DEHI Tanzeem BARU

DEHI Tanzeem BARU سماجی فلاحی تنظيم

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم قاضی چکیہ حاجی چودھری بہادر علی ولد چودھری فضل احمد قاضی چکیہ 1944ء میں ضلع گجرات کے تاریخی ...
10/06/2026

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم قاضی چکیہ

حاجی چودھری بہادر علی ولد چودھری فضل احمد قاضی چکیہ 1944ء میں ضلع گجرات کے تاریخی اور مردم خیز گاؤں بارو کی معروف اور باوقار قاضی چکیہ برادری کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے خاندان کو گاؤں میں عزت، وقار اور سماجی خدمت کی روایات کے باعث خصوصی مقام حاصل تھا۔ آپ کے ایک بھائی چودھری نادر علی پہلوان تھے، جو اپنی جسمانی قوت اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ نادر علی مرحوم کے اکلوتے بیٹے حاجی ریاض احمد صاحب ہیں۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشے زراعت سے وابستہ رہے اور کھیتی باڑی کے شعبے میں بھرپور دلچسپی لیتے رہے۔ دیہی زندگی کی سادگی، محنت اور خلوص آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس نے آپ کو لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام عطا کیا۔

حاجی بہادر علی صاحب نہایت ملنسار، مہمان نواز، نفاست پسند، سادہ مزاج، مخلص، حق گو، بااصول، دیانتدار اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ہمیشہ اخلاص، محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ آپ کی گفتگو میں شائستگی، کردار میں وقار اور معاملات میں اصول پسندی نمایاں تھی۔ آپ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے والے دلیر انسان تھے اور دینِ اسلام سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔

1961ء میں آپ کراچی شپ یارڈ میں ملازمت کے لیے بھرتی ہوئے اور بطور کرین آپریٹر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ گاؤں بارو کی تاریخ میں آپ کو پہلے کرین آپریٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے اپنے شعبے میں نہایت محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور تقریباً چالیس برس تک مثالی خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے اپنی تمام ذمہ داریاں خوش اسلوبی، امانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کیں۔ 2001ء میں آپ باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے عملی زندگی سے کنارہ کشی اختیار نہ کی بلکہ گاؤں سگھر میں گیس ایجنسی کا کاروبار شروع کیا، جسے اپنی دیانت داری، خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک کی بدولت کامیابی سے چلاتے رہے۔ لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اور آپ کی بات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

آپ کو قاضی چکیہ برادری کے ممتاز رہنما اور سربراہ حافظ چودھری محمد شفیع مرحوم کے ساتھ گہری رفاقت حاصل تھی۔ آپ نہ صرف ان کے قریبی ساتھی بلکہ ان کے دستِ راست بھی سمجھے جاتے تھے۔ حافظ محمد شفیع صاحب کی وفات کے بعد 2002ء میں قاضی چکیہ برادری نے متفقہ طور پر آپ کو برادری کا سربراہ منتخب کیا۔ یہ اعتماد دراصل آپ کے کردار، بصیرت، انصاف پسندی اور عوامی مقبولیت کا اعتراف تھا۔

بطور سربراہ آپ نے برادری میں اتحاد و اتفاق، باہمی احترام اور مشاورت کی روایات کو فروغ دیا۔ آپ ایک بارعب اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور ہر معاملے میں اصولی مؤقف اختیار کرتے تھے۔ اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا اور لوگوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھنا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آپ نے اپنی دانش مندی اور بردباری سے برادری کی رہنمائی کی اور سماجی خدمت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔

2003ء میں آپ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس روحانی سفر میں چیچیاں کے معروف معلم ماسٹر محمد شفیع صاحب بھی آپ کے ہم سفر تھے۔ حج کی ادائیگی کے بعد آپ کی شخصیت میں مزید وقار، عاجزی اور روحانی پختگی نمایاں ہو گئی، اور آپ نے باقی زندگی دینی اور سماجی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔

حاجی بہادر علی صاحب سن 2012ء میں فالج کے عارضے میں مبتلا ہو گئے، جس کے باعث ان کی سماجی اور عوامی سرگرمیوں کا سلسلہ محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم اس کٹھن آزمائش کے دوران انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صبر، حوصلے اور استقامت کی ایک روشن مثال قائم کی۔ بیماری کی شدت کے باوجود آپ نے کبھی ہمت نہ ہاری اور نہایت عزم و استقلال کے ساتھ اس آزمائش کا مقابلہ کیا۔ اس عرصے میں اہلِ خانہ نے بھی بے مثال خلوص اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاجی صاحب کی بھرپور خدمت اور دیکھ بھال کی۔ علاوہ ازیں عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ بھی مسلسل تیمارداری کے لیے آتے رہے۔

25 جنوری 2020 کو یہ باوقار شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کی وفات سے نہ صرف قاضی چکیہ برادری بلکہ پورا گاؤں ایک مخلص، مدبر اور خیر خواہ شخصیت سے محروم ہو گیا۔ آج بھی آپ کی خدمات، حسنِ اخلاق، اصول پسندی اور سماجی کردار کو قدر و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حاجی چودھری بہادر علی مرحوم کی زندگی خدمت، دیانت، اصول پسندی، اخلاص اور انسان دوستی کا روشن استعارہ تھی۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی یاد اہلِ بارو کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

آپ کے پسماندگان میں ایک صاحبزادہ اور دو صاحبزادیاں شامل ہیں۔ آپ کے صاحبزادے حاجی چودھری اعجاز احمد کراچی اور سعودی عرب میں طویل عرصہ مقیم رہے اور اب بطور الیکٹریشن گ@اؤں بارو میں ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے والدِ محترم کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے گاؤں کی ہر خوشی اور غمی میں پیش پیش رہتے ہیں اور سماجی خدمت میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

