08/02/2026
جو بھی وکلا برادری ہائی کورٹ بار حیدرآباد میں ایک مضبوط، نڈر اور اصولی قیادت چاہتی ہے، وہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے کہ آخر کے بی لغاری صدر کیوں نہ بنیں؟
کے بی لغاری وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بائیس سالہ وکالتی پریکٹس اور بار پالیٹکس میں ہمیشہ وکلا کی ویلفیئر، وکلا کی عزت اور وکلا کے اجتماعی معاملات کو اولین ترجیح دی۔ انہوں نے ہر فورم پر رول آف لا، عدلیہ کی آزادی، انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی کی بات کی۔
کے بی لغاری ہمیشہ بینچ اور بار کے درمیان باعزت، برابری اور باوقار تعلقات کے حامی رہے ہیں۔ وہ وہ وکیل ہیں جنہوں نے جونیئرز اور سینئرز سب کو یکساں عزت دی اور حیدرآباد میں ایگریسیو وکالت کا آغاز کیا—صرف اس لیے کہ وکلا کی تذلیل برداشت نہ کی جائے اور جوڈیشری میں بیٹھے ایسے عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے جو وکلا کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تھے۔
حالیہ ایس ایس پی والے معاملے میں، جب یہ مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ بار کی عزت اور کالے کوٹ کے وقار کا بن گیا، تو کے بی لغاری وہ واحد شخص تھے جنہوں نے فرنٹ فٹ پر آ کر حیدرآباد بار کی قیادت کی اور طاقت کے نشے میں مست افسران اور صوبائی حکومت کو دوٹوک پیغام دیا کہ وکلا کی تذلیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح کینالز، کارپوریٹ فارمنگ، لاہور لائرز کنونشن اور ببلو دھرنے جیسے حساس معاملات میں انہوں نے جس جرات مندی سے قیادت کی اور خطرات مول لے کر وکلا اور عوامی مؤقف کا ساتھ دیا، وہ ان کی عملی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
موجودہ حالات—خصوصاً آئینی ترامیم، جوڈیشری کی صورتحال اور جو بھی وکلا برادری ہائی کورٹ بار حیدرآباد میں ایک مضبوط، نڈر اور اصولی قیادت چاہتی ہے، وہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرے کہ آخر کے بی لغاری صدر کیوں نہ بنیں؟
کے بی لغاری وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بائیس سالہ وکالتی پریکٹس اور بار پالیٹکس میں ہمیشہ وکلا کی ویلفیئر، وکلا کی عزت اور وکلا کے اجتماعی معاملات کو اولین ترجیح دی۔ انہوں نے ہر فورم پر رول آف لا، عدلیہ کی آزادی، انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی کی بات کی۔
کے بی لغاری ہمیشہ بینچ اور بار کے درمیان باعزت، برابری اور باوقار تعلقات کے حامی رہے ہیں۔ وہ وہ وکیل ہیں جنہوں نے جونیئرز اور سینئرز سب کو یکساں عزت دی اور حیدرآباد میں ایگریسیو وکالت کا آغاز کیا—صرف اس لیے کہ وکلا کی تذلیل برداشت نہ کی جائے اور جوڈیشری میں بیٹھے ایسے عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے جو وکلا کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تھے۔
حالیہ ایس ایس پی والے معاملے میں، جب یہ مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ بار کی عزت اور کالے کوٹ کے وقار کا بن گیا، تو کے بی لغاری وہ واحد شخص تھے جنہوں نے فرنٹ فٹ پر آ کر حیدرآباد بار کی قیادت کی اور طاقت کے نشے میں مست افسران اور صوبائی حکومت کو دوٹوک پیغام دیا کہ وکلا کی تذلیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح کینالز، کارپوریٹ فارمنگ، لاہور لائرز کنونشن اور ببلو دھرنے جیسے حساس معاملات میں انہوں نے جس جرات مندی سے قیادت کی اور خطرات مول لے کر وکلا اور عوامی مؤقف کا ساتھ دیا، وہ ان کی عملی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
موجودہ حالات—خصوصاً آئینی ترامیم، جوڈیشری کی صورتحال اور بار کو درپیش چیلنجز—اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہائی کورٹ بار حیدرآباد کو ایک دلیر، بے باک اور مخلص قیادت میسر ہو۔ کے بی لغاری ایک سادہ مزاج مگر جرات مند (مولائی ملنگ) شخصیت ہیں جو معاملات کو دلیری سے فیس کرتے اور سیدھے ٹریک پر لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہائی کورٹ بار حیدرآباد کے تمام وکلا سے گزارش ہے کہ کے
بی لغاری کو ووٹ دے کر صدر منتخب کریں.