Kotla Magazine

Kotla Magazine it's all about Kotla Arab Ali Khan

واقعی، پیٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ کسی بھی عام شہری کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات (اپریل 2026) میں جب ...
03/04/2026

واقعی، پیٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ کسی بھی عام شہری کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات (اپریل 2026) میں جب قیمت 450 روپے کے قریب پہنچ چکی ہے، یہ 20 نکات عوام کو ذہنی اور مالی دباؤ سے بچنے اور حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:
سفری اخراجات میں بچت کے طریقے
* کار پولنگ (Carpooling): اپنے محلے یا دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہی گاڑی استعمال کریں۔ اس سے پیٹرول کا خرچہ بانٹ لیا جائے گا۔
* پبلک ٹرانسپورٹ کا انتخاب: میٹرو، اورنج لائن، اسپیڈو بسوں یا مقامی ویگنوں کا استعمال کریں، جو ذاتی گاڑی کے مقابلے میں بہت سستی پڑتی ہیں۔
* پیدل چلنے کی عادت: 1 سے 2 کلومیٹر تک کے فاصلے کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کے بجائے پیدل چلیں۔ یہ صحت اور جیب دونوں کے لیے بہتر ہے۔
* سائیکل کا استعمال: مختصر فاصلوں کے لیے سائیکل بہترین متبادل ہے، جس میں ایندھن کا خرچہ صفر ہے۔
* گاڑی کی ٹیوننگ: اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کی وقت پر ٹیوننگ کروائیں اور ایئر فلٹر صاف رکھیں۔ ایک خراب انجن 20 سے 30 فیصد زیادہ پیٹرول پیتا ہے۔
* ٹائر پریشر کا خیال: ٹائروں میں ہوا کا دباؤ درست رکھنے سے انجن پر بوجھ کم پڑتا ہے اور فیول کی بچت ہوتی ہے۔
* غیر ضروری وزن سے گریز: گاڑی کی ڈگی میں موجود فالتو سامان نکال دیں، وزن کم ہونے سے پیٹرول کم خرچ ہوتا ہے۔
روزمرہ معمولات میں تبدیلی
* روٹ پلاننگ (Route Planning): گھر سے نکلنے سے پہلے تمام کاموں کی فہرست بنائیں تاکہ ایک ہی چکر میں سارے کام نمٹائے جا سکیں اور بار بار نہ نکلنا پڑے۔
* مقررہ رفتار پر ڈرائیونگ: گاڑی کو 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلائیں (Economy Mode)۔ اچانک بریک مارنے اور تیز ریس دینے سے پیٹرول ضائع ہوتا ہے۔
* سگنل پر انجن بند کرنا: اگر سگنل ایک منٹ سے زیادہ کا ہو تو انجن بند کر دیں، کھڑی گاڑی میں انجن چلتا رہنا پیٹرول کا ضایع ہے۔
* آن لائن سہولیات کا استعمال: بل جمع کروانے، سودا سلف منگوانے یا بینکنگ کے کاموں کے لیے گھر سے نکلنے کے بجائے موبائل ایپس استعمال کریں۔
* ورک فرام ہوم (WFH): اگر آپ کا ادارہ اجازت دے تو ہفتے میں ایک یا دو دن گھر سے کام کرنے کی کوشش کریں تاکہ سفری اخراجات بچ سکیں۔
مالی اور سماجی حکمتِ عملی
* حکومتی سبسڈی سے فائدہ: حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک کی جو سبسڈی (مخصوص لٹر تک) دی ہے، اس کے لیے خود کو رجسٹر کروائیں تاکہ کچھ ریلیف مل سکے۔
* بجٹ کی دوبارہ ترتیب: پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد اپنے ماہانہ اخراجات کا دوبارہ جائزہ لیں اور غیر ضروری تعیشات (جیسے باہر کھانا کھانا) کو کم کریں۔
* الیکٹرک بائیک کی طرف منتقلی: اگر ممکن ہو تو پیٹرول بائیک بیچ کر الیکٹرک بائیک لینے کا سوچیں، جس کا ماہانہ خرچہ پیٹرول کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے۔
* مقامی خریداری: دور دراز کے مالز یا بازاروں کے بجائے اپنے گھر کے قریب موجود دکانوں سے خریداری کو ترجیح دیں۔
ذہنی سکون اور باہمی تعاون
* ایک دوسرے کی مدد: اگر آپ کے پاس اپنی سواری ہے تو راستے میں کسی ضرورت مند ساتھی یا پڑوسی کو 'لفٹ' دے دیں تاکہ اجتماعی طور پر سب کا فائدہ ہو۔
* مثبت سوچ اور صبر: مہنگائی ایک عالمی لہر ہے، اس پر پریشان ہونے کے بجائے ان چیزوں پر توجہ دیں جنہیں آپ کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ صحت خراب کر سکتا ہے۔
* افواہوں سے پرہیز: پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مستند خبروں پر یقین کریں۔
* کمیونٹی گروپس: اپنے علاقے میں واٹس ایپ گروپس بنائیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سواری شیئر کرنے یا سستے متبادل ذرائع پر بات کر سکیں۔
مشکل وقت ہمیشہ گزر جاتا ہے، بس تھوڑی سی منصوبہ بندی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ہمیں بڑے مالی بحران سے بچا سکتی ہے۔

