Green Light

Green Light Because We Believe in Better Pakistan. Because Every Coin Counts.... . . About Us

Who we are? What we do? We help to:
1. What you can do? Teaching Students
4.

We are a group of youngsters who aim to built a better Pakistan by helping humanity practically in an effective way. Provide Food stuff to needy families and people.
2. Provide Financial Assistance for Education & development of deserving students.
3. Provide help/traning for needy people to make them able to earn their own livelihood.
4. Provide Health Care for deserving people.
5. Provide clothi

ng to the needy children on multiple occasions. There is dire need to expand the aforementioned sphere of activities for which we need your active participation and financial support. What can of participation
1. You can become member and help us identify the needy people and eager Donors
2. Support a family need through Green Light
3. Provide Books and stationary for the needy students
5. Arrange clothing for Eid for kids
6. Supply Food stuff to needy family
7. Donate money

پاکستان میں بیشتر علاقوں میں مون سون شروع ہو گیا ہے اب یہ 45 دن شجر کاری کیلئے بہترین ہیں، اپنے حصے کا کام کر دیجیئے ، ی...
14/07/2026

پاکستان میں بیشتر علاقوں میں مون سون شروع ہو گیا ہے اب یہ 45 دن شجر کاری کیلئے بہترین ہیں،
اپنے حصے کا کام کر دیجیئے ،

یہ ہم پر فرض ہے کہ اپنی آئیندہ آنے والی نسلوں کیلئے اپنا یہ قرض ادا کردیں، پانی کی کمی ،ماحول کی آلودگی، بڑھتی ہوئی گرمی سب کا حل شجر کاری ہے،

گرین لائٹ کی شجر کاری مہم میں چند سال پہلے لگایا گیا ڈیڈھ فٹ کا سہانجنا مورنگا کا یہ پودا اب تقریبا بیس فٹ سے اونچا درخت بن چکا ہے

اپنی شجرکاری کی تصاویر شئیر کیجئے تاکہ دوسرے لوگ بھی ہمت پکڑیں

ایک تصویر ایک پیغام
Moringa in Gujranwala

ضرور، اگر مقصد لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے تو یہ انداز زیادہ مؤثر اور پراثر ہو سکتا ہے:🌧️ برسات کی ہر بوند پکار رہی ہے... ابھی...
07/07/2026

ضرور، اگر مقصد لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے تو یہ انداز زیادہ مؤثر اور پراثر ہو سکتا ہے:

🌧️ برسات کی ہر بوند پکار رہی ہے... ابھی بھی وقت ہے!

ذرا آنکھیں بند کرکے دس سال بعد کا پاکستان تصور کیجیے...

سورج آگ برسا رہا ہے۔ درجۂ حرارت پچاس ڈگری سے اوپر جا چکا ہے۔ ندی نالے سوکھ چکے ہیں، زیرِ زمین پانی سینکڑوں فٹ نیچے جا چکا ہے، درخت صرف تصویروں میں رہ گئے ہیں، پرندوں کی آوازیں خاموش ہو چکی ہیں، اور بچے صاف ہوا میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں۔

ہسپتال دمے، ہیٹ اسٹروک، جلدی بیماریوں اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کسان کی فصلیں جھلس رہی ہیں، مویشی مر رہے ہیں، خوراک مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اور لوگ پانی کی ایک بالٹی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

یہ کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر نہیں...
یہ وہ مستقبل ہے جس کی طرف ہم اپنے ہی ہاتھوں سے بڑھ رہے ہیں۔

ہم نے لاکھوں درخت کاٹ دیے، مگر ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے۔ ہم نے زمین کو کنکریٹ سے بھر دیا، مگر اس کے زخم بھرنے کی کوشش نہ کی۔ اب قدرت بھی ہمیں خبردار کر رہی ہے؛ کبھی جان لیوا ہیٹ ویوز، کبھی بے رحم سیلاب، کبھی خشک سالی اور کبھی بے موسم بارشیں۔

یاد رکھیے!
جب آخری درخت کاٹ دیا جائے گا، آخری دریا آلودہ ہو جائے گا اور آخری سانس بھی زہریلی ہوا میں لی جائے گی، تب ہمیں احساس ہوگا کہ پیسہ آکسیجن نہیں خرید سکتا۔

خوش قسمتی سے ابھی بھی امید باقی ہے۔

برسات کا موسم شجر کاری کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ آج لگایا گیا ایک پودا کل سینکڑوں انسانوں کو سایہ، آکسیجن اور زندگی دے سکتا ہے۔

