GB Youth Organization

Call Directions Contact the organization

GB Youth Organization The GB Social Welfare Youth Organization Aims to Champion Dignity And Choice For The Underserved, Focusing On Sports Peace And Health Education
(2)

عورت کی پہچانتحریر: ایس انجم ویسرعورت کی پہچان اس کے نام یا علاقے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، صلاحیت، حوصلے، محنت اور مثبت...
26/09/2026

عورت کی پہچان
تحریر: ایس انجم ویسر
عورت کی پہچان اس کے نام یا علاقے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، صلاحیت، حوصلے، محنت اور مثبت سوچ سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے مختلف خطوں میں خواتین اپنے اپنے دائرۂ کار میں معاشرے کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ہر خاتون کی اپنی ایک الگ شناخت اور اہمیت ہے۔
اسی تناظر میں اسما الطاف کھوکھر، قرۃ العین خالد سیالکوٹ اور صمبل شیخ گلگت بلتستان کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ تینوں خواتین کا تعلق مختلف علاقوں اور مختلف سماجی ماحول سے ہے، اس لیے ان کے کردار کو ایک ہی پیمانے سے جانچنے کے بجائے ان کی اپنی اپنی شناخت اور خدمات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
اسما الطاف کھوکھر — سندھ
اسما الطاف کھوکھر کا نام سندھ سے تعلق رکھنے والی باہمت خواتین کے حوالے سے لیا جا سکتا ہے۔ خواتین کے مثبت سماجی کردار، خود اعتمادی اور اپنی شناخت کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ان کے تذکرے کا اہم پہلو ہے۔
سندھ کی اپنی منفرد ثقافتی اور سماجی شناخت ہے، اور اسما الطاف کھوکھر اسی ماحول کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین کے لیے حوصلے اور مثبت سوچ کے پیغام کو اجاگر کرتی ہیں۔
قرۃ العین خالد — سیالکوٹ
قرۃ العین خالد کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور ان کا ذکر خواتین کی معاشی اور سماجی شرکت کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ سیالکوٹ کے کاروباری ماحول میں خواتین کی شمولیت اس وسیع عمل کا حصہ ہے جس میں خواتین تعلیم، کاروبار اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
ان کا کردار اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ خواتین کو معاشی اور فیصلہ سازی کے مواقع حاصل ہوں تو وہ اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی ترقی کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
صمبل شیخ — گلگت بلتستان
صمبل شیخ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان کا ذکر ان خواتین کی نمائندگی کے طور پر کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کے مختلف جغرافیائی خطوں سے سامنے آ کر خواتین کی صلاحیت، ثقافتی شناخت اور مثبت کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔
گلگت بلتستان کی اپنی منفرد ثقافت اور معاشرتی خصوصیات ہیں۔ صمبل شیخ کا حوالہ اس بات کو سامنے لاتا ہے کہ ملک کے ہر خطے کی خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور قومی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔
موازنہ نہیں، نمائندگی
ان تینوں خواتین کا موازنہ اس انداز میں کرنا مناسب نہیں کہ کون زیادہ بااثر، زیادہ کامیاب یا بہتر ہے۔ اسما الطاف کھوکھر، قرۃ العین خالد اور صمبل شیخ تین الگ شخصیات ہیں، تین مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے تجربات و کردار بھی اپنے اپنے تناظر میں ہیں۔
اسما سندھ کی نمائندگی کرتی ہیں، قرۃ العین سیالکوٹ کے کاروباری و سماجی ماحول سے جڑی ہوئی مثال پیش کرتی ہیں، جبکہ صمبل گلگت بلتستان کی خواتین کی نمائندگی کا حوالہ بنتی ہیں۔ ان سب کا احترام اسی بنیاد پر ہونا چاہیے کہ ہر خاتون کی اپنی جدوجہد، اپنی صلاحیت اور اپنی شناخت ہے۔
اصل مقصد کسی ایک کو دوسری سے بڑا ثابت کرنا نہیں بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ پاکستان کی خواتین مختلف شعبوں اور مختلف علاقوں میں اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
عورت کی ترقی کا معیار کسی دوسری عورت سے مقابلہ نہیں بلکہ اس کے اپنے مواقع، محنت، کردار اور حاصل کردہ مقام کو سمجھنا ہے۔
عورت کی اصل پہچان اس کی عزتِ نفس، کردار، حوصلہ اور صلاحیت ہے۔
سندھ سے سیالکوٹ اور گلگت بلتستان تک، ہر علاقے کی باہمت عورت پاکستان کی اجتماعی شناخت کا حصہ ہے۔
تحریر:
ایس انجم ویسر

*گرلز ڈگری کالج سکردو میں سٹوڈنٹ کونسل الیکشن کا انعقاد*-----------------------------------------گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ...
26/09/2026

