DEHI Tanzeem BARU

DEHI Tanzeem BARU سماجی فلاحی تنظيم

سوانح حیاتچوہدری محمد عارف مرحوم ولد فضل احمد مرحوم بارو ( بابے رحیم دے ) ضلع گجرات کے مشرقی جانب تقریباً سینتیس کلومیٹر...
03/08/2026

سوانح حیات
چوہدری محمد عارف مرحوم ولد فضل احمد مرحوم بارو ( بابے رحیم دے )

ضلع گجرات کے مشرقی جانب تقریباً سینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خوبصورت اور تاریخی گاؤں بارو میں سن 1957ء میں ایک ایسے باوقار، خوشحال اور کاشتکار گھرانے میں ایک بچے نے آنکھ کھولی جس نے آگے چل کر اپنی شخصیت، مہمان نوازی، خوش لباسی اور خدمتِ خلق سے پورے علاقے میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا۔ یہ شخصیت تھی چوہدری محمد عارف مرحوم ولد فضل احمد مرحوم کی، جنہیں لوگ محبت، عزت اور اپنائیت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

محمد عارف مرحوم کے تین بھائی بھی تھے۔
بڑے بھائی حاجی ظفر اقبال مرحوم نے زیادہ عرصہ سعودی عرب میں گزارا اور محنت و دیانت سے اچھا نام کمایا۔ جبکہ چھوٹے بھائی محمد خالد آج بھی بارو میں رہتے ہوئے زمینداری کی نگرانی کر رہے ہیں اور سب سے چھوٹے صفدر مرحوم تھے۔

چوہدری محمد عارف مرحوم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کی بنیاد عزت، خوشحالی، رواداری اور خدمتِ خلق پر قائم تھی۔ ان کے والد محترم فضل احمد مرحوم بارو کی نہایت درویش صفت، باوقار اور معروف شخصیت تھے جن کی زندگی کا بڑا حصہ لاہور کی مشہور منڈی میں واقع دوکان نمبر 60 میں گزرا۔ ان کے دادا رحم بخش مرحوم اپنے وقت کے بڑے زمیندار اور بااثر شخصیت شمار ہوتے تھے، اسی نسبت سے یہ خاندان پورے علاقے میں “بابے رحیمے دیاں دے” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

محمد عارف مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے نزدیکی گاؤں کے ادارے گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی جبکہ مزید تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول کڑیانوالہ سے مکمل کی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا تعلق اپنے آبائی پیشے زمینداری سے بھی قائم رہا۔ نوجوانی ہی سے ان میں ذمہ داری، وقار اور محنت کی جھلک نمایاں تھی۔

جوانی کے ایام میں انہوں نے اپنے والد محترم کے ساتھ لاہور منڈی میں کاروبار کا آغاز کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے کاروبار کی مکمل ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور اپنے والد کو گاؤں اور زمینداری کی نگرانی کے لیے واپس بھیج دیا۔ لاہور منڈی میں ان کا اندازِ کاروبار، دیانت داری اور لوگوں سے حسنِ سلوک ایسا تھا کہ دوکان نمبر 60 صرف ایک کاروباری جگہ نہیں بلکہ محبت، خلوص اور مہمان نوازی کی علامت بن گئی۔ تقریباً تیس برس تک لاہور منڈی میں ان کا نام اعتماد اور وقار کی پہچان رہا۔

بارو اور گرد و نواح سے جو بھی شخص کسی کام کے سلسلے میں لاہور جاتا، اس کا پہلا پڑاؤ اکثر محمد عارف مرحوم کی دوکان یا رہائش گاہ ہوتی۔ وہ مہمانوں کی اس محبت، خلوص اور اپنائیت سے خدمت کرتے کہ لوگ برسوں ان کی میزبانی کو یاد رکھتے۔ ان کا دروازہ ہمیشہ دوستوں، عزیزوں اور مسافروں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ وہ صرف مہمان نواز ہی نہیں بلکہ تعلق نبھانے کا سلیقہ بھی خوب جانتے تھے۔ جوانی میں آپ امریکہ بھی گئے مگر پھر بھی لاہور میں اپنے کاروبار کو ترجیح دی اور واپس آ گئے

چوہدری محمد عارف مرحوم کو قدرت نے بے مثال وجاہت عطا کی تھی۔ وہ ساری عمر نفیس لباس زیبِ تن کرتے، اپنی شخصیت اور وضع قطع کا خاص خیال رکھتے۔ خوبصورت چہرہ، بلند قد، شائستہ انداز اور مسکراتا ہوا چہرہ ان کی شخصیت کو اور زیادہ پرکشش بنا دیتا تھا۔ وہ محفل میں جاتے تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے، مگر ان کی طبیعت میں غرور نہیں بلکہ محبت، خندہ پیشانی اور ملنساری تھی۔

ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو گھوڑوں خصوصاً ریس کی گھوڑیوں سے محبت بھی تھا۔ انہیں گھوڑیاں پالنے اور ریس کے مقابلوں میں حصہ لینے کا بے حد شوق تھا۔ ان کی مشہور ریسی گھوڑی پورے علاقے میں شہرت رکھتی تھی۔ گجرات سے لے کر گوجرانوالہ تک ہونے والی کئی ریسوں میں اس گھوڑی نے کامیابیاں حاصل کیں۔ لوگ دور دور سے ان کے گھوڑی اور ان کے شوق کا ذکر کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹوں سے نوازا۔
بڑے صاحبزادے اقبال عارف دبئی میں کامیاب کاروبار کر رہے ہیں اور کرینوں کے وسیع کاروبار سے وابستہ ہیں۔ دوسرے بیٹے شہزاد عارف بھی اپنے بھائی کے ساتھ دبئی میں کاروباری زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے فیاض عارف نے اپنے والد کی روایات، زمینداری، مہمان نوازی اور گھوڑوں کے شوق کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ آج بھی ان کے پاس گھوڑا موجود ہے، اور وہ اپنے والد کی طرح خوش اخلاق، باوقار اور مہمان نواز شخصیت کے مالک ہیں۔