تحریر: تحسین عارف بارو

Muhammad Saleem Fazal

سوانحِ حیاتماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم (بارو)ماسٹر چوہدری شوکت علی 15 جولائی1962ء کو ضلع گجرات کے مشہور و معروف گاؤں بار...
05/06/2026

سوانحِ حیات
ماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم (بارو)

ماسٹر چوہدری شوکت علی 15 جولائی1962ء کو ضلع گجرات کے مشہور و معروف گاؤں بارو میں ایک معزز اور باوقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری نادر علی ولد محمد خاں تھا جو پاک فوج میں حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے آبائی گاؤں بارو میں دکانداری کے کاروبار سے وابستہ ہو گئے۔ چوہدری شوکت علی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، اسی لیے انہیں خاندان کی خصوصی توجہ، محبت اور بہترین تربیت نصیب ہوئی۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سگھر سے حاصل کی جبکہ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول کڑیانوالہ سے پاس کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو کراچی میں گورنمنٹ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کا موقع ملا، تاہم چونکہ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے والد محترم نے گھر سے اتنی دور ملازمت کو مناسب نہ سمجھا۔ چنانچہ آپ نے والد کے حکم اور احترام میں اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور واپس اپنے گاؤں بارو آ گئے۔

واپسی کے بعد آپ نے گجرات کچہری میں بطور منشی کام شروع کیا، لیکن آپ کے دل میں تعلیم و تدریس کا شوق موجود تھا۔ اسی جذبے کے تحت آپ نے 1986–87ء کے سیشن میں پی ٹی سی (PTC) کا کورس مکمل کیا۔ بعد ازاں 4 اکتوبر 1987ء کو آپ نے بطور استاد اپنی عملی تدریسی زندگی کا آغاز گورنمنٹ پرائمری سکول چک بزرگ سے کیا۔

آپ ایک محنتی، دیانتدار اور مخلص استاد تھے۔ اپنی انتھک محنت اور بہترین کارکردگی کی بدولت بارہ سال بعد آپ کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سکول سرہالی خورد میں ہو گیا جہاں آپ نے پندرہ برس تک نہایت خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں 8 ستمبر 2014ء کو آپ کا تبادلہ گورنمنٹ پرائمری سنٹر سکول کڑیانوالہ میں بطور ہیڈ ماسٹر ہوا، جہاں آپ نے 7 مئی 2021ء تک انتہائی کامیابی اور وقار کے ساتھ خدمات انجام دیں۔

اپنے تدریسی دور میں ماسٹر چوہدری شوکت علی نہ صرف ایک بہترین استاد ثابت ہوئے بلکہ ایک مثالی منتظم بھی رہے۔ ان کی نگرانی میں سکولوں کے تعلیمی نتائج ہمیشہ نمایاں اور قابلِ فخر رہے۔ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں ان کی محنت، شفقت اور لگن قابلِ تقلید تھی۔ دورانِ سروس آپ نے متعدد قومی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیں جن میں الیکشن ڈیوٹیاں، مردم شماری اور امتحانی ڈیوٹیاں شامل ہیں، اور آپ نے ہر فریضہ نہایت ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا۔

آپ صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک مخلص سماجی کارکن بھی تھے۔ آپ معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے اور لوگوں کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرتے رہے۔ اسی وجہ سے آپ اپنے علاقے میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور لوگوں میں آپ کی دوستی اور خلوص کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔

دینی خدمات کے میدان میں بھی آپ کا کردار نہایت نمایاں تھا۔ آپ گاؤں بارو میں مکتب اھلبیت کی مسجد خدیجہ الکبریٰ کے مؤذن اور مسجد کے معاون بھی رہے اور اس مقدس خدمت کو نہایت عقیدت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مذہبی محافل اور مجالس کے انعقاد میں بھی آپ پیش پیش رہتے تھے۔ خصوصاً رمضان المبارک میں آپ اپنے گھر پر 19 رمضان کو شہادتِ حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر مجلس کا اہتمام کرواتے تھے جس میں اہلِ علاقہ بڑی عقیدت کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ آپ کے انتقال کے بعد بھی آپ کی اولاد نے اس روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ مجلس آج بھی باقاعدگی کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے۔

والد محترم کی وفات کے بعد آپ نے خاندانی ذمہ داریوں کو بھی احسن طریقے سے نبھایا اور دکانداری کے کام کو بھی جاری رکھا۔ گنبد والی مسجد بارو (گلزارِ مدینہ مسجد) کی دکانوں کی تعمیر میں بھی آپ پیش پیش رہے اور اس فلاحی کام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ بعد ازاں آپ نے انہی دکانوں میں اپنا کاروبار جاری رکھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد آپ گھریلو معاملات اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ تاہم زندگی کے آخری ایام میں آپ کو گردوں کی بیماری لاحق ہو گئی۔ کورونا وائرس کے دنوں میں طبیعت زیادہ ناساز رہنے لگی اور آپ گورنمنٹ عزیز بھٹی ہسپتال گجرات میں زیرِ علاج رہے۔ بالآخر 7 مئی 2021ء کو یہ نیک، باوقار اور خدمت گزار شخصیت اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئی۔

