07/05/2025
آپریشن سندور
خبروں کے مطابق بھارتی افواج نے حال ہی میں ایک نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے جسے “آپریشن سندور” کا نام دیا گیا ہے۔ “سندور” وہ سرخ نشان ہے جو بھارت میں شادی شدہ خواتین اپنی پیشانی پر لگاتی ہیں۔ اس آپریشن کو اُن بیواؤں کے لیے علامتی خراجِ عقیدت قرار دیا جا رہا ہے جن کے شوہر پہلگام واقعے میں جاں بحق ہوئے۔
مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں بے گناہ شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ آج تک کوئی معتبر شہادت پیش نہیں کی گئی، مگر اس کے باوجود دیہات، عبادت گاہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا — جو کسی بھی مہذب دنیا میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔
بھارت کی جانب سے اسے حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ردعمل کہا جا رہا ہے، لیکن درحقیقت یہ صرف طاقت کے بے دریغ استعمال کی ایک مثال ہے۔ انصاف حاصل کرنے کے لیے جو قانونی اور سفارتی راستے موجود ہیں، اُن سے گریز کر کے ایک ایسا بیانیہ گھڑا گیا ہے جو سچائی سامنے آتے ہی بکھر جاتا ہے۔
یہ بات ہمسایہ ملک کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے: اگر اس حملے کا مقصد پاکستانی سرزمین کو بے گناہوں کے خون سے رنگنا ہے، اور اسے علامت یا قوم پرستی کا لبادہ اوڑھایا جا رہا ہے، تو پھر یاد رکھیں، یہی علامت اور قوم پرستی کئی گنا شدت کے ساتھ واپس پلٹے گی۔
جس “سندور” کو آپ فخر سے پیش کرتے ہیں، وہ یا تو آپ کے جھوٹے بیانیے کی پیشانی سے مٹ جائے گا، یا پھر وہ آپ کی اخلاقی تباہی کا نشان بن کر باقی رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
نَصْرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
’’اللہ کی مدد اور فتح قریب ہے‘
M.A.Hyder