Awami Action Tehreek عوامی عمل تحریک گلگت بلتستان

  • Home
  • Pakistan
  • Gilgit
  • Awami Action Tehreek عوامی عمل تحریک گلگت بلتستان

Awami Action Tehreek     عوامی عمل تحریک گلگت بلتستان گلگتبلتستان کی یکم نومبر1947 کی آزاد قانونی حیثیت کےجمہوری آئینی اور قانونی حقوق کی بحالی کی تحریک

جناب سینیٹر، راجہ ناصر عباس جعفری صاحب، گلگت بلتستان میں پاکستان سے الحاق والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان 17 ن...
27/06/2024

جناب سینیٹر، راجہ ناصر عباس جعفری صاحب،

گلگت بلتستان میں پاکستان سے الحاق والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان 17 نومبر 1947 سے آج تک پاکستان کی چھاؤنی بنی ہوئی ہے، ایک چھاؤنی میں آزاد رائے کا تصور یہاں کے محکوم عوام کے ساتھ بڑا مذاق ہے، گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن کے تحت رائے رکھنے والوں اور اپنے قانونی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو غدار پاکستان کہہ کر ان پر انسداد دہشت گردی عدالت میں غیر آئینی مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔ ایسا عمل انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ جس کا گواہ میں خود ہوں مجھ پر آج بھی انسداد دہشت گردی عدالت گلگت بلتستان میں پاکستان سے غداری اور بغاوت کے مقدمات قائم ہیں، گلگت بلتستان کی پولٹیکل ایجنٹ انتظامیہ اور حکومت مجھ سمیت گلگت بلتستان کے کسی باشندے کو عدالت میں پاکستان کا قانونی اور آئینی شہری ثابت نہیں کر سکے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت گلگت میں جمع شدہ میرے قانونی اور آئینی سوالات کے جواب آپ پاکستانی پارلیمنٹ سے ہمیں تحریری طور پر بھیج دیں۔ آپ سے اپیل ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت گلگت بلتستان میں جمع شدہ میرا قانونی سوال نامہ، آپ پاکستانی پارلیمنٹ میں پڑھ کر سنا دیں۔ پاکستانی پارلیمان کی طرف سے جواب کا انتظار رہے گا۔
محترم علامہ صاحب
گلگت بلتستان کے قانونی حیثیت کا معاملہ مختلف کمیٹیاں یا نام نہاد تحریکیں کھڑی کر کے یہاں کے محکوم عوام کو سیاسی نوسربازیوں اور جعل سازیوں میں مصروف رکھنے اور حقوق کو بیوروکریٹک delay tactics، کے تحت مزید معطل رکھنے سے حل نہیں ہوگا نہ ایسے کمیٹی کی کوئی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن جو اقوام متحدہ میں بھی ایک تسلیم شدہ حق ہے، اس قانونی جمہوری اور انسانی حق کی بحالی، گلگت بلتستان میں خودمختار اسمبلی کے قیام کے صورت ہی میں ممکن ہے، ہمارے اس قانونی حق کو ریاست پاکستان کے پولیٹکل ایجنٹوں نے 17 نومبر 1947سے آج تک یہاں کے محکوم عوام سے غصب کر رکھا ہے۔ ہم اپنی آزاد قانونی پوزیشن کی بحالی کی بات کرتے ہیں، جسے اقوام متحدہ کے 1948 کے قرارداد میں ،خودمختار لوکل اتھارٹی حکومت کا حق مانا گیا ہے۔ ہم گلگت بلتستان کے باشندے اس خودمختار لوکل اتھارٹی حکومت کی بحالی کا قانونی جمہوری اور انسانی حق رکھتے ہیں۔
آپ کی جماعت وحدت المسلمین سمیت کئی اور جماعتیں آج بھی گلگت بلتستان میں میرے مقدمے کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کی مخبر جماعت بن کر میرے سیاسی اور معاشی گھیراؤ اور میرے قانونی جدوجہد کی آواز کو دبائے رکھنے میں, گلگت بلتستان پولیٹکل ایجنٹ انتظامیہ اور حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کی، ہم رکاب اور مخبر جماعتیں بن کر ہمارے سیاسی معاشی گھیراؤ میں ملوث ہیں۔

نثار حسنین رمل
سیکریٹری جنرل
عوامی ایکشن تحریک (جی بی) بلورستان ۔

گلگت بلتستان کے سیاسی، مذہبی اور سوشلسٹی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کارکنوں سے ہم اپیل کرتے ہیں، جو ذاتی حیثیت م...
06/06/2024