کاکا مودی ۔۔۔۔ جلدی سے چائے لے آ ملائی مار کے ۔
24/03/2026

کاکا مودی ۔۔۔۔ جلدی سے چائے لے آ ملائی مار کے ۔

28/02/2026
اسلحہ  جہاز ، ایمونیشن، جنگی سامان حتی کے جنگی لباس تک  ان  ننگوں کے پاس وہ ہے جو امریکی فوجی جاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ قط...
28/02/2026

اسلحہ جہاز ، ایمونیشن، جنگی سامان حتی کے جنگی لباس تک ان ننگوں کے پاس وہ ہے جو امریکی فوجی جاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ قطر سے ہر ہفتے ان فقیروں کو 40 ملیئن ڈالر ملتے چلے جارہے ہین چھتوں تک ڈھیر لگا لیا ہے اپنی قبروں مین بچھا کر سوئین گے ۔رشئیا نے مارا تو رخ پاکستان کا کیا ۔۔ ایران و عراق نے خاردار تارین لگا کر ایک بونڈری مین رکھا جیسے جانورون کو رکھتے ہیں ۔ پاکستان نے کہا خیبر سے کراچئ تک جہان چاہو جاو، رہو، کماو، اور کھاو اور بچوں کا پیٹ پالو اسے اپنا ہی گھر سمجھو تم مہاجر ہو تم ہم انصار بن کر دکھائین گے۔ ڈالر ،پاونئڈ ،ریال ،درھم ،دینار حتی کے حج کے دوران موصول ہونے والا قربانی کا گوشت بھی خیمہ بستیوں تک ہم پہنچاتے رہے۔ چھلیاں پورے پاکستان مین تم آزادی سے بیچتے رہے کرکٹ پاکستان نے کھیلنا تمہین سکھایا۔ روس سے جنگ پاکستان کی فوج نے جتوائ یہان تک کے روس کے ٹکرے کرادیے تاکہ تمہارا دشمن تقسیم ہو جائے ۔۔ تباہ شدہ سڑکین این اہل سی نے بنا کر دی، ایف ڈبلیو او نے پل بنا کر دیے زلزلے سیلاب مین پورے پاکستان نے ٹرکون کے ٹرک بھر کر دیے تباہ حال ملک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے تک ہم ساتھ کھڑے رہے۔ تم سکون سے رہو اسی لئے قطر مین بننے والی تمہاری حکومت کو سب سے پہلے خوش آمدید پاکستان نے کیا کہ جانورو اب انسانون کی طرح رہو چلو جاو اہنے ملک کے غریبوں کے لئے کچھ تو کرو آپس مین کتوں کی طرح مت لڑو مسلمان ملک ہو ہمارے پڑوسی ہو ہمارے بھائ ہو۔ سارا بینکنگ کا نظام پاکستان کے ماہرین نے اپنے تجربے سے ٹھیک کیا ایک سوئ سے لیکر جہاز تک پاکستان کی سڑکوں سے گزر کر تم تک پہنچتا ہے افغان ٹریڈ روٹ سائن کیا کہ راہ داری کا کرایہ نہ دو اور لے جاو سامان اپنے ملک میں۔ آلو گاجر مولی تک اگانے کے تم قابل نہی تھے ماسوائے بھنگ پوست کاشت کرنے کے چرسیو موالیو بھنگیو نسوار بنانے کے علاوی کوئ بڑی انڈسٹری تمہاری تھی ہی کوئ نہی۔ مگر احسان فراموش قوم کے نمائندے کا کمال کانفیڈینس چیک کرین کہ بچے بھی پاکستان کے ماریے یہ بے شرم دھشت گردی بھی ہمارے ملک مین کرین کمینے اور کمبخت نوسربازوں کی خود اعتمادی کی حد ہے کہ موصوف فرما رہے ہین اگر امیر الملک حکم دین تو 24 گھنٹے مین پاکستان پر قبضہ کرلین گے۔ اسی کا ایک پیٹی بھائ ملا عمر کے خواب مین آیا تھا کہ استاد اگلے فدائ کی جیکٹ مین بارود تھوڑا کم رکھنا مین جنت سے بھی دس کلومیٹر آگے نکل آیا ہوں

کھادیاں مولیان تے ڈکاراں پلاو دیاں۔

ٹھرو رکو زرا ابھی جنت میں پہچانے کا بندوبست تمہارا تمہین جہنم واصل کرنے والے کرنا شروع کر چکے ہین۔

فتنہ الخوارج واجب القتل ہین یہ اللہ اور اس کے نبی کا بھی حکم ہے کیونکہ یہ وہ بدذات ہین جن کی داڑھیاں ہونگی مگر مسلمان نہی ہونگے قران ان کے حلق سے نہئ اتر پائے گا۔ ابھی بتا دیتا ہون اسلحلے کے ڈپو تباہ ہوئے ہین ، دھشت گردوون کے ٹھکانے برباد کر دیے گئے ہیں مگر کل یہ ہی بزدل آپ کو معصوم بچوں کی تصویرین دکھا کر ہمدری حاصل کرین گے بقول شیخ سعدی (بے وفا اقوام میں افغان اول است)

تمہاری پیدائش پر تمہاری شکل پر تمہارے حلیئے پر تمہاری نسلون پر بے شمار لعنت اب اپنے اجداد اسرائیل اور بھارت سے ہی مدد مانگوں تمہین عزت راس نہ آئ ہے نہ کبھی آئیگی۔

نیست و بابود ہو گا پاکستان کا ایک ایک دشمن یہ اللہ اور اسکے رسول کی ریاست ہے اسی لئے پاکستان ہمیشہ زندآباد پاک فوج پر ہر پاکستانی کی جان بھی قربان۔

ہو جان آج فیر سچیاں گلاں۔۔
05/02/2026

ہو جان آج فیر سچیاں گلاں۔۔

05/02/2026
زوال کی وجہ !
04/02/2026

زوال کی وجہ !

15جنوری 2021 ء کو جرمنوں نے وہ کیا ، جو جرمن نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔16سال بلاشرکت غیرے اقتدار کے بعد جرمنی کی چانسلر اینگلا ...
04/02/2026

