تعلیمات اہلبیت

تعلیمات اہلبیت Online Quranic tutor is available for teaching Quranic knowledge with complete Qiraat and Tajweed.

23/11/2025

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا
سورہ نساء آیت نمبر 82
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے۔
تفسیر آیات
۱۔ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ: یہ لوگ جو رسول خدا (ص) کے احکام پر توجہ نہیں دیتے اور ان کے فرامین کے خلاف رات کو سرگوشیاں کرتے ہیں، اگر قرآن کے بیان کردہ حقائق میں غور کرتے تو ان کا ایمان پختہ ہو جاتا اور حکم رسول (ص) کی دل سے اطاعت کرتے۔ وہ یہ تو غور کریں:
۲۔ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ:
i. اگر یہ قرآن محمد (ص) کی طرف سے ہوتا تو اس میں بیان کردہ ماضی کی داستانوں اور آنے والے حالات کی پیشگوئیوں میں فرق ہوتا۔
ii. اصول، عقائد اور فروعی احکام میں فرق ہوتا۔
iii. آداب و اخلاق اور اجتماعی و سیاسی مسائل میں اختلاف آتا۔
iv. آسمانوں، زمین اور کائنات کے بارے میں بیان کردہ حقائق میں تضاد بیانی ہوتی۔
v. احوال آخرت، حساب و کتاب، ثواب و عقاب، جہنم و جنت کے بارے میں بیانات میں یکسوئی نہ ہوتی۔
vi. تئیس سالوں پر محیط مختلف حالات میں پیش کردہ اقوال و سیرت میں ناہم آہنگی ہوتی۔
vii. حالت امن، حالت جنگ، حالت سفر اور حالت تنگی و حالت فراخی میں بیان کردہ دستورات میں اضطراب ہوتا۔
viii. مکی و مدنی، قدیم و جدید، محکم و متشابہ، اجمال و تفصیل، اجتماعی و انفرادی قوانین میں تضادات پیش آتے۔
ix. کسی جگہ بشری کمزوری نظرآتی۔
x. رائے میں تبدیلی آتی، نظرثانی اور اصلاح کی ضرورت پیش آتی، جیساکہ تمام شعراء اور مفکرین کو پیش آتی ہے
اہم نکات
۱۔ قرآن خودا پنی حقانیت پردلیل ہے۔
الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 2، صفحہ 365


゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

19/11/2025

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا
سورہ نساء آیت نمبر 86
اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر سلام کرو یا انہی الفاظ سے جواب دو، اللہ یقینا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
تحیۃ و سلام کی رسم تو ہر قوم و ملت میں موجود ہے، لیکن دیگر اقوام میں سلام کا مفہوم یہ ہے کہ ایک حقیر شخص کسی کی بڑائی کے سامنے جھک جائے اور اس کی تعظیم کرے۔ لہٰذا ان اقوام میں کم درجہ رکھنے والوں پر فرض بنتا ہے کہ وہ بڑا درجہ رکھنے والوں کو سلام کریں اور یہی لوگ سلام میں پہل کریں۔
اسلام نے تحیۃ و تسلیم کے آداب میں اس قسم کی تمام تفریق کو مٹا کر اسے امن و سلامتی، صلح و آشتی اورمساوات و مؤاسات کا شعار قرار دیا۔ مثلاً کسی گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کے بلا تفریق درجات آداب بتائے:
چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ سلام کرنے میں رسالتمآب (ص) پر کوئی سبقت نہیں لے سکتا تھا۔
اس آیت میں آداب سلام یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی سلام کرے تو جواب سلام بہتر انداز میں دو۔ مثلاً سلام کرنے والا سلام علیکم کہدے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہو اور انہی الفاظ میں جواب دینا تو واجب ہے ۔
سلام کرنا مستحب ہے۔ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ جب کہ بہتر انداز میں جواب دینا مستحسن ہے۔ کسی نے اگر حالت نماز میں سلام کیا تو بھی جواب سلام واجب ہے۔ البتہ اس صورت میں ایک ایسی آیت پڑھے جس میں لفظ سلام موجود ہو۔ مثلاً سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ۔۔۔۔ (۳۹ زمر: ۷۳۔ تم پر سلام ہو، تم خوب رہے۔) اگر کوئی نماز میں مشغول ہو، اس کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔
الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 2، صفحہ 370



゚viralシviralシfypシ゚viralシalシeveryone

17/10/2025

وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ
اور دنیاوی زندگی تو جی بہلانے اور کھیل کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا گھر ہی زندگی ہے، اگر انہیں کچھ علم ہوتا۔
سورہ عنکبوت آیت نمبر 64
تفسیر آیات
۱۔ وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ: دنیا کی وہ زندگی جو مرضی رب کے خلاف اختیار کی جاتی ہے، بے مقصد زندگی ہے اور خود انسان بھی اس صورت میں نیچر(Nature) کے ہاتھوں ایک کھلونا بن جاتا ہے۔ اس زندگی میں اس کا مشقت اٹھانا، بیمار ہونا، زندگی میں ناکامیوں کا سامنا کرنا اور ہر روز پیش آنے والے نشیب و فراز کا مقابلہ کرنا سب بے مقصد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس زندگی کے تمام گوشے ایک کھیل سے زیادہ نہیں ہوتے۔ پس اس صورت میں دنیا ایک لہو ہے جو آپ کو اپنے مقصد سے دور رکھتی ہے۔ ایک کھیل ہے جو ایک خیالی مقصد کی طرف لے جاتا ہے۔
۲۔ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ: آخرت کی زندگی ہی زندگی اور حقیقی و دائمی زندگی ہے جس کے لیے کوئی زوال نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن نے سب سے زیادہ اس زندگی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے تاکید کی ہے۔
بعض اہل تحقیق کے مطابق قرآن میں ایک ہزار سات سو آیات آخرت کی زندگی کے بارے میں ہیں۔ قرآن کا ایک تہائی حصہ اس زندگی کو باور کرانے کے لیے ہے۔
البتہ دنیا کی زندگی آخرت کے لیے مرضی رب کے مطابق گزاری جائے تو اس دنیا کی زندگی کا ہر لمحہ نہایت قیمتی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس زندگی کا ایک ایک لمحہ آخرت کی زندگی کے کھربوں سالوں کے لیے تقدیر ساز ثابت ہو سکتا ہے۔
اہم نکات
۱۔ دنیا برائے دنیا کی زندگی آپ کو مقصد سے دور ایک خیالی منزل کی طرف لے جاتی ہے۔
۲۔ دنیا برائے آخرت آپ کا ایک ایک لمحہ قیمتی بنا دیتی ہے۔
الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 6، صفحہ 332





゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

01/10/2025

It is to live by giving to others
Not by taking from others♥️


01/09/2025
2 محرم کو امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کربلا پہنچا کربلا میں رہنے والا ایک چھوٹا قبیلہ بنی اسد مولا حسین (ع) کے گرد جم...
30/06/2025

2 محرم کو امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کربلا پہنچا
کربلا میں رہنے والا ایک چھوٹا قبیلہ بنی اسد مولا حسین (ع) کے گرد جمع ہوا، امام نے زمین کی قیمت دریافت کی اور ساری زمین شہزادہ علی اکبر (ع) کے نام خرید لی
روايت ہے امام حُسین نے جیسے ہی کربلا کی سر زمین پر قدم رکھا فرمایا"هذا موضعُ كَرِبٍ وَ بَلاء
" یہ غم اور کربلا کی سر زمین ہے"

Address

Islamabad
246724

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تعلیمات اہلبیت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تعلیمات اہلبیت:

Share