04/09/2025
Medical Lab Technology
*_ پاکستان کا ایک اور منفرد اعزاز، ڈاکٹر عثمان ایوب اعوان نے ایچ پی وی اور بریسٹ کینسر پر اپنی انقلابی تحقیق کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرلی،نئی تحقیق کے نتائج پاکستان میں بریسٹ کینسر کی روک تھام اور بوجھ کم کرنے کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کا حصہ بنانے کی سفارش کرتی ہے،ڈیپارٹمنٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ لیبارٹری ٹیکنالوجی نے کے مطابق ڈاکٹر عثمان ایوب اعوان نے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کا دفاع شاندار کامیابی کے ساتھ مکمل کیا، جسے علمی اور تحقیقی میدان میں ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے. ان کا تحقیقی مقالہ “بریسٹ کینسر میں ہائی رسک ہیومن پیپیلوما وائرس کا جینومک کردار” بریسٹ کینسر کے مرض میں نئے سائنسی پہلو اجاگر کرتا ہے اور سرطان کی حیاتیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔
یہ تحقیق ڈاکٹر صادق نور خان (چیئرمین، ایم ایل ٹی) کی نگرانی , *عامر* *علی* *خٹک* *(مرحوم)* ڈاکٹر فریال مہوش اعوان اور ڈاکٹر عثمان حسن کی معاونت میں مکمل ہوئی۔ دفاعی امتحان کا جائزہ پروفیسر ڈاکٹر امجد علی (نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی) اور پروفیسر ڈاکٹر محمد جمیل (ڈین کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی) نے لیا، انھوں نے اس مطالعہ کی سائنسی گہرائی، جدت اور عملی اہمیت کو سراہا،ڈاکٹر عثمان ایوب اعوان کی تحقیق نے 501 بریسٹ کینسر کیسز میں ہائی رسک ایچ پی وی جینز کی موجودگی ثابت کی، جن میں زیادہ تر کیسز جارحانہ سب ٹائپس جیسے ٹرپل نیگیٹو اور HER2- انرچڈ کینسر سے وابستہ پائے گئے۔ مزید جینومک تجزیوں نے وائرل آنکوجینز میں بار بار پائے جانے والے تغیرات کی نشاندہی کی، جو مریضوں کے جارحانہ کلینیکل پروفائل اور کم بقا سے منسلک تھے،یہ منصوبہ شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال لاہور اور وینڈر بلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر امریکہ کے اشتراک سے مکمل ہوا، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وینڈر بلٹ یونیورسٹی نے مالی معاونت فراہم کی۔ تحقیق کے نتائج اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی روک تھام اور بوجھ کم کرنے کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔ مزید برآں خواتین کے لیے باقاعدہ بریسٹ کینسر اسکریننگ اور ایچ پی وی ڈی این اے ٹیسٹنگ کو کلینیکل پریکٹس کا حصہ بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیماری کی جلد تشخیص اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف شرحِ اموات میں کمی آئے گی بلکہ عوامی صحت کے نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا،امتحانی بورڈ نے مقالے کی کامیاب تکمیل پر انہیں باضابطہ طور پر ڈاکٹر عثمان ایوب اعوان کا خطاب دیا اور اس تحقیق کو پاکستان میں سرطان کے خلاف جاری جدوجہد کے لیے ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا۔