میں، اویس قرنی شاہین، ہر شہری، ہر طالب علم، ہر استاد، ہر والدین اور ہر سماجی کارکن سے اپیل کرتا ہوں کہ اس برسات میں کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں، اس کی حفاظت کریں اور دوسروں کو بھی اس مشن کا حصہ بنائیں۔

ہو سکتا ہے آپ کے ہاتھوں لگایا گیا ایک ننھا سا پودا، کل کسی بچے کی آخری امید بن جائے۔

اگر آج ہم نے درخت نہ لگائے، تو کل شاید ہماری قبروں پر سایہ دینے کے لیے بھی کوئی درخت باقی نہ ہو۔

آج ایک درخت لگائیں... ورنہ کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ 🌱💔
اویس قرنی شاہین











#شجرکاری


حسب روایت اس بار بھی عید پر گرین لائٹ Green Light کے اپنے نوجوانوں کے ہمراہ اولڈ ہوم میں بزرگوں سے عید ملے۔ کچھ دوست پوچ...
31/05/2026

حسب روایت اس بار بھی عید پر گرین لائٹ Green Light کے اپنے نوجوانوں کے ہمراہ اولڈ ہوم میں بزرگوں سے عید ملے۔

کچھ دوست پوچھتے ہیں کہ آپ اولڈ ہوم کے لوگوں کی کہانیاں عید پر ہی کیوں لکھتے ہیں ؟ جبکہ آپ ان سے ملتے رہتے ہیں۔

تو عرض ہے کہ باقی سال کئی کہانیاں بغیر وہاں کا حوالہ دئیے آپ تک پہنچاتے ہیں، لیکن عید پر اولڈ ہوم کا نام لے کر ان لوگوں کے حالات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس خوشی کے موقع پر قدرتی طور پر ہر ایک کا دل نرم ہوا ہوتا ہے، ہمیں اپنے بچھڑنے والے یاد آتے ہیں تو جن سے ہماری ناراضگیاں ہوتی ہیں انکے متعلق بھی ہمارے فیصلوں کی گرہیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ اولڈ ہوم میں پہنچنے والے اکثر بزرگ اپنی اولاد کی نافرمانی اپنے عزیزوں کی بے اعتنائی اور ظلم کا شکار ہوتے ہیں،
لیکن حالات کے اس قدر سنگین ہونے میں کبھی کم اور کبھی زیادہ ان بزرگوں کا رویہ بھی کارفرما ہوتا ہے۔
انسان قدرتی طور پر اپنی اولاد اور اپنے عزیزوں سے توقعات وابسطہ کر لیتا ہے اور جب یہ انکی سوچ کے درجہ تک پوری نہیں ہوتیں تو یہ مایوسی اور غم سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
ہماری اولین ترجیح اور کوشش ہوتی ہے کہ انکو واپس اپنوں میں باعزت طریقے سے جانے کا راستہ بنایا جائے۔
الحمدللہ بہت دفعہ اس میں کامیابی بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ وقت ضرور لگتا ہے دونوں جانب جب احساس تازہ ہوتا ہے تو ہماری کوششیں پھلنے پھولنےلگتی ہیں۔
پھر آنسو بھری آنکھوں سے گلے مل کر معافی تلافی کے جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہاں کئی افسردہ مناظر بھی ہوتے ہیں جہاں بزرگ کی میت ان کے لواحقین لے کر جاتے ہیں تاکہ انہیں اپنے گھر سے جنازہ اٹھا کر دفن کریں اور اپنی ناک اور عزت کو اونچا کر سکیں۔
ہمیں وہ حالات بھی دیکھنا پڑتے ہیں کہ جب بزرگ کی میت لینے کو انکے لواحقین تیار نہیں ہوتے، تو انہیں اولڈ ہوم کے علاقہ میں ہی قبرستان نصیب ہوتا ہے۔

چلیں چھوڑیں یہ باتیں،
آئیں آپ کو اپنے کچھ بزرگوں سے ملواتے ہیں !!