آپ نے دو شادیاں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیک اور قابل اولاد سے نوازا۔ آپ کے بڑے صاحبزادے خرم شہزاد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت اسپین میں مقیم ہیں جہاں وہ علمی اور تحقیقی میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دوسرے صاحبزادے خرزم عباس نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کڑیانوالہ میں فوٹو اسٹیٹ مشین کا کاروبار قائم کیا ہوا ہے اور باعزت طریقے سے اپنا روزگار چلا رہے ہیں۔
تیسرے صاحبزادے معظم عباس دبئی میں مقیم ہیں اور وہاں محنت اور دیانت کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ماسٹر چوہدری شوکت علی مرحوم ایک بااخلاق، ذمہ دار، ملنسار اور نیک دل انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم، خدمتِ خلق اور معاشرتی بھلائی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی سادہ مزاجی، اخلاص اور محنت آج بھی انہیں جاننے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین۔

گزشتہ سے وابستہ
محمد سلیم بارو
Muhammad Saleem Fazal

حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب بارو  ایک عہد ساز دینی شخصیت، مصلحِ معاشرہ اور داعیِ توحیدضلع گجرات کے مشرقی ...
01/06/2026

حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب بارو

ایک عہد ساز دینی شخصیت، مصلحِ معاشرہ اور داعیِ توحید

ضلع گجرات کے مشرقی جانب تقریباً 37 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاریخی، ثقافتی اور علمی اعتبار سے معروف گاؤں بارو میں سنہ 1917ء میں ایک ایسی شخصیت نے آنکھ کھولی جس نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآنِ مجید کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ اور اخوتِ انسانی کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ یہ بزرگ ہستی حضرت حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب تھے، جو غلام رسول مرحوم کے فرزند تھے۔

آپ ابھی عمر کے ابتدائی مراحل ہی میں تھے کہ والدِ محترم کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا، مگر قدرت نے آپ کو غیر معمولی عزم، استقلال اور دینی ذوق سے نواز رکھا تھا۔ یہی اوصاف بعد ازاں آپ کی شخصیت کا نمایاں حوالہ بنے۔

ابتدائی دینی تعلیم آپ نے دھمتھل کے معروف مدرسہ میں حضرت حافظ رحمت خاں مرحوم کی سرپرستی میں حاصل کی۔ جب حافظ رحمت خاں صاحب نے مدرسہ کو چٹی شیخاں، سیالکوٹ منتقل کیا تو آپ بھی ان کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔ اسی علمی ماحول میں آپ سعادتِ حفظِ قرآن سے سرفراز ہوئے۔

حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد آپ واپس اپنے علاقے میں تشریف لائے اور ضلع گجرات کے موضع شام پور میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ تقریباً تین برس تک وہاں خدمتِ دین انجام دیتے رہے۔ چونکہ اس علاقے میں خاندانی تنازعات اور دشمنیوں کا ماحول تھا اور آپ جسمانی طور پر نہایت مضبوط اور جری شخصیت کے مالک تھے، اس لیے علاقے کے بااثر بزرگ ملک وارث (بعد ازاں ڈی ایس پی ملک وارث کے خاندان) نے خیر خواہی کے جذبے سے مشورہ دیا کہ آپ اپنے آبائی علاقے واپس چلے جائیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتِ حال میں آپ کا نام شامل نہ ہو۔ یہ واقعہ قیامِ پاکستان سے قبل کا ہے۔

واپسی پر آپ نے لاٹی پنڈی میں اٹھارہ سال تک امامت و تدریس کی عظیم خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں کچھ عرصہ بارو کی تاریخی گنبد والی مسجد (موجودہ گلزارِ مدینہ مسجد) میں امامت فرمائی۔ بعد میں اپنے بڑے بھائی میاں اللہ دتہ مرحوم کو اس مسجد کا امام مقرر کیا اور خود سگھر میں امامت کی ذمہ داری قبول کر لی، جہاں آپ نے بارہ سال تک دینِ اسلام کی خدمت کی۔

سنہ 1980ء تک آپ سگھر میں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران آپ نے جلالپور جٹاں میں مستقل سکونت اختیار کی اور اپنا مکان تعمیر کیا۔ بعد ازاں محلہ دھدودھاری، جلالپور جٹاں کی مسجد رحمت للعالمین میں مسلسل بائیس برس تک امامت و خطابت کے فرائض نہایت وقار اور حسنِ تدبیر سے سرانجام دیے۔

قیامِ پاکستان کے ہنگامہ خیز ایام میں جب 1947ء کے فسادات اور ہجرتوں کا دور تھا، آپ بھی اہلِ دیہہ کے ہمراہ مذہبی اور سماجی ذمہ داریوں میں شریک رہے۔ ایک موقع پر بوڑھے جال کے قریب مخالف عناصر کے نرغے میں آگئے اور جان بچانے کے لیے ایک محفوظ مقام پر دن رات مخفی رہے۔ گھر والوں اور اہلِ گاؤں کو شدید تشویش لاحق ہوگئی، مگر آپ اپنی فراست، تدبر اور جراتِ ایمانی کے ساتھ بحفاظت واپس پہنچے تو پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

حافظ میاں خاں مرحوم غیر معمولی جسمانی قوت اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ اُس زمانے میں بازو پکڑنے کے مقابلے عام تھے، مگر اہلِ علاقہ کے مطابق زندگی بھر کوئی شخص آپ کا بازو نہ پکڑتا تھا ا۔ آپ کی وجاہت، مضبوطی اور باوقار چال اہلِ علاقہ میں ضرب المثل تھی۔

آپ ساری عمر سفید لباس، تہبند اور قمیص زیبِ تن کرتے رہے جبکہ ملتانی جوتی آپ کی مستقل پہچان تھی۔ آپ کی چال میں ایک فطری وقار اور شاہانہ تمکنت نمایاں رہتی تھی۔

علمی تشنگی کے باعث آپ نے جیندڑ شریف جا کر صرف و نحو اور عربی قواعد کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس مقصد کے لیے آپ نے اُس زمانے میں اسی روپے کا سائیکل خریدا اور دو برس تک مسلسل آمد و رفت کر کے عربی گرائمر، صرف و نحو اور دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔

دینی بصیرت، فقہی فہم اور شرعی مسائل پر گہری دسترس کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ اپنے مذہبی اور فقہی معاملات میں آپ سے رجوع کرتے تھے۔ آپ کے فیصلے متوازن، مدلل اور دیانت دارانہ ہوتے تھے۔ اسی بنا پر عوام و خواص آپ کو محبت اور احترام سے "قاضی صاحب" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

آپ کی پوری زندگی دعوتِ توحید، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تعلیمات کے فروغ سے عبارت تھی۔ فرقہ واریت سے آپ کو شدید نفرت تھی اور آپ ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیتے رہے۔

آپ نے اپنی زندگی میں تقریباً ستر رمضان المبارک میں قرآنِ مجید سنانے کی سعادت حاصل کی۔ ان میں سیالکوٹ میں 35، سگھر میں 12، کڑیانوالہ میں 1 اور جلالپور جٹاں کی مسجد رحمت للعالمین میں 22 رمضان شامل ہیں۔ یہ خدمت آپ کے اخلاص، حافظۂ قوی اور قرآنِ مجید سے گہری وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔

آپ کے قریبی دوستوں میں میاں خاں سپاہی برادر مردان علی، محمد شریف گجر برادر بشیر احمد شامل تھے۔ یہ دوستی خلوص، اعتماد اور باہمی احترام کی اعلیٰ مثال تھی۔

گاؤں بارو کے معروف بزرگ سید طالب حسین شاہ صاحب نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ قاضی صاحب ہی پڑھائیں گے۔ چنانچہ ان کی وفات پر آپ نے نمازِ جنازہ ادا کروائی۔ آج بھی اسی مسلک کے افراد کے انتقال پر آپ کے فرزند عبدالخالق صاحب محبت، رواداری اور بھائی چارے کی اسی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے نمازِ جنازہ پڑھاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو طویل عمر عطا فرمائی۔ آپ نے ایک 101 برس عمر پائی۔ آخری ایام میں اگرچہ جسمانی ضعف غالب آگیا تھا، تاہم ذہنی وقار اور دینی وابستگی برقرار رہی۔ بالآخر 21 دسمبر 2017ء بروز جمعرات یہ مردِ درویش اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

آپ کے جنازے میں بارو، گرد و نواح کے دیہات اور جلالپور جٹاں سے ہزاروں سوگوار شریک ہوئے۔ یہ ایک مثالی اور تاریخی جنازہ تھا جس نے اس بات کی گواہی دی کہ مرحوم نے اپنی زندگی محبت، خدمت اور اخلاص کے ساتھ بسر کی تھی۔

آپ کے دو صاحبزادے ہیں۔ محمد یعقوب مرحوم جو پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جلالپور جٹاں میں مقیم رہے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کی۔
حاجی عبدالخالق صاحب آپ نے جوانی کا ایک طویل عرصہ سعودی عرب میں گزارا۔ وطن واپسی کے بعد 1994ء میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور مسلسل سماجی، دینی اور رفاہی خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ اس وقت جلالپور جٹاں جماعتِ اسلامی کے نائب امیر ہیں۔ ایک فعال سماجی کارکن، صاحبِ کردار عالمِ دین اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ چودہ برس تک مصالحتی کمیٹی تھانہ سٹی جلالپور جٹاں کے رکن رہے اور آج بھی لوگوں کے مسائل کے حل اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

حافظ میاں خاں مرحوم المعروف قاضی صاحب کی زندگی علم، عمل، اخلاص، استقامت، خدمتِ خلق، اتحادِ امت اور محبتِ قرآن کا درخشندہ باب ہے۔ ان کی یادیں آج بھی بارو، جلالپور جٹاں اور گرد و نواح کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو ۔
Muhammad Saleem Fazal

چودھری اکبر علی ولد احمد دیناکبر علی ولد احمد دین 1943 میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں بارو میں پیدا ہوئے۔ ان کے وال...
28/05/2026

چودھری اکبر علی ولد احمد دین

اکبر علی ولد احمد دین 1943 میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں بارو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احمد دین اور والدہ کا نام نیامت بی بی تھا۔ اکبر علی کا تعلق ایک معزز گوجر خاندان سے تھا۔ آپ تین بھائی راجہ خاں، نیاز علی اور اکبر علی، جبکہ ایک بہن آمنہ بی بی تھیں۔

اکبر علی نے اپنی ابتدائی تعلیم سگھر سکول سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیمی سالوں میں ہی ان کے اندر علم و ادب کے لیے گہرا شغف پیدا ہوا، خصوصاً پنجابی ادب کی مشہور داستان "ہیر" وارث شاہ کو دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ یہ شوق نہ صرف ان کی شخصیت کی نفاست میں اضافے کا باعث بنا بلکہ انہیں اپنی ثقافت اور روایات سے مضبوط تعلق کا بھی شعور دیا۔

اکبر علی ایک محنتی کاشتکار تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی کھیتی باڑی میں گزاری اور محنت، دیانت اور سادگی کے ساتھ اپنے خاندان کی معاشی ضروریات پوری کیں۔ دیہی ماحول اور زمین سے محبت نے ان کی شخصیت میں اعلیٰ اخلاق اور سادگی کو پروان چڑھایا۔آپ کی شادی 1960 میں ہوئی شادی کے بعد آپ نے نہایت خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ خاندانی ذمہ داریوں کو سنبھالا۔

