Human Rights News Gujrat

Human Rights News Gujrat this page is consist of infomation and development of education in distt gujrat as well as in pakistan.
شمع علم فاؤنڈیشن wants education for all.

12/04/2026
کسی بھی جج کے غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی  آرڈر کی بنیاد پر اسکے خلاف پینل ایکشن کے علاوہ سول ہرجانہ Civil Suit for Dam...
12/04/2026

کسی بھی جج کے غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی آرڈر کی بنیاد پر اسکے خلاف پینل ایکشن کے علاوہ سول ہرجانہ Civil Suit for Damages داخل کیا جا سکتا ہے۔۔ چو نکہ آجکل بہت عام ہو چکا ہے کہ ججز قانون شھادت کو شھید کرتے ہوئے من چاہے فیصلے کرتے ہیں لہذا ان کے سد باب کے لییئے اس بات کو عام کریں تاکہ انصاف کے خرید وفرخت کے اس نظام کا قلعہ کمع کیا جا سکے۔

اللہ اکبر 😢🙏😭ملاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے  وزیر ...
31/03/2026

اللہ اکبر 😢🙏😭
ملاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے قبضہ گروپس کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کی تھی۔
الٹا اس کو انصاف یا تحفظ ملنے کی بجائے آج اس لڑکی کو باپ سمیت گول/ی/ وں سے چھ/ لنی کر کے انصاف دے دیا گیا 💔🥹
کیا مافیا گروپس ریاست سے زیادہ طاقتور ہے ؟
خدارا اس خاندان کیلئے آواز اُٹھائیں پلیز 🙏🥹
سوشل میڈیا ذرائع

26/03/2026

Wellcome to Yadea Gujrat

کینسر کے مریضوں کے لیےحکومتِ پنجاب کا انقلابی اقدام✨  وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر 10 لاکھ روپے تک مفت علا...
26/03/2026

کینسر کے مریضوں کے لیےحکومتِ پنجاب کا انقلابی اقدام✨
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت فراہم، صحت مند پنجاب کی جانب ایک مضبوط قدم۔۔۔

چوہدری ظہور الٰہی و چوہدری برادران خاندانی تعارف و سیاسی تاریخ جٹ قوم (برادری) کا شُمار ہندوستان کی قدیم ترین قوموں اور ...
26/03/2026

چوہدری ظہور الٰہی و چوہدری برادران خاندانی تعارف و سیاسی تاریخ

جٹ قوم (برادری) کا شُمار ہندوستان کی قدیم ترین قوموں اور آبادی کے لحاظ سے پنجاب اور ضلع گجرات کی ایک بڑی قوم میں ہوتا ہے۔اسی قوم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام وڑائچ تھا، گیارہویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں اپنے پانچ بیٹوں کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے گجرات اور گوجرانوالہ کے علاقے میں آ کر آباد ہو گیا،یہیں سے جٹ قوم کی مشہور گوت وڑائچ کی بنیاد پڑی۔
ضلع گجرات میں دریائے چناب کے کنارے پر ایک چھوٹا سا گاؤں، نت، ہے۔اسی گاؤں کے وڑائچ خاندان میں چوہدری سردار کے گھر 1916 میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ظہور الٰہی رکھا گیا جو کہ بعد میں چوہدری ظہور الٰہی کے نام سے مُلکی سیاست میں اور ضلع گجرات کے مشہور سیاسی خاندان چوہدری برادران کے جد امجد کے طور پر مشہور ہوۓ،
چوہدری ظہور الہی نے ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں نت سے اور پھر سکول کی مزید تعلیم زمیندار سکول گجرات شہر سے حاصل کرنے کے بعد 1936 میں محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کی اور ساہیوال شہر میں فرائض سرانجام دینے لگے۔1944 میں چوہدری ظہور الہی نے محکمہ پولیس کو خیر باد کہا اور امرتسر چلے گئے ۔ جہان ان کے بڑے بھائی چوہدری منظور الہی ( پرویز الہی کے والد ) پہلے ہی سے مقیم تھے اور ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں سپروائزر کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ چوہدری ظہور الہی بھی اسی فیکٹری میں کام کرنے لگے۔
قیام پاکستان کے بعد چوہدری ظہورالہٰی ٹیکسٹائل کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ اور ان کو میلا رام ملز کی الاٹمنٹ حاصل ہو گئی۔
میلا رام ملز کی الاٹمنٹ سے چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں انقلاب برپا ہو گیا۔ یہ کام ان کے لیے ایسا موزوں ثابت ہوا کہ جلد ہی وہ گجرات بھر میں اس کاروبار پر چھا گئے اس کے بعد متوسط درجے کے چوہدری ظہور الہی کا شُمار ضلع گجرات کے امیر چوہدریوں میں ہونے لگا۔ اور وہ رفاہ عامہ اور سماجی بہبود کے کاموں میں بھی نمایاں ہونے لگے۔اؤر یہی جذبہ اُنکو سیاست کے میدان کارزار تک لے گیا۔

