19/10/2025
"یہ سرزمین پاکستان، جسے کلمۂ حق لا إله إلا اللہ محمد الرسول اللہ کی بنیاد پر وجود ملا، صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے — اور اس نظریے کی سانس مدارسِ دینیہ سے چلتی ہے۔ انہی مدارس میں سے ایک قدیم علمی مرکز جامعہ مفتاح العلوم بنگی ہے، جس نے 1940 سے آج تک بے شمار دلوں کو قرآن سے جوڑا، ہزاروں نگاہوں کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی دکھائی۔
آج یہ دینی قلعہ، جو کبھی اذان، تلاوت اور درسِ قرآن سے معمور رہتا تھا، سرکاری بندش کا شکار ہے۔ دروازے مقفل ہیں، اذان کی آواز خاموش ہے، اور علم کے متلاشی بچے در بدر ہیں — یہ منظر دلوں کو چھید دیتا ہے۔
قرآن ہمیں پکار کر کہتا ہے:
’اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ‘
"پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا" —
لیکن یہاں وہ دروازہ ہی بند کر دیا گیا جہاں 'پڑھ' کی صدا گونجتی تھی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ"
"اللہ علم کو یوں نہیں اٹھائے گا کہ اسے سینوں سے کھینچ لے، بلکہ جب علم کے مراکز اجڑ جائیں گے تو علم خود اٹھا لیا جائے گا۔"
ہم عبرت سے لرز جاتے ہیں کہ کہیں یہ وہی گھڑی نہ ہو جس سے حضور ﷺ نے ڈرایا تھا۔
ہم اہلِ اقتدار کے ضمیر کو مخاطب کرکے کہتے ہیں: مدارس کو بند کرنا محض ایک عمارت کو سیل کرنا نہیں، یہ قوم کی روح پر قفل چڑھانا ہے۔ لہٰذا ہماری دست بستہ درخواست ہے کہ جامعہ مفتاح العلوم بنگی سے یہ سیل اٹھایا جائے، تاکہ قرآن کی روشنی دوبارہ دلوں میں اترے اور یہ بستی پھر
سے 'اقرأ' کی صدا سے زندہ ہو جائے۔"
فواد احمد