10/06/2026
حاجی چودھری بہادر علی مرحوم قاضی چکیہ
حاجی چودھری بہادر علی ولد چودھری فضل احمد قاضی چکیہ 1944ء میں ضلع گجرات کے تاریخی اور مردم خیز گاؤں بارو کی معروف اور باوقار قاضی چکیہ برادری کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کو گاؤں میں عزت، وقار اور سماجی خدمت کی روایات کے باعث خصوصی مقام حاصل تھا۔ آپ کے ایک بھائی چودھری نادر علی پہلوان تھے، جو اپنی جسمانی قوت اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ نادر علی مرحوم کے اکلوتے بیٹے حاجی ریاض احمد صاحب ہیں۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشے زراعت سے وابستہ رہے اور کھیتی باڑی کے شعبے میں بھرپور دلچسپی لیتے رہے۔ دیہی زندگی کی سادگی، محنت اور خلوص آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس نے آپ کو لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا۔
حاجی بہادر علی صاحب نہایت ملنسار، مہمان نواز، نفاست پسند، سادہ مزاج، مخلص، حق گو، بااصول، دیانتدار اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ہمیشہ اخلاص، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ آپ کی گفتگو میں شائستگی، کردار میں وقار اور معاملات میں اصول پسندی نمایاں تھی۔ آپ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے والے دلیر انسان تھے اور دینِ اسلام سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔
1961ء میں آپ کراچی شپ یارڈ میں ملازمت کے لیے بھرتی ہوئے اور بطور کرین آپریٹر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ گاؤں بارو کی تاریخ میں آپ کو پہلے کرین آپریٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے اپنے شعبے میں نہایت محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور تقریباً چالیس برس تک مثالی خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے اپنی تمام ذمہ داریاں خوش اسلوبی، امانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کیں۔ 2001ء میں آپ باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے عملی زندگی سے کنارہ کشی اختیار نہ کی بلکہ گاؤں سگھر میں گیس ایجنسی کا کاروبار شروع کیا، جسے اپنی دیانت داری، خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک کی بدولت کامیابی سے چلاتے رہے۔ لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اور آپ کی بات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آپ کو قاضی چکیہ برادری کے ممتاز رہنما اور سربراہ حافظ چودھری محمد شفیع مرحوم کے ساتھ گہری رفاقت حاصل تھی۔ آپ نہ صرف ان کے قریبی ساتھی بلکہ ان کے دستِ راست بھی سمجھے جاتے تھے۔ حافظ محمد شفیع صاحب کی وفات کے بعد 2002ء میں قاضی چکیہ برادری نے متفقہ طور پر آپ کو برادری کا سربراہ منتخب کیا۔ یہ اعتماد دراصل آپ کے کردار، بصیرت، انصاف پسندی اور عوامی مقبولیت کا اعتراف تھا۔
بطور سربراہ آپ نے برادری میں اتحاد و اتفاق، باہمی احترام اور مشاورت کی روایات کو فروغ دیا۔ آپ ایک بارعب اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور ہر معاملے میں اصولی مؤقف اختیار کرتے تھے۔ اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا اور لوگوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھنا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آپ نے اپنی دانش مندی اور بردباری سے برادری کی رہنمائی کی اور سماجی خدمت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔
2003ء میں آپ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس روحانی سفر میں چیچیاں کے معروف معلم ماسٹر محمد شفیع صاحب بھی آپ کے ہم سفر تھے۔ حج کی ادائیگی کے بعد آپ کی شخصیت میں مزید وقار، عاجزی اور روحانی پختگی نمایاں ہو گئی، اور آپ نے باقی زندگی دینی اور سماجی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔
حاجی بہادر علی صاحب سن 2012ء میں فالج کے عارضے میں مبتلا ہو گئے، جس کے باعث ان کی سماجی اور عوامی سرگرمیوں کا سلسلہ محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم اس کٹھن آزمائش کے دوران انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صبر، حوصلے اور استقامت کی ایک روشن مثال قائم کی۔ بیماری کی شدت کے باوجود آپ نے کبھی ہمت نہ ہاری اور نہایت عزم و استقلال کے ساتھ اس آزمائش کا مقابلہ کیا۔ اس عرصے میں اہلِ خانہ نے بھی بے مثال خلوص اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاجی صاحب کی بھرپور خدمت اور دیکھ بھال کی۔ علاوہ ازیں عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ بھی مسلسل تیمارداری کے لیے آتے رہے۔
25 جنوری 2020 کو یہ باوقار شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کی وفات سے نہ صرف قاضی چکیہ برادری بلکہ پورا گاؤں ایک مخلص، مدبر اور خیر خواہ شخصیت سے محروم ہو گیا۔ آج بھی آپ کی خدمات، حسنِ اخلاق، اصول پسندی اور سماجی کردار کو قدر و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔
حاجی چودھری بہادر علی مرحوم کی زندگی خدمت، دیانت، اصول پسندی، اخلاص اور انسان دوستی کا روشن استعارہ تھی۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی یاد اہلِ بارو کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آپ کے پسماندگان میں ایک صاحبزادہ اور دو صاحبزادیاں شامل ہیں۔ آپ کے صاحبزادے حاجی چودھری اعجاز احمد کراچی اور سعودی عرب میں طویل عرصہ مقیم رہے اور اب بطور الیکٹریشن گ@اؤں بارو میں ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے والدِ محترم کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے گاؤں کی ہر خوشی اور غمی میں پیش پیش رہتے ہیں اور سماجی خدمت میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
تحریر: تحسین عارف بارو
Muhammad Saleem Fazal