15جنوری 2021 ء کو جرمنوں نے وہ کیا ، جو جرمن نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
16سال بلاشرکت غیرے اقتدار کے بعد جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کی پارٹی کرسچئن ڈیمو کریٹک یونین نے اگلا لیڈر چننے کا عندیہ دے دیا.
15جنوری کو اس دن جرمنوں نے وہ کیا جس کی توقع ان سے کم کی جاتی ہے ٹھنڈے،پتھر، روکھے جرمن اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوگئے اور تالیاں بجاتے رہے. یہ تالیاں چھ منٹ تک بجتی رہیں اور بہت سے لوگوں کے چہرے جذبات کی تپش سے گلنار ہوئے اور بہتوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے. مشرقی جرمنی کے پادری کی بیٹی، کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی حامل، آٹھ کروڑ جرمنوں کی قائد اور دنیا کی سب سے طاقتور عورت اینگلا کی کل کمائی یہی تالیاں تھیں.
اسکے 16سال، کمال کے سال تھے. قیادت اور اختیار کے ان تمام برسوں میں کوئی مالیاتی سکینڈل نہیں بنا۔ دنیا کی سب سے بڑی مالی قوتوں میں سے ایک اور چار ہزار ارب ڈالر جی ڈی پی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اینگلا نے کوئی بندر بانٹ نہیں کی، اسکا کسی پانامہ سکینڈل میں نام نہیں آیا. اس نے کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کروایا. کوئی جہاز، پلاٹ اور رولز رائس نہیں خریدی. سیف ہیونز safe heavens میں کوئی اکاؤنٹ نہیں کھلوائے.
کوئی بھاشن نہیں دیے. تصویریں کھنچوانے کے لئے پوز نہیں بنائے. نام کے ساتھ خادم اعلیٰ لگایا، نہ نیا جرمنی بنانے کا وعدہ کیا. 16 سالوں میں تقریباً پندرہ سو ارب ڈالرز کا جی ڈی پی میں اضافہ کیا، اپنا کام کیا اور بس!
اینگلا نے قرآن نذر آتش کرنے کے تحریک کی شدید مذمت کی، جس پر بہت تنقید ہوئی. ترکی کے دورے کے دوران اس نے کہا "اسلام اور جرمنی ایک ہیں"جس پر طوفان برپا ہوگیا شام کی خانہ جنگی کےدوران جب عرب بھائیوں نے شامیوں پر دروازے بند کر دیے اور لاکھوں شامی خاندان بحیرہ روم کی بےرحم لہروں میں کود کر سلامتی کی تلاش میں نکلےتو اینگلا نے پورے 10 لاکھ، ایک ملین مہاجرین کو جرمنی میں خوش آمدید کہا اور شدید مخالفت کے باوجود پچھلے پانچ برسوں میں انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا.
اینگلا کے فیشن پر تنقید ہوئی. پیرس والوں نے اسے دیہاتی پھوہڑ عورت کہا۔ ایک عورت 18سال تک ایک ہی انگرکھا پہنتی رہے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟
ایک پریس کانفرنس میں تو ایک خاتون جرنلسٹ نے پوچھ ہی لیا. "میڈم چانسلر، تم پچھلے کئی برسوں سے لگتا ہے ایک ہی سوٹ پہنے جارہی ہو، کیا دوسرا نہیں ہے؟"
ٹکا سا جواب ملا"میں سرکاری نوکر ہوں، کوئی ماڈل نہیں".
ایک اور پریس کانفرنس میں اس سے پوچھ لیا گیا. "تمہارے گھر میں کتنی خادمائیں ہیں؟ کھانا وانا کون پکاتا ہے؟"
جواب آیا "میرے پاس کوئی خادمہ نہیں ہے. نہ ہی مجھے ضرورت پڑتی ہے. میں اور میرا شوہر مل کر سارا کام نبٹا لیتے ہیں". ایک اور صحافی نے مزید تجسس کا اظہار کیا." کپڑے کون دھوتا ہے؟ آپ یا آپ کے شوہر؟"
جواب ملا "میں کپڑے جمع کرکے واشنگ مشین میں ڈالتی ہوں میرا شوہر مشین چلاتا ہے. کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام رات کو بغیر کسی شور شرابے کے کریں تاکہ ہمارے پڑوسی پریشان نہ ہوں".۔پھر اس نے اضافہ کیا"میرا خیال ہے تم لوگ میری حکومت کی کارکردگی پر توجہ دو تو زیادہ بہتر ہے".۔۔
اینگلا برلن کے ایک عام سے فلیٹ میں پچھلے بیس برس سے رہتی ہے اقتدار کے اٹھارہ برس میں بھی اسکا پتہ نہیں بدلا۔ وہ کسی ولا میں منتقل نہیں ہوئی نہ ہی کسی سوئمنگ پول اور باغ والے گھر کی مالکن بنی۔ اس کی واپسی بھی اسی فلیٹ میں ہوئی.۔۔۔۔
پچھلے 20 برس میں اینگلا کی ٹکر کا کوئی لیڈر ،
(مرد/عورت) دنیا میں پیدا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم اور دنیا کو بہت کچھ نعرے اور بڑھکیں مارے بغیر لوٹایا ہو.
شاباش، اینگلا مرکل! تم یاد رکھے جانے کے قابل ہو.
Translated

