Dur-E-Umeed

Dur-E-Umeed Dur-E-Umeed Official is a welfare trust that is working for social improvement.

27/07/2025

26/07/2025

21/07/2025














20/07/2025

               #توبہ   #معافی #ہدایت #نیکی #اسلامیاقوال #روحانیت #اسلامیپوسٹ
17/07/2025
















#توبہ


#معافی
#ہدایت
#نیکی
#اسلامیاقوال
#روحانیت
#اسلامیپوسٹ


16/07/2025



15/07/2025

14/07/2025

Every soul shall taste death.
We walk through life forgetting its inevitable end.
Death does not come with a warning — it is certain, sudden, and final.
What are we preparing for — the temporary world, or the eternal afterlife?
Take a moment to reflect.
Are we truly ready for what lies beyond?











جب سازشیں ناکام ہو جائیں، تب رب کی تدبیر غالب آتی ہےجب دنیا سازشوں میں الجھی ہو، تب بھی اللہ کی رحمت اور تدبیر اپنے بندے...
13/07/2025

جب سازشیں ناکام ہو جائیں، تب رب کی تدبیر غالب آتی ہے

جب دنیا سازشوں میں الجھی ہو، تب بھی اللہ کی رحمت اور تدبیر اپنے بندے کے ساتھ ہوتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ لوگوں کی چالاکیاں وقتی ہوتی ہیں، مگر رب کی چاہت دائمی۔ جو اللہ پر یقین رکھتا ہے، وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔

💡 دشمن چاہے کچھ بھی کر لے، اگر اللہ کا کرم ہو تو غلامی سے بادشاہی کا سفر لمحوں میں طے ہو سکتا ہے۔
حوصلہ رکھو، اللہ کی تدبیر تمہارے ساتھ ہے۔ 🌟
یوسف_علیہ_السلام



ٰہی




11/07/2025

ایک عابد نے خدا کی زیارت کے لیے 40 دن کا چلہ کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو .

12/02/2025

میں نے اپنی زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن مجھے ان میں سے حاصل کردہ زیادہ تر معلومات یاد نہیں ہیں۔ تو اتنی کتابیں پڑھنے کا کیا فائدہ؟ ایک دن ایک طالب علم نے اپنے استاد سے بالکل یہی سوال کیا۔

پروفیسر صاحب اس بارے میں خاموش رہے، انہوں نے پہلے دن کوئی جواب نہیں دیا۔

چند دنوں کے بعد ایک دن طالب علم اور استاد کی ملاقات دریا کے کنارے پر ہوئی۔ استاد نے طالب علم کو ایک سوراخ والا برتن دکھایا اور کہا کہ چلو، اس برتن سے دریا سے پانی لے آؤ۔ وہ برتن مٹی میں زمین پر گر گیا۔

طالب علم کو کچھ الجھن محسوس ہوئی۔ یہ ایک بیہودہ مشورہ لگ رہا تھا، کہ سوراخ والے برتن سے پانی لانا ممکن نہیں تھا۔ لیکن استاد کی نصیحت نہ ماننا اس کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے وہ زمین پر پڑا برتن اٹھا کر دریا کی طرف بھاگا۔

اس نے برتن بھرا اور پانی لے کر آیا، لیکن وہ زیادہ دور نہ جا سکا۔ چند قدم چلنے کے بعد پانی سارے سوراخوں سے گرتا گیا اور نیچے گر گیا۔

اس نے مزید چند بار کوشش کی لیکن ناکام رہا اور مایوس ہو گیا۔

اس کے بعد وہ استاد کے پاس واپس آیا اور کہا: "میں فیل ہو گیا ہوں۔ میں اس ڈبے میں پانی نہیں لا سکا، یہ میرے لیے ممکن نہیں، مجھے معاف کر دیں۔"

طالب علم کی بات سن کر استاد نے ایک میٹھی مسکراہٹ دی اور کہا: "نہیں، تم فیل نہیں ہوئے ہو۔ برتن کو دیکھو، اب یہ صاف ہے، یہ بالکل نیا برتن لگتا ہے۔ جب بھی پانی سوراخوں سے گرتا ہے، برتن کے اندر کی گندگی دور ہو جاتی ہے۔ آپ کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ جب آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو آپ کا دماغ سوراخوں والے برتن کی طرح ہوتا ہے اور کتاب میں موجود معلومات پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ جب آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو آپ کو سب کچھ یاد نہیں رہتا۔ لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کتاب کے تمام مواد کو یاد رکھیں؟ نہیں، بلکہ کتابیں پڑھنے سے جو خیالات، علم، جذبات، احساسات، اور سچائیاں آپ کو حاصل ہوتی ہیں، وہ آپ کے ذہن کو صاف کرتی ہیں۔ جب بھی آپ کتاب پڑھتے ہیں، تو آپ میں روحانی تبدیلی آتی ہے، اور آپ ایک نئے انسان کی طرح دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ یہی ہے کتابیں پڑھنے کا بنیادی مقصد۔"

پڑھائی مبارک ہو!

خلوص کی بارش سے کہو ذرا زور سے برسےنفرتوں کے آئینوں پے بڑی دھول جمی ہے
26/01/2025

خلوص کی بارش سے کہو ذرا زور سے برسے
نفرتوں کے آئینوں پے بڑی دھول جمی ہے

Address

Kalara Punwan G. T. Road
Gujrat

Telephone

+923354108005

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dur-E-Umeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share