*گرلز ڈگری کالج سکردو میں سٹوڈنٹ کونسل الیکشن کا انعقاد*
-----------------------------------------
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سکردو میں سٹوڈنٹ کونسل الیکشن 2026 کا انعقاد ہوا، جس میں صدر، نائب صدر اور ہیڈ گرل کے عہدوں کے لیے مجموعی طور پر 12 طالبات نے بطور امیدوار حصہ لیا۔ الیکشن کے دوران طالبات نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

صدر کے عہدے کے لیے سارہ فاطمہ بی ایس باٹنی، انیتہ بتول اے ڈی پی سائیکالوجی اور نائلہ بی ایس، سی ایس نے حصہ لیا۔ نائب صدر کے لیے ثوبیہ بتول اکنامکس، نوشین بتول آئی سی ایس، سیدہ مقدس پری میڈیکل اور راحین معظم سائیکالوجی امیدوار تھیں، جبکہ ہیڈ گرل کے عہدے کے لیے ردا فاطمہ اسلامک اسٹڈیز، ثانیہ زہراء پری میڈیکل، ثانیہ مریم آئی سی ایس، سیدہ فروا سائیکالوجی اور نادیہ غازی سائیکالوجی نے حصہ لیا۔

چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر عابدہ بانو اور اسسٹنٹ پروفیسر یاسمین کوثر تھیں، جبکہ الیکشن کی چیف آرگنائزر اسسٹنٹ پروفیسر رخسانہ بتول تھیں۔ ریٹرننگ افسران کے فرائض اسسٹنٹ پروفیسر یاسمین کوثر اور اسسٹنٹ پروفیسر خدیجہ بانو نے انجام دیے۔ پریزائیڈنگ افسران لیکچرار محمد نذیر اور یونس شریف تھے، جبکہ پولنگ افسران کے فرائض لیکچرار مدیحہ رانی، لیکچرار سلیمہ بتول، لیکچرار خسنیہ بتول اور لیکچرار وسیم عباس نے انجام دیے۔

پولنگ کا عمل صبح ساڑھے نو بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا، جس کے بعد کونٹنگ انچارچ لیکچرار یاسمین صادق اور لیکچرار ثمینہ ذاکر کی زیر نگرانی ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کیا گیا۔ الیکشن میں مجموعی طور پر 1187 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

صدر کے عہدے کے لیے انیتہ بتول اور سارہ فاطمہ کے درمیان انتہائی کانٹے دار مقابلہ ہوا، جس میں انیتہ بتول نے 590 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کی مدمقابل سارہ فاطمہ نے 586 ووٹ حاصل کیے۔ نائلہ نے 11 ووٹ حاصل کیے۔

نائب صدر کے عہدے کے لیے چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں نوشین بتول نے 445 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ثوبیہ بتول نے 328، راحین معظم نے 267 جبکہ سیدہ مقدس نے 123 ووٹ حاصل کیے۔

ہیڈ گرل کے عہدے کے لیے پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں نادیہ غازی نے 484 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کی مدمقابل ثانیہ مریم نے 420، ثانیہ زہراء نے 139، ردا فاطمہ نے 66 جبکہ سیدہ فروا نے 58 ووٹ حاصل کیے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر عابدہ بانو نے کہا کہ سٹوڈنٹ کونسل الیکشن انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوا۔ طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ اپنی پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا اور پورے انتخابی عمل کے دوران نظم و ضبط کا مثالی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران کسی قسم کی بدنظمی یا افراتفری دیکھنے میں نہیں آئی۔

چیف آرگنائزر اسسٹنٹ پروفیسر رخسانہ بتول نے کہا کہ سٹوڈنٹ کونسل الیکشن کے انعقاد کا مقصد طالبات میں جمہوری اقدار، قیادت، ذمہ داری اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے الیکشن کے کامیاب انعقاد پر تمام انتخابی عملے، اساتذہ اور طالبات کو مبارکباد پیش کی۔

پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سکردو پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ سلیم نے کامیاب اور پرامن الیکشن کے انعقاد پر انتظامیہ، الیکشن کمیٹی اور تمام متعلقہ عملے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نو منتخب صدر، نائب صدر اور ہیڈ گرل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جن طالبات کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کالج کی بہتری، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نو منتخب عہدیداران تمام طالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے باہمی تعاون اور مثبت سوچ کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں گی۔

آخر میں نو منتخب صدر، نائب صدر اور ہیڈ گرل نے بھی خطاب کیا اور طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کا تاریخی فیصلہوزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی خصوصی کاوشوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں گلگت ب...
11/09/2026