پرانے مقیم بزرگوں محمد حسین، محمد نعیم اور عبدالرشید صاحب کے علاوہ یہاں ایک سال پہلے محمد نواز صاحب لاڑکانہ سندھ سے آئے انکی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے، دونوں شادی شدہ ہیں،
انکی چار دکانیں ہیں جن میں یہ ایلومینیم کے سامان کا ہول سیل کام کرتے تھے۔
آٹھ سال پہلے انہیں فالج ہو گیا کچھ سال میں یہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے تو اپنے کاروبار پر واپسی نہ ہو سکی، اب بیٹا چاہتا ہے کہ دکانیں اسکے نام منتقل کی جائیں وہی کاروبار چلا رہا ہے انہیں فائر مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔
انکے مطابق کاروبار تباہ ہو چکا اب صرف دکانیں ہی باقی بچیں ہیں وہ انہیں بیچنا چاہتا ہے۔
انکی بیوی بھی بیٹے کی طرف دار ہے، اپنا مکان وہ پہلے ہی بیوی کے نام کر چکے ہیں۔
نواز صاحب نے بیوی کو کہا کہ ہم یہاں سے مکان بیچ کر پنجاب چلتے ہیں وہاں کاروبار کریں گے بیوی نے صاف کہہ دیا تم نے جانا ہے تو نکل جاو مکان میں نہیں بیچوں گی۔

یہاں احسان اللہ صاحب ہیں انکی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں یہ ساری عمر بیرون ملک مسقط اور کویت رہے، خوب کمایا اور پیچھے بیوی بچوں نے عیاشی کی،انکی اپنی کوششوں سے بیٹوں کی شادیاں ہوئیں اور انکے ترگڑی گاوں میں دو مکان بن سکے ، یہ ابھی کویت ہی تھے تو بیوی بچوں کے اصرار پر شہر آنے کیلئے ایک مکان بیچ کر دھلے میں مکان بیوی کے نام خریدا۔
دوسرا مکان بیچ کر بیٹے نے کاروبار کیا جہاں پیسہ مکمل برباد ہوگیا۔ یہ بوڑھے ہو گئے تو ملک واپسی ہو گئی انہیں جوڑوں کا عارضہ ہو گیا اب یہ بوجھ ہیں انہیں بیٹا اور بیوی برداشت نہیں کرتے تو اولڈ ہوم انکا مسکن ٹھہرا۔

ایک عارف صاحب ہیں یہ بھی دھلے سے ہیں، انکی بیوی فوت ہو چکی ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں سب شادی شدہ ہیں۔
ساری زندگی رکشہ چلایا اب فالج ہو گیا بیٹا ملائشیا ہوتا ہے اسکی بیوی اپنے میکے لاہور جا بسی ہے۔ بیٹا آیا تو یہاں مکان خالی کیا اور باپ کو اولڈ ہوم چھوڑ گیا ہے۔

ایک رزاق صاحب ہیں عالم چوک کے قرب ایک گاوں چُگہی سے ہیں۔ انکے تین بیٹے ہیں ، ایک یونان ہے دو یہیں کام کرتے ہیں بیوی فوٹ ہو چکی، انکو آنکھوں سے کم نظر آتا ہے اب جوڑوں میں بھی تکلیف ہے۔ یہ بوجھ بن گئے تو بیٹا انہیں یہاں چھوڑ گیا۔

ایک طارق محمود صاحب ہیں انکی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے بچوں نے کہا ہم نے اپنا مستقبل بنانا ہے اسٹڈی ویزہ پر دونوں نے انگلینڈ جانے کا پروگرام بنایا اور ماں باپ سے پیسوں کا مطالبہ کیا،
انکے پاس اپنا صرف گھر تھا وہ بیچ کر رقم دونوں کے حوالے کر دی، اب بیٹی بیٹا انگلینڈ پہنچ گئے ہیں، بیوی اپنی بہن کے گھر سامان سمیت رہ رہی ہے، یہ اولڈ ہوم آ گئے ہیں۔ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں محدود کام کر کے اپنی گذر اوقات کا بندوبست مشکل سے کر پاتے ہیں کرایہ پر مکان نہیں لے سکتے ۔
یہ امید لئے بیٹھے ہیں کہ بیٹی بیٹا وہاں کامیاب ہو جائیں وہ پیسے بھیجیں گے تو اپنا گھر پھر سے خرید سکیں گے یا کرایہ پر مکان لے کر اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکیں گے۔ ہم انکے لئے دعاگو ہیں کہ اللہ کرے انکے یہ مسائل عارضی ہوں ۔

خواتین میں ہماری پرانی مقیم آپا نسیم بی بی جو یہاں انچارج بھی ہیں۔
زاہدہ باجی بھی پرانی مقیم ہیں، وہ بہن کے ہاں رہتی تھیں بچوں کی شادیاں کرنا تھیں گھر میں جگہ کم پڑ گئی تو وہ انہیں اولڈ ہوم چھوڑ گئیں۔