ضلع گجرات کی دو بڑی قومیں(برادریاں) جٹ اور گوجر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ 1940 اؤر 1950 کی دہائی میں ضلع گجرات کی سیاست بھی انہی دو بڑی برادریوں کے گِرد گھومتی تھی۔
اُس دور کا گجرات گاؤں اجنالہ کے گوجر نوابزادہ خاندان کی زبردست سیاسی اور معاشی قوت کے زیر اثر تھا نواب سر فضل علی (نوابزادہ غضنفر گل کے دادا محترم) یونینسٹ پارٹی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔1942 میں اُنکی وفات کے بعد اُن کے بیٹے نوابزادہ اصغر علی (جو کہ پنجاب اسمبلی کے رکن تھے) اور دوسرے بیٹے نوابزادہ مہدی علی خان (مجسٹریٹ لاہور شہر) یہ دونوں بھائی 1947 مَیں پاکستان مُسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔

دُوسری طرف جاٹ قبیلے کی سرکردہ سیاسی شخصیات مَیں ممتاز مُسلم لیگی رہنما اور قائد اعظم کے قریبی ساتھی چوہدری بہاول بخش اور اُن کے بیٹے محمد احسن علیگ (اعتزاز احسن کے والد محترم ) اور چوہدری فضل الٰہی (جو بعد میں صدر پاکستان بھی بنے) شامل تھے۔
دھڑے بندی ،برادری اور مفاہمت کی سیاست کے ماہر چوہدری ظہور الٰہی نے گوجر اور جاٹ برادری کے بہت سے لوگوں کو ساتھ ملا کر اپنی ایک مضبوط سیاسی حیثیت قائم کر لی۔ اب گجرات میں موجود سیاسی دھڑوں میں ایک مضبوط دھڑا چوہدری ظہور الہی کا بھی تھا جس میں جاٹ بھی تھے اور گوجر بھی۔

قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بھی بہت عرصے تک کو آپریٹو بنک دیہی اور ضلعی سیاست میں بہت اہم حیثیت رکھتے تھے ۔ گجرات میں گوجر نوابزادہ خاندان کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ کئی سال سے سنٹرل کو آپریٹو بنک گجرات کے کرتا دھرتا چلے آرہے ہیں اور نوابزادہ اصغر علی خاں بنک کے چیئر مین تھے وہ لوگ اپنے آپ کو اس قدر نا قابل تسخیر خیال کرتے تھے کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی ان کے مقابل بھی آسکتا ہے۔ چوہدری ظہور الہی نے ان کے مقابلے میں اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرا دیئے۔ اگرچہ اس مقابلہ میں نواب زادے جیت گئے لیکن ان کا یہ زعم ٹوٹ چکا تھا کہ ان کے مقابلہ میں کوئی اور سامنے نہیں آ سکتا۔(چوہدری ظہور الٰہی کا نوابزادہ خاندان سے یہ پہلا ٹکراؤ تھا)
1955میں پاکستان مُسلم لیگ کے ناراض اراکین نے پاکستان ریپبلکن پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی بنائی تو چوہدری ظہور الہٰی اس پارٹی میں شامل ہو گئے۔1958 میں آپ گجرات ڈسٹرک بورڈ کے چئیرمین بنے اور اسی سال نیشنل بینک کے ڈائریکٹر بھی بن گئے۔(اِس عہدے پر 12 سال تک فائز رہے)

1962 میں پاکستان مسلم لیگ کنونشن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے الیکشن میں اپنے سیاسی حریف نوابزادہ اصغر علی خان کو ہرا کر پہلی بار ایم این اے منتخب ہوئے۔اور قومی اسمبلی میں پارٹی کے جرنل سیکرٹری بھی بنے۔انہی دنوں انہوں نے ایک انگریزی اخبار ،پاکستان ٹائمز ،بھی خرید لیا۔
پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے کنونشن مُسلم لیگ کو چھوڑ دیا اور 1965 کا الیکشن آزاد حیثیت سے لڑا لیکِن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔اِس کے بعد انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی جماعت کونسل مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی 1970 کے الیکشن میں سیاسی حریف نوابزادہ اصغر علی خان(جو کہ اس وقت قیوم مسلم لیگ میں شامل تھے)۔کے 70 ہزار کے مقابلے میں 82 ہزار ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔کونسل مسلم لیگ کو اس الیکشن میں پورے ملک میں سے صرف 7 سیٹیں ملی تھیں جن میں سے ایک سیٹ چوہدری ظہور الٰہی کی تھی۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدار جب ذولفقار علی بھٹو کو حاصل ہؤا تو چوہدری ظہور الٰہی ایک اہم اپوزیشن رہنما کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے۔انہوں نے ہر محاذ پر (اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر) بھٹو حکومت کو ٹف ٹائم دیا۔ حکومت مخالف سیاسی قوتوں کو یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔بھٹو نے اِنکو تنگ کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیئے ۔ان پر اور ان کی فیملی پر بہت سے مقدمات قائم کیے جن میں سے ایک انتہائی مضحکہ خیز مقدمہ بھینس چوری کا بھی تھا۔بھٹو سے مخالفت کی وجہ سے انکو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ایک اور کیس ان کے گھر سے عراقی اسلحہ کی برآمدگی کی صورت میں سامنے آیا۔اس کیس میں انہیں گرفتار کرکے بلوچستان کے علاقےکوہلو لے جایا گیا ۔
چودھری شجاعت حسین اِس حوالے سے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایک سازش کے تحت انکو عدالتی پیشی کے بہانے کوہلو سے کوئٹہ لے جاتے ہوئے راستے میں قتل کروا دیا جانا تھا۔لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے اس منصوبے پر بلوچستان کے گورنر نواب اکبر بگٹی نے عمل درآمد سے انکار کر دیا۔
1977 کے الیکشن میں انہوں نے اپنے آبائی حلقہ کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے حلقہ سے بھی اُن کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کیا لیکِن بعد میں وہ الیکشن ملتوی ہو گئے۔
جرنل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں بننے والی کابینہ میں وہ وفاقی وزیر برائے افرادی قوت و سمندر پار پاکستان مقرر کئے گئے۔
ستمبر 1981 کو چوہدری ظہور الٰہی کو لاہور میں قتل کر دیا گیا۔اس قتل کی ذمےداری میر مرتضیٰ بھٹو کی تنظیم الذوالفقار نے قبول کی تھی۔

