Pukar-e-Watan پکارِ وطن ملہ کلاں

Pukar-e-Watan پکارِ وطن ملہ کلاں This page is all about promoting Humanity. Help deserving families. Together we can eliminate poverty if we help poor people in our surroundings.

May Allah give us strength and health.

01/03/2025

پکارے وطن ویلفئیر ملا کلاں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان پیکج اپنے گاؤں کے مسثحقین میں تقسیم کر دیا

06/12/2024
03/09/2024

حضرو گوندل روڈ مراڑیہ کے مقام پر روڈ کھڈرات کا شکار ہو گئی تھی ۔جس پر سے گزرنا محال ہو چکا تھا۔پکارے وطن ویلفئیر ملا کلاں نے اپنے ڈونرز کے تعاون سے روڈ کی درستگی و مرمت کیلیے مٹیریل ڈال دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ تمام ڈونرز کو ثواب دارین عطا فرمائے آمین

31/07/2024
24/05/2024

اسلام علیکم۔ معزز و محترم معاونین کرام
جیسا کے آپ کے علم میں ہے کہ پکارے وطن اپنے *۔وسیلہ صحت۔* پروگرام کے تحت روزانہ اور ماہانہ بنیادوں پر مریضوں کی مدد کر رہی ہے ۔اور ہمارے گاؤں کا ایک نوجوان محمد سجاد ولد ابراھیم جو کہ کافی عرصہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے ۔اور پچھلے سال سجاد بھائی کے بہترین علاج کے نتیجے میں اسے گردوں کے مسلسل ڈیلائسز سے چھٹکارا مل گیا تھا۔ مگر حالیہ دنوں میں اس کی مرض میں پھر اضافہ ہو رہا ہے ۔اس کے ڈاکٹر ز کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص انجکشن لگانے سے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔تا کہ دوبارا ڈیلائسز سے بچا جا سکے ۔اور اس ایک انجکشن کی قیمت مارکیٹ میں لاکھ روپے سے زیادہ ہے مگر اس کے معالج نے 48000روپے میں انجکشن کا بندوبست کر کے دیا ہے ۔اور 3/4 انجکشن لگیں گے اب سجاد بھائی کے مالی حالات یہ علاج برداشت نہیں کر سکتے ۔پکارے وطن انشاءاللہ حسب توفیق سجاد بھائی کی مالی مدد کرے گی ۔اس سلسلے میں پکارے وطن آپ سب سے سجاد بھائی کی طرف سے اپیل کرتی ہے کہ آپ جتنا ہو سکے تعاون فرمائیں تا کہ بروقت علاج سے ان کی جان اس موزی مرض سے چھڑائی جا سکے ۔اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین۔

دعا گو ، *.پکارے وطن ویلفئیر ملا کلاں.*

11/03/2024

پکارے وطن کی طرف سے رمضان پیکج

17/12/2023

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کہتے ہیں کہ انسان کو زندگی کی کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدمت خلق کو اپنا شعار نہ بنائے۔
فلاحی ادارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی مشکل آن پڑے یا حکومت عوامی فلاح و بہبود کے معاملات کو نظرانداز کرے تو یہ ادارے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کا سہارا بنتے ہیں۔ یہ فلاحی تنظیمیں معاشرے کا حسن ہوتے ہیں۔ تاریخ کی اولین داستانوں سے لے کر موجودہ دور تک ایسے کئی ادارے یا شخصیات ہیں جو حکومت وقت کا سہارا بنتے ہیں اور عوام الناس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل پیدا کرتے ہیں۔
یہ ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بہتری کے لیے بھی اپنی خدمات دیتے ہیں۔ چاہے کوئی ملک پسماندہ ہو، ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ، ان اداروں کی موجودگی وہاں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ فلاحی اداروں کا موجود ہونا ملک و قوم کی ترقی کے لیے راستے ہموار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے میں بھی بے شمار فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں۔
ان اداروں کی تشکیل کے پیچھے کسی نا کسی شٰخص کا ایک خواب چھپا ہوتا ہے جو ان کے قیام کی وجہ بنتا ہے۔ جیسا کہ ریڈ کراس جو کہ پاکستان میں ”ہلال احمر“ کے نام سے کام کر رہا ہے کے قیام و تنظیم کی ضرورت محسوس کرنے والا سوئٹزرلینڈ کا ایک شہری ڈوننٹ تھا۔ اس نے ایک کتابچے میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان سپاہیوں کی حالت زار خاص طور پر بیان کی تھی جو جنگ میں زخمی ہوئے تھے لیکن طبی امداد سے محرومی کے باعث سسک سسک کر مر گئے۔
ڈوننٹ نے دنیا بھر کے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی خبر گیری اور علاج معالجے کا کوئی موثر انتظام کریں۔ آج یہ ادارہ دنیا بھر میں کام کر رہا ہے۔ مختلف ممالک میں یہ فلاحی ادارے صحت، تعلیم، صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور خوراک کی تقسیم جیسے عظیم مقاصد پر کام کر رہے ہیں جو درحقیقت حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ان فلاحی اداروں سے منسلک افراد دن ہو یا رات آندھی ہو یا بارش یا وبائی امراض ہوں، یہ بہادر لوگ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور صرف انسانی خدمت کو یاد رکھتے ہیں اور خدمت و فلاحی کاموں کو اہمیت دیتے ہیں اور خدمت کے کاموں کو عملی طور پر جاری رکھتے ہیں تاکہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی معیشت اکثر خسارے میں رہتی ہے۔ ملک کا نظام چلانے کے لئے حکومتوں کو اندرونی اور بیرونی مالی اداروں قرض لے کر گزارا کرنا پڑتا ہے اور پھر اس پر سود کی شرح بڑھنے پر عوام پر ٹیکسز کا نیا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جون 2018 تک تقریباً سات کروڑ لوگ غربت کی زندگی گزار رہے تھے اور اس سال جون تک یہ تعداد بڑھ کر آٹھ کروڑ ستر لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
آبادی کے اس بڑے حصے کی مدد اور دیکھ بھال کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ ریاستی ادارے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن جب حکومت وقت ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے تو یہ فلاحی ادارے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کے اندر کئی فلاحی ادارے اللہ کی مخلوق کی خدمت کا فرض ادا کر رہے ہیں جن میں ایدھی ٹرسٹ، چھیپا، سیلانی اور دیگر فلاحی ادارے شامل ہیں۔ یہ سب انتہائی قابل تعریف اور قابل احترام ادارے ہیں۔
فلاحی ادارے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر کے ان متاثرین کی مشکلوں کو حل کر رہے ہیں۔ یہ ادارے ملکی سطح پر کام کرتے ہیں اور کچھ ادارے علاقائی سطح پر ان نیک کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ ہمارے آس پاس کئی شخصیات ہیں جو لوگوں کی مشکلات کو حل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان میں جتنی استطاعت ہو وہ فلاحی کاموں میں مصروف رہ کر اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ غریبوں کی دعائیں بھی سمیٹتے ہیں۔ بڑے شہروں میں اپنے دفاتر قائم کرنے اور فلاحی کاموں میں مصروف عمل تنظیمیں چھوٹے شہروں یا قصبوں تک رسائی حاصل نہیں کرتیں اور وہاں موجود ضرورت مند افراد امداد کی راہ تکتے رہتے ہیں۔
اس لیے تحصیل یا ضلع کی سطح پر کام کرنے والی
ایسی تنظیموں کے ہونے سے کسی بھی مشکل میں رفاہی کاموں کا دائرہ کار گلی محلوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایسے بہت سے ادارے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق دکھی انسانیت کی خدمت اور مسائل میں گھرے آبادی کے حصے کو بنیادی انسانی ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال اور ان کے وسائل میں اضافے کے لیے عطیات کی فراہمی کو ممکن بنانا اور ان کا ساتھ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ کرونا کی وبا کے بعد لاک ڈاؤن کے دوران ان تنظیموں نے لاکھوں خاندانوں کو راشن فراہم کیا ہے۔
لیکن موجودہ حالات اور درپیش چینلجز کی وجہ سے ایسے فلاحی اداروں کا دائرہ کار مختصر ہو رہا ہے، ان کے فنڈز میں کمی آ رہی ہے جس کے باعث بہت سے محتاجوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ان فلاحی اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ان کی معاونت کی جائے تاکہ کوئی غریب انسان کسی کے دروازے پر کشکول تھامے نا کھڑا ہو بلکہ اس کی ضرورت اس کے دروازے پر پوری ہو