ایک رقیہ بی بی ہیں انکا خاوند نشئی ہے پتہ نہیں کہاں کہاں پڑا رہتا ہے۔ یہ اسی پریشانیوں میں زہنی پسماندہ بھی ہو گئیں سسرال نے نکال باہر کیا تو یہ آپا نسیم کے کمرے میں آ بسیں۔

ایک اور پرانی مقیم رسول بی بی ہیں یہ علی پور چٹھہ سے ہیں انکی بیٹی اور داماد دوسال پہلے انہیں گوجرانوالہ لائے اور لاری اڈہ پر یہ کہہ کر چھوڑ گئے کہ ہم رکشہ لے کر آتے ہیں، پولیس کی مدد سے وہ یہاں آگئیں واپس نہیں جانا چاہتی تھیں۔

عید کے تیسرے روز ہمارے اس اولڈ ہوم کی ایک معمر خاتون آمنہ بی بی انتقال کر گئیں، انکے کسی رشتہ دار لواحقین نے کبھی رابطہ نہیں کیا تو اولڈ ہوم میں انکا جنازہ پڑھا گیا اور مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔
اللہ کی امانت اللہ کے حوالے

“”گرین لائٹ کا پراجیکٹ “”شجرکاری اور گوجرانوالہجی ٹی روڈ اور مین ریلوے لائین کے دونوں اطراف تاریخی شہر گوجرانوالہ آباد  ...
28/01/2026

“”گرین لائٹ کا پراجیکٹ “”

شجرکاری اور گوجرانوالہ

جی ٹی روڈ اور مین ریلوے لائین کے دونوں اطراف تاریخی شہر گوجرانوالہ آباد ہے۔ اپنی بڑھتی آبادی کے باعث مسلسل تبدیلیوں سے گذر رہا ہے۔ دنیا میں اسے اصول سمجھا جاتا ہے کہ کسی بھی علاقے میں صحت افزا آب و ہوا کیلئے اس رقبے کا کم از کم آٹھ 8 فیصد جنگلات درختوں پر مشتمل یا کم از کم سرسبز ہونا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں شہروں کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر سڑکیں اور تعمیرات بڑھتی جاتی ہیں جس سے درختوں پودوں اور سبزے میں مسلسل کمی ہوتی جاتی ہے، گوجرانوالہ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ گرین بیلٹ سے درخت کاٹ کر سڑکوں کو چوڑا کیا جا رہا ہے جس سے اول درخت اور سبزہ کم ہو رہا ہے تو ساتھ ہی ہر جگہ کنکریٹ آنے سے بارشوں کا پانی زیر زمین جانے کا عمل بھی رک گیا ہے جس سے پانی کی سطح گرتی چلی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ شہر کا پھیلاو بھی مسلسل جاری ہے جس سے کھیت میدان اور درخت سبزہ ختم ہو رہا ہے یہ فضائی آلودگی کے بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔

گذشتہ تقریبا ایک عشرے میں گوجرانوالہ میں بھرپور شجر کاری ہوئی اس میں کئی فلاحی تنظیموں اور بہت سے احساس رکھنے والے افراد نے انفرادی طور پر حصہ لیا، PHA گوجرانوالہ نے روڈ سائیڈز کو سرسبز بنانے اور آرائشی پودوں کے ساتھ موسمی پھول لگانے پر توجہ مرکوز رکھی۔
اس عرصہ میں PHA گوجرانوالہ نے شجر کاری کیلئے بھی بھاری بجٹ خرچ کر کے تین چار مہمات سرانجام دیں۔ لیکن یہ سرکاری مہمات افسرشاہی کی روائتی جمع تفریق ہی رہی۔ ایک بار کھجور کے درخت منگوا کر جی ٹی روڈ کے اطراف میں لگائے گئے یہ سب کے سب مر گئے کوئی ایک بھی نہیں چلا۔ یہ سب سے مہنگا درخت لا کر شہر میں لگانے میں مالی فوائد تو ہوتے ہیں لیکن ماحول میں کوئی بہتری نہیں ہوتی۔
پھر آپکو یاد ہوگا ایک ڈپٹی کمشنر بہادر نے اسی جی ٹی روڈ پر پچاس ہزار درخت لگانے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا تھا، ریکارڈ کا تو کہیں زکر نہیں البتہ کرپشن خوب ہوئی، پودے خریدنےاور دوپہر کو اسکول کے ہزاروں بچوں کو کھانا کھلانے کے نام پر، فنڈ حکومت کے خزانے سے نکلا لیکن نہ تو سب کو کھانا کھلایا اور نہ ہی پودے خریدے گئے بلکہ شہر بھر کی نرسریوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے تھیلیوں میں لگے ننھے پودے ہتھیا لئے گئے۔ یہ نوزائیدہ پودے دیکھ بھال نہ ہونے سے اکثر مر گئے، کچھ پودے خدا ترس لوگوں اور تنظیموں نے البتہ اپنی ذاتی کاوش سے بچائے۔ یہ پودے اتنے قریب قریب لگائے گئے تھے کہ اگر یہ بڑے ہو بھی جاتے تو بھی بھرپور پھیلاو نہ دے پاتے بے مقصد ہی رہتے۔
پھر ایک بار شجر کاری مہم کو سال میں دو بار کرنے کا پروانہ جاری ہوا تو اس پر عمل درامد کیلئے کاغذوں میں ہزاروں اور لاکھوں پودے لگتے رہے جبکہ اصل میں وہی چند درجن پودے لگے جن کو لگاتے ہوئے فوٹو شوٹ کروائے گئے۔
اب ترقیاتی کام اور بیوٹیفیکیشن کے نام پر کہیں پودے لگ رہے ہیں تو کہیں درخت کاٹے جا رہے ہیں، کل ملا کر مالی فوائد اپنے اصل مقامات پر پہنچ رہے ہیں اور ماحول کی خرابی تسلسل سے جاری ہے۔