گلگت بلتستان کے سیاسی، مذہبی اور سوشلسٹی قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کارکنوں سے ہم اپیل کرتے ہیں، جو ذاتی حیثیت میں کسی خفیہ ڈیل یا خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان میں سیاست نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے حق پرست اگر واقعی گلگت بلتستان کے محکوم عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو وہ آئین عوامی ایکشن تحریک کا ساتھ دیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے تحریک کے واضح قانونی اور آئینی موقف کو مضبوط بنائیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری خفیہ سمجھوتے بازیوں اور بیک ڈور کی سیاست کے تحت مختلف خفیہ ایجنسیوں سے املا لیکر کی جانے والی سیاست اور قوم پرستیوں کے منطقی نتائج آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔
خود بھی دھوکے میں نہ رہیں اور گلگت بلتستان کے محکوم عوام کو بھی دھوکے کی سیاست میں نہ رکھیں۔ عوامی ایکشن تحریک کا ساتھ دیں۔

عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان کا قائد رہنماء اور کارکن، گلگت بلتستان لداخ کی آزاد قانونی حیثیت کی روشنی میں پر امن عملی جدوجہد ہے۔

سیکریٹری جنرل۔
عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان

عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان کا قانونی موقف۔گلگت بلتستان میں جو آج احتجاج کے لیے عوام کو جمع کر رہے ہیں، ان رہنماؤں کو...
06/03/2024

عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان کا قانونی موقف۔
گلگت بلتستان میں جو آج احتجاج کے لیے عوام کو جمع کر رہے ہیں، ان رہنماؤں کو گلگت بلتستان کے بنیادی مسئلے کا بخوبی علم ہے کہ جی بی کا مسئلہ آزاد قانونی حیثیت کی بحالی اور غصب شدہ حقوق کی بحالی کا ہے۔ ان رہنماؤں میں اکثریت بیک ڈور املا خوریوں کی سیاست سے جوڑے ہوئے ہیں جو گلگت بلتستان کے عوام کو دھوکے ، فریب کی سیاست میں الجھائے رکھ کر مصروف رکھنا چاہتے ہیں، ان کا احتجاج، ریموٹ کنٹرول احتجاج ہے، جس نے کب ، کہاں اور کیسے رکنا ہے، یہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ ایسے حقائق کا عملی مشاہدہ اور تلخ تجربہ گلگت بلتستان کے عوام 2013 اور 2014 کے گندم سبسڈی تحریک میں کر چکے ہیں۔۔۔ عوام کو جی بی کے بنیادی قانونی مسئلے سے لاعلم رکھنا، اور جی بی کے پولیٹیکل ایجنٹ سرکار کے ترتیب دیئے گئے اور پری پلان پیدا کردہ ایشوز میں عوام کو الجھائے رکھنا ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اس لیے ہم بات بنیادی ایشو کے حل کی بات کرتے ہیں، جو کہ خفیہ سمجھوتے بازوں، املا خوروں اور مختلف ٹھیکیداروں کے لیے بلکل، بھی قابل ہضم نہیں ہے۔ گندم تحریک کا تکرار آخر کب تک چلتا رہے گا۔؟
ہمارا بنیادی مسئلہ صرف گندم کی بوری نہیں ہے۔۔ بلکہ گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن کے خلاف کالے قوانین اور جبری آرڈرز کے تحت چلایا جانے والا مافیائی نظام کا خاتمہ اور خود مختار اسمبلی کا قیام ہے۔ گلگت بلتستان کی یکم نومبر 1947 کی آزاد قانونی حیثیت پر، برطانوی ایجنٹ میجر براؤن اور پاکستانی پولیٹکل ایجنٹ سردار عالم خان اور ان کے سہولتکاروں اور آلہ کاروں نے 17 نومبر انیس سو سینتالیس سے آج تک اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی جبر ، پابندیوں اور سیاسی معاشی گھیراؤ کو بنانے اور سنوارنے کی تحریک آج بھی چلائی جا رہی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے پندرہ نکات کیوں۔۔۔۔؟ جبکہ گلگت بلتستان کا بنیادی مسئلہ آزاد قانونی حیثیت کی روشنی میں، خود مختار اسمبلی کا قیام ہے جو آج تک کالے قوانین جبری آرڈرز کے تحت اٹکا، اور لٹکا ہوا ہے ،اس بنیادی مسئلے پر All in One , One point ایجنڈا کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے۔ ؟؟
کیا عوامی ایکشن کمیٹیوں کو گلگت بلتستان کے عوام نے درجنوں مطالبات کو لیکر الجھائے رکھنے کے لیے کہا ہے، یا پھر ان رہنماؤں کو، غیر آئینی خفیہ سرکار سے املا خوریاں لینے کی وجہ سے خود مختار اسمبلی کے ون پوائنٹ ایجنڈے کی اجازت نہیں ملی ہے۔؟