چوہدری ظہور الٰہی کی ناگہانی موت کے بعد اُن کے بیٹے چوہدری شجاعت حسین اور بھتیجے چوہدری پرویز الٰہی سیاسی جانشین کے طور پر سامنے آئے۔اور اب تو اُنکی تیسری نسل بھی سیاسی میدان میں وارد ہو کر اُن کے سیاسی مشن کو جاری رکھے ہوۓ ہے۔ان سب کا تعارف پیش خدمت ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی

آپ 1945 میں پیدا ہوئے۔چوہدری ظہور الٰہی کے بھتیجے اور داماد جبکہ چوہدری شجاعت حسین کے
تایہ زاد بھائی اور بہنوئی بھی ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے فارمین کرسچن کالج لاہور سے گریجویٹ کرنے کے بعد واٹفورڈ کالج آف ٹیکنالوجی لندن سے صنعتی ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ (Diploma in Industrial Management) حاصل کیا۔
انہوں نے عملی سیاست کا آغاز 1979 کے بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ ضلع کونسل گجرات کے رکن منتخب ہو کر کیا۔اِس کے بعد 1983 اور 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی وہ ضلع کونسل گجرات کے چیئر مین بنے۔ 1985 کے عام انتخابات میں وہ بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر بلدیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
1988کے انتخابات میں پرویز الہی اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر اپنے مخالف چوہدری شاہد حمید کے 18 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 31 ہزار ووٹ حاصل کر کے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ بھی اُنکو صوبائی وزارت کے پرانے قلمدان (بلدیات اور دیہی ترقیات) سونپے گئے۔1990 کے انتخابات میں چوہدری پرویز الہی آئی جے آئی کے ٹکٹ پر pp 94 سے چوہدری عبدالرشید پگانوالہ کے 17 ہزار کے مقابلے میں 47 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ۔اور غلام حیدر وائیں کی کابینہ میں بھی بلدیات اور دیہی ترقیات کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
1993 کے عام انتخابات میں وہ چوہدری سرور جوڑا کے 30 ہزار کے مقابلے میں 36 ہزار ووٹ حاصل کر کے پنجاب اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوگئے ۔لیکن 1993 سے 1997 تک کا عرصہ انہوں نے پنجاب کے قائد حزب اختلاف کے طور پر گزارا۔1997کے الیکشن میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے چوہدری ارشد جوڑا کے 18 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 40 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی
اِس مرتبہ وہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔
1999 میں جب پاکستان مسلم لیگ (ق) کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس پارٹی کے پنجاب کے صدر بنے۔ 2002 کے عام انتخابات میں وہ دو حلقوں سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور حسب توقع پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے ۔
2008 کے عام انتخابات میں پرویز الٰہی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-64 (چکوال-1) اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی-296 سے کامیاب ہوئے تھے۔ اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں وفاقی وزیر صنعت بنے،2011 میں ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ تشکیل دیا گیا اور چودھری پرویز الہٰی ڈپٹی وزیراعظم منتخب ہوئے۔
2013 کے انتخابات میں چودھری پرویز الہٰی این اے 105 سے نون لیگ کے چوہدری مبشر حسین کے 64 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 78 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوۓ۔

2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ قاف کا تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ تھی جس کی وجہ سے چوہدری ظہور الٰہی خاندان کے ممبران کو ریکارڈ ووٹ ملے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 69 میں چوہدری پرویز الٰہی کو نون لیگ کے چوہدری مبشر کے 49 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 1 لاکھ 22 ہزار ووٹ ملے جو کہ گجرات کی تاریخ میں کسی ایک حلقے میں پڑنے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ 30 میں چوہدری ذوالفقار وڑائچ کے 29 ہزار کے مقابلے میں انکو 75 ہزار ووٹ ملے۔الیکشن کے بعد تحریک انصاف اور ق لیگ کی اتحادی حکومت قائم ہوئی اور پرویز الہٰی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فرائض انجام دئیے۔جولائی 2022 میں تحریکِ انصاف کی طرف سے ہی وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے لیکِن عمران خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے جنوری 2023 میں اپنی حکومت ختم کر دی۔مارچ 2023 میں اُنکو پاکستان تحریکِ انصاف کا صدر بنا دیا گیا۔ اِس کے بعد اُن پر بہت سے مقدمات قائم کئے گئے 2024 کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے انہوں نے جیل سے ہی این اے 64 میں الیکشن لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے لیکِن اُن کے کاغذات مسترد کر دیے گئے اُنکی جگہ اُنکی اہلیہ محترمہ قیصری الٰہی نے الیکشن میں حصہ لیا لیکن اس الیکشن میں چوہدری سالک حسین نے اپنی پھپھو قیصرہ الٰہی کے 89 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 1 لاکھ ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ۔چوہدری پرویز الٰہی کو بعد میں سپریم کورٹ کی طرف سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی جہاں پر اُنکو چوہدری وجاہت حسین کے بیٹے چوہدری موسیٰ الٰہی سے حلقہ pp 32 کے ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی۔لیکِن 2024 کے الیکشن میں چوہدری پرویز الٰہی اور اُنکی فیملی نے سیاسی مخالفین پر دھاندلی کے سخت الزامات لگائے۔

