28/01/2026
“”گرین لائٹ کا پراجیکٹ “”
شجرکاری اور گوجرانوالہ
جی ٹی روڈ اور مین ریلوے لائین کے دونوں اطراف تاریخی شہر گوجرانوالہ آباد ہے۔ اپنی بڑھتی آبادی کے باعث مسلسل تبدیلیوں سے گذر رہا ہے۔ دنیا میں اسے اصول سمجھا جاتا ہے کہ کسی بھی علاقے میں صحت افزا آب و ہوا کیلئے اس رقبے کا کم از کم آٹھ 8 فیصد جنگلات درختوں پر مشتمل یا کم از کم سرسبز ہونا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں شہروں کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر سڑکیں اور تعمیرات بڑھتی جاتی ہیں جس سے درختوں پودوں اور سبزے میں مسلسل کمی ہوتی جاتی ہے، گوجرانوالہ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ گرین بیلٹ سے درخت کاٹ کر سڑکوں کو چوڑا کیا جا رہا ہے جس سے اول درخت اور سبزہ کم ہو رہا ہے تو ساتھ ہی ہر جگہ کنکریٹ آنے سے بارشوں کا پانی زیر زمین جانے کا عمل بھی رک گیا ہے جس سے پانی کی سطح گرتی چلی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ شہر کا پھیلاو بھی مسلسل جاری ہے جس سے کھیت میدان اور درخت سبزہ ختم ہو رہا ہے یہ فضائی آلودگی کے بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔
گذشتہ تقریبا ایک عشرے میں گوجرانوالہ میں بھرپور شجر کاری ہوئی اس میں کئی فلاحی تنظیموں اور بہت سے احساس رکھنے والے افراد نے انفرادی طور پر حصہ لیا، PHA گوجرانوالہ نے روڈ سائیڈز کو سرسبز بنانے اور آرائشی پودوں کے ساتھ موسمی پھول لگانے پر توجہ مرکوز رکھی۔
اس عرصہ میں PHA گوجرانوالہ نے شجر کاری کیلئے بھی بھاری بجٹ خرچ کر کے تین چار مہمات سرانجام دیں۔ لیکن یہ سرکاری مہمات افسرشاہی کی روائتی جمع تفریق ہی رہی۔ ایک بار کھجور کے درخت منگوا کر جی ٹی روڈ کے اطراف میں لگائے گئے یہ سب کے سب مر گئے کوئی ایک بھی نہیں چلا۔ یہ سب سے مہنگا درخت لا کر شہر میں لگانے میں مالی فوائد تو ہوتے ہیں لیکن ماحول میں کوئی بہتری نہیں ہوتی۔
پھر آپکو یاد ہوگا ایک ڈپٹی کمشنر بہادر نے اسی جی ٹی روڈ پر پچاس ہزار درخت لگانے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا تھا، ریکارڈ کا تو کہیں زکر نہیں البتہ کرپشن خوب ہوئی، پودے خریدنےاور دوپہر کو اسکول کے ہزاروں بچوں کو کھانا کھلانے کے نام پر، فنڈ حکومت کے خزانے سے نکلا لیکن نہ تو سب کو کھانا کھلایا اور نہ ہی پودے خریدے گئے بلکہ شہر بھر کی نرسریوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے تھیلیوں میں لگے ننھے پودے ہتھیا لئے گئے۔ یہ نوزائیدہ پودے دیکھ بھال نہ ہونے سے اکثر مر گئے، کچھ پودے خدا ترس لوگوں اور تنظیموں نے البتہ اپنی ذاتی کاوش سے بچائے۔ یہ پودے اتنے قریب قریب لگائے گئے تھے کہ اگر یہ بڑے ہو بھی جاتے تو بھی بھرپور پھیلاو نہ دے پاتے بے مقصد ہی رہتے۔