اکبر علی کی شخصیت نفیس، ہمدرد اور باوقار تھی، ان میں عاجزی، دوسروں کے لیے ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا جذبہ نمایاں تھا۔ ان کے دوستوں میں فرمان علی، اصغر علی چیئرمین، میاں خاں، اکبر علی جیسے معزز افراد شامل تھے جن کے ساتھ تعلقات نے نہ صرف ان کی سماجی شناخت میں اضافہ کیا بلکہ ان کی زندگی میں مثبت اثرات ڈالے۔

زندگی کے آخری ایام میں اکبر علی کو دمہ اور کینسر جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انہوں نے صبر اور حوصلہ و تحمل کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا بالآخر 15 جون 2022 کو وہ اپنے آبائی گاؤں بارو میں وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے۔

ان کی وفات سے خاندان اور برادری میں گہرا دکھ محسوس کیا گیا مگر ان کی شخصیت اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو محنت، دیانت داری، خاندانی وابستگی اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں۔

ان کے ہاں آٹھ بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں سے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں میں عیدے خاں، اکرام اکبر، احسان اکبر اور انعام اکبر شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے بیٹے عیدے خاں اور اکرام اکبر بچپن میں ہی وفات پا گئے ان کے بیٹے احسان اکبر اور انعام اکبر دبئی میں اپنا کاروبار کر رہے ہیں جبکہ احسان اکبر فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

تحریر: خلیل احمد

چودھری نواب خاں بارو مرحوم چودھری نواب خاں گوجر مرحوم 1935ء میں ضلع گجرات سے تقریباً 37 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع گاؤں ...
23/05/2026

چودھری نواب خاں بارو مرحوم

چودھری نواب خاں گوجر مرحوم 1935ء میں ضلع گجرات سے تقریباً 37 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع گاؤں بارو کے ایک باعزت اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، چودھری رحمت خاں (کیکر والے) ایک بااصول، دیانتدار اور محنتی انسان تھے۔

چودھری رحمت خاں کے عہد میں دو دیگر افراد بھی اسی نام سے معروف تھے، لہٰذا امتیاز کے لیے آپ کو “کیکر والے” کہا جانے لگا۔ یہ نسبت آپ کے گھر میں موجود ایک بڑے کیکر کے درخت کی وجہ سے مشہور ہوئی، جو بعد ازاں اس خاندان کی مستقل پہچان بن گئی۔

چودھری رحمت خاں کاشتکاری کے پیشہ سے منسلک تھے۔ وہ اپنے وقت کے خوشحال زمینداروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس زمانے میں جب آبپاشی کے لیے اکثر لوگ مل کر کنویں کھدواتے تھے، چودھری صاحب کا ذاتی کنواں تھا۔ انہیں اعلیٰ نسل کے مویشی رکھنے کا شوق تھا۔ ان کے پاس کنواں چلانے کے لیے ایک ڈاچی (اونٹنی)، سواری کے لیے ایک خوبصورت گھوڑی، کھیتی باڑی کے لیے دو طاقتور بیل، اور دودھ کے لیے اعلیٰ نسل کی ایک دو بھینسیں موجود رہتی تھیں۔ مویشیوں کے لیے ہمیشہ وافر مقدار میں چارہ موجود ہوتا اور ضرورت مند کو خود پیشکش کرتے کہ جتنی ضرورت ہو چارہ یا بھوسہ لے جائے۔ آپ ایک ڈیرے دار انسان تھے، ہر آنے والے مہمان کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے اور موسم کے مطابق اس کی خدمت کرتے۔

چودھری رحمت خاں مرحوم نے 1972ء میں تقریباً 90 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ بڑے بیٹے چودھری نیاز علی مرحوم اور چھوٹے بیٹے چودھری نواب خاں مرحوم تھے۔

چودھری نیاز علی مرحوم نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کاشتکاری کو ہی اپنا پیشہ بنایا۔ انہوں نے بھی زندگی محنت، دیانت اور حلال روزی کے حصول میں گزاری اور تقریباً 55 سال کی عمر میں 1982ء میں وفات پائی ۔
آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ بڑے بیٹے چودھری نادر علی کے تین بیٹے وارث علی، محمد ارسلان اور محمد رضوان ہیں، جن میں سے ارسلان علی اور رضوان علی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ چودھری بہادر علی کے تین بیٹے محمد زبیر، محمد شعیب اور محمد عمیر بھی روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ چودھری محمد عارف صاحب مرحوم 2009ء میں جوانی میں وفات پا گئے۔ ان کی اولاد میں ایک بیٹی اور چار بیٹے محمد آصف، محمد عادل، محمد بلال اور حافظ محمد حسنین شامل ہیں۔

چودھری نواب خاں مرحوم نے گورنمنٹ پرائمری سکول سگھر سے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں پاک فوج میں بطور ڈرائیور بھرتی ہو گئے۔ فوجی زندگی میں آپ نے اپنی ذمہ داریاں نہایت محنت، دیانتداری اور فرض شناسی سے ادا کیں۔ آپ اپنے افسران اور ساتھیوں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ اپنی سروس کے دوران کسی کو شکایت کا موقع نہ دیا۔ آپ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ۔

مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد باعزت ریٹائر ہوئے اور اپنے آبائی پیشہ کاشتکاری سے وابستہ ہو گئے۔ آپ نے اپنے والد کے اصولوں کو اپناتے ہوئے محنت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزاری۔ آپ ساری زندگی شرافت سے بسر کی اور کوشش کی کہ ان کی ذات سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔ جہاں تک ممکن ہوا دوسروں کی مدد کی۔