چوہدری شجاعت حسین ولد ظہور الٰہی

چوہدری ظہور الہٰی کے سب سے بڑے بیٹے چوہدری شجاعت حسین 1945 میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کرنے کے بعد فارمن کرسچن کالج لاہور سے بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن چلے گئے اور وہاں سے انڈسٹریل مینجمنٹ میں ماسٹر آف آرٹ کی ڈگری حاصل کی۔1969 میں پاکستان آ کر اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہو گئے۔
1981 میں والد کی ناگہانی موت کے بعد سیاست میں وارد ہوئے۔اور جرنل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن بنے۔1985 میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے رکن بنے اِس کے بعد وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیرِ صنعت بنے۔اس کے بعد 1988 کے انتخابات میں این اے 81 سے پیپلز پارٹی کے چوہدری مشتاق پگانوالہ کے 69 ہزار کے مقابلے میں 78 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔1990 کے الیکشن میں چوہدری احمد مختار کے 74 ہزار کے مقابلے میں 80 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔1997 کے انتخابات میں چوہدری احمد مختار کے 41 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 86 ہزار کے ایک بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔
اور پھر 2002 کے الیکشن میں ایک مرتبہ پھر روایتی حریف چوہدری احمد مختار 52 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 66 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔4 مسلسل الیکشن ہارنے کے بعد 2008 میں بالآخر چوہدری احمد مختار نے انکو ہرا دیا اور چوہدری شجاعت حسین کے 65 ہزار کے مقابلے میں 79 ہزار ووٹ حاصل کئے۔
نوز شریف کے دور حکومت 1990اور1997 میں وہ وزیر داخلہ بھی رہے۔وہ دو دفعہ سینٹر بھی رہ چکے ہیں۔
اور 2004 میں 3 ماہ کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم بھی رھ چکے ہیں۔
2008 کے بعد ہونے والے کسی بھی قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔
چوہدری شجاعت حسین ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔بہت سے سیاسی انکشافات پر مبنی ان کی لکھی ہوئی کتاب ،سچ تو یہ ہے ، 2018 میں شائع ہوئی تھی۔
چوہدری شجاعت حسین اس وقت پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر ہیں۔

چوہدری وجاہت حسین ولد ظہور الٰہی

1960 میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔اگرچہ یہ قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبر کے علاوہ وفاقی وزیر بھی رہے چکے ہیں لیکِن انکی سیاست کا محور ضلع گجرات ہی رہا ہے۔چوہدری پرویز الہٰی اور چوہدری شجاعت زیادہ تر قومی اور صوبائی سیاست میں مصروف رہے ہیں لیکن چوہدری وجاہت حسین ضلع بھر کے دیہات ،یونین کونسلز اور ضلع کونسل کی سیاست کو گزشتہ 3,4 دہائیوں سے کنٹرول کرتے آ رہے ہیں۔

چوہدری وجاہت حسین نے عملی سیاست کا آغاز 1987 میں ڈسٹرکٹ کونسل کے انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے کیا۔ 1988 میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے محمد عبداللہ کے 32 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 34 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔
1990 میں بھی انہوں نے اسی حلقے سے کامیابی حاصل کی لیکن اس دفعہ اُن کے مقابل پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کے گل نواز خان تھے۔جن کے 15 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں چوہدری وجاہت حسین نے 55 ہزار ووٹ حاصل کئے۔اسی الیکشن میں معروف تاریخ دان ،محقق ،مصنف ایڈووکیٹ ایم زمان کھو کھر مرحوم نے بھی آزاد حثیت سے حصہ لیا تھا اور اُنکو 886 ووٹ پڑے تھے۔
چوہدری وجاہت حسین نے 1993 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم 1997 میں وہ ایک مرتبہ پھر آزاد امیدوار عبداللہ یُوسف کے 9 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 38ہزار ووٹ حاصل کر کے پنجاب اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہو گئے۔
2002 کے انتخابات میں انہوں نے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے لئے پنجہ آزمائی کی اور این اے 104 سے نوابزادہ غضنفر علی گل کے حاصل کردہ 62 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 83 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوۓ۔2008 کے الیکشن میں این اے 104 میں ایک دفعہ پھر ان کا مقابلہ نوابزادہ غضنفر علی گل کے ساتھ ہوا اور اس میں 63 ہزار کے بدلے 96 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔
2011 میں وہ مختلف اوقات میں مختلف شعبہ جات کے وفاقی وزیر بھی رہے اُن کے پاس اوورسیز پاکستانی ،افرادی قوت کے علاوہ ہیومین ریسورسز ڈیویلپمنٹ کی وزارت رہی۔
2013 کے بعد انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلی کے کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔

چوہدری شفاعت حسین ولد ظہور الٰہی

چوہدری ظہور الہٰی کے تیسرے بیٹے چوہدری شفاعت حسین 1962 میں پیدا ہوئے انہوں نے ایچی سن کالج لاہور، کرسچن کالج لاہور، لاء کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور پھر جارج واشنگٹن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی، امریکہ سے بین الاقوامی تقابلی قانون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن بھی رہے۔
اپنے دیگر دو بھائیوں کی نسبت وہ سیاست میں کم ہی نظر آتے ہیں۔1991 اور 1998 میں وہ گجرات ضلع کونسل کے چئیرمین منتخب ہوئے اس کے بعد 2001 اور 2005 میں وہ ضلع کونسل گجرات کے ناظم بھی رہے۔2013 کے انتخابات میں پی پی 109 سے وہ قاف لیگ کی طرف وہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔اُن کے مد مقابل مسلم لیگ نون کے میجر معین نواز تھے جنھوں نے چوہدری شفاعت حسین کے 36 ہزار کے مقابلے میں 39 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

چوہدری تجمل حسین

چوہدری ظہور الٰہی کے ایک فرسٹ کزن چوہدری تجمل حسین بھی دو دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ھیں۔اُنھوں نے 1970میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے پہلا الیکشن لڑا لیکن پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد انور سماں سے وہ صرف 190 ووٹوں سے ہار گئے۔اِس کے بعد 1988 میں انہوں نے چوہدری برادران کے تعاون اور سپورٹ سے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مخالف امیدوار نوابزادہ مظہر علی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا امید وار بنایا یہ معرکہ چوہدری تجمل حسین نے 3 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت لیا اور وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے ۔
1990 میں چوہدری تجمل حسین نے این اے 80 کے حلقہ سے دوبارہ اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور نوابزادہ غضنفر علی گل کے 63 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 94 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

چوہدری تجمل حسین کے صاحبزادے چوہدری مبشر حسین ہیں جو کہ نیئر کارپیٹس انڈسٹریز کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
1997 کے عام انتخابات میں چوہدری مبشر حسین چوہدری برادران کے تعاون سے این اے 80 گجرات سے نوابزادہ غضنفر علی گل کے 50 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 87 ہزار ووٹ حاصل کر کے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
چوہدری تجمل حسین کی صاحبزادی اور چوہدری مبشر حسین کی بہن تنزیلہ عامر 2002 میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔
بعد میں چوہدری مبشر حسین اور چوہدری برادران میں اختلافات ہو گئے اور اُنکی سیاسی راہیں جدا ہو گئیں۔
2011 میں چوہدری مبشر حسین پہلے تو تحریکِ انصاف میں شامل ہو گئے بعد میں 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر این اے 105 کی سیٹ پر چوہدری پرویز الٰہی سے مقابلہ کیا اور چوہدری پرویز الٰہی نے 64 ہزار کے مقابلے میں 78 ہزار ووٹ حاصل کیے۔
2018 کے انتخابات میں ایک دفعہ پھر چوہدری مبشر حسین نے چوہدری پرویز الٰہی سے نون لیگ کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا لیکن اس دفعہ پی ٹی آئی کا ساتھ ہونے کی وجہ سے چوہدری پرویز الٰہی نے 49 ہزار کے مقابلے میں 1 لاکھ 22 ہزار کے ریکارڈ ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

چوہدری مونس الہٰی ولد پرویز الٰہی

چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے چوہدری مونس الہٰی 1976 کو پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم امریکن سکول لاہور سے حاصل کی اس کے بعد اسی سکول کی سرے انگلینڈ میں موجود برانچ سے مزید تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے وارٹن سکول آف پنسلوانیا یونیورسٹی امریکہ سے BBA کی ڈگری حاصل کی۔

2008 کے الیکشن میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 10 سے الیکشن میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کے چوہدری ناصر سماں کے 37 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 47 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی
اِس کے بعد 2013 کے انتخابات میں بھی اسی حلقہ سے نون لیگ کے چوہدری رضا علی وڑائچ کے 27 ہزار کے مقابلے میں 51 ہزار ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
2018 کے الیکشن میں اپنے والد چوہدری پرویز الٰہی کی چھوڑی ہوئی نشست این اے 69 پر ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔اُس کے بعد 2021 میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل بنائے گئے۔
2023 میں انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کو جوائن کیا۔2024 کے انتخابات میں کاغذات مسترد ہو جانے کی وجہ سے وہ حصہ نہ لے سکے بعد میں انہوں نے پی پی 158 سےضمنی انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہاں پر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

چوہدری حسین الٰہی ولد وجاہت حسین

چوہدری حسین الٰہی 1993 میں پیدا ہوئے۔گریڈ 12 تک ابتدائی تعلیم امریکن سکول لاہور سے حاصل کی ۔پولیٹکل سائنس میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے امریکہ چلے گئے اور وہاں کی بوسٹن یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کیا۔
چوہدری حسین الٰہی کو 2018 کے انتخابات میں سب سے کم عمر رُکن قومی اسمبلی بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔انہوں نے 2018 کے الیکشن میں قاف لیگ اور تحریک انصاف کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 سے 1لاکھ 4 ہزار ووٹ حاصل کیے (اِس حلقہ کی تاریخ میں کسی ایک امیدوار کو پڑنے والے یہ سب سے زیادہ ووٹ ہیں)
دوسرے نمبر پر نوابزادہ چوہدری غضنفر علی گل نے 69 ہزار اور تیسرے نمبر پر آنے والے کرین پارٹی کے محمد قادری نے 43 ہزار ووٹ حاصل کیے۔
2024 کے متنازعہ الیکشن میں قاف لیگ کے ٹکٹ پر 87 ہزار ووٹ لے کروہ دوبارہ ایم این اے منتخب ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے پی ٹی آئی کے خُفیہ امیدوار ساجد یوسف چھنی نے 82 ہزار ووٹ حاصل کئے۔مسلم لیگ نون کے نوابزادہ غضنفر علی گل نے اس الیکشن میں 56 ہزار اور کرین پارٹی کے محمود قادری نے 28 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