پھر ایک بار شجر کاری مہم کو سال میں دو بار کرنے کا پروانہ جاری ہوا تو اس پر عمل درامد کیلئے کاغذوں میں ہزاروں اور لاکھوں پودے لگتے رہے جبکہ اصل میں وہی چند درجن پودے لگے جن کو لگاتے ہوئے فوٹو شوٹ کروائے گئے۔
اب ترقیاتی کام اور بیوٹیفیکیشن کے نام پر کہیں پودے لگ رہے ہیں تو کہیں درخت کاٹے جا رہے ہیں، کل ملا کر مالی فوائد اپنے اصل مقامات پر پہنچ رہے ہیں اور ماحول کی خرابی تسلسل سے جاری ہے۔
ابھی حال ہی میں یارمددگار تنظیم کے چیرمین جناب رضوان خواجہ کا نوحہ سوشل میڈیا پر سننے کو ملا، کیوں نہ ہو پودے بچوں کی طرح ہوتے ہیں انہیں لگانا پالنا اور بڑے ہوتے دیکھنا ایک اطمینان بخش عمل ہے ، ان پودوں کے ضائع ہونے کا دکھ اپنے بچوں کی تکلیفوں جیسا ہوتا ہے۔ انکی ٹیم نے بھی شہر بھر میں کئی سال شجر کاری کی اور عوام میں بھی ہزاروں پودے بانٹے۔ پیپلزکالونی پارک میں انکے لگائے پودے اب تناور درخت بن رہے ہیں تو انتظامیہ کو کمائی کا نیا راستہ سوجھا ہے، پارک کے اطراف دوکانیں اور کھوکھے بنا کر کرایہ پر دئیے جا رہے ہیں اور اسکے لئے پارک کے اندر دیوار (باونڈری وال ) کے ساتھ لگے درخت کاٹے جا رہے ہیں جنہیں تناور بننے میں کئی برس لگے تھے۔
یہ ہمارا شہر ہے ہم نے اور ہماری آئیندہ نسلوں نے یہاں رہنا ہے، افسر شاہی آج اس شہر تو کل اگلے شہر نوکری کر کے مراعات لیں گے پنشن لیں گے اور پھر بھی عیش کریں گے، ہمیں اپنے شہر کی آب وہوا کو بہتر بنانا ہے یہ درخت ہمارا اثاثہ ہیں انکو بچانے کیلئے ہم سب کو ہی آواز اٹھانا ہے۔
آئیے اب بات کرتے ہیں کہ شہر کی آب وہوا کو بہتر بنانے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں ! ہم گذشتہ کئی سال سے “گرین لائٹ “ کے پلیٹ فارم سے ایک تسلسل کے ساتھ بغیر شور شرابے کے شجرکاری کر رہے ہیں ، شہر اور گھروں میں آکسجن کی بہتری کیلئے پودے لگا رہے ہیں۔ جن اصولوں کو ہم نے اپنا رکھا ہے وہ آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں تاکہ آپ بھی اپنی اپنی جگہ موثر طریقے سے اس میں حصہ لیں سکیں۔
ہم کسی ایسی جگہ پودا نہیں لگاتے جہاں ہم خود یا کوئی ذمہ دار اسکی دیکھ بھال نہ کرسکتا ہو۔ روڈ کنارے درخت اور سبزہ لگانے کی ذمہ داری PHA گوجرانوالہ کی ہے اور اسکے لئے انکے پاس وافر فنڈز موجود ہوتے ہیں ہم ان جگہوں پر پودے نہیں لگاتے۔
اگر کہیں کسی کی ملکیتی جگہ کے علاوہ انکی فیکٹری یا گھر کے باہر انکے اصرار اور دیکھ بھال کے وعدہ پر گرین بیلٹ پر پودے لگائیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔
اس جگہ بڑا درخت بن جانے سے ٹریفک کو کوئی مسلہ نہ ہو، اگر اسکا امکان ہے تو جگہ کے حساب سے پودے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اس جگہ پر اوپر کوئی بجلی کی تاریں تو نہیں گذر رہیں کیونکہ یہ قد آور ہو کر تاروں میں گھس جائے گا اور پھر اسکو کاٹنا پڑے گا۔
