07/04/2026
وضاحتی بیان برائے ڈسپنسر کمیونٹی
تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا
مجھے رہزنوں سے گِلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے
آلائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان یہ واضح کرنا ضروری سمجھتی ہے کہ گزشتہ رات رنگ نیوز کے پروگرام نیوز نائٹ میں ڈسپنسر ٹیکنالوجی کے حالیہ منظور شدہ Scope of Practice کے حوالے سے جو رہنمائی دی گئی، اس کا بنیادی ماخذ وہی منظور شدہ دستاویز ہے جو متعلقہ کونسل کے جاری کردہ فریم ورک میں موجود ہے۔ اس دستاویز میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اسی کو سامنے رکھتے ہوئے بات کی جانی چاہیے، نہ کہ ذاتی خواہشات، سنی سنائی باتوں یا سوشل میڈیا کے شور کی بنیاد پر۔
سب سے پہلے اس منظور شدہ دستاویز کے Introduction میں واضح الفاظ میں درج ہے:
“These professionals may establish and operate licensed healthcare establishments...”
یعنی متعلقہ پروفیشنلز لائسنس یافتہ ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹس قائم اور چلا سکتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی اور واضح قانونی جملہ ہے، جسے نظر انداز کر کے کوئی دوسرا مطلب نکالنا علمی اور اخلاقی دیانت کے خلاف ہے۔
اسی طرح Definitions میں ڈسپنسر اور ڈسپنسنگ کے مفہوم کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ خاص طور پر:
“Dispenser” کو ایک رجسٹرڈ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کے طور پر بیان کیا گیا ہے،
“Dispensing” کو قانون، نسخہ اور متعلقہ قواعد کے مطابق ادویات کی فراہمی سے جوڑا گیا ہے،
اور “License” کو AHPC کی طرف سے جاری کردہ باقاعدہ اجازت قرار دیا گیا ہے۔
ان تعریفات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ پورا فریم ورک غیر منظم یا غیر قانونی پریکٹس کے لیے نہیں، بلکہ رجسٹریشن، لائسنس اور قانونی دائرۂ کار کے اندر باقاعدہ پیشہ ورانہ عمل کے لیے بنایا گیا ہے۔
مزید آگے بڑھیں تو Section 3.2 میں واضح طور پر درج ہے:
“Technician (SSC + Diploma / HSSC Level)”
اور اس سطح کے افراد کو approved scope of practice کے اندر dispensing، technical support اور basic emergency care functions انجام دینے کا اختیار بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں کمیونٹی کے پاس جو qualifications بڑی تعداد میں موجود ہیں، انہیں بھی باقاعدہ فریم ورک کے اندر تسلیم کیا گیا ہے۔
اس کے بعد سب سے اہم نکتہ Section 4.7 Facility Licensure میں موجود ہے، جہاں صاف لفظوں میں لکھا ہے:
“Registered Dispensers, Technicians, Associate Technologists, and Technologists... may establish and operate healthcare establishments within their lawful professional scope, provided that the establishment holds the required AHPC facility licence and complies with all applicable legal, safety, ethical, and regulatory requirements.”
یہ جملہ ہر قسم کے ابہام کو ختم کر دیتا ہے۔ یعنی اجازت موجود ہے، لیکن اپنی lawful professional scope، مطلوبہ facility licence، اور تمام legal, safety, ethical, and regulatory requirements کے تابع۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ڈسپنسر یا متعلقہ رجسٹرڈ پروفیشنلز کو کلینک یا ڈسپنسری کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی، منظور شدہ متن کے برخلاف دعویٰ ہے۔
اسی تسلسل میں Section 5 Practice Settings بھی نہایت اہم ہے، جہاں واضح طور پر درج ہے کہ رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ practitioners اپنی category اور scope کے اندر درج ذیل مقامات پر پریکٹس کر سکتے ہیں، جن میں:
government hospitals, private hospitals, community pharmacies and medical stores, AHPC-licensed healthcare establishments, اور
“AHPC-licensed clinics, centres, or dispensaries” شامل ہیں۔
جب منظور شدہ دستاویز خود clinics, centres, or dispensaries کا ذکر کر رہی ہے، تو اس حقیقت کو جھٹلانا محض ذاتی خواہش یا گمراہ کن تعبیر ہو سکتی ہے، قانون نہیں۔
لہٰذا اصل اور درست مؤقف یہ ہے کہ:
کسی کی ذاتی خواہش یہ ہو سکتی ہے کہ اس کمیونٹی کو clinic یا dispensary کی اجازت نہ ہو، مگر council document اور law ایسا نہیں کہتے۔ منظور شدہ فریم ورک واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ ان پروفیشنلز کو اپنی limitation اور lawful scope کے اندر اجازت حاصل ہے۔ اس لیے جو بھی شخص اس معاملے پر بحث کرنا چاہتا ہے یا کمیونٹی کو گائیڈ کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اسی paper کو پڑھے، اسی سے دلیل لے، اور پھر ذمہ داری کے ساتھ بات کرے؛ نہ کہ اپنی ذاتی خواہشات کو “قانون” بنا کر پیش کرے۔
آلائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ہمارا فورم ہمیشہ سے کمیونٹی کی welfare، betterment، professional dignity، اور حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑا رہا ہے، اور آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔ ہمارا مقصد کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں، بلکہ اپنی کمیونٹی کو قانون، دلیل اور منظور شدہ دستاویزات کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
ہم تمام ڈسپنسر کمیونٹی کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور غیر ذمہ دارانہ پوسٹس میں پھیلائی جانے والی باتوں پر توجہ نہ دے۔ ہر بات کو وزن دینا ضروری نہیں ہوتا۔ خاص طور پر وہ باتیں جن کی پشت پر نہ کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن ہو، نہ کونسل کی ویب سائٹ پر کوئی اعلامیہ، نہ صدرِ کونسل کی طرف سے کوئی بیان، نہ رجسٹرار کی طرف سے کوئی وضاحت، اور نہ ہی ڈسپنسر کمیونٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سید انصار ہمدانی کی جانب سے کوئی تردیدی یا وضاحتی مؤقف سامنے آیا ہو۔ ایسی صورت میں سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کو سرکاری مؤقف بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔
یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ کونسل کی طرف سے ایسا کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں گزشتہ رات کے پروگرام میں بیان کی گئی تفصیلات کی تردید کی گئی ہو۔ لہٰذا افواہوں، منفی تبصروں اور غیر مصدقہ باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کمیونٹی کو اپنا وقت اور توانائی تعمیری کاموں پر لگانی چاہیے۔
آلائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان تمام ڈسپنسر کمیونٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی registration کا عمل فوری طور پر شروع کریں۔ اگر کسی بھی مرحلے پر کوئی مشکل، ابہام یا رہنمائی درکار ہو تو ہمارا فورم ان کے لیے موجود ہے۔ ہم رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کروانے کے لیے بھرپور رہنمائی اور ممکنہ معاونت فراہم کریں گے تاکہ کمیونٹی قانونی اور پیشہ ورانہ طور پر مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔
آخر میں ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے۔ منظور شدہ دستاویز میں موجود واضح الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، کمیونٹی کو خوفزدہ کرنا، یا اس کے جائز قانونی و پیشہ ورانہ حقوق کو مشکوک بنانا ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
حقیقت وہی ہے جو منظور شدہ Scope of Practice میں لکھی گئی ہے:
اجازت موجود ہے، مگر قانون، لائسنس، ریگولیٹری شرائط اور مقررہ professional limitations کے اندر۔
https://alliedhealth.org.pk/ahpc-dispenser-scope-of-practice-pakistan/
منجانب: آلائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان