03/08/2026
سوانح حیات
چوہدری محمد عارف مرحوم ولد فضل احمد مرحوم بارو ( بابے رحیم دے )
ضلع گجرات کے مشرقی جانب تقریباً سینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خوبصورت اور تاریخی گاؤں بارو میں سن 1957ء میں ایک ایسے باوقار، خوشحال اور کاشتکار گھرانے میں ایک بچے نے آنکھ کھولی جس نے آگے چل کر اپنی شخصیت، مہمان نوازی، خوش لباسی اور خدمتِ خلق سے پورے علاقے میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا۔ یہ شخصیت تھی چوہدری محمد عارف مرحوم ولد فضل احمد مرحوم کی، جنہیں لوگ محبت، عزت اور اپنائیت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
محمد عارف مرحوم کے تین بھائی بھی تھے۔
بڑے بھائی حاجی ظفر اقبال مرحوم نے زیادہ عرصہ سعودی عرب میں گزارا اور محنت و دیانت سے اچھا نام کمایا۔ جبکہ چھوٹے بھائی محمد خالد آج بھی بارو میں رہتے ہوئے زمینداری کی نگرانی کر رہے ہیں اور سب سے چھوٹے صفدر مرحوم تھے۔
چوہدری محمد عارف مرحوم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کی بنیاد عزت، خوشحالی، رواداری اور خدمتِ خلق پر قائم تھی۔ ان کے والد محترم فضل احمد مرحوم بارو کی نہایت درویش صفت، باوقار اور معروف شخصیت تھے جن کی زندگی کا بڑا حصہ لاہور کی مشہور منڈی میں واقع دوکان نمبر 60 میں گزرا۔ ان کے دادا رحم بخش مرحوم اپنے وقت کے بڑے زمیندار اور بااثر شخصیت شمار ہوتے تھے، اسی نسبت سے یہ خاندان پورے علاقے میں “بابے رحیمے دیاں دے” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
محمد عارف مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے نزدیکی گاؤں کے ادارے گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی جبکہ مزید تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول کڑیانوالہ سے مکمل کی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا تعلق اپنے آبائی پیشے زمینداری سے بھی قائم رہا۔ نوجوانی ہی سے ان میں ذمہ داری، وقار اور محنت کی جھلک نمایاں تھی۔
جوانی کے ایام میں انہوں نے اپنے والد محترم کے ساتھ لاہور منڈی میں کاروبار کا آغاز کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے کاروبار کی مکمل ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور اپنے والد کو گاؤں اور زمینداری کی نگرانی کے لیے واپس بھیج دیا۔ لاہور منڈی میں ان کا اندازِ کاروبار، دیانت داری اور لوگوں سے حسنِ سلوک ایسا تھا کہ دوکان نمبر 60 صرف ایک کاروباری جگہ نہیں بلکہ محبت، خلوص اور مہمان نوازی کی علامت بن گئی۔ تقریباً تیس برس تک لاہور منڈی میں ان کا نام اعتماد اور وقار کی پہچان رہا۔
بارو اور گرد و نواح سے جو بھی شخص کسی کام کے سلسلے میں لاہور جاتا، اس کا پہلا پڑاؤ اکثر محمد عارف مرحوم کی دوکان یا رہائش گاہ ہوتی۔ وہ مہمانوں کی اس محبت، خلوص اور اپنائیت سے خدمت کرتے کہ لوگ برسوں ان کی میزبانی کو یاد رکھتے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ دوستوں، عزیزوں اور مسافروں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ وہ صرف مہمان نواز ہی نہیں بلکہ تعلق نبھانے کا سلیقہ بھی خوب جانتے تھے۔ جوانی میں آپ امریکہ بھی گئے مگر پھر بھی لاہور میں اپنے کاروبار کو ترجیح دی اور واپس آ گئے
چوہدری محمد عارف مرحوم کو قدرت نے بے مثال وجاہت عطا کی تھی۔ وہ ساری عمر نفیس لباس زیبِ تن کرتے، اپنی شخصیت اور وضع قطع کا خاص خیال رکھتے۔ خوبصورت چہرہ، بلند قد، شائستہ انداز اور مسکراتا ہوا چہرہ ان کی شخصیت کو اور زیادہ پرکشش بنا دیتا تھا۔ وہ محفل میں جاتے تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے، مگر ان کی طبیعت میں غرور نہیں بلکہ محبت، خندہ پیشانی اور ملنساری تھی۔
ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو گھوڑوں خصوصاً ریس کی گھوڑیوں سے محبت بھی تھا۔ انہیں گھوڑیاں پالنے اور ریس کے مقابلوں میں حصہ لینے کا بے حد شوق تھا۔ ان کی مشہور ریسی گھوڑی پورے علاقے میں شہرت رکھتی تھی۔ گجرات سے لے کر گوجرانوالہ تک ہونے والی کئی ریسوں میں اس گھوڑی نے کامیابیاں حاصل کیں۔ لوگ دور دور سے ان کے گھوڑی اور ان کے شوق کا ذکر کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹوں سے نوازا۔
بڑے صاحبزادے اقبال عارف دبئی میں کامیاب کاروبار کر رہے ہیں اور کرینوں کے وسیع کاروبار سے وابستہ ہیں۔ دوسرے بیٹے شہزاد عارف بھی اپنے بھائی کے ساتھ دبئی میں کاروباری زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے فیاض عارف نے اپنے والد کی روایات، زمینداری، مہمان نوازی اور گھوڑوں کے شوق کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ آج بھی ان کے پاس گھوڑا موجود ہے، اور وہ اپنے والد کی طرح خوش اخلاق، باوقار اور مہمان نواز شخصیت کے مالک ہیں۔
زندگی کے آخری ایام میں چوہدری محمد عارف مرحوم بلڈ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ کافی علاج معالجہ کیا گیا مگر آخرکار 17 اپریل 20015ء کو یہ باوقار شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے گاؤں اور علاقے کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ بارو ایک خوش لباس، مہمان نواز، بااخلاق، زندہ دل اور محبتیں بانٹنے والے انسان سے محروم ہو گیا۔
آج بھی جب بارو، لاہور منڈی کی دوکان نمبر 60، مہمان نوازی، نیلی گھوڑی یا محبت سے بھرپور محفلوں کا ذکر ہوتا ہے تو چوہدری محمد عارف مرحوم کی یادیں لوگوں کے دلوں میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ اپنے دور کی ایک خوبصورت روایت تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