29/01/2026
آہ یادِ رفتگاں
*مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ ایک عہد ساز دینی، علمی اور انقلابی شخصیت
*تاثراتِ عقیدت
*اسسٹنٹ کمشنر راجہ ایاز احمد نثار*
(پی ایچ ڈی سکالر)
دل کا چمن اجاڑ کر ساقی چلا گیا
سینوں میں غم ابھار کر ساقی چلا گیا
ہر مدعی کو ناز کہ وہ مجھ پہ شفیق تھا
ہر زندگی سنوار کر ساقی چلا گیا
کچھ شخصیات محض اپنے زمانے کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے کردار، افکار اور خدمات کے ذریعے ایک پورے عہد کو معنی عطا کر دیتی ہیں۔ وہ وقت کے دھارے میں تحلیل نہیں ہوتیں بلکہ تاریخ کے شعور میں زندہ رہتی ہیں۔ مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں شامل تھے جنہوں نے علم و عمل، دعوت و جہاد اور اصلاحِ معاشرہ کو یکجا کر کے ایک روشن، پائیدار اور زندہ مثال قائم کی۔
رفتہاند از نظرِ چشمِ جہاں اہلِ جہاں
لیک در دیدۂ اہلِ نظر زندہ ہنوز
میرا مولانا مرحوم سے تعارف اور تعلق بچپن سے ہی تھا۔ جب میں اصرار کر کے کبھی کبھار اپنے دادا جان رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں ظہر کی نماز کی ادائیگی کے لیے اُن کے ساتھ مرکزی جامع مسجد عباسپور جایا کرتا تھا، جہاں نمازِ ظہر سے متصل قبل مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ کا دلنشیں درسِ قرآن تسلسل کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ دادا جان مرحوم صفِ اوّل کے نمازی اور مولانا صاحب کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔ یوں صغر سنی میں جب جب دادا جان کے ساتھ مسجد جانا ہوتا تو وہیں مولانا مرحوم کو قریب سے دیکھنے، سننے اور گاہے بگاہے شرفِ ملاقات حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا۔ یہ محض اتفاقی ملاقاتیں نہ تھیں بلکہ ایک ایسے روحانی، فکری اور قلبی رشتے کی بنیاد تھیں جو وقت کے ساتھ احترام، عقیدت اور محبت کی صورت میں پروان چڑھتا چلا گیا۔ اسی طرح مختلف مواقع پر مولانا نور اللہ مرقدہ جب ہمارے ہاں بھی تشریف لاتے تو ان کی فکر انگیز اور بصیرت افروز محافل سے مستفید ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ۔ ان کی مجالس علم و حکمت کا سرچشمہ ہوتیں۔ گفتگو میں شائستگی، اندازِ بیان میں وقار اور فکر میں وسعت نمایاں ہوتی۔ وہ محض ایک عالمِ دین نہیں تھے بلکہ نفیس ذوق رکھنے والے ادیب، قادرالکلام شاعر، بذلہ سنج مقرر اور درد مند مبلغ تھے۔ ان کی گرجدار آواز، بلا کا نطق اور مضبوط استدلال سامعین کے دلوں کو مسخر کر لیتا تھا۔ مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ ایک نڈر، بے باک اور حق گو خطیب تھے۔ اور حق گوئی و بے باکی کی برملا حوصلہ افزائی فرماتے تھے ۔ وہ حق بات کہنے میں کسی دباؤ، مصلحت یا خوف کو خاطر میں نہ لاتے۔ ان کے خطبات میں دینی گہرائی، قرآنی بصیرت اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی کے ساتھ ساتھ عصری شعور، فکری پختگی اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل کا گہرا ادراک جھلکتا تھا۔ وہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے تھے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی فرماتے تھے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور افغان جہاد جیسے نازک اور فیصلہ کن ادوار میں مولانا مرحوم صفِ اوّل کے کرداروں میں شامل رہے۔ گویا حق گوئی و بے باکی، اصول پسندی اور استقامت ان کی زندگی کا شعار تھیں۔ وہ ایک مجاہدِ باصفا تھے جن کے قول و فعل میں کامل ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد، قربانی اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ مولانا مرحوم کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو ان کی انسان دوستی اور خلوصِ نیت تھا۔ وہ ہر طبقۂ فکر کے افراد کے لیے دل میں ہمدردی رکھتے، نوجوانوں کی اخلاقی و فکری اصلاح، معاشرتی بگاڑ کے خاتمے اور امت میں وحدت و یگانگت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے۔ ان کی تدریسی، دعوتی اور اصلاحی کاوشوں نے بے شمار اذہان و قلوب کو منور کیا اور کئی نسلوں کو فکری سمت عطا کی۔ ہمارے خاندان کو بھی مولانا اشفاق احمد ربانی نور اللہ مرقدہ سے خصوصی تعلق اور عقیدت کی سعادت حاصل رہی۔ دادا جان مرحوم کے بعد قبلہ والد مکرم ڈاکٹر محمد نثار (اطال اللہ عمرہ) بھی اکابر اہلِ علم سے وابستگی کے تسلسل میں مولانا مرحوم سے خاص قلبی نسبت رکھتے تھے۔ اسی طرح برادرِ محترم ہر دلعزیز شخصیت حافظ امتیاز احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو عین جوانی میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے، مولانا مرحوم کے نہایت گرویدۂ عقیدت تھے اور انہیں زمانۂ طالبِ علمی میں حضرت سے براہِ راست اکتسابِ فیض کی سعادت بھی حاصل رہی۔
یہ اسی بے لوث تعلق، قلبی نسبت اور اخلاص کا اعجاز تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے کے موقع پر غم میں ڈوبی راقم الحروف کی گفتگو نے لاکھوں دلوں کو چھو لیا اور ہزاروں آنکھوں کو اشکوں کے رم جھم موتیوں میں پرو دیا۔ وہ گفتگو جہاں ناچیز کے لیے ایک غیر متوقع تعارف بن گئی، وہیں حضرت کی عظمتِ شان اور ہمہ گیر اثر کا ایک زندہ حوالہ بھی بن گئی۔ اس موقع پر ادا ہوئے الفاظ کے آبگینے اور اشعار جہاں زبان زدِ خاص و عام ہوئے وہاں ہر دل کی آواز بھی بن گئے۔ ہمارے مشفق و محسن مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ خوشی کے لمحات ہوں یا غم کی کوئی گھڑی، ہمیشہ لوگوں کے درمیان پیش پیش رہتے۔ وہ ایک ہمہ جہت، جاندار اور اثر آفریں شخصیت تھے جن کی زندگی سراپا اخلاص، خدمت اور دعوت تھی ۔ مختصر علالت کے بعد سال 2022ء میں یہ سراپا کردار، فکر و عمل کا روشن مینار نصف النہار غروب ہو گیا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے ہیں اور موت نے انہیں ہماری ظاہری نظروں سے اوجھل کر دیا مگر ان کی علمی، دینی، فکری اور سماجی خدمات رہتی دنیا تک زندہ رہیں گی۔ حقیقت یہی ہے کہ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی مفارقت کا خلا صدیوں میں بھی پُر ہونا مشکل ہوتا ہے۔ بقول
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
اللہ تعالیٰ مولانا اشفاق احمد ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور ہمیں ان کے اخلاص، جرأتِ حق اور خدمتِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
، ابھی تو چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے
ابھی میری کتاب میں تیری تفسیر باقی ہے
(طالبِ دعا ایاز بن نثار)
#برسی #حضرت #مولاناـاشفاقـاحمدـربانی