زندگی کے آخری ایام میں چوہدری محمد عارف مرحوم بلڈ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ کافی علاج معالجہ کیا گیا مگر آخرکار 17 اپریل 20015ء کو یہ باوقار شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے گاؤں اور علاقے کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ بارو ایک خوش لباس، مہمان نواز، بااخلاق، زندہ دل اور محبتیں بانٹنے والے انسان سے محروم ہو گیا۔

آج بھی جب بارو، لاہور منڈی کی دوکان نمبر 60، مہمان نوازی، نیلی گھوڑی یا محبت سے بھرپور محفلوں کا ذکر ہوتا ہے تو چوہدری محمد عارف مرحوم کی یادیں لوگوں کے دلوں میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ اپنے دور کی ایک خوبصورت روایت تھے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔

سوانحِ حیاتچوہدری محمد اعظم مرحوم بارو (المعروف: محمد اعظم کراچی والے)چوہدری محمد اعظم مرحوم ولد چوہدری نیاز علی 1938ء م...
17/07/2026

سوانحِ حیات
چوہدری محمد اعظم مرحوم بارو
(المعروف: محمد اعظم کراچی والے)

چوہدری محمد اعظم مرحوم ولد چوہدری نیاز علی 1938ء میں پنجاب کے ضلع گجرات سے تقریباً 37 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع یونین کونسل بارو کے معروف گاؤں بارو کی مشہور برادری قاضی چکیہ میں ایک معزز اور باوقار خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم چوہدری نیاز علی اپنے علاقے کے باعزت اور شریف النفس افراد میں شمار ہوتے تھے، جن کی تربیت نے آپ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی۔ کم عمری ہی سے آپ میں محنت، دیانت اور ذمہ داری کا جذبہ نمایاں تھا، جس کے باعث آپ نے جلد ہی اپنے خاندان کی کفالت اور بہتری کے لیے عملی زندگی کا آغاز کیا۔

جوانی کے ایام میں آپ روزگار کی تلاش میں کراچی تشریف لے گئے، جہاں آپ نے سی پورٹ (کراچی بندرگاہ) پر ڈاک لیبر بورڈ کے تحت طویل عرصہ ملازمت کی۔ آپ نے نہایت دیانت داری، لگن اور فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے اور 2003ء تک ایک مثالی ملازم کے طور پر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ کی ملازمت کا دور نہ صرف آپ کی ذاتی کامیابی کی داستان ہے بلکہ آپ کے وطن سے وفاداری اور محنت کی روشن مثال بھی ہے۔

ملازمت سے فراغت کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں بارو واپس آ گئے، جہاں آپ نے اپنی باقی زندگی نہایت سادگی، وقار اور دینی وابستگی کے ساتھ گزاری۔ آپ اپنی برادری میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے اور خاندان کے بزرگ و معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔

آپ کی سوشل اور مذہبی زندگی نہایت مثالی تھی۔ آپ پابندِ صوم و صلوٰۃ تھے اور مسجد گلزار مدینہ (پرانی گنبد والی مسجد) سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک خوش الحان مؤذن تھے اور آپ کی آواز میں اذان، درود و سلام سننا اہلِ محلہ کے لیے روحانی سکون کا باعث ہوتا تھا۔ مسجد کی دوبارہ تعمیر کے دوران آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔

آپ نہایت خوش مزاج، ملنسار اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ عصر کی نماز کے بعد اکثر میرے پاس میری کلینک پہ بیٹھتے کراچی کی یادگار زندگی کے واقعات محبت بھرے انداز میں بیان کرتے (ان دنوں راقم کی گنبد والی مسجد کی دکانوں میں کلینک تھی ) آپ کو اہلِ بیتِ اطہارؑ سے گہری محبت تھی اور آپ ہمیشہ درود و سلام کا ورد جاری رکھتے تھے۔

آپ کے چار بیٹے ہیں، جو آپ کی تربیت اور محنت کی روشن مثال ہیں بڑا بیٹا شفاء علی ہے دو بیٹے غلام عباس اور ناظم علی، جو پہلے سعودی عرب میں خدمات انجام دینے کے بعد دوبئی میں مقیم رہے اب دوبارہ سعودی عرب میں بطور کرین آپریٹر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ناظم علی کا بیٹا رازن علی ہے جو گجرات یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ چھوٹے بیٹے علی حسن 2004ء سے ابو ظہبی میں بطور کرین آپریٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

بالآخر آپ یکم جنوری 2008ء کو تقریباً 70 برس کی عمر میں گھر پر ہی نماز کے لیے وضو کر رہے تھے کہ اچانک ہارٹ اٹیک ہوا اور نماز کی تیاری میں وضو کی حالت میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔

آپ کی پوری زندگی محنت، دیانت، عبادت، خدمتِ خلق اور محبتِ اہلِ بیتؑ کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی یادیں آج بھی اہلِ خانہ اور احباب کے دلوں میں زندہ ہیں اور آپ کی شخصیت ایک روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔

سوانحِ حیاتچوہدری محمد ارشد مرحوم (بارو)ضلع گجرات کے مشہور و معروف ثقافتی گاؤں بارو میں، جو شہر گجرات سے تقریباً 37 کلو ...
10/07/2026

سوانحِ حیات
چوہدری محمد ارشد مرحوم (بارو)

ضلع گجرات کے مشہور و معروف ثقافتی گاؤں بارو میں، جو شہر گجرات سے تقریباً 37 کلو میٹر مشرق کی جانب واقع ہے، سن 1953 میں ایک معزز اور باوقار گجر خاندان میں چوہدری محمد ارشد مرحوم کی ولادت ہوئی۔ آپ کے والدِ محترم چوہدری لال خاں اور دادا محترم فیض احمد تھے، جو اپنے زمانے میں عزت، وقار اور سماجی مقام کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی۔ نوجوانی ہی میں آپ نے ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور والدین کا سہارا بن کر ایک باہمت اور خوددار بیٹے ہونے کا عملی ثبوت دیا۔