یہ تحریر پوسٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے رہنما دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں اور اکثر ممالک کے لیڈرز کی ذاتی زندگی اور طرز حکومت کے بارے میں اچھی طرح آگاہ بھی ہوں گے ۔ سب سے بڑھ کر کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی زندگیوں اور تعلیمات سے بھی بہرہ مند ہوں گے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان ہستیوں کی تقلید کر کے ملک کو ترقی و کامرانی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں ...
03/02/2026

پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔
کراچی سے مدینہ تک

دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا تو ہمسائے اور اہل محلہ سارے اکٹھے تھے، تیور تو غصے والے تھے جنہیں دیکھ کر گھر سے برآمد ہونے والے بزرگ تھورا سا پریشان ہوئے، اور پوچھا کیا بات ہے سب خیریت ہے نا؟

خیریت کہاں ہے بھائی تمھارا لڑکا آئے روز ہمارے گھر کی دیواروں پر کوئلے سے پتا نہیں کیا نقش و نگار بناتا رہتا ہے، ساری دیواریں اس نے کالی کررکھی ہیں، تم اپنے لاڈلے کو منع کیوں نہیں کرتے؟

اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔"

بڑے میاں نے وقتی طور پر اہل محلہ کو سمجھا بجھا کر بھیج تو دیا، لیکن وہ اس شکایت سے قدرے نالاں بھی تھے، بیٹے کو سمجھایا " یار باز آجا کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے، اپنی پڑھائی پر دھیان دے اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا"

بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا، لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا۔ یہ آڑھی ترچھی لکیریں تو اس کا شوق تھا اور شوق سے لاتعلقی کون اختیار کرسکتا ہے۔

پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کردیا لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا، یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا، اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے وہ اپنے شوق کی تکمیل کرتا رہتا، کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی دونوں برابر ملتے رہے.

وقت گزرتا رہا، اسکول میں منعقدہ خطاطی اور خوش نویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا، جو بھی لکھا ہوا، یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا۔

خوش نویسی کے قواعد یا خطوں کی پہچان تو اسے بالکل بھی نہیں تھی لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا، کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے یا کون سا اسٹائل ہے تو وہ بتا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی نہ ہی پہچان تھی۔ کلاس میں سب سے پہلے آتا، چاک سے تختہ سیاہ پر اپنی مشق کرتا رہتا، باقی ہم جماعتوں اور اساتذہ کے آنے سے پہلے وہ ٹھیک ٹھاک مشق کرلیتا اور اگر کبھی کبھار کوئی استاد دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا اتنا عمدہ خوش خط۔ آہستہ آہستہ اس کی مشق میں پختگی تو آگئی لیکن باقاعدہ راہنمائی سے محروم ہی رہا، اسکول میں کوئی خطاطی کا استاد نہیں تھا اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا لیکن وہ لڑکا ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتتا رہا، محلے میں بھی بینر اور اشتہار لکھنے والے کی حیثیت سے پہچان بنوا لی۔ اسی دوران میٹرک کرلی اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا تو اسکول جانا چھوڑ دیا۔برش اور رنگ لیتا اور گلیوں محلوں میں نکل جاتا لوگوں کی دکانوں پر نام لکھتا، بینر لکھتا اور چند پیسے کماتا، اس کام سے اسے تسکین نہیں مل رہی تھی وہ اس کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتا تھا لیکن اسے کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔ اسکول جب چھوڑ دیا تو وقت کی فراوانی بھی ہوگئی اور کام میں روانی بھی ہوگئی۔

ایک دن اسے کہیں سے ایک کتاب مل گئی جس کا نام تھا، خوشخطی سیکھیں۔ اس کتاب میں اردو اور عربی کے خطوں کے متعلق معلومات تھیں جیسے برش، قلم اور رنگوں کی بنیادی معلومات۔ اس نے وہ کتاب حفظ کرلی اور خطوں کی شکلیں یاد کرکے ان کی مشق شروع کردی۔ ایک دن وہ بڑی کتابوں کی دوکان میں گیا اور وہاں سے اپنے کام کے متعلق کسی کتاب کا پوچھا، اسے کوئی خاص کتاب تو نہ ملی مگر عربی رسم الخط کے متعلق اسے ایک چھوٹا سا کتابچہ مل گیا اس نے وہی خرید لیا۔ اب عربی تو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا لیکن عربی خطوں کی شکلیں اسے پتا چل گئیں،

چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے وہ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے کام کرنے لگا۔

ایک دفعہ کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پر وہ یونہی تاج کمپنی کا سائن بورڈ لکھنے میں مصروف تھا کہ ایک بڑی گاڑی اس بورڈ کے نیچے آکر رک گئی اور گاڑی میں بیٹھے شخص نے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ نیچے آیا تو دیکھا اس سے مخاطب ایک عربی شخص ہے اور عربی زبان سے تو وہ ناواقف تھا، اس بڑی گاڑی کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی بھی آکر رکی اس میں عربی شخص کے جاننے والے پاکستانی افراد تھے۔ وہ نیچے اترے اور اس لڑکے سے کہنے لگے کہ شیخ چاہتا ہے کہ تم اس کے ساتھ سعودی عرب چلو اور وہاں جاکر اس کے لیے خطاطی کا کام کرو۔ لڑکا کہنے لگا مجھے تو عربی بولنا اور لکھنا آتی ہی نہیں میں کیسے یہ کام کروں گا، تو اس عربی شخص نے بتایا کہ تم جس خط میں یہ بینر لکھ رہے ہو یہ عرب کا مشہور خط ہے اور اسے ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا۔ تم تو اسے کمال مہارت سے لکھ رہے ہو اور کہتے ہو میں جانتا بھی نہیں۔

وہ عربی سعودی سفیر کا دوست تھا اور پاکستان سے ہنر مند افراد کو لینے آیا تھا، اسے پاکستانی خطاط لڑکے کا کام پسند آگیا اور اسے ساتھ چلنے کا کہا۔ یوں گھر سے اجازت لے کر اس نے پاسپورٹ بنوا کر شیخ کے حوالے کیا اور چند دنوں بعد وہ سعودی شہر ریاض میں بیٹھا بینر لکھ رہا تھا۔ جب کام کرتے ہوئے کافی سال گزر گئے تو سعودیہ میں رہنے سے ایک تو اس نے عربی زبان میں مہارت حاصل کرلی دوسرا تمام عربی خط اور رسم الخط میں وہ تقریباً کمال کے درجے تک جا پہنچا۔ اس کا کفیل اچھا آدمی تھا اور اس پاکستانی خطاط کی بے پناہ عزت بھی کرتا تھا، وہ اپنے کفیل سے اجازت لے کر کئی بار عمرہ اور زیارتیں وغیرہ بھی کر آیا۔

ایک دفعہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے اس کے دل میں خواہش نے جنم لیا کہ کاش مجھے موقع ملے اور مسجد نبویﷺ کے اندر اپنے ہاتھ سے ایک تختی پر ایسی خطاطی کروں کہ دنیا حیران رہ جائے. یہ خواہش لے کر وہ وہاں سے ریاض آگیا، کام کاج کرتا رہا، وقت گزرتا رہا لیکن خواہش برابر پروان چڑھتی رہی۔

ایک بار اس نے کہیں سے سنا کہ مدینہ منورہ میں اعلان ہوا کہ دنیا بھر سے خطاط حضرات کو دعوت ہے کہ وہ ایک مقررہ تاریخ پر ایک مخصوص رسم الخط میں ایک مخصوص عبارت لکھ کر جمع کروائیں جو خطاط اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اسے مسجد نبویﷺ کا خطاط مقرر کیا جائے گا۔ اسے لگا جیسے اس کی خواہش پوری ہونے کا وقت آگیا ہے، وہ وہاں گیا تو دیکھا وہاں دنیا بھر سے ایسے ایسے خطاط اپنا کام لے کر آئے تھے کہ ان سب کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی۔ وہ گیا اور اپنا کام پیش کرنے کی خواہش کی لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہ لیا، نہ تو وہ معروف تھا اور نہ ہی اس کا کوئی کام ایسا تھا جو مشہور ہو، اور اوپر سے وہ کتابت کی جگہ سائن بورڈ اور بینر لکھنے والا اور پھر اہل زبان بھی نہیں، اور یوں اسے حصہ نہ لینے دیا گیا اور وہ مایوس ریاض لوٹ آیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور اس کی ایک بھی نہیں چل رہی تھی، تقریباً اس نے دل چھوڑ ہی دیا تھا کہ اس کی دکان پر ایک عربی آیا اس نے کہا مجھے فلاں سائز کی تختی خط ثلث میں چاہیے، اس نے لکھ دی تو وہ حیران رہ گیا کہ اتنے چند ریالوں میں اتنا بہترین کام تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ اس نے کہا تم میرے ساتھ چلو اور میرے لیے کام کرو وہاں معاوضہ دگنا ملے گا۔ اس لڑکے نے انکار کردیا تو وہ عربی کہنے لگا میں ایک دکان مدینہ منورہ میں کھولنا چاہ رہا ہوں اگر کوئی دوسرا خطاط ہوا تو بتانا۔ جب اس لڑکے نے مدینہ منورہ کا نام سنا تو کہا مجھے لے چلو میں وہاں کام کروں گا۔ اسے ایک امید لگ گئی کہ شاید میرا وسیلہ بن جائے۔

