26/09/2026
عورت کی پہچان
تحریر: ایس انجم ویسر
عورت کی پہچان اس کے نام یا علاقے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، صلاحیت، حوصلے، محنت اور مثبت سوچ سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے مختلف خطوں میں خواتین اپنے اپنے دائرۂ کار میں معاشرے کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ہر خاتون کی اپنی ایک الگ شناخت اور اہمیت ہے۔
اسی تناظر میں اسما الطاف کھوکھر، قرۃ العین خالد سیالکوٹ اور صمبل شیخ گلگت بلتستان کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ تینوں خواتین کا تعلق مختلف علاقوں اور مختلف سماجی ماحول سے ہے، اس لیے ان کے کردار کو ایک ہی پیمانے سے جانچنے کے بجائے ان کی اپنی اپنی شناخت اور خدمات کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
اسما الطاف کھوکھر — سندھ
اسما الطاف کھوکھر کا نام سندھ سے تعلق رکھنے والی باہمت خواتین کے حوالے سے لیا جا سکتا ہے۔ خواتین کے مثبت سماجی کردار، خود اعتمادی اور اپنی شناخت کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ان کے تذکرے کا اہم پہلو ہے۔
سندھ کی اپنی منفرد ثقافتی اور سماجی شناخت ہے، اور اسما الطاف کھوکھر اسی ماحول کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین کے لیے حوصلے اور مثبت سوچ کے پیغام کو اجاگر کرتی ہیں۔
قرۃ العین خالد — سیالکوٹ
قرۃ العین خالد کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور ان کا ذکر خواتین کی معاشی اور سماجی شرکت کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ سیالکوٹ کے کاروباری ماحول میں خواتین کی شمولیت اس وسیع عمل کا حصہ ہے جس میں خواتین تعلیم، کاروبار اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
ان کا کردار اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ خواتین کو معاشی اور فیصلہ سازی کے مواقع حاصل ہوں تو وہ اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی ترقی کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
صمبل شیخ — گلگت بلتستان
صمبل شیخ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان کا ذکر ان خواتین کی نمائندگی کے طور پر کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کے مختلف جغرافیائی خطوں سے سامنے آ کر خواتین کی صلاحیت، ثقافتی شناخت اور مثبت کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔
گلگت بلتستان کی اپنی منفرد ثقافت اور معاشرتی خصوصیات ہیں۔ صمبل شیخ کا حوالہ اس بات کو سامنے لاتا ہے کہ ملک کے ہر خطے کی خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور قومی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔
موازنہ نہیں، نمائندگی
ان تینوں خواتین کا موازنہ اس انداز میں کرنا مناسب نہیں کہ کون زیادہ بااثر، زیادہ کامیاب یا بہتر ہے۔ اسما الطاف کھوکھر، قرۃ العین خالد اور صمبل شیخ تین الگ شخصیات ہیں، تین مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے تجربات و کردار بھی اپنے اپنے تناظر میں ہیں۔
اسما سندھ کی نمائندگی کرتی ہیں، قرۃ العین سیالکوٹ کے کاروباری و سماجی ماحول سے جڑی ہوئی مثال پیش کرتی ہیں، جبکہ صمبل گلگت بلتستان کی خواتین کی نمائندگی کا حوالہ بنتی ہیں۔ ان سب کا احترام اسی بنیاد پر ہونا چاہیے کہ ہر خاتون کی اپنی جدوجہد، اپنی صلاحیت اور اپنی شناخت ہے۔
اصل مقصد کسی ایک کو دوسری سے بڑا ثابت کرنا نہیں بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ پاکستان کی خواتین مختلف شعبوں اور مختلف علاقوں میں اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
عورت کی ترقی کا معیار کسی دوسری عورت سے مقابلہ نہیں بلکہ اس کے اپنے مواقع، محنت، کردار اور حاصل کردہ مقام کو سمجھنا ہے۔
عورت کی اصل پہچان اس کی عزتِ نفس، کردار، حوصلہ اور صلاحیت ہے۔
سندھ سے سیالکوٹ اور گلگت بلتستان تک، ہر علاقے کی باہمت عورت پاکستان کی اجتماعی شناخت کا حصہ ہے۔
تحریر:
ایس انجم ویسر