ابھی حال ہی میں یارمددگار تنظیم کے چیرمین جناب رضوان خواجہ کا نوحہ سوشل میڈیا پر سننے کو ملا، کیوں نہ ہو پودے بچوں کی طرح ہوتے ہیں انہیں لگانا پالنا اور بڑے ہوتے دیکھنا ایک اطمینان بخش عمل ہے ، ان پودوں کے ضائع ہونے کا دکھ اپنے بچوں کی تکلیفوں جیسا ہوتا ہے۔ انکی ٹیم نے بھی شہر بھر میں کئی سال شجر کاری کی اور عوام میں بھی ہزاروں پودے بانٹے۔ پیپلزکالونی پارک میں انکے لگائے پودے اب تناور درخت بن رہے ہیں تو انتظامیہ کو کمائی کا نیا راستہ سوجھا ہے، پارک کے اطراف دوکانیں اور کھوکھے بنا کر کرایہ پر دئیے جا رہے ہیں اور اسکے لئے پارک کے اندر دیوار (باونڈری وال ) کے ساتھ لگے درخت کاٹے جا رہے ہیں جنہیں تناور بننے میں کئی برس لگے تھے۔
یہ ہمارا شہر ہے ہم نے اور ہماری آئیندہ نسلوں نے یہاں رہنا ہے، افسر شاہی آج اس شہر تو کل اگلے شہر نوکری کر کے مراعات لیں گے پنشن لیں گے اور پھر بھی عیش کریں گے، ہمیں اپنے شہر کی آب وہوا کو بہتر بنانا ہے یہ درخت ہمارا اثاثہ ہیں انکو بچانے کیلئے ہم سب کو ہی آواز اٹھانا ہے۔