چوہدری موسیٰ الٰہی ولد وجاہت حسین

چوہدری وجاہت حسین کے چھوٹے بیٹے چوہدری موسیٰ الٰہی ہیں۔جنہوں نے بوسٹن امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔
سیاسی اکھاڑے میں اتارنے کے لئے
اُنکو کچھ سال سے تحصیل کھاریاں مَیں چوہدری عابد رضا کوٹلہ کے حلقہ سے الیکشن لڑنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔اور اس سلسلے میں سرائے عالمگیر میں چوہدری موسیٰ الٰہی ہاؤس کے نام سے ایک وسیع و عریض ڈیرہ بھی بنایا گیا۔چوہدری موسیٰ الٰہی اپنا زیادہ تر وقت بھی اُسی حلقہ میں گزارتے۔
2024 کے الیکشن میں چوہدری موسیٰ الٰہی کو اسی حلقہ این اے 62 سے سیاسی میدان میں اتارا گیا۔انہوں نے 26 ہزار ووٹ حاصل کیے،چوہدری عابد رضا کوٹلہ نے 71 ہزار جبکہ پی ٹی اے کے چوہدری محمد الیاس نے 97 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔
2024 کے الیکشن میں گجرات پی پی 32 پر چوہدری سالک حسین کامیاب ہوئے تھے۔وہ چونکہ قومی اسمبلی کے بھی ممبر منتخب ہوئے تھے اس لیے یہ سیٹ اُنھوں نے خالی کر دی چنانچہ اس سیٹ پر اپریل 2024 میں ضمنی انتخابات کرائے گئے اس طرح چوہدری موسیٰ الٰہی کو ایم پی اے بننے کا ایک آسان موقع مل گیا ان کا مقابلہ چوہدری پرویز الٰہی سے ہوا اور 18 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 36 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔اس الیکشن میں چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے دھاندلی کے سخت الزامات لگائے گئے۔ تھے۔

چوہدری شافع حسین ولد چوہدری شجاعت حسین

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری شافع حسین 1977 مَیں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد انگلینڈ چلے گئے اور وہاں سے بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ میں گریجویشن کی پاکستان واپس آ کر ٹیکسٹائل کے خاندانی کاروبار سے منسلک ہو گئے۔
2024 کے الیکشن میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کےگجرات حلقہ 31 سے قاف لیگ اور مسلم لیگ نون کے مشترکہ امیدوار کے طور پر حصہ لیا اور تحریکِ انصاف کے امیدوار چوہدری مدثر مچھیانہ کے 48 ہزار ووٹ کے مقابلے میں 64 ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی اس کے بعد انکو صوبائی وزیر برائے صنعت ،تجارت و سرمایہ کاری مقرر کیا گیا۔

چوہدری سالک حسین ولد چوہدری شجاعت حسین

سابق وزیراعظم پاکستان چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری سالک حسین 1979 میں پیدا ہوئے۔
2018 مَیں پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔2018 کے انتخابات میں چوہدری پرویز الٰہی صوبائی اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 65 چکوال سے بھی کامیاب ہوئے تھے۔اس حلقہ سے انہوں نے ریکارڈ 1لاکھ 58 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔بعد میں انہوں نے یہ والی سیٹ چھوڑ دی اور اس سیٹ پر اکتوبر2018 میں ضمنی انتخابات کرائے گئے جس میں چوہدری سالک حسین1 لاکھ ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔
اپریل 2022 میں جب عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو چوہدری سالک حسین نے قاف لیگ کے دوسرے ایم این اے چوہدری طارق بشیر چیمہ کے ساتھ مل کر عمران خان کے خلاف اپوزیشن کا ساتھ دیا جس سے عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی۔ اور شہباز شریف وزیرِ اعظم بن گئے۔ اور انہوں نے چوہدری سالک حسین کو اپنی کابینہ کا حصہ بناتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ مقرر کیا۔
2024 کے انتخابات میں چوہدری سالک حسین نے حلقہ NA-64 گجرات سے حصہ لیا اور 1 لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوۓ۔انکی مخالف امیدوار ان کی پھپھو اور چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ محترمہ قیصرہ الٰہی نے 89 ہزار ووٹ حاصل کئے لیکِن اُنھوں نے اِن پر دھاندلی کے سخت الزامات لگائے۔
شہباز شریف کے اِس دوسرے دور حکومت میں انہیں سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کا وفاقی وزیر مقرر کرنے کے علاوہ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اضافی قلمدان بھی سونپا گیا۔آگے چل کر اکتوبر 2025 میں وہ پاکستان کبڈی فیڈریشن کے بلا مقابلہ صدر بھی منتخب ہوئے۔
-------------------------------------------------

چوہدری ظہور الٰہی خاندان میں اختلافات

چوہدری ظہور الٰہی خاندان کا شُمار پاکستان کے ایک معزز سیاسی خاندان میں ہوتا ہے قدرت نے اِن کی سیاست کو بڑی کامیابیوں سے نوازا تھا۔ پاکستان کی وزارت عظمی، پنجاب کی وزارت اعلی اور کئی وفاقی و صوبائی وزارتیں اس گھر کے حصے میں آئیں۔
اِس خاندان کی قومی اسمبلی کی نشستوں کا جائزہ لیا جائے تو اب تک چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی سب سے زیادہ چار ،چار مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر بن چُکے ہیں۔ان کے علاوہ چوہدری ظہور الٰہی ،چوہدری تجمل حسین ،چوہدری وجاہت حسین اور چوہدری حسین الٰہی سب حضرات دو ،دو مرتبہ ایم این اے منتخب ہو چُکے ہیں۔ جہاں تک صوبائی اسمبلی کا تعلق ہے تو سب سے زیادہ چوہدری پرویز الٰہی مجموعی طور پر 7 مرتبہ کے علاوہ چوہدری وجاہت حسین 3 مرتبہ اور مونس الٰہی 2 مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چُکے ہیں۔اپنے خاندان کے علاوہ گجرات سے ہی انہوں نے چوہدری خالد اصغر گھرال کو 3 مرتبہ(2002,2008,2024) چوہدری سرور بوچھ کو دو مرتبہ(1990 اؤر 1997) ایم پی اے منتخب کروایا۔چوہدری محمد نواز اجنالہ کو 1970 کے انتخابات میں ایم پی اے بنوایا ،اُن کے بیٹے چوہدری سعادت نواز اجنالہ کو دو دفعہ تحصیل ناظم اور پھر چوہدری سعادت نواز کے چھوٹے بھائی چوہدری شجاعت نواز اجنالہ کو 2018 میں صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کروایا۔

یہ خاندان باہمی اتفاق کے لحاظ سے بھی ایک مثالی خاندان تھا۔گذشتہ 70 سالوں سے اس خاندان کے مابین معاملات بہت خوشی اسلوبی سے چل رہے تھے۔اگر ہم چوہدری ظہور الٰہی اور چوہدری منظور الٰہی کے دور سے جائزہ لیں تو اُس زمانے میں چوہدری ظہور الہی سیاست معاملات کو کنٹرول کیا کرتے تھے اور وہ اپنی وضعداری ، معاملہ فہمی اور مہمان نوازی کے لئے بہت معروف تھے دوسری طرف ان کے بھائی چوہدری منظور الہی کی دلچسپی کاروباری امور کی طرف زیادہ تھی۔ طبیعت اور پروفیشن کے فرق کے باوجود دونوں بھائیوں کے مابین معاملات احسن طریقے سے چلتے رہے۔

چوہدری ظہور الٰہی کے بعد چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین نے بھی خاندان کے باہمی اتحاد کے سلسلے کو جاری رکھا۔
چوہدری پرویز الہی چوہدری منظور الہی کے بیٹے ہیں جبکہ شجاعت حسین چوہدری ظہور الٰہی کے بڑے بیٹے ہیں ہے دونوں حضرات آپس میں ایک دوسرے کے بہنوئی بھی ہیں۔پچھلی چار پانچ دہائیوں میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی نے بھی خاندانی قربت اور وفا شعاری کی اسی روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن جب معاملات تیسری نسل یعنی کہ ان کے بچوں تک پہنچے تو ان میں بزرگوں جیسی قربت نہ رہی۔اور ان کے سیاسی راستے جدا ہو گئے۔

2018 کے الیکشن میں چوہدری برادران عمران خان کے اتحادی تھے۔اور تحریک انصاف کے ساتھ انکی سیٹ ایڈجسٹمنٹ تھی جس کی وجہ سے انکو ریکارڑ ووٹ ملے۔اور وہ آسانی سے اپنے متعلقہ حلقوں سے جیت گئے۔
اس الیکشن میں چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی اور چوہدری وجاہت حسین کے بیٹے حسین الٰہی نے الیکشن میں حصہ لیا۔لیکِن چوہدری شجاعت کے دو بیٹے کسی بھی حلقہ سے الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔اس کا حل بعد میں یہ نکالا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی چکوال والی سیٹ خالی کر دی اور وہاں سے چوہدری سالک حسین کو ضمنی انتخابات میں ایم این اے بنوایا۔الیکشن کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کی خواہش پنجاب کا وزیر اعلی بننے کی تھی لیکن عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیر اعلی بنا دیا۔اس بات کو لے کر تحریک انصاف اور قاف لیگ کے مابین کچھ دوریاں پیدا ہوئیں۔کچھ اختلافات کے باوجود معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھتے رہے ،چوہدری پرویز الٰہی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔
بعد میں جب عمران خان کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں تو مُسلم لیگ نون نے قاف لیگ والوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی پنجاب بننے کی آفر کر دی۔جو کہ سب نے قبول کر لی لیکن بہت جلد یہ آفر عمران خان کی طرف سے بھی کر دی گئی۔چوہدری پرویز الٰہی اور اُن کے بیٹے مونس الٰہی نے عمران خان کے ساتھ ہی چلنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے بیٹے مسلم لیگ نون اور پیپزپارٹی کے ساتھ چلنا چاہتے تھے۔یہیں سے اس خاندان کے اختلاف کھل کر سامنے آئے،
چنانچہ جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو میں مسلم لیگ ق کے 2 ایم این ایز،
چوہدری سالک حسین ،اور چوہدری طارق بشیر چیمہ نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا اور عمران خان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس کے بعد جولائی 2022 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی اراکین اسمبلی کو خط لکھ کر ہدایت کی کہ وہ پرویز الٰہی کو ووٹ نہ دیں،

چوہدری شجاعت حسین کے بھائی چوہدری وجاہت حسین نے ابتدا میں اپنے دو بیٹوں چوہدری حسین الٰہی اور موسیٰ الہی کے ساتھ مل کر چوہدری پرویز الٰہی کا ساتھ دیا اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی لیکن 9 مئی کے بعد انہوں نے تحریک انصاف کو چھوڑ کر دوبارہ مُسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی۔

07/07/2025

‏حُر کے لشکرِ یزید سے نکل کر لشکرِ حسین میں شامل ہونے تک یہ جو رات ہے یہ بڑی کشمکش کی رات رہی ہو گی۔ اسی رات نے حُر کا مقدر بدل دیا۔ اسے ذِلتوں سے نکال کر حسینی بنا دیا اور تا قیامت امر کر دیا۔ حُر کا نام جب آئے گا، جہاں آئے گا احترام میں سر جھک جائیں گے۔ آج اس کا نام ضرب المثل بن چکا ہے۔ "مردِ حُر"۔

‏یہ وہی حُر تھا جس نے 2 محرم کو حسینی قافلے کو زبردستی کربلا میں روک لیا تھا اور قافلے کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ حُر کی کمان میں تین ہزار نفوس پر مشتمل لشکر تھا۔ امام عالی مقام کے گھوڑے کی نکیل میں حُر نے ہاتھ ڈالا تو امام نے قدرے غصہ فرماتے ہوئے کہا " تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے، کیا تو بھول گیا کہ کس کے گھوڑے کو روک رہا ہے ؟ " ۔۔ حُر نے جواب دیا " آپ کی والدہ خاتونِ جنت ہیں، میں جواب میں آپ کو کچھ کہہ کر گستاخی نہیں کر سکتا۔ مجھے حکم ہے کہ جہاں آپ کو پا لوں وہیں روک لوں۔"

‏اور یہ وہی حُر ہے جو صبحِ عاشور فجر سے ذرا پہلے اپنے بیٹے کے ہمراہ امام کے پاس آیا اور بولا کہ میرے گناہوں کی کوئی معافی ہے ؟ ۔ یہ وہی ہے جو کربلا کا پہلا شہید ہے۔ اسی نے عرض کی تھی کہ آپ کو سب سے پہلے روکا بھی میں نے تھا اور اب سب سے پہلے جنگ کو بھی میں جاؤں گا۔

‏یہ جو نو اور دس محرم کی درمیانی رات ہے جسے تاریخ شبِ عاشور لکھتی ہے۔ یہ حُر کے لئے بہت بے چین رات رہی ہو گی۔ اس کی نگاہیں خیام گاہ حسینی پر ٹکی رہی ہوں گی۔ اسی شب امام عالی مقام نے اپنے اصحاب کو خیمے میں جمع کیا اور چراغ گُل کر کے مکمل اندھیرا کرتے ہوئے کہا " صبح موت یقینی ہے۔ میں تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں۔ اس اندھیرے میں جو جانا چاہے ابھی چلا جائے۔ سپاہ یزید کی دشمنی مجھ سے ہے۔ وہ میرے اور میری اولاد کے خون کے پیاسے ہیں۔ تم سب کو وہ بخوشی جانے دیں گے۔ دیکھو اگر تم کو میرے منہ پر رخصت ہوتے شرم آتی ہے تو میں نے چراغ بجھا دیئے ہیں۔ اور دیکھو، اگر تم اس وجہ سے برائے مروت رکے ہو کہ بروزِ محشر میرے نانا کو کیا منہ دکھاؤ گے تو میں حسین ابن علی تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری وفا کی گواہی میں دوں گا۔ میں اپنی رضا سے تم سب سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں۔"

‏جب خیمہ گاہ سے کوئی بھی رخصت نہ ہوا اور چراغ دوبارہ روشن ہو گئے تو شاید یہی وہ فیصلہ کن گھڑی رہی ہو جس نے حُر کی قسمت لکھ دی۔ اس نے اپنے بیٹے کو جب اپنا فیصلہ سنایا تو وہ اپنے باپ کے ہمراہ ہو لیا۔

‏حُر بننا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔ اک طرف دنیا ، دولت، عیش و عشرت، تین ہزار نفوس پر مشتمل دستے کی سپہ سالاری۔ دوسری جانب نری موت، پکی موت، یقینی موت۔۔۔ فیصلہ تو حق و باطل کا تھا۔ اس نے کیا خوب فیصلہ لیا۔

‏ساڑھے چودہ صدیاں بیتیں ، حُر ایک کردار تھا، جیتا جاگتا کردار۔ جب موت یقینی ہو اور بالکل سامنے ہو تو کوئی نہیں مرتا صاحب ! حُر بننا آسان نہیں، بہت کٹھن ہے بہت کٹھن
(منقول)

Situations vacant
29/03/2025

Situations vacant

Address

01
Gujrat
01533

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Human Rights News Gujrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share