چودھری نواب خاں مرحوم مئی 2007ء میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ چودھری نواب خان مرحوم کی اولاد میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ بڑے بیٹے محمد آصف صاحب 1964ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول کڑیانوالہ سے تعلیم حاصل کی اور محکمہ زراعت پنجاب میں ملازمت اختیار کی۔ 25 سالہ سروس مکمل ہونے پر ریٹائرمنٹ حاصل کی اور اب اپنے آبائی پیشہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے واحد بیٹے جاذب علی (پیدائش 1990ء) ہیں، جو بیرونِ ملک اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔
دوسرے بیٹے محمد ساجد صاحب نے پاک فوج میں خدمات انجام دیں اور اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اللّہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور اولاد کو کامیابیوں سے نوازے ۔ آمین

تحریر: ڈاکٹر محمد نسیم

سپاہی محمد سلیم شہید بارو سپاہی محمد سلیم ولد حاکم علی، گاؤں بارو ضلع گجرات کے ایک معزز اور قدیم خاندان میں سن 1941 میں ...
20/05/2026

سپاہی محمد سلیم شہید بارو

سپاہی محمد سلیم ولد حاکم علی، گاؤں بارو ضلع گجرات کے ایک معزز اور قدیم خاندان میں سن 1941 میں پیدا ہوئے۔ گجرات سے تقریباً 37 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع مشہور گاؤں بارو اپنی روایات، مہمان نوازی اور باہمی اخوت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اسی باوقار ماحول میں شہید محمد سلیم کی پرورش ہوئی۔ ان کے والد حاکم علی ولد لدھا خاں اپنے اچھے اخلاق، مہمان نوازی اور خاندانی وقار کے باعث علاقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

محمد سلیم شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم قریبی علاقے سگھر اور ٹانڈہ سے حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے نہایت ذہین، بااخلاق اور محنتی طالب علم تھے۔ تعلیم کے دوران ہی ان میں حب الوطنی اور وطن کی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ای ایم ای (Electrical and Mechanical Engineers) کور میں سپاہی کے عہدے پر بھرتی ہو گئے۔

محمد سلیم شہید نے فوج میں تقریباً چھ سال تک خدمت انجام دی۔ اپنی مختصر مگر باوقار فوجی سروس کے دوران وہ نظم و ضبط، فرض شناسی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے اپنے ساتھیوں میں ممتاز سمجھے جاتے تھے۔

دورانِ سروس ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ وہ کراچی سے اپنے گھر واپس آ رہے تھے کہ لیاقت آباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ٹرین حادثے میں 1972 کو شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کی خبر پورے گاؤں بارو کے لیے ایک گہرے صدمے کا باعث بنی۔ جب ان کا جسدِ خاکی تابوت میں گاؤں پہنچا تو ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورا علاقہ سوگوار تھا۔ بعد ازاں انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ گاؤں بارو کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

محمد سلیم شہید کے خاندان میں چار بھائی تھے جن میں امانت علی ،عدالت علی ،محمد یوسف ، اور محمد سلیم

ان کے بھائی امانت علی پاکستان نیوی میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد ازاں ہاکستان نیوی کے خیبر جہاز کے حادثے میں شہید ہو گئے۔ اس طرح یہ خاندان وطنِ عزیز کے لیے دو جوانوں کی قربانی دینے کا اعزاز رکھتا ہے۔

ایک اور بھائی عدالت علی طویل عرصے تک مسقط (عمان) میں مقیم رہے۔ بعد میں وطن واپس آئے، کچھ عرصہ علیل رہے اور پھر وفات پا گئے۔

جبکہ ان کے بھائی محمد یوسف نے بھی پاکستان فوج میں خدمات انجام دیں اور بعد از ریٹائرمنٹ گاؤں بارو میں مقیم ہیں۔ وہ مسجد گلزار مدینہ بارو کی دکانوں میں ایک دکان چلاتے ہیں بہت نیک ہیں اور ساتھ ہی مسجد میں اذان دینے اور نماز پڑھنے کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔

محمد سلیم شہید کی زندگی اگرچہ مختصر تھی، مگر حب الوطنی، فرض شناسی اور قربانی کی ایک روشن مثال بن گئی۔ ان کی شہادت نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے گاؤں بارو کے لیے فخر اور قربانی کی علامت ہے۔ یہ خاندان آج بھی اپنے دو شہید بیٹوں کی وجہ سے وطنِ عزیز پاکستان کے لیے خدمات اور قربانیوں کی ایک قابلِ احترام مثال سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ سے وابستہ ،
محمد سلیم بارو

صوبیدار میجر حاجی چودھری مردان علیصوبیدار میجر حاجی چودھری مردان علی ایک باوقار، بااصول اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ش...
18/05/2026

صوبیدار میجر حاجی چودھری مردان علی

صوبیدار میجر حاجی چودھری مردان علی ایک باوقار، بااصول اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار شخصیت تھے۔ آپ یکم جنوری 1925ء کو ہندوستان(موجودہ پاکستان) کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے تاریخی گاؤں بارو کے ایک اہم اور معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اس خاندان سے تھا جو “باباجی غلام دے” کے نام سے معروف ہے۔ یہ خاندان تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل نزدیکی گاؤں چیچیاں سے ہجرت کر کے گاؤں بارو میں آ کر آباد ہوا۔ اس خاندان کے بزرگوں میں غلام حیات اور ان کے بھائی محمد اور اللہ دتہ کے والد (صو بیدار میجر مردان علی کے دادا) یہاں تشریف لائے۔ غلام حیات کے چار بیٹے فرمان علی، مردان علی، نادر علی اور خان محمد تھے، جنہوں نے اپنے کردار اور خدمات کے ذریعے علاقے میں عزت و وقار حاصل کیا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم سگھر سکول سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں بھاگووال سکول سے مڈل تک تعلیم مکمل کی۔ آپ کو علم و تعلیم سے گہری دلچسپی تھی، اسی لیے فوجی ملازمت کے دوران بھی آپ نے تعلیمی سلسلہ اور مختلف پیشہ ورانہ تربیتی کورسز جاری رکھے، جس سے آپ کی قابلیت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت میں مزید نکھار پیدا ہوا۔