آئیے اب بات کرتے ہیں کہ شہر کی آب وہوا کو بہتر بنانے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں ! ہم گذشتہ کئی سال سے “گرین لائٹ “ کے پلیٹ فارم سے ایک تسلسل کے ساتھ بغیر شور شرابے کے شجرکاری کر رہے ہیں ، شہر اور گھروں میں آکسجن کی بہتری کیلئے پودے لگا رہے ہیں۔ جن اصولوں کو ہم نے اپنا رکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں تاکہ آپ بھی اپنی اپنی جگہ موثر طریقے سے اس میں حصہ لیں سکیں۔
ہم کسی ایسی جگہ پودا نہیں لگاتے جہاں ہم خود یا کوئی ذمہ دار اسکی دیکھ بھال نہ کرسکتا ہو۔ روڈ کنارے درخت اور سبزہ لگانے کی ذمہ داری PHA گوجرانوالہ کی ہے اور اسکے لئے انکے پاس وافر فنڈز موجود ہوتے ہیں ہم ان جگہوں پر پودے نہیں لگاتے۔
اگر کہیں کسی کی ملکیتی جگہ کے علاوہ انکی فیکٹری یا گھر کے باہر انکے اصرار اور دیکھ بھال کے وعدہ پر گرین بیلٹ پر پودے لگائیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔
اس جگہ بڑا درخت بن جانے سے ٹریفک کو کوئی مسلہ نہ ہو، اگر اسکا امکان ہے تو جگہ کے حساب سے پودے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اس جگہ پر اوپر کوئی بجلی کی تاریں تو نہیں گذر رہیں کیونکہ یہ قد آور ہو کر تاروں میں گھس جائے گا اور پھر اسکو کاٹنا پڑے گا۔
جگہ ایسی ہو کہ سڑک کی توسیع یا کوئی نالہ وغیرہ بنانے کی صورت میں یہ درخت کاٹنا نہ پڑ جائے۔
سورج کے رخ کا بہت خیال رکھنا ہوتا ہے اسکے مطابق ہی پودے لگائے جاتے ہیں، موسمی پھول سب سے آگے کیاریوں میں اسکے پیچھے چھوٹے قد والے آرائشی، پھر درمیانے قد والے پھل دار پودے اور آخر میں پیچھے بڑے درخت لگائے جاتے ہیں۔
درختوں میں بھی اپنے علاقے کے مقامی درخت ہی لگانے چاہئیں۔
جہاں کہیں سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کے اندر درخت لگائیں تو مستقبل میں اس جگہ پر ممکن توسیع کے منصوبہ جات کا خیال رکھیں، عمارت کے بالکل قریب درخت لگاتے ہوئے بھی احتیاط رکھیں کیونکہ کئی درخت اپنی جڑیں پھیلا کر زیرزمین عمارت کی بنیادوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پھل دار درختوں کو دھوپ چاہیئے ہوتی ہے انہیں دیوار یا بڑے درختوں کے سایہ میں نہ لگائیں۔
درخت لگاتے ہوئے یہ بھی خیال رکھیں کہ درخت کی یہ قسم مکمل جوان ہو کر کتنی جگہ گھیرتی ہے اسکے مطابق ہی پودوں میں فاصلہ رکھیں ۔
جہاں درخت لگانا ممکن نہ ہو وہاں سارا سال سبز رہنے والے آرائشی پودے لگائیں جہاں دھوپ آتی ہو وہاں موسمی پھول لگائیں۔

جس جگہ زمین میسر نہیں کنکریٹ ہے لیکن جگہ دستیاب ہے تو وہاں مٹی کے گملے ، پلاسٹک کے ڈرم، سیمنٹ کی کیاریاں استعمال کریں اور جگہ کے اعتبار سے پودے لگائیں۔
جن کے گھروں فیکٹریوں میں مٹی والی زمین میسر نہیں پوری جگہ پر عمارت کھڑی ہے تو گلی میں بغیر رکاوٹ پیدا کئے اور چھت پر گملے، ڈرم، کیاریاں استعمال کر کے پودے لگائیں۔

پودوں کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جو سال بھر ہری بھری رہتی ہیں اور بہت سی اقسام کو بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے یہ پودے زیادہ سے زیادہ لگائیں۔ آپکی گلی سرسبز اور خوبصورت بن جائے گی۔
اپنے حصے کی آکسجن خود پیدا کریں۔ چھت پر کچن گارڈننگ کریں، اگر اس میں آپکو بچت نہ بھی ہو تو گھر پر صاف پانی سے اگائی سبزیاں صحت بخش بھی ہونگی اور آپکو خوشی بھی دیں گی۔ بچوں کو کچن گارڈننگ کی صورت میں ایک صحت مند مشغلہ مل جائے گا۔

خواتین وحضرات ! احمد فراز نے ایسے ہی معاملات سمجھانے کیلئے کہا تھا،

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

یاد رکھیں! ہم سب کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا جہاں آواز اٹھانا ہے وہاں سب کےساتھ مل کر توانا آواز بلند کریں، جہاں ہم شجر کاری کر سکتے ہیں ہر فرد کی طرف سے کم از کم پانچ درخت لگائے جائیں، جہاں پودے لگائے جا سکتے ہیں وہاں جگہ دھوپ اور اپنے دیک بھال کیلئے دستیاب وقت کے لحاظ سے انتخاب کر کے لگائیں۔ اس کی سب کو ترغیب دیں تاکہ ہمارا شہر سرسبز وشاداب ہواور آئیندہ نسلوں کے رہنے کے قابل رہے۔

#مہرساجدشاد
#شادابیاں
#بیٹھک

Address

Citi Housing
Gujranwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Green Light posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Green Light:

Shortcuts

Share