روزگار کے سلسلے میں آپ نے پشاور کا رخ کیا، جہاں اپنی محنت، دیانت اور لگن سے بیکری کا کاروبار شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے اس کاروبار کو لاہور منتقل کیا، جہاں بھی آپ نے کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں دوبارہ پشاور جا کر ایک بڑی اور کامیاب بیکری قائم کی، جو آپ کی انتھک محنت اور کاروباری بصیرت کی روشن مثال تھی۔

آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو مہمان نوازی اور خلوص تھا۔ خصوصاً جب بھی گاؤں بارو سے کوئی فرد پشاور آتا، آپ اسے اپنے گھر کا فرد سمجھ کر عزت و محبت سے نوازتے۔ اسی خصلت کی بنا پر آپ اپنے حلقہ احباب میں عزت و احترام کی ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔

دینی و فلاحی کاموں میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مسجد گلزارِ مدینہ (پرانی گنبد والی مسجد بارو) میں منعقد ہونے والے مذہبی پروگراموں، محافلِ میلاد، ختمِ قرآن اور نعتیہ تقاریب میں آپ کا تعاون اور شرکت ہمیشہ نمایاں رہی۔ اسی طرح دربار پیر شیر شاہ والی بارو کی مسجد کی تعمیر میں آپ نے بھرپور مالی اور عملی تعاون کیا اور اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جو آپ کی دین سے محبت اور وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

آپ نہایت غریب پرور، رحم دل اور مخلص انسان تھے۔ دوستی نبھانا آپ کی فطرت میں شامل تھا۔ مذہبی اجتماعات میں آنے والے مہمانوں کے لیے لنگر کا اہتمام کرنا اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنا آپ کی زندگی کا ایک روشن باب ہے۔

گاؤں میں آپ کا مکان "چوبارے والا گھر" کے نام سے معروف تھا، جس کی نسبت سے آپ کو "چوبارے والے" کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں آپ نے بارو سے چیچیاں جانے والے راستے پر ایک نئی کوٹھی تعمیر کی، جہاں آپ کے اہلِ خانہ آج بھی مقیم ہیں۔

آپ کے بھائی، چوہدری پرویز اختر شبیر، جو اس وقت اسپین میں مقیم ہیں، نہایت بااخلاق اور دیندار شخصیت کے حامل ہیں اور گاؤں کے ساتھ اپنی محبت اور وابستگی کا عملی ثبوت دیتے رہے ہیں۔ انہی کی کاوشوں سے ڈاکٹر نصیر الدین بارو تک رسائی ممکن ہوئی (بارو کی تاریخ میں ذکر موجود ہے ) جو اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور آج بھی اپنے نام کے ساتھ "بارو" کا اضافہ کر کے اپنے آبائی گاؤں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

چوہدری محمد ارشد مرحوم کے صاحبزادے عثمان علی اس وقت اپنے چچا کے ساتھ اسپین میں مقیم ہیں اور ایک باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔

زندگی کے آخری ایام میں آپ فالج جیسے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کافی علاج کے باوجود آپ 15 اگست 2025 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات سے نہ صرف آپ کے اہلِ خانہ بلکہ پورا گاؤں ایک مخلص، خدمت گزار اور نیک دل انسان سے محروم ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔

سوانحِ حیاتنصیر احمد بارو (مرحوم)ولد چوہدری اللہ داد (مرحوم)نصیر احمد بارو ضلع گجرات کے مردم خیز گاؤں بارو (یونین کونسل ...
04/07/2026

سوانحِ حیات
نصیر احمد بارو (مرحوم)
ولد چوہدری اللہ داد (مرحوم)

نصیر احمد بارو ضلع گجرات کے مردم خیز گاؤں بارو (یونین کونسل بارو) میں 1961ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد چوہدری اللہ داد مرحوم گاؤں کی ایک معزز، باوقار اور قدیم شخصیت تھے۔ اسی خاندانی وقار اور نیک نامی نے نصیر احمد کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم آپ نے گورنمنٹ سکول دھمتھل سے حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ سکول سگھر اور کڑیانوالہ سے حاصل کی ۔ جوانی کے ایام میں آپ اپنے بڑے بھائی ولائیت خان کے پاس فیصل آباد منتقل ہو گئے، جہاں وہ معروف ڈاکٹر ظفر اسلام کے زیرِ نگرانی طبی خدمات انجام دے رہے تھے۔ نصیر احمد نے بھی وہیں شعبۂ طب سے وابستگی اختیار کی اور عملی تربیت حاصل کی۔

تعلیم و تربیت کے بعد آپ نے اپنے آبائی گاؤں بارو میں کلینک قائم کیا اور جلد ہی ایک ماہر اور قابلِ اعتماد پریکٹیشنر کے طور پر شہرت حاصل کر لی۔ آپ بارو کے گرد و نواح کے گاؤں میں یکساں طور پر معروف تھے۔ آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ ہوم ڈلیوری میڈیکل سروس بھی فراہم کرتے تھے، جس سے دوسرے دیہات کے مریض بھی مستفید ہوتے رہے۔

1982ء میں آپ اپنے قریبی دوست جمیل الرحمان بارو کے پاس مری گئے، جہاں کلینک کے قیام کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں جمیل الرحمان نے بھرپور تعاون کیا۔ مری (باڑیاں) میں ایک بیرونِ ملک جانے والے ڈاکٹر سے کلینک کا مکمل سیٹ اپ خریدا گیا اور یوں آپ نے باقاعدہ پریکٹس کا آغاز کیا۔ ابتدا میں آپ مری میں اپنے دوست کے ساتھ قیام پذیر رہے اور روزانہ باڑیاں آتے جاتے رہے، مگر بعد ازاں سہولت کے لیے کالی مٹی اسٹاپ پر رہائش اختیار کر لی اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ اپنی محنت، خلوص اور حسنِ اخلاق کی بدولت آپ جلد ہی اس علاقے میں ایک کامیاب اور معروف پریکٹیشنر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