22/11/2023

اور .*وسیلہ جہیز* فنڈ سے مبلغ 61000روپے بچیوں کے والدین کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔جن بھائیوں نے تعاون کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کا دیا ہوا مال اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین

22/11/2023

اسلام علیکم ۔الحمد للہ پچھلے دنوں جہیز فنڈ کے لیے ہم نے اپیل کی تھی ۔جس کے لیے ہمارے معزز مخیر حضرات نے تقریباً 60000 روپے کی امداد ارسال کر دی ہے ۔آج بچیوں کے والدین کے حوالے کر دی جاۓ گی ۔اللہ تعالیٰ تمام معاونین کو اس کار خیر میں والدین کے لیے "وسیلہ جہیز " بننے پر اجر عظیم عطا فرمائے ۔آمین ابھی شام تک ٹائم ہے اگر کوئی اور بھائی بھی مدد کرنا چاہے تو پکارے وطن سے رابطہ کرے۔

22/11/2023

اسلام علیکم۔امید ہے تمام گروپ ممبران خیر و عافیت سے ہوں گے ۔
پکارے وطن کو گاؤں میں 3 بچیوں کے جہیز میں امداد کی اپیل کی گئی ہے ۔اس سے پہلے بھی پکارے وطن جہیز کی مد میں امداد دے چکی ہے اب جہیز فنڈ میں پکارے وطن کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان کے معاشی حالات کے پیش نظر کچھ عرصہ سے گاؤں کے مخیر حضرات سے مالی امداد کی درخواست نہیں کی گئی ۔تا ہم بیرون ملک مقیم بھائیوں سے درخواست ہے کہ پکارے وطن بلا تفریق پورے گاؤں کی خدمت میں مصروف عمل ہے ۔اور آپ سب کا دیا ہوا مال عوام والناس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر خرچ ہوتا ہے ۔لہذا ہر مہینے اپنی کمائی سے تھوڑا سا حصہ پکارے وطن کے فنڈز میں عنایت فرما دیا کریں الله تعالیٰ آپ کے مال وجان میں برکتیں عطا فرمائے ۔أمین۔

جہیز کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے جو ساتھی اس کار خیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں فوری طور پر ہماری ٹیم سے رابطہ کریں بہت شکریہ

السلام علیکم ۔پکارے وطن کی طرف سے آج ایک گھر میں پانی کا نلکا فراہم کر دیا گیا ہے ۔جس بھائی نے تعاون کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ...
22/11/2023

السلام علیکم ۔پکارے وطن کی طرف سے آج ایک گھر میں پانی کا نلکا فراہم کر دیا گیا ہے ۔جس بھائی نے تعاون کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ جاریہ قبول فرمائے ۔آمین

Address

MALLAH KALAN
Hazro

Telephone

+923078100409

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pukar-e-Watan پکارِ وطن ملہ کلاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pukar-e-Watan پکارِ وطن ملہ کلاں:

Share