جگہ ایسی ہو کہ سڑک کی توسیع یا کوئی نالہ وغیرہ بنانے کی صورت میں یہ درخت کاٹنا نہ پڑ جائے۔
سورج کے رخ کا بہت خیال رکھنا ہوتا ہے اسکے مطابق ہی پودے لگائے جاتے ہیں، موسمی پھول سب سے آگے کیاریوں میں اسکے پیچھے چھوٹے قد والے آرائشی، پھر درمیانے قد والے پھل دار پودے اور آخر میں پیچھے بڑے درخت لگائے جاتے ہیں۔
درختوں میں بھی اپنے علاقے کے مقامی درخت ہی لگانے چاہئیں۔
جہاں کہیں سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کے اندر درخت لگائیں تو مستقبل میں اس جگہ پر ممکن توسیع کے منصوبہ جات کا خیال رکھیں، عمارت کے بالکل قریب درخت لگاتے ہوئے بھی احتیاط رکھیں کیونکہ کئی درخت اپنی جڑیں پھیلا کر زیرزمین عمارت کی بنیادوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پھل دار درختوں کو دھوپ چاہیئے ہوتی ہے انہیں دیوار یا بڑے درختوں کے سایہ میں نہ لگائیں۔
درخت لگاتے ہوئے یہ بھی خیال رکھیں کہ درخت کی یہ قسم مکمل جوان ہو کر کتنی جگہ گھیرتی ہے اسکے مطابق ہی پودوں میں فاصلہ رکھیں ۔
جہاں درخت لگانا ممکن نہ ہو وہاں سارا سال سبز رہنے والے آرائشی پودے لگائیں جہاں دھوپ آتی ہو وہاں موسمی پھول لگائیں۔
جس جگہ زمین میسر نہیں کنکریٹ ہے لیکن جگہ دستیاب ہے تو وہاں مٹی کے گملے ، پلاسٹک کے ڈرم، سیمنٹ کی کیاریاں استعمال کریں اور جگہ کے اعتبار سے پودے لگائیں۔
جن کے گھروں فیکٹریوں میں مٹی والی زمین میسر نہیں پوری جگہ پر عمارت کھڑی ہے تو گلی میں بغیر رکاوٹ پیدا کئے اور چھت پر گملے، ڈرم، کیاریاں استعمال کر کے پودے لگائیں۔
پودوں کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جو سال بھر ہری بھری رہتی ہیں اور بہت سی اقسام کو بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے یہ پودے زیادہ سے زیادہ لگائیں۔ آپکی گلی سرسبز اور خوبصورت بن جائے گی۔
اپنے حصے کی آکسجن خود پیدا کریں۔ چھت پر کچن گارڈننگ کریں، اگر اس میں آپکو بچت نہ بھی ہو تو گھر پر صاف پانی سے اگائی سبزیاں صحت بخش بھی ہونگی اور آپکو خوشی بھی دیں گی۔ بچوں کو کچن گارڈننگ کی صورت میں ایک صحت مند مشغلہ مل جائے گا۔
خواتین وحضرات ! احمد فراز نے ایسے ہی معاملات سمجھانے کیلئے کہا تھا،
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
یاد رکھیں! ہم سب کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا جہاں آواز اٹھانا ہے وہاں سب کےساتھ مل کر توانا آواز بلند کریں، جہاں ہم شجر کاری کر سکتے ہیں ہر فرد کی طرف سے کم از کم پانچ درخت لگائے جائیں، جہاں پودے لگائے جا سکتے ہیں وہاں جگہ دھوپ اور اپنے دیک بھال کیلئے دستیاب وقت کے لحاظ سے انتخاب کر کے لگائیں۔ اس کی سب کو ترغیب دیں تاکہ ہمارا شہر سرسبز وشاداب ہواور آئیندہ نسلوں کے رہنے کے قابل رہے۔
#مہرساجدشاد
#شادابیاں
#بیٹھک