یوں وہ کسی نہ کسی طرح پہلے مہربان کفیل کو تقریباً ناراض ہی کرکے مدینہ منورہ چلا گیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور نئے کفیل کے ساتھ کام کاج بہت زیادہ تھا، دکان چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل تھا۔ نیا کفیل اس کے کام سے حد درجہ خوش تھا، اس جیسا کام تو سعودیہ میں کوئی دوسرا کرنے والا تھا ہی نہیں۔ کفیل تو یوں تھا جیسے اس کا مرید ہوگیا ہو، اسے بہترین کھانے کھلاتا، جب بھی ملتا تو ہاتھ اور ماتھا چومتا، غرض بڑی آؤ بھگت کرتا۔ اس نے ایک دن کفیل سے اپنا مدعا بیان کیا کہ میں مسجد نبوی ﷺ میں خطاطی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہوں میری کچھ مدد کردو۔

کفیل نے اس کی بات مان لی اور اپنے جاننے والوں سے کہہ کہلوا کر اسے کسی طرح اس مقابلے تک لے ہی گیا، بڑی مشکل سے اس کا نام رجسٹر ہوا اور اسے مقابلے کے لیے بطورِ نمونہ پہلے ایک عبارت لکھوائی گئی پھر اسے شریک کیا گیا۔ یوں اس کی لکھی ہوئی تختی اور وہ اس مقابلے میں شریک ہوگئے۔

مقابلہ ختم ہوا اور نتائج کے اعلان کا دن تھا، دنیا بھر سے ماہر اساتذہ کے درمیان اس کا کام کیا حیثیت رکھتا تھا، بہرحال مقابلے کے نتیجے کا اعلان ہوا اور خلاف توقع وہ دنیا بھر کے ماہر خطاطوں کو پچھاڑ کر اوّل انعام کا حقدار ٹھہرا، امام الحرم اور جیوری نے جب اس خطاط کا نام اور ملک پوچھا تو کہنے لگا:

الزمان، پاکستان سے"

پورے مجمعے پر خاموشی چھا گئی اور پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔

یوں جناب محترم شفیق الزمان کی خوش نصیبی اور سعادت کہ کہاں ایک تختی لگانے کی خواہش اور کہاں در و دیوار منور کرنے کے لیے مسجد نبوی ﷺ کا خطاط مقرر کیا گیا۔ آہستہ آہستہ وہ وہاں کے تمام خطاطوں کے استاد بن گئے۔ آج سعودی عرب میں نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزارنے کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے در دیوار پر پچاسی فیصد کام شفیق الزماں کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے، حتیٰ کہجس دروازے (باب سلام) سے داخل ہوکر اور جس مقام پر پہنچ کر سارا عالم اسلام روضۂ اقدسﷺ پر حاضری اور سلام کی سعادت حاصل کرتا ہے ان تمام جگہوں کو شفیق الزمان کے قلم اور برش نے مزین کررکھا ہے۔ ایک عجمی کا خطاط المسجد النبوی ﷺ پانا ایک معجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں۔ آج حرم مکی کے امام، حرم مدنی کے خطاط سے ملنے میں سعادت اور فخر سمجھتے ہیں اور حرمین الشریفین کے تمام خطاطی کے کاموں کے لئے شفیق الزمان سے مشاورت کی جاتی ہے۔

منقول

🌎

Address

Gujrat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kotla Magazine posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Kotla Magazine:

Share