آپ نظم و ضبط کے پابند، محنتی اور بااصول مزاج کے حامل تھے۔ آپ نہایت ملنسار، مہمان نواز، راست گو اور دیانتدار شخصیت کے مالک تھے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں اصول پسندی، سادگی اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے نہایت باوقار اور متحرک زندگی گزاری اور سماجی خدمات میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ آپ عرصہ دراز تک جامع مسجد گلزار مدینہ کی انتظامیہ کمیٹی کے انچارج رہے اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔

آپ کا آبائی پیشہ کاشتکاری تھا۔ آپ نے زراعت سے گہری دلچسپی لیتے ہوئے عملی زندگی کا کھیتی باڑی سے آغاز کیا۔ بعد ازاں 1944ء میں برطانوی دور میں ہندوستانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان آرمی میں شامل ہوئے اور وطنِ عزیز کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ آپ نے 1976ء میں پاک فوج سے 32 سالہ شاندار سروس مکمل کر کے بطور صوبیدار میجر ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ فوجی زندگی نے آپ کی شخصیت میں نظم و ضبط، قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید نکھارا، جن کا اظہار آپ نے بعد از ریٹائرمنٹ سماجی خدمات میں بھرپور انداز میں کیا۔

آپ نے پاکستان آرمی کی 46 پنجاب رجمنٹ میں سروس کی جو ملک کی قدیم ترین اور سب سے زیادہ اعزازات حاصل کرنے والی انفنٹری رجمنٹ ہے۔ اس کی تاریخ برطانوی دورِ حکومت سے شروع ہوتی ہے اور قیامِ پاکستان کے وقت اسے موجودہ شکل دی گئی۔ آپ پنجاب رجمنٹ میں ٹریننگ انسٹکٹر بھی رہے جہاں آپ نے مثالی کارکردگی دکھائی۔

آپ گاؤں بارو کے پہلے صوبیدار میجر کے رینک تک پہنچنے والے پہلے فوجی ہیں دورانِ ملازمت آپ نے 1947، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی بھرپور حصہ لیا اور وطن کے دفاع میں شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان جنگوں میں آپ کی کارکردگی نمایاں رہی اور آپ ایک بہادر غازی کے تھے۔ آپ نے ہر محاذ پر فرض شناسی، استقامت اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا اور اپنے ماتحتوں اور افسران کے درمیان یکساں مقبول ہوئے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے عملی زندگی کو جاری رکھا اور زراعت سے اپنی وابستگی برقرار رکھی۔ اسی شوق کے تحت آپ نے 1978ء میں فورڈ 4000 ماڈل کا ٹریکٹر خریدا، جو اس زمانے میں ترقی اور جدید کاشتکاری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں 1982ء سے 1985ء تک بڑیلہ شریف میں بھٹہ خشت قائم کیا، جس کے ذریعے علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی عطا فرمائی اور آپ نے 1985ء میں فریضہ حج ادا کیا، جس کے بعد آپ کی شخصیت میں مزید وقار اور روحانیت نمایاں ہو گئی۔

آپ اُن افراد میں شامل تھے جنہوں نے گاؤں بارو کو ترقی کے سفر میں آگے بڑھانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔ خصوصاً 1996ء میں گاؤں بارو میں بجلی کی فراہمی کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ بجلی کے کھمبے لگوانے، واپڈا سے رابطوں اور مسلسل کوششوں میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی اصول پسندی، دیانتداری اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث بجلی کے منصوبے کے انتظامات اور گاؤں سے جمع کیے گئے فنڈ کے حساب کتاب کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد رہی، جسے آپ نے نہایت دیانتداری سے انجام دیا۔ صوبیدار میجر مردان علی صاحب اور حاجی نادر علی صاحب واپڈا دفتر جلالپورجٹاں جا کر درخواستوں اور کاغذی کارروائی کی تکمیل میں بھی پیش پیش رہے تاکہ گاؤں کو جلد از جلد بجلی کی سہولت میسر آ سکے۔ اس کارِ خیر میں گاؤں کے پڑھے لکھے نوجوانوں، جن میں خاور کریم، غلام حسین، تحسین عارف، ثاقب جاوید، عبدالحمید اور دیگر ساتھی بھی شامل تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔

آپ پہلی مرتبہ 2001ء میں انگلینڈ تشریف لے گئے اور 2004ء میں واپس وطن آئے۔ بعد ازاں دوسری مرتبہ بھی انگلینڈ گئے، جہاں آپ نے اپنے بھانجے کے پاس قیام کیا انگلینڈ میں قیام کے دوران آپ نے خوب سیر و سیاحت کی۔

یہ بااصول، باوقار اور ملک و قوم کی خدمت گزار شخصیت 4 جون 2011ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ آپ کی وفات سے گاؤں بارو ایک مخلص رہنما، دیانتدار منتظم اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت سے محروم ہو گیا۔ تاہم آپ کی خدمات، کردار اور یادیں آج بھی اہلِ علاقہ کے دلوں میں زندہ ہیں۔

آپ کے اکلوتے صاحبزادے حاجی چودھری محمد عارف صاحب بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایک ہر دل عزیز سماجی و مذہبی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ سماجی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں اور دیہی تنظیم بارو کے پہلے صدر بھی رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں سحری کے اوقات سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرنے کی بابرکت ذمہ داری بھی عرصہ دراز سے انجام دے رہے ہیں، جو خدمتِ خلق کے جذبے کی روشن مثال ہے۔