کچھ عرصہ بعد آپ نے دوبارہ اپنے آبائی گاؤں بارو واپس آنے کا فیصلہ کیا اور پھر بارو میں خدمات جاری رکھیں۔ اسی دوران آپ ایک خطرناک مرض میں مبتلا ہو گئے۔ لاہور سے معائنہ کروانے پر معلوم ہوا کہ سر میں ٹیومر ہے۔ آپریشن بھی ہوا مگر بیماری دوبارہ لوٹ آئی۔ اس مشکل وقت میں آپ کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ خصوصاً ماسٹر فضل کریم ، محمد اقبال ولد نیاز علی ، ڈاکٹر نسیم صاحب، محمد سعید اختر، جمیل الرحمان اور میں (محمد سلیم) نے بھائیوں کی طرح تیمارداری کی اور ہر ممکن خدمت انجام دی۔

آپ کے حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔ محمد الیاس ولد بشیر احمد مرحوم کے ساتھ آپ کی دوستی بعد ازاں رشتہ داری میں تبدیل ہو گئی۔

آپ کے خاندان میں دو بھائی اور بھی تھے۔ بڑے بھائی ولائیت خان بھی ایک معروف پریکٹیشنر تھے، جنہوں نے ڈاکٹر ظفر اسلام سے طبی تربیت حاصل کی۔ نصیر احمد کی وفات (1995ء) کے بعد انہوں نے بارو میں خدمات انجام دیں۔ وہ دربار بڑیلہ شریف سے منسلک پریکٹیشنر تھے اور نہایت ملنسار و خوش اخلاق انسان تھے۔ ان کی وفات پر پورا گاؤں سوگوار ہو گیا۔ ان کے دو بیٹے محمد عادل اور محمد عجائب ہیں۔

دوسرے بھائی پاک فوج میں خدمات انجام دیتے رہے اور اعزازی کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کی نرینہ اولاد نہ تھی۔

نصیر احمد ایک نہایت شفیق، ملنسار اور ہمدرد انسان تھے۔ وہ ہر طبقۂ فکر کے لوگوں سے محبت اور خلوص سے پیش آتے تھے۔ ان کی زندگی خدمتِ خلق، سادگی اور ایثار کی روشن مثال تھی۔

آپ کے پسماندگان میں ایک بیٹا محمد اویس شامل ہیں، جو اس وقت دوبئی میں برسرِ روزگار ہیں۔

طویل علالت کے بعد نصیر احمد یکم اکتوبر 1995ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات سے نہ صرف بارو بلکہ پورا علاقہ ایک مخلص معالج، عظیم انسان اور ہمدرد شخصیت سے محروم ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔

محمد رمضان مرحوممحمد رمضان مرحوم ولد علم دین 1952ء میں گجرات سے تقریباً سینتیس کلومیٹر مشرق کی جانب  پر واقع معروف گاؤں ...
21/06/2026

محمد رمضان مرحوم

محمد رمضان مرحوم ولد علم دین 1952ء میں گجرات سے تقریباً سینتیس کلومیٹر مشرق کی جانب پر واقع معروف گاؤں بارو میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک معزز اور باوقار خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد علم دین نہایت ملنسار، سادہ مزاج اور دنیا داری کے تقاضوں سے خوب واقف انسان تھے۔ ان کے آباؤ اجداد 1920ء اور 1921ء کے دوران مالوال سے بارو میں آ کر آباد ہوئے اور تب سے یہ خاندان ایک صدی سے زائد عرصے سے اسی سرزمین سے وابستہ ہے۔

محمد رمضان مرحوم نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کم عمری ہی میں عملی زندگی کا آغاز کیا اور اپنے والد کے دست و بازو بن گئے۔ جوان ہوئے تو کچھ عرصہ آپ نے فوج میں بھی خدمات انجام دیں، مگر بعد ازاں اس ملازمت کو ترک کر کے فوجی وردیوں کی سلائی کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ یہی پیشہ آپ کی زندگی کا محور بن گیا اور آپ نے پاک فوج کی مختلف یونٹوں اور چھاؤنیوں میں وردیوں کی سلائی کے ٹھیکے حاصل کیے۔ اس سلسلے میں آپ نے کھاریاں چھاؤنی، منگلا ڈیم اور گوجرانوالہ سمیت مختلف مقامات پر قیام کیا اور اپنی محنت، دیانت اور مہارت سے نیک نامی حاصل کی۔

محمد رمضان مرحوم نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ پابندِ صوم و صلوٰۃ تھے اور اپنے حسنِ اخلاق، سادگی، دیانت اور خوش گفتاری کے باعث معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، دکھ درد میں شریک ہونا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ان کی فطرت کا حصہ تھا۔

جوان بیٹوں کی جدائی کا صدمہ ان کی صحت پر گہرا اثر ڈال گیا۔ وہ رفتہ رفتہ کمزور ہوتے گئے اور بیماری نے انہیں آ گھیر لیا۔ بالآخر 6 دسمبر 2024 ء کو یہ باوقار اور نیک سیرت انسان اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے محبتوں، یادوں اور نیکیوں کی ایک روشن داستان چھوڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں سے نوازا۔ بڑے بیٹے محمد زمان نے بارو سے میٹرک اور گجرات سے ایف اے مکمل کرنے کے بعد فوج میں بطور کلرک ملازمت اختیار کی، مگر صرف تین سال بعد بیماری کے باعث 1992ء میں میڈیکل بنیادوں پر سبکدوش ہو گئے ۔اور بعد ازاں اسی بیماری سے لڑتے ہوئے دسبمر 1992 میں ہی وفات پائی ان کی وفات کا صدمہ محمد رمضان مرحوم کے لیے نہایت جانکاہ ثابت ہوا اور اس سانحے نے ان کی کمر جھکا دی۔ دوسرے بیٹے محمد خاقان شادی شدہ تھے، وہ بھی 2012ء میں عین جوانی میں انتقال کر گئے۔ ان کی ناگہانی موت نے پورے خاندان کو گہرے رنج و الم میں مبتلا کر دیا اور گھرانے پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔ تیسرے بیٹے محمد عمران نے گورنمنٹ ہائی سکول بارو سے میٹرک مکمل کرنے کے بعد گاؤں میں ٹیلرنگ کی دکان قائم کی، مگر بھائیوں کی وفات کے بعد خاندان کی تمام ذمہ داریاں انہی کے کندھوں پر آ گئیں۔ بہتر روزگار کی تلاش میں وہ بیرون ملک چلے گئے اور گزشتہ پندرہ برس سے دبئی میں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔

حاجی ظفر اقبال مرحوم حاجی ظفر اقبال 1952ء میں ضلع گجرات کے گاؤں بارو میں چودھری فضل احمد المعروف بابے رحیم دے کے گھر پید...
16/06/2026

حاجی ظفر اقبال مرحوم

حاجی ظفر اقبال 1952ء میں ضلع گجرات کے گاؤں بارو میں چودھری فضل احمد المعروف بابے رحیم دے کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا نام سید بی بی تھا۔ آپ کی پرورش آپ کے والدین نے نہایت محبت، محنت اور بہترین تربیت کے ساتھ کی، جس کا اثر آپ کی پوری زندگی میں نمایاں رہا۔ ​حاجی صاحب چار بھائی اور دو بہنیں تھے۔ بھائیوں میں ​​محمد عارف مرحوم ​محمد خالد ​اور محمد صفدر مرحوم شامل تھے۔

​آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ٹبہ سے حاصل کی۔ ابتدائی زندگی میں آپ نے کھیتی باڑی اور محنت مزدوری سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اپنی انتھک محنت کے ذریعے اپنی ایک نمایاں پہچان بنائی۔

آپ روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب چلے گئے، جہاں آپ نے اپنا کاروبار شروع کیا اور اپنے کاروبار میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ آپ گاڑیوں کے بہترین کاریگر اور ماہر ڈرائیور بھی تھے اور اپنے فن میں مکمل مہارت رکھتے تھے۔

​ سعودی عرب میں قیام کےدوران آپ نے بیت اللہ شریف کا حج اور عمرہ ادا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عظیم سعادت کئی مرتبہ عطا فرمائی۔ آپ نہایت دیندار انسان تھے یہ اعزاز آپ کی دین سے گہری محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس پر آپ کے اہل خانہ کو فخر ہے۔
​آپ کا مرشد خانہ (دھنی دھوریہ) تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں ہے جہاں پر آپ کی روحانی وابستگی تھی۔ آپ کو پنجابی، اردو کے علاوہ عربی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

​آپ کا پسندیدہ مشغلہ اچھی نسل کے گھوڑے پالنا اور ان کی سواری کرنا تھا۔ آپ کا ایک نمایاں کارنامہ یہ بھی تھا کہ آپ نے بارو گاؤں کی تاریخ میں پہلی پختہ کوٹھی تعمیر کی تھی جو آج بھی آپ کی محنت اور دور اندیشی کی نشانی ہے۔
​گاؤں بارو میں آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا لیکن آپ کے سب سے قریبی دوست وہ ہمارے گاؤں کے عالم دین جناب حافظ محمد فاضل صاحب مرحوم تھے، فارغ وقت میں آپ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔

​زندگی کے آخری ایام میں آپ یرقان جیسے مرض میں مبتلا رہے بالاآخر 3 نومبر 2011 کو بخار کے باعث آپ اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

حاجی ظفر اقبال مرحوم ایک محنتی، دیندار، بااخلاق اور باوقار انسان تھے، ان کی زندگی ایمان، محنت اور خدمت کی ایک روشن مثال ہے، جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

حاجی صاحب نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں اور دو بیویوں میں آپ کے کل آٹھ بچے پیدا ہوئے جن میں سات بیٹیاں اور ایک بیٹا محمد بن ظفر شامل ہے۔ محمد بن ظفر اس وقت دبئی میں گریڈر آپریٹر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

تحریر: خلیل احمد بارو
Khalil Ahmed Muhammad Saleem Fazal

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم قاضی چکیہ حاجی چودھری بہادر علی ولد چودھری فضل احمد قاضی چکیہ 1944ء میں ضلع گجرات کے تاریخی ...
10/06/2026

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم قاضی چکیہ

حاجی چودھری بہادر علی ولد چودھری فضل احمد قاضی چکیہ 1944ء میں ضلع گجرات کے تاریخی اور مردم خیز گاؤں بارو کی معروف اور باوقار قاضی چکیہ برادری کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کو گاؤں میں عزت، وقار اور سماجی خدمت کی روایات کے باعث خصوصی مقام حاصل تھا۔ آپ کے ایک بھائی چودھری نادر علی پہلوان تھے، جو اپنی جسمانی قوت اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ نادر علی مرحوم کے اکلوتے بیٹے حاجی ریاض احمد صاحب ہیں۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشے زراعت سے وابستہ رہے اور کھیتی باڑی کے شعبے میں بھرپور دلچسپی لیتے رہے۔ دیہی زندگی کی سادگی، محنت اور خلوص آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس نے آپ کو لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا۔

حاجی بہادر علی صاحب نہایت ملنسار، مہمان نواز، نفاست پسند، سادہ مزاج، مخلص، حق گو، بااصول، دیانتدار اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ہمیشہ اخلاص، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ آپ کی گفتگو میں شائستگی، کردار میں وقار اور معاملات میں اصول پسندی نمایاں تھی۔ آپ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے والے دلیر انسان تھے اور دینِ اسلام سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔

1961ء میں آپ کراچی شپ یارڈ میں ملازمت کے لیے بھرتی ہوئے اور بطور کرین آپریٹر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ گاؤں بارو کی تاریخ میں آپ کو پہلے کرین آپریٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے اپنے شعبے میں نہایت محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور تقریباً چالیس برس تک مثالی خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے اپنی تمام ذمہ داریاں خوش اسلوبی، امانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کیں۔ 2001ء میں آپ باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے عملی زندگی سے کنارہ کشی اختیار نہ کی بلکہ گاؤں سگھر میں گیس ایجنسی کا کاروبار شروع کیا، جسے اپنی دیانت داری، خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک کی بدولت کامیابی سے چلاتے رہے۔ لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اور آپ کی بات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