عنوان: قانونی مشکلات سے پردہ اوٹھانا: گلگت بلتستان اور ریاست پاکستان تعارف:گلگت بلتستان لداخ جنوبی ایشیا کے قلب میں، کو ...
25/02/2024

عنوان:
قانونی مشکلات سے پردہ اوٹھانا:
گلگت بلتستان اور ریاست پاکستان

تعارف:
گلگت بلتستان لداخ جنوبی ایشیا کے قلب میں، کو ہمالیہ قراقرم اور کوہ ہندوکش کی شاندار چوٹیوں کے درمیان واقع ایک ایسا خطہ ہے جو قانونی ابہام اور سیاسی پیچیدگیوں میں گھرا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان لداخ جو کہ دلکش خوبصورتی اور تزویراتی اہمیت کا حامل علاقہ ہے، طویل عرصے سے سخت جانچ پڑتال کا موضوع رہا ہے۔ آج، ہم ریاست پاکستان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل دونوں سے سوال کرتے ہوئے اس قانونی، جمہوری اور انسانی سوال کا جائزہ لیتے ہیں- پاکستان نے گزشتہ 76 سالوں سے اس متنازعہ خطے پر، کس قانون اور آئین کے تحت حکومت کی ہے، کالے قوانین اور ایسے زبردستی احکامات جو بظاہر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟

تاریخی تناظر:
موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1947 میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی طرف واپس جانا ہوگا۔ جیسے ہی سرحدیں دوبارہ کھینچی گئیں اور نئی قومیں ابھریں، گلگت بلتستان نے خود کو ہمسایہ ممالک کے سیاسی عزائم قبضہ گردیوں اور علاقائی تنازعات کے سنگم پر پایا۔ ابتدائی طور پر راجگی ریاست جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان لداخ کا حصہ، آج یہ خطہ متنازعہ حالت میں ہے ، نہ تو پاکستان میں مکمل طور پر ضم ہوا اور نہ ہی ہندوستان کے براہ راست کنٹرول میں ہے۔

قانونی ابہام اور انسانی تحفظات:
گلگت بلتستان کی گورننس قانونی وضاحت کے فقدان کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جس سے یہاں کے باشندے ایک مستقل غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ جب کہ پاکستان نے خطے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے، اس نے ایسا کالے قوانین اور زبردستی احکامات کے ذریعے کیا ہے، جس سے اس کے اقدامات کی قانونی حیثیت اور اخلاقیات پر سوالات اوٹھ رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام کی طرف سے اٹھائے جانے والے بنیادی خدشات میں سے ایک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس حق کو اقوام متحدہ حق خودارادیت کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرتی ہے، جو ہر ایک کو اپنی تقدیر خود بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم گلگت بلتستان کے لوگ اپنے آپ کو قانونی دلدل اور سیاسی معاشی جبر میں پھنسے ہوئے دیکھتے ہیں، اپنی متنازع حیثیت کی وجہ سے اس انسانی حق کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

جمہوری خسارہ:
اس قانونی پیچیدگی کا ایک اور اہم پہلو ایک جمہوری نظام کی عدم موجودگی ہے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنی طرز حکمرانی میں آواز اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ کالے قوانین اور جبری احکامات کا نفاذ خطے کی جمہوری امنگوں اور انسانی آزادی کے حق کو دباتا ہے، اس کے باشندوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لینے کے مواقع سے محروم کر دیتے ہیں جو ان کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان:
ان چیلنجوں کے جواب میں عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان نچلی سطح پر ایک تحریک کے طور پر ابھری ہے جو خطے میں انسانی آزادی ، جمہوری حقوق اور قانون کی حکمرانی کی وکالت کرتی ہے۔ انصاف اور مساوات کے لیے پرجوش افراد کی قیادت میں یہ تحریک گلگت بلتستان کے لوگوں کی حالت زار اور ان کی خود ارادیت کی خواہشات کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہے۔

