JAGO JAGAO

JAGO JAGAO JAGO JAGAO is working for the service of mankind without any discrimination.

  ❤   ❤
07/05/2026

❤ ❤

 #یومِ_معرکہ_حق #یومِ_تشکر
06/05/2026

#یومِ_معرکہ_حق
#یومِ_تشکر

30/04/2026


افسانوی مجموعے ”جل پھل“ کی رونماٸی کی اخباری کوریج۔
31/03/2026

افسانوی مجموعے ”جل پھل“ کی رونماٸی کی اخباری کوریج۔

معروف ادبی،سماجی و فلاحی تنطیم جاگو جگاؤ کے زیرِ اہتمام شہر کے مشہور سماجی کلب دیالداس میں پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد خاں ک...
29/03/2026

معروف ادبی،سماجی و فلاحی تنطیم جاگو جگاؤ کے زیرِ اہتمام شہر کے مشہور سماجی کلب دیالداس میں پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد خاں کے تیسرے افسانوی مجموعے "جل پھل" کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی جس میں نظامت و میزبانی کے فرائض عمران نور نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا جس کی سعادت عبدالرؤف کو نصیب ہوئی۔اس تقریب میں معروف شاعر رشید سارب نے ڈاکٹر شکیل احمد خاں کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدرِ محفل پروفیسر مرزا سلیم بیگ نے بزم سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ شکیل احمد خاں کے افسانوں میں سیاسی ابتری، ہجرت کا کرب، معاشی تنزلی، بے روزگاری، مذہبی انتہا پسندی، جنسی گھٹن اور جنسی استحصال کی وہ تصویر کشی کی گئی ہے جو حقیقت اور افسانے کے دل کش روپ میں پہلے تو قاری سے داد وصول کرتی ہے اور بعد میں اسے دعوت فکر دیتی ہے کہ یہی سچے تخلیق کار کی منزل ہے۔ ان موضوعات کی تلاش میں انھیں کہیں جانا نہیں پڑا۔ بل کہ اس کے لیے ان واقعات کا تاثر ہی کافی رہا جو ان کے اور ان کے قاری کی نظروں کے سامنے آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ان کے افسانوں میں حقیقت بھی در آئی اور فنی لوازمات بھی پورے ہو گئے۔ چوں کہ یہ موضوعات آج کے ہیں اس لیے کسی کے لیے نامانوس نہیں۔ یہی ان کے قلم کی سچائی ہے جو قاری تک آتے آتے ان کی روز افزوں مقبولیت کی ضامن بن گئی ہے۔
صاحبِ کتاب و مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد خاں نےجاگو جگاؤ کے صدر عمران نور و اراکین کو شاندار تقریب منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد سندھ اردو زبان و ادب کے فروغ اور اس کی ترقی میں عرصہ دراز سے اہم کردار ادا کر رہا ہے, یہاں آج بھی ادبا اور شعرا پروان چڑھ رہے ہیں ، بڑی بڑی علمی و ادبی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں، میں بھی اسی شہر کا باسی ہوں، مجھ میں افسانے کی فنکارانہ، فکرانہ اور عالمانہ صلاحیتیں اگر پیدا ہوئی ہیں تو اس کا سہرا اسی شہر کے سر جاتا ہے۔
مہمانِ اعزای سینیر و معروف افسانہ نگار ڈاکٹر شمیم انصاری نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل احمد خاں کے افسانوں میں انسانی جذبات و سماج کی عکاسی سادہ اور شاندار انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ان کے لکھنے کے تسلسل میں جھول نہیں ہے اور یہ ایک بڑی وجہ ہے جو قاری کی دل چسپی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے افسانوں سے جوڑے رکھتی ہے۔