تحریر : تحسین عارف بارو

میاں محمد عالم (مرحوم)میاں محمد عالم مرحوم ولد میاں امام دین 1918ء میں ہندوستان(موجود پاکستان) کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرا...
15/05/2026

میاں محمد عالم (مرحوم)

میاں محمد عالم مرحوم ولد میاں امام دین 1918ء میں ہندوستان(موجود پاکستان) کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے تاریخی گاؤں بارو کے ایک معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں امام دین کا شمار اپنے زمانے کے صاحبِ علم افراد میں ہوتا تھا، جبکہ آپ کے چچا میاں نعمت اللہ بھی مروجہ دینی علوم پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ اسی علمی ماحول نے آپ کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا اور آپ بچپن ہی سے علم و دین کی طرف مائل ہو گئے۔ آپ کے دو بھائی تھے جن میں میاں محمد فاضل اور میاں نیک عالم میاں شامل تھے۔

آپ نہایت حلیم الطبع، شریف، نفیس، شفیق، ملنسار اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے عمدہ عادات و اخلاق کی بدولت لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے تھے۔ سماجی خدمت کا جذبہ آپ میں بدرجۂ اتم موجود تھا اور گاؤں کے اجتماعی معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ آپ نے ایک باوقار، باعمل اور متوازن زندگی گزاری، جس میں شرافت، دیانت اور خدمتِ خلق نمایاں اوصاف کے طور پر جلوہ گر تھے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول بھنگرانوالا سے حاصل کی، جبکہ دینی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگوں سے حاصل کی۔ چونکہ آپ کے والد میاں امام دین اور چچا میاں نعمت اللہ دینی علوم میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے آپ کو گھر ہی میں علمی رہنمائی میسر رہی۔ دینی علوم سے آپ کو فطری شغف تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ نے اس میدان میں خاص دلچسپی کے ساتھ مطالعہ جاری رکھا۔

آپ کی علم دوستی اور دینی لگاؤ کے باعث آپ گردونواح کے دیہاتوں میں بھی خاص مقام رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے زمینوں کی پیمائش میں بھی غیر معمولی مہارت حاصل کر لی تھی۔ دیہاتوں میں زمینوں کی پیمائش ایک اہم اور پیچیدہ فن سمجھا جاتا رہا ہے، جس میں آپ منفرد مہارت رکھتے تھے۔ آپ دقیق اور مشکل معاملات کو بڑی آسانی سے حل کر لیتے تھے، جس کی وجہ سے لوگ آپ پر بھرپور اعتماد کرتے تھے۔

آپ کچھ عرصہ روزگار کے سلسلے میں لاہور بھی مقیم رہے۔ 1965ء کے دوران آپ لاہور میں بی پی بند بیکری، فیروزپور روڈ پر کام کرتے رہے۔ ان دنوں یہ بیکری لاہور کی معروف بیکریوں میں شمار ہوتی تھی اور یہاں تیار ہونے والے بند اعلیٰ معیار کے ہوتے تھے، جبکہ صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ انہی دنوں ہیڈ ماسٹر چودھری فضل کریم صاحب لاہور میں بی ایڈ کر رہے تھے اور وہ چھٹی کے دنوں میں کبھی کبھار میاں محمد عالم صاحب سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ آپ کے بھائی میاں نیک عالم بھی اسی بیکری میں کام کرتے رہے۔

آپ 1974ء سے قبل گاؤں واپس تشریف لے آئے، جبکہ میاں نیک عالم 1978ء میں فیروزپور روڈ لاہور پر کوٹھی نمبر 172 میں رہائش پذیر تھے۔ گاؤں واپسی کے بعد بھی آپ سماجی اور خاندانی معاملات میں فعال کردار ادا کرتے رہے اور اپنی سادگی و خوش اخلاقی کے باعث لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے رکھی۔

میاں محمد عالم مرحوم 18 دسمبر 1982ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ماسٹر محمد اقبال صاحب آپ کے صاحبزادے محمد زمان کے ہم جماعت اور قریبی دوست تھے اس کے علاوہ میاں محمد عالم صاحب کی علم دوستی کے باعث ان سے قلبی لگاؤ بھی رکھتے تھے۔ ماسٹر محمد اقبال صاحب یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ میاں صاحب کی تیمارداری کے لیے وہاں موجود تھے تو آپ پر جانکنی کا عالم طاری ہو گیا۔ اس موقع پر دیگر اقربا بھی وہاں موجود تھے۔ اسی دوران کسی نے کلامِ پاک کی تلاوت کرتے ہوئے ایک لفظ میں غلطی کی، تو میاں محمد عالم صاحب نے انتہائی کمزوری کے عالم میں بھی اس کی اصلاح فرمائی۔ یہ واقعہ آپ کی علم سے گہری وابستگی اور قرآنِ مجید سے محبت کا واضح ثبوت ہے کہ آخری لمحات میں بھی آپ کی توجہ درست تلاوت اور کلام پاک کے علم کی حفاظت پر مرکوز رہی۔

آپ کے پسماندگان میں ایک صاحبزادہ اور تین صاحبزادیاں شامل ہیں۔ آپ کے صاحبزادے محمد زمان مرحوم بھی کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے۔ میاں محمد زمان کے تین صاحبزادے احسان زمان، عرفان زمان اور محمد اکرم ماشاءاللہ ہوٹل اینڈ کریانہ سٹور والے ہیں۔ یہ خاندان آج بھی اپنے آباد و اجداد کی طرح نہایت شریف، بااخلاق، باوقار اور ملنسار ہے۔

اللہ تعالیٰ میاں محمد عالم مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

تحریر : تحسین عارف بارو

Address

Gujrat

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 12:00
16:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Telephone

+923015452377

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DEHI Tanzeem BARU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to DEHI Tanzeem BARU:

Share