیم و جدید، محکم و متشابہ، اجمال و تفصیل، اجتماعی و انفرادی قوانین میں تضادات پیش آتے۔
ix. کسی جگہ بشری کمزوری نظرآتی۔
x. رائے میں تبدیلی آتی، نظرثانی اور اصلاح کی ضرورت پیش آتی، جیساکہ تمام شعراء اور مفکرین کو پیش آتی ہے
اہم نکات
۱۔ قرآن خودا پنی حقانیت پردلیل ہے۔
الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 2، صفحہ 365


゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

19/11/2025

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا
سورہ نساء آیت نمبر 86
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
تحیۃ و سلام کی رسم تو ہر قوم و ملت میں موجود ہے، لیکن دیگر اقوام میں سلام کا مفہوم یہ ہے کہ ایک حقیر شخص کسی کی بڑائی کے سامنے جھک جائے اور اس کی تعظیم کرے۔ لہٰذا ان اقوام میں کم درجہ رکھنے والوں پر فرض بنتا ہے کہ وہ بڑا درجہ رکھنے والوں کو سلام کریں اور یہی لوگ سلام میں پہل کریں۔
اسلام نے تحیۃ و تسلیم کے آداب میں اس قسم کی تمام تفریق کو مٹا کر اسے امن و سلامتی، صلح و آشتی اورمساوات و مؤاسات کا شعار قرار دیا۔ مثلاً کسی گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کے بلا تفریق درجات آداب بتائے:
چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ سلام کرنے میں رسالتمآب (ص) پر کوئی سبقت نہیں لے سکتا تھا۔
اس آیت میں آداب سلام یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی سلام کرے تو جواب سلام بہتر انداز میں دو۔ مثلاً سلام کرنے والا سلام علیکم کہدے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہو اور انہی الفاظ میں جواب دینا تو واجب ہے ۔
سلام کرنا مستحب ہے۔ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ جب کہ بہتر انداز میں جواب دینا مستحسن ہے۔ کسی نے اگر حالت نماز میں سلام کیا تو بھی جواب سلام واجب ہے۔ البتہ اس صورت میں ایک ایسی آیت پڑھے جس میں لفظ سلام موجود ہو۔ مثلاً سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ۔۔۔۔ (۳۹ زمر: ۷۳۔ تم پر سلام ہو، تم خوب رہے۔) اگر کوئی نماز میں مشغول ہو، اس کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔
الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 2، صفحہ 370



゚viralシviralシfypシ゚viralシalシeveryone

Address

Islamabad
246724

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تعلیمات اہلبیت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تعلیمات اہلبیت:

Shortcuts

Share