گلگت بلتستان اسمبلی کا تاریخی فیصلہ

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی خصوصی کاوشوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں گلگت بلتستان اسمبلی نے اپنے چوتھے اجلاس میں آزاد کشمیر کے مالیاتی ماڈل کی طرز پر وفاقی حکومت اور حکومتِ گلگت بلتستان کے درمیان مجوزہ مالیاتی معاہدے کی متفقہ منظوری دے دی۔

یہ اہم پیش رفت گلگت بلتستان کے مالیاتی حقوق کے تحفظ، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔

KIU BS Political Science student Naina has successfully defended her thesis, titled ‘Women’s Political Participation in ...
11/09/2026

KIU BS Political Science student Naina has successfully defended her thesis, titled ‘Women’s Political Participation in Gilgit-Baltistan: A Case Study of Gilgit.’ Her research aims to raise awareness about the importance of women’s voices in politics and encourage more women to step forward, participate, and take an active role in political and community decision-making. Through this work, she hopes to inspire greater opportunities for women to engage, lead, and contribute to the future of Gilgit-BaltistanGilgit-Baltistan.
Congratulations 👏👏.

یہ وہ جانباز پاکستانی سپاہی ہیں جنہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا اور غازی بنے۔ 🇵🇰آج 103 برس کی عم...
11/09/2026

یہ وہ جانباز پاکستانی سپاہی ہیں جنہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا اور غازی بنے۔ 🇵🇰

آج 103 برس کی عمر میں بھی وطنِ عزیز سے ان کی محبت اور پاک فوج کے لیے جذبہ ویسا ہی جوان ہے۔

ان کی زندگی بہادری، محنت، سادگی اور حب الوطنی کی خوبصورت مثال ہے۔

وطن کے دفاع کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔

ایسے غازی ہمارے لیے باعثِ فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فوج پائندہ باد 🇵🇰

غیر قانونی آن لائن جوئے کے خلاف رکنِ گلگت بلتستان اسمبلی عبدالجہان صاحب کی قرارداد قابلِ تحسین اقدام ہے۔ نوجوان نسل کے م...
11/09/2026

غیر قانونی آن لائن جوئے کے خلاف رکنِ گلگت بلتستان اسمبلی عبدالجہان صاحب کی قرارداد قابلِ تحسین اقدام ہے۔ نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایسی مثبت کاوشوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔

عوامی مفاد میں یہ آواز اٹھانا قابلِ ستائش ہے۔

حکیمہ سلطانہ گلگت بلتستان امن رواداری اور محبت کی سرزمین ہے یہاں کی ثقافت دنیا بھر میں اپنی مہمان نوازی اخوت اور باہمی ا...
11/09/2026

حکیمہ سلطانہ
گلگت بلتستان امن رواداری اور محبت کی سرزمین ہے یہاں کی ثقافت دنیا بھر میں اپنی مہمان نوازی اخوت اور باہمی احترام کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں یہی سکھایا تھا کہ زبان سے عزت نکلے اور کردار سے شرم و حیا جھلکےکبھی ہم نے گلگت بلتستان کی گلیوں میں گالی گلوچ نہیں سنی تھی
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اس خوبصورت تہذیب کو اپنی نسلوں تک پہنچائیں اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں اور اداروں سے آغاز کرنا ہوگا
کیا ہم بطور والدین اپنے بچوں کی تربیت دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کر رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں صرف کتابیں نہیں بلکہ کردار، عزت ہنر اور ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال بھی سکھا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی یاد دلا رہے ہیں کہ عزت محبت اور ہمارا کلچر ہماری سب سے بڑی طاقت ہے؟

کیا اساتذہ اپنے شاگردوں کو جدید تعلیم کے ساتھ اخلاق اور شناخت کا سبق بھی دے رہے ہیں؟
علم کے ساتھ تربیت ضروری ہے سکول صرف نمبر دینے کی جگہ نہیں، وہاں سے ایک باشعور، محب وطن اور بااخلاق نسل تیار ہوتی ہے

کیا ہمارے علماء کرام مذہبی ادارے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ مل کر نوجوانوں کو رواداری بھائی چارے اور امن کا درس دے رہے ہیں؟
ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے عالم ہو استاد ہو یا والدین سب کو اپنی جگہ جوابدہی کا احساس کرنا ہوگا سکول گھر مسجد اور بازار سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی اصل شناخت کو زندہ رکھیں گے
ترقی کے اس دور میں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے مگر اپنی جڑوں کو کبھی نہیں بھولنا ہے
بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے جو واقعات ہم گلگت بلتستان میں دیکھ رہے ہیں وہ ہر باشعور انسان کے لیے تکلیف دہ ہیں خواتین بچوں اور بے گناہ شہریوں کے ساتھ ہونے والے حادثات اور زیادتیاں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی آواز بلند کریں
اب ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی قانون کو بلا تفریق اور سختی سے نافذ کیا جائے مجرم کو قرار واقعی سزا ملے اور مظلوم کو فوری انصاف فراہم کیا جائے تعلیم یافتہ ہو یا عام شہری سب قانون کے سامنے برابر ہیں
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو دوبارہ امن عدل اور بھائی چارے کا گہوارہ بنایا جائے تاکہ ہماری نئی نسل ایک محفوظ اور باعزت مستقبل میں سانس لے سکے
معاشرہ جس طرف جا رہا ہے اس پر سب سے زیادہ نظر والدین اور اساتذہ کو رکھنی ہے آئیں ہر کوئی اپنی ذمہ داری پوری نبھائے۔
حکیمہ سلطانہ