آپ کو قاضی چکیہ برادری کے ممتاز رہنما اور سربراہ حافظ چودھری محمد شفیع مرحوم کے ساتھ گہری رفاقت حاصل تھی۔ آپ نہ صرف ان کے قریبی ساتھی بلکہ ان کے دستِ راست بھی سمجھے جاتے تھے۔ حافظ محمد شفیع صاحب کی وفات کے بعد 2002ء میں قاضی چکیہ برادری نے متفقہ طور پر آپ کو برادری کا سربراہ منتخب کیا۔ یہ اعتماد دراصل آپ کے کردار، بصیرت، انصاف پسندی اور عوامی مقبولیت کا اعتراف تھا۔

بطور سربراہ آپ نے برادری میں اتحاد و اتفاق، باہمی احترام اور مشاورت کی روایات کو فروغ دیا۔ آپ ایک بارعب اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور ہر معاملے میں اصولی مؤقف اختیار کرتے تھے۔ اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا اور لوگوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھنا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آپ نے اپنی دانش مندی اور بردباری سے برادری کی رہنمائی کی اور سماجی خدمت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔

2003ء میں آپ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس روحانی سفر میں چیچیاں کے معروف معلم ماسٹر محمد شفیع صاحب بھی آپ کے ہم سفر تھے۔ حج کی ادائیگی کے بعد آپ کی شخصیت میں مزید وقار، عاجزی اور روحانی پختگی نمایاں ہو گئی، اور آپ نے باقی زندگی دینی اور سماجی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔

حاجی بہادر علی صاحب سن 2012ء میں فالج کے عارضے میں مبتلا ہو گئے، جس کے باعث ان کی سماجی اور عوامی سرگرمیوں کا سلسلہ محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم اس کٹھن آزمائش کے دوران انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صبر، حوصلے اور استقامت کی ایک روشن مثال قائم کی۔ بیماری کی شدت کے باوجود آپ نے کبھی ہمت نہ ہاری اور نہایت عزم و استقلال کے ساتھ اس آزمائش کا مقابلہ کیا۔ اس عرصے میں اہلِ خانہ نے بھی بے مثال خلوص اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاجی صاحب کی بھرپور خدمت اور دیکھ بھال کی۔ علاوہ ازیں عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ بھی مسلسل تیمارداری کے لیے آتے رہے۔

25 جنوری 2020 کو یہ باوقار شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کی وفات سے نہ صرف قاضی چکیہ برادری بلکہ پورا گاؤں ایک مخلص، مدبر اور خیر خواہ شخصیت سے محروم ہو گیا۔ آج بھی آپ کی خدمات، حسنِ اخلاق، اصول پسندی اور سماجی کردار کو قدر و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم کی زندگی خدمت، دیانت، اصول پسندی، اخلاص اور انسان دوستی کا روشن استعارہ تھی۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی یاد اہلِ بارو کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

آپ کے پسماندگان میں ایک صاحبزادہ اور دو صاحبزادیاں شامل ہیں۔ آپ کے صاحبزادے حاجی چودھری اعجاز احمد کراچی اور سعودی عرب میں طویل عرصہ مقیم رہے اور اب بطور الیکٹریشن گ@اؤں بارو میں ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے والدِ محترم کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے گاؤں کی ہر خوشی اور غمی میں پیش پیش رہتے ہیں اور سماجی خدمت میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

تحریر: تحسین عارف بارو

Muhammad Saleem Fazal

سوانحِ حیاتماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم (بارو)ماسٹر چوہدری شوکت علی 15 جولائی1962ء کو ضلع گجرات کے مشہور و معروف گاؤں بار...
05/06/2026

سوانحِ حیات
ماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم (بارو)

ماسٹر چوہدری شوکت علی 15 جولائی1962ء کو ضلع گجرات کے مشہور و معروف گاؤں بارو میں ایک معزز اور باوقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری نادر علی ولد محمد خاں تھا جو پاک فوج میں حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے آبائی گاؤں بارو میں دکانداری کے کاروبار سے وابستہ ہو گئے۔ چوہدری شوکت علی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، اسی لیے انہیں خاندان کی خصوصی توجہ، محبت اور بہترین تربیت نصیب ہوئی۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی جبکہ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول کڑیانوالہ سے پاس کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو کراچی میں گورنمنٹ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کا موقع ملا، تاہم چونکہ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے والد محترم نے گھر سے اتنی دور ملازمت کو مناسب نہ سمجھا۔ چنانچہ آپ نے والد کے حکم اور احترام میں اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور واپس اپنے گاؤں بارو آ گئے۔

واپسی کے بعد آپ نے گجرات کچہری میں بطور منشی کام شروع کیا، لیکن آپ کے دل میں تعلیم و تدریس کا شوق موجود تھا۔ اسی جذبے کے تحت آپ نے 1986–87ء کے سیشن میں پی ٹی سی (PTC) کا کورس مکمل کیا۔ بعد ازاں 4 اکتوبر 1987ء کو آپ نے بطور استاد اپنی عملی تدریسی زندگی کا آغاز گورنمنٹ پرائمری سکول چک بزرگ سے کیا۔

آپ ایک محنتی، دیانتدار اور مخلص استاد تھے۔ اپنی انتھک محنت اور بہترین کارکردگی کی بدولت بارہ سال بعد آپ کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سکول سرہالی خورد میں ہو گیا جہاں آپ نے پندرہ برس تک نہایت خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں 8 ستمبر 2014ء کو آپ کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سنٹر سکول کڑیانوالہ میں بطور ہیڈ ماسٹر ہوا، جہاں آپ نے 7 مئی 2021ء تک انتہائی کامیابی اور وقار کے ساتھ خدمات انجام دیں۔

اپنے تدریسی دور میں ماسٹر چوہدری شوکت علی نہ صرف ایک بہترین استاد ثابت ہوئے بلکہ ایک مثالی منتظم بھی رہے۔ ان کی نگرانی میں سکولوں کے تعلیمی نتائج ہمیشہ نمایاں اور قابلِ فخر رہے۔ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں ان کی محنت، شفقت اور لگن قابلِ تقلید تھی۔ دورانِ سروس آپ نے متعدد قومی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیں جن میں الیکشن ڈیوٹیاں، مردم شماری اور امتحانی ڈیوٹیاں شامل ہیں، اور آپ نے ہر فریضہ نہایت ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا۔

