Mufti Abdul Samad Sikandari AshShazli

Mufti Abdul Samad Sikandari AshShazli یہی ہے آرزو تعلیم قرآں عام ہوجائے

02/06/2026

25/05/2026

20/05/2026

#

19/05/2026
16/05/2026

15/05/2026

سوشل میڈیا پر علماء کا وقار — کیا دینی شخصیات کو عام طرزِ نمائش اختیار کرنی چاہیے؟
آج سوشل میڈیا پر ایک معروف عالمِ دین کی ایک تصویر دیکھی، تو دل میں ایک سنجیدہ احساس پیدا ہوا۔ سوچنے لگا کہ علماء کرام چونکہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے وارث، دین کے نمائندے، اور شریعت کے ترجمان ہوتے ہیں، اس لیے ان کا ظاہر، انداز، طرزِ زندگی، اور عوامی پیشکش عام لوگوں سے مختلف ہونی چاہیے۔
اگرچہ تصویر میں بظاہر کوئی صریح ناجائز امر نہ ہو، لیکن جب ایک عالمِ دین کا انداز ایسا محسوس ہو جو عام دنیاوی شخصیات، سیاحتی مزاج رکھنے والوں، یا سوشل میڈیا نمائش پسند افراد سے مشابہت رکھتا ہو، تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منصبِ علم، وقارِ دین، اور اہلِ علم کی سنجیدگی کے مطابق ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ"
ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والے علماء ہیں۔
(سورۃ فاطر: 28)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عالم کی اصل شان خشیتِ الٰہی، عاجزی، وقار، اور ذمہ داری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ"
ترجمہ: جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند فرماتا ہے۔
(مشکاہ المصابیح، حدیث: 1416)
مزید فرمایا:
"مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ"
ترجمہ: جو شہرت کے لیے عمل کرے اللہ اسے رسوا کرے گا، اور جو دکھاوا کرے اللہ اس کا دکھاوا ظاہر کر دے گا۔
( صحیح مسلم، حدیث: 7477)
ایک اور مقام پر فرمایا:
"إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا"
ترجمہ: تم میں میرے نزدیک سب سے محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے بہتر ہوں گے۔
(جامع الصغیر، حدیث: 3964)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الدِّينُ النَّصِيحَةُ"
ترجمہ: دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 4944)
علماء کرام محض اپنی ذات کے نمائندے نہیں بلکہ وہ پورے دین کی عملی تصویر ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو، نشست، لباس، طرزِ زندگی، اور سوشل میڈیا پر موجودگی عوام کے لیے نمونہ بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کا ہر انداز وقار، سادگی، اور دینی سنجیدگی کا مظہر ہو۔
یہ تحریر کسی خاص شخصیت پر تنقید نہیں بلکہ خیر خواہی اور اصولی احساس کے طور پر لکھی جارہی ہے کہ علماء کرام کا مقام بہت بلند ہے، لہٰذا ان کی عوامی پیشکش بھی اسی عظیم منصب کے مطابق ہونی چاہیے۔
آج کے سوشل میڈیا دور میں جہاں ہر چیز فوری طور پر لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، علماء کرام کو اپنے ہر انداز میں مزید احتیاط، متانت، اور وقار اختیار کرنا چاہیے تاکہ دین کی عظمت برقرار رہے۔
علماء کا وقار دراصل دین کا وقار ہے۔
جتنا بلند منصب ہو، اتنی ہی زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے۔

✍️: تحریر عبد الصمد سکندری الشاذلی

13/05/2026

Address

Hyderabad
71000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Abdul Samad Sikandari AshShazli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mufti Abdul Samad Sikandari AshShazli:

Share