27/06/2024
جناب سینیٹر، راجہ ناصر عباس جعفری صاحب،
گلگت بلتستان میں پاکستان سے الحاق والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان 17 نومبر 1947 سے آج تک پاکستان کی چھاؤنی بنی ہوئی ہے، ایک چھاؤنی میں آزاد رائے کا تصور یہاں کے محکوم عوام کے ساتھ بڑا مذاق ہے، گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن کے تحت رائے رکھنے والوں اور اپنے قانونی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو غدار پاکستان کہہ کر ان پر انسداد دہشت گردی عدالت میں غیر آئینی مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔ ایسا عمل انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ جس کا گواہ میں خود ہوں مجھ پر آج بھی انسداد دہشت گردی عدالت گلگت بلتستان میں پاکستان سے غداری اور بغاوت کے مقدمات قائم ہیں، گلگت بلتستان کی پولٹیکل ایجنٹ انتظامیہ اور حکومت مجھ سمیت گلگت بلتستان کے کسی باشندے کو عدالت میں پاکستان کا قانونی اور آئینی شہری ثابت نہیں کر سکے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت گلگت میں جمع شدہ میرے قانونی اور آئینی سوالات کے جواب آپ پاکستانی پارلیمنٹ سے ہمیں تحریری طور پر بھیج دیں۔ آپ سے اپیل ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت گلگت بلتستان میں جمع شدہ میرا قانونی سوال نامہ، آپ پاکستانی پارلیمنٹ میں پڑھ کر سنا دیں۔ پاکستانی پارلیمان کی طرف سے جواب کا انتظار رہے گا۔
محترم علامہ صاحب
گلگت بلتستان کے قانونی حیثیت کا معاملہ مختلف کمیٹیاں یا نام نہاد تحریکیں کھڑی کر کے یہاں کے محکوم عوام کو سیاسی نوسربازیوں اور جعل سازیوں میں مصروف رکھنے اور حقوق کو بیوروکریٹک delay tactics، کے تحت مزید معطل رکھنے سے حل نہیں ہوگا نہ ایسے کمیٹی کی کوئی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن جو اقوام متحدہ میں بھی ایک تسلیم شدہ حق ہے، اس قانونی جمہوری اور انسانی حق کی بحالی، گلگت بلتستان میں خودمختار اسمبلی کے قیام کے صورت ہی میں ممکن ہے، ہمارے اس قانونی حق کو ریاست پاکستان کے پولیٹکل ایجنٹوں نے 17 نومبر 1947سے آج تک یہاں کے محکوم عوام سے غصب کر رکھا ہے۔ ہم اپنی آزاد قانونی پوزیشن کی بحالی کی بات کرتے ہیں، جسے اقوام متحدہ کے 1948 کے قرارداد میں ،خودمختار لوکل اتھارٹی حکومت کا حق مانا گیا ہے۔ ہم گلگت بلتستان کے باشندے اس خودمختار لوکل اتھارٹی حکومت کی بحالی کا قانونی جمہوری اور انسانی حق رکھتے ہیں۔
آپ کی جماعت وحدت المسلمین سمیت کئی اور جماعتیں آج بھی گلگت بلتستان میں میرے مقدمے کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کی مخبر جماعت بن کر میرے سیاسی اور معاشی گھیراؤ اور میرے قانونی جدوجہد کی آواز کو دبائے رکھنے میں, گلگت بلتستان پولیٹکل ایجنٹ انتظامیہ اور حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کی، ہم رکاب اور مخبر جماعتیں بن کر ہمارے سیاسی معاشی گھیراؤ میں ملوث ہیں۔
نثار حسنین رمل
سیکریٹری جنرل
عوامی ایکشن تحریک (جی بی) بلورستان ۔