آپ صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک مخلص سماجی کارکن بھی تھے۔ آپ معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے اور لوگوں کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرتے رہے۔ اسی وجہ سے آپ اپنے علاقے میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور لوگوں میں آپ کی دوستی اور خلوص کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔

دینی خدمات کے میدان میں بھی آپ کا کردار نہایت نمایاں تھا۔ آپ گاؤں بارو میں مکتب اھلبیت کی مسجد خدیجہ الکبریٰ کے مؤذن اور مسجد کے معاون بھی رہے اور اس مقدس خدمت کو نہایت عقیدت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مذہبی محافل اور مجالس کے انعقاد میں بھی آپ پیش پیش رہتے تھے۔ خصوصاً رمضان المبارک میں آپ اپنے گھر پر 19 رمضان کو شہادتِ حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر مجلس کا اہتمام کرواتے تھے جس میں اہلِ علاقہ بڑی عقیدت کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ آپ کے انتقال کے بعد بھی آپ کی اولاد نے اس روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ مجلس آج بھی باقاعدگی کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے۔

والد محترم کی وفات کے بعد آپ نے خاندانی ذمہ داریوں کو بھی احسن طریقے سے نبھایا اور دکانداری کے کام کو بھی جاری رکھا۔ گنبد والی مسجد بارو (گلزارِ مدینہ مسجد) کی دکانوں کی تعمیر میں بھی آپ پیش پیش رہے اور اس فلاحی کام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ بعد ازاں آپ نے انہی دکانوں میں اپنا کاروبار جاری رکھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد آپ گھریلو معاملات اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ تاہم زندگی کے آخری ایام میں آپ کو گردوں کی بیماری لاحق ہو گئی۔ کورونا وائرس کے دنوں میں طبیعت زیادہ ناساز رہنے لگی اور آپ گورنمنٹ عزیز بھٹی ہسپتال گجرات میں زیرِ علاج رہے۔ بالآخر 7 مئی 2021ء کو یہ نیک، باوقار اور خدمت گزار شخصیت اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئی۔

آپ نے دو شادیاں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیک اور قابل اولاد سے نوازا۔ آپ کے بڑے صاحبزادے خرم شہزاد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت اسپین میں مقیم ہیں جہاں وہ علمی اور تحقیقی میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دوسرے صاحبزادے خرزم عباس نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کڑیانوالہ میں فوٹو اسٹیٹ مشین کا کاروبار قائم کیا ہوا ہے اور باعزت طریقے سے اپنا روزگار چلا رہے ہیں۔
تیسرے صاحبزادے معظم عباس دبئی میں مقیم ہیں اور وہاں محنت اور دیانت کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم ایک بااخلاق، ذمہ دار، ملنسار اور نیک دل انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم، خدمتِ خلق اور معاشرتی بھلائی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی سادہ مزاجی، اخلاص اور محنت آج بھی انہیں جاننے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین۔

گزشتہ سے وابستہ
محمد سلیم بارو
Muhammad Saleem Fazal

حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب بارو  ایک عہد ساز دینی شخصیت، مصلحِ معاشرہ اور داعیِ توحیدضلع گجرات کے مشرقی ...
01/06/2026

حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب بارو

ایک عہد ساز دینی شخصیت، مصلحِ معاشرہ اور داعیِ توحید

ضلع گجرات کے مشرقی جانب تقریباً 37 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاریخی، ثقافتی اور علمی اعتبار سے معروف گاؤں بارو میں سنہ 1917ء میں ایک ایسی شخصیت نے آنکھ کھولی جس نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآنِ مجید کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور اخوتِ انسانی کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ یہ بزرگ ہستی حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب تھے، جو غلام رسول مرحوم کے فرزند تھے۔

آپ ابھی عمر کے ابتدائی مراحل ہی میں تھے کہ والدِ محترم کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا، مگر قدرت نے آپ کو غیر معمولی عزم، استقلال اور دینی ذوق سے نواز رکھا تھا۔ یہی اوصاف بعد ازاں آپ کی شخصیت کا نمایاں حوالہ بنے۔

ابتدائی دینی تعلیم آپ نے دھمتھل کے معروف مدرسہ میں حضرت حافظ رحمت خاں مرحوم کی سرپرستی میں حاصل کی۔ جب حافظ رحمت خاں صاحب نے مدرسہ کو چٹی شیخاں، سیالکوٹ منتقل کیا تو آپ بھی ان کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔ اسی علمی ماحول میں آپ سعادتِ حفظِ قرآن سے سرفراز ہوئے۔

حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد آپ واپس اپنے علاقے میں تشریف لائے اور ضلع گجرات کے موضع شام پور میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ تقریباً تین برس تک وہاں خدمتِ دین انجام دیتے رہے۔ چونکہ اس علاقے میں خاندانی تنازعات اور دشمنیوں کا ماحول تھا اور آپ جسمانی طور پر نہایت مضبوط اور جری شخصیت کے مالک تھے، اس لیے علاقے کے بااثر بزرگ ملک وارث (بعد ازاں ڈی ایس پی ملک وارث کے خاندان) نے خیر خواہی کے جذبے سے مشورہ دیا کہ آپ اپنے آبائی علاقے واپس چلے جائیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتِ حال میں آپ کا نام شامل نہ ہو۔ یہ واقعہ قیامِ پاکستان سے قبل کا ہے۔

واپسی پر آپ نے لاٹی پنڈی میں اٹھارہ سال تک امامت و تدریس کی عظیم خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں کچھ عرصہ بارو کی تاریخی گنبد والی مسجد (موجودہ گلزارِ مدینہ مسجد) میں امامت فرمائی۔ بعد میں اپنے بڑے بھائی میاں اللہ دتہ مرحوم کو اس مسجد کا امام مقرر کیا اور خود سگھر میں امامت کی ذمہ داری قبول کر لی، جہاں آپ نے بارہ سال تک دینِ اسلام کی خدمت کی۔