بیٹی کا تحفظ ایک ایسی کڑوی سچائی  جسے ہمارا معاشرہ اکثر "پردوں" اور "دیواروں" کے پیچھے چھپا دیتا ہے۔ بیٹیوں کے معاملے می...
11/09/2026

بیٹی کا تحفظ
ایک ایسی کڑوی سچائی جسے ہمارا معاشرہ اکثر "پردوں" اور "دیواروں" کے پیچھے چھپا دیتا ہے۔ بیٹیوں کے معاملے میں ہم اکثر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اچھا لباس، بہترین تعلیم اور آرام دہ کمرہ ہی ہماری ذمہ داریوں کا اختتام ہے، حالانکہ یہ تو محض شروعات ہے۔
ایک بیٹی کے لیے اس کے باپ کا کندھا اور بھائی کی ڈھال صرف جسمانی حفاظت کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ یہ اس کے اعصاب کا سکون ہوتے ہیں۔ جب گھر کے مرد یا بڑے بات بات پر طنز، سخت رویے یا بے جا پابندیوں کا سہارا لیتے ہیں، تو وہ گھر "گھر" نہیں رہتا بلکہ ایک "قید خانہ" بن جاتا ہے۔
تحفظ کا مطلب یہ جاننا کہ اگر باہر کوئی اسے پریشان کرے گا یا اسے کوئی مشکل پیش آئے گی، تو اس کے گھر والے اس پر شک کرنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں گے۔
اگر بیٹی کو گھر میں اپنی بات کہنے سے ڈر لگے، تو وہ تحفظ کی تلاش میں بھٹکنے لگتی ہے۔
بیٹیوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی خوشی میں کوئی ہنسنے والا ہو اور ان کی خاموشی کو کوئی پڑھنے والا ہو۔ جب والدین اپنی مصروفیات یا بیٹوں کو ترجیح دینے کے چکر میں بیٹی کی آواز کو "شور" سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، تو وہ تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے۔
"توجہ کا قحط بیٹیوں کو ذہنی طور پر لاوارث بنا دیتا ہے۔"
جب اسے اپنے گھر میں وہ اہمیت اور محبت نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہے، تو باہر کی دنیا کا کوئی بھی اجنبی جب "جھوٹے دلاسے" اور "مصنوعی ہمدردی" دکھاتا ہے، تو اسے وہ سچ لگنے لگتا ہے۔ وہ اس شکاری کے جال میں صرف اس لیے پھنستی ہے کیونکہ اس کے اپنے گھر کے دروازے اس کے جذبات کے لیے بند تھے۔

یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر کوئی لڑکی راستہ بھٹکتی ہے، تو معاشرہ سارا بوجھ اس کے سر ڈال دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا ایک بڑا حصہ ان سرپرستوں کے سر ہوتا ہے جنہوں نے بیٹی کے ساتھ دوستی کا رشتہ استوار نہیں کیا۔
اسے یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ قیمتی ہے۔
گھر کے ماحول کو اتنا گھٹن زدہ بنا دیا کہ اسے باہر کی ہوا "راحت" محسوس ہونے لگی۔
بیٹیاں صرف روٹی کی محتاج نہیں ہوتیں، وہ مان کی بھوکی ہوتی ہیں۔ انہیں ایسا یقین دیں کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، ان کے اپنوں کا دل ان کے لیے ہمیشہ کھلا ہے۔ جب گھر کے اندر "احساسِ تحفظ" اور "بھرپور توجہ" ملے گی، تو باہر کا کوئی فریب انہیں کبھی اپنی طرف راغب نہیں کر پائے گا۔
گھر کو صرف اینٹ پتھر کی عمارت نہ بنائیں، اسے اپنی بیٹیوں کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ بنائیں جہاں وہ خود کو سب سے زیادہ محفوظ اور معتبر محسوس کریں
نگہت خالد چیئرپرسن گلگت بلتستان یوتھ آرگنائزیشن

Address

Parri Banglah
Gilgit

Telephone

+923554395555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB Youth Organization posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to GB Youth Organization:

Shortcuts

Share