افسانوی مجموعے پر تبصرہ کرتے ہوئے مصطفی ایوب نے کہا کہ جل پھل کی سب سے خوب صورت بات اس کے وسیع موضوعات ہیں۔ شکیل احمد خاں نے موضوعات کی ایک دنیا سجائی ہے جس میں ایک سے بڑھ کر ایک جہاں دیدہ اور دل میں اُتر جانے والے کردار نمایاں ہوتے ہیں۔ ہر افسانہ اپنے اندر ایک دنیا رکھتا ہے۔ تجسس اس کتاب کا خاصہ ہے اور وہ بھی کچھ ایسے کہ کسی بھی افسانے کو آخری سطر، آخری لفظ اور آخری حرف سے پہلے طے کرلینا ناممکن ہے کہیں کہیں تو بات اس سے آگے تاثر تک بھی جاتی ہے۔ کتاب جل پھل معاشرتی جھجھک کو جھڑکتے ہوئے بے باکانہ اظہارِ بیاں کو اپناتے ہوئے ہمیں معاشرے کے اُس چہرے سے روشناس کرواتی ہے جو نظر ہی کو نہیں فکر کو بھی چھیڑتا ہے۔
معروف تبصرہ نگار توقیر عباسی نے کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افسانوی مجموعہ "جل پھل" دراصل انسانی زندگی کے مختلف تجربات، جذبات اور معاشرتی حقیقتوں کا خوبصورت ادبی عکس ہے، جس میں ہر افسانہ ایک نیا زاویہ اور نیا سوال پیش کرتا ہے۔ "اسٹیٹس" میں خودداری اور سچی محبت کا درس ملتا ہے، "سوال" انسان کی آگہی اور پہچان کی تلاش کو اجاگر کرتا ہے، "چراغ تلے" انسانیت سے دوری کے انجام کو دکھاتا ہے، "بشارت" روحانی سکون کی اہمیت بیان کرتا ہے، "باذنِ اللہ" ماں کی محبت اور یقین کی شدت کو نمایاں کرتا ہے جبکہ "میلاپ" جدائی اور محبت کے کرب کو محسوس کراتا ہے۔ ساتھ ہی سفرنامہ "گوشہ ارم" اس مجموعے کو ثقافتی اور مشاہداتی حسن عطا کرتا ہے۔
معروف ناقد اصغر غلام محمد نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جل پھل کے افسانوں میں موجود کردار افسانوی نہیں بل کہ سماج میں چلتے پھرتے نظر آنے والے حقیقی کردار ہیں۔ ان کرداروں کی حرکات و سکنات ، داخلی و خارجی کیفیات ، نیکی و بدی کی کشمکش یہ سب ہماری زندگی کی عکاس ہیں۔ جل پھل کا پہلا افسانہ "اسٹیٹس " اس کی بہترین مثال ہے۔ ڈاکٹر شکیل کے افسانوں میں بیانیہ انداز نمایاں ہے اور وہ بعض اوقات کہانی کو کئی ادوار یا واقعات میں بانٹ کر ڈرامائی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
لیکچرار بلال رٶف نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوۓ کہا کہ ڈاکٹر شکیل احمد خاں کے افسانوں کا فکری کینوس نہایت وسیع ہے۔ ان کی فکر کا محور عصرِ حاضر کا وہ انسان ہے جو جبر اور مادہ پرستی کی چکی میں پس رہا ہے اور ان کا قلم افسانوں میں ایک جراح کی طرح کام کرتا دکھاٸی دیتا ہے جو معاشرے کے اُن ناسوروں کو بے نقاب کرتا ہے جو ہماری تہذیبی اقدار کو چاٹ رہے ہیں۔جل پھل اُردو افسانوی ادب میں ایک مستقل فکری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
تقریب میں معروف شخصیات پروفیسر عتیق احمد جیلانی ، پروفیسر مسعود الرحمان ،پروفیسر محسن عطا ، پروفیسرشفیق الرحمان ،ڈاکٹر رضوانہ انصاری، وقار احمد وقار،لیکچرار عدنان فاروق ، معلم ریاض حسین ،ڈاکٹر عارف رزمی، شہاب اکرام،طارق شاہ،انجینیر سعد دیس والی،راشد انجم سمیت علم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

29/03/2026
22/03/2026



21/03/2026


Address

Hyderabad
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JAGO JAGAO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share