سنہ 1980ء تک آپ سگھر میں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران آپ نے جلالپور جٹاں میں مستقل سکونت اختیار کی اور اپنا مکان تعمیر کیا۔ بعد ازاں محلہ دھدودھاری، جلالپور جٹاں کی مسجد رحمت للعالمین میں مسلسل بائیس برس تک امامت و خطابت کے فرائض نہایت وقار اور حسنِ تدبیر سے سرانجام دیے۔

قیامِ پاکستان کے ہنگامہ خیز ایام میں جب 1947ء کے فسادات اور ہجرتوں کا دور تھا، آپ بھی اہلِ دیہہ کے ہمراہ مذہبی اور سماجی ذمہ داریوں میں شریک رہے۔ ایک موقع پر بوڑھے جال کے قریب مخالف عناصر کے نرغے میں آگئے اور جان بچانے کے لیے ایک محفوظ مقام پر دن رات مخفی رہے۔ گھر والوں اور اہلِ گاؤں کو شدید تشویش لاحق ہوگئی، مگر آپ اپنی فراست، تدبر اور جراتِ ایمانی کے ساتھ بحفاظت واپس پہنچے تو پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

حافظ میاں خاں مرحوم غیر معمولی جسمانی قوت اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ اُس زمانے میں بازو پکڑنے کے مقابلے عام تھے، مگر اہلِ علاقہ کے مطابق زندگی بھر کوئی شخص آپ کا بازو نہ پکڑتا تھا ا۔ آپ کی وجاہت، مضبوطی اور باوقار چال اہلِ علاقہ میں ضرب المثل تھی۔

آپ ساری عمر سفید لباس، تہبند اور قمیص زیبِ تن کرتے رہے جبکہ ملتانی جوتی آپ کی مستقل پہچان تھی۔ آپ کی چال میں ایک فطری وقار اور شاہانہ تمکنت نمایاں رہتی تھی۔

علمی تشنگی کے باعث آپ نے جیندڑ شریف جا کر صرف و نحو اور عربی قواعد کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس مقصد کے لیے آپ نے اُس زمانے میں اسی روپے کا سائیکل خریدا اور دو برس تک مسلسل آمد و رفت کر کے عربی گرائمر، صرف و نحو اور دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔

دینی بصیرت، فقہی فہم اور شرعی مسائل پر گہری دسترس کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ اپنے مذہبی اور فقہی معاملات میں آپ سے رجوع کرتے تھے۔ آپ کے فیصلے متوازن، مدلل اور دیانت دارانہ ہوتے تھے۔ اسی بنا پر عوام و خواص آپ کو محبت اور احترام سے "قاضی صاحب" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

آپ کی پوری زندگی دعوتِ توحید، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تعلیمات کے فروغ سے عبارت تھی۔ فرقہ واریت سے آپ کو شدید نفرت تھی اور آپ ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیتے رہے۔

آپ نے اپنی زندگی میں تقریباً ستر رمضان المبارک میں قرآنِ مجید سنانے کی سعادت حاصل کی۔ ان میں سیالکوٹ میں 35، سگھر میں 12، کڑیانوالہ میں 1 اور جلالپور جٹاں کی مسجد رحمت للعالمین میں 22 رمضان شامل ہیں۔ یہ خدمت آپ کے اخلاص، حافظۂ قوی اور قرآنِ مجید سے گہری وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔

آپ کے قریبی دوستوں میں میاں خاں سپاہی برادر مردان علی، محمد شریف گجر برادر بشیر احمد شامل تھے۔ یہ دوستی خلوص، اعتماد اور باہمی احترام کی اعلیٰ مثال تھی۔

گاؤں بارو کے معروف بزرگ سید طالب حسین شاہ صاحب نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ قاضی صاحب ہی پڑھائیں گے۔ چنانچہ ان کی وفات پر آپ نے نمازِ جنازہ ادا کروائی۔ آج بھی اسی مسلک کے افراد کے انتقال پر آپ کے فرزند عبدالخالق صاحب محبت، رواداری اور بھائی چارے کی اسی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے نمازِ جنازہ پڑھاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو طویل عمر عطا فرمائی۔ آپ نے ایک 101 برس عمر پائی۔ آخری ایام میں اگرچہ جسمانی ضعف غالب آگیا تھا، تاہم ذہنی وقار اور دینی وابستگی برقرار رہی۔ بالآخر 21 دسمبر 2017ء بروز جمعرات یہ مردِ درویش اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

آپ کے جنازے میں بارو، گرد و نواح کے دیہات اور جلالپور جٹاں سے ہزاروں سوگوار شریک ہوئے۔ یہ ایک مثالی اور تاریخی جنازہ تھا جس نے اس بات کی گواہی دی کہ مرحوم نے اپنی زندگی محبت، خدمت اور اخلاص کے ساتھ بسر کی تھی۔

آپ کے دو صاحبزادے ہیں۔ محمد یعقوب مرحوم جو پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جلالپور جٹاں میں مقیم رہے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کی۔
حاجی عبدالخالق صاحب آپ نے جوانی کا ایک طویل عرصہ سعودی عرب میں گزارا۔ وطن واپسی کے بعد 1994ء میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور مسلسل سماجی، دینی اور رفاہی خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ اس وقت جلالپور جٹاں جماعتِ اسلامی کے نائب امیر ہیں۔ ایک فعال سماجی کارکن، صاحبِ کردار عالمِ دین اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ چودہ برس تک مصالحتی کمیٹی تھانہ سٹی جلالپور جٹاں کے رکن رہے اور آج بھی لوگوں کے مسائل کے حل اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب کی زندگی علم، عمل، اخلاص، استقامت، خدمتِ خلق، اتحادِ امت اور محبتِ قرآن کا درخشندہ باب ہے۔ ان کی یادیں آج بھی بارو، جلالپور جٹاں اور گرد و نواح کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔
Muhammad Saleem Fazal

Address

Gujrat

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 12:00
16:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+923015452377

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DEHI Tanzeem BARU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to DEHI Tanzeem BARU:

Shortcuts

Share