نتیجہ:
گلگت بلتستان کی گورننس کے ارد گرد قانونی، جمہوری اور انسانی مسئلہ عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔ خطے کا بھرپور ثقافتی ورثہ، اسٹریٹجک اہمیت اور اس کے باشندوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی۔ یہ ضروری ہے کہ ریاست پاکستان، اقوام متحدہ اور عالمی برادری اجتماعی طور پر اس دیرینہ مسئلے کو حل کریں، ایک منصفانہ اور قانونی حل کو یقینی بنائیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق اور امنگوں کا احترام کرے۔ صرف ایک شفاف اور جامع عمل کے ذریعے ہی دیرینہ قانونی الجھن اور انسانی آزادی اور خودمختاری کو حل کیا جا سکتا ہے، جو سیاسی معاشی اور جغرافیائی گھیراؤ کے شکار سرزمین اور اس کے محکوم باشندوں کے انسانی آزادی اور روشن مستقبل کی راہ ہموار کرتا ہے۔
تحریر:
نثار حسنین رمل۔

تنازعۂ گلگت بلتستان لداخ کے حل ہونے تک اقوام متحدہ سے گلگت بلتستان کے لیے عارضی شناختی card طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ...
08/02/2024

تنازعۂ گلگت بلتستان لداخ کے حل ہونے تک اقوام متحدہ سے گلگت بلتستان کے لیے عارضی شناختی card طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستانی راشن card نے گلگت بلتستان کے محکوم عوام کو گذشتہ 76 برسوں سے اپنے سیاسی معاشی جبر ، بلیک میلنگ اور جغرافیائی گھیراؤ کا شکار بنائے رکھا ہوا ہے۔
عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان۔

There is a need to request a temporary identity card for Gilgit-Baltistan from the United Nations United Nations until the Gilgit-Baltistan-Ladakh conflict is resolved. Because the Pakistani ration card has made the subjugated people of Gilgit-Baltistan a victim of its political economic oppression, blackmail and geographical encirclement for the past 76 years.

Awami Action Tehreek Gilgit-Baltistan.AAT.GB

گلگت بلتستان کے قانونی پوزیشن سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے قانونی موقف کے بعد یہ بات اب م...
26/01/2024

گلگت بلتستان کے قانونی پوزیشن سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے قانونی موقف کے بعد یہ بات اب مزید واضح ہوچکا ہے اور حافظ جنرل منیر صاحب بھی کہہ چکے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان اپنی مرضی سے اپنا آئینی قانونی صوبہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی اسلام آبادی پالٹیوں کی صوبہ بناؤ کی طوطا کہانی بھی اب ختم ہوچکی ہیں، خطے کو اب 76 برسوں سے کالے قوانین اور آرڈز پر چلایا جانا اب ریاست کے لیے بین الاقوامی طور پر مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ اب تمام گلگت بلتستان کے پارٹی بازوں کو ہوش میں آنے کی ضرورت ہے اور گلگت بلتستان کی قانونی پوزیشن کے مطابق خود آزاد قانونی پوزیشن کے حقوق خود مختار اسمبلی یہاں کے عوام کا قانونی جمہوری اور انسانی حق ہے۔
ریاست پاکستان کے پاس دو ہی قانونی آپشن ہیں
1. ریاست پاکستان جی بی کے قانونی پوزیشن کے مطابق خطہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک اقوام متحدہ کے کمیشن کے حوالے کرے۔
2. گلگت بلتستان کے لیے خود مختار اسمبلی کے قانونی جمہوری اور انسانی حق یہاں کے عوام کو فراہم کرے۔

After the legal position of the Supreme Court of Pakistan and the Foreign Office of Pakistan regarding the legal position of Gilgit-Baltistan, this has now become more clear and Hafiz General Munir Sahib has also said that Gilgit-Baltistan is not a constitutional legal province of Pakistan by its own will. can make The parrot story of Banau province of Gilgit-Baltistan's Islamabadi polities is also over now, the region being run on black laws and ordinances for 76 years can now cause problems for the state internationally. Now all the party workers of Gilgit-Baltistan need to be aware and according to the legal position of Gilgit-Baltistan, the rights of self-independent legal position, independent assembly is the legal democratic and human right of the people here.
Pakistan has only two legal options
1. According to GB's legal position, the State of Pakistan should hand over the region to the United Nations Commission until the Kashmir issue is resolved.
2. To provide the people of Gilgit-Baltistan with the legal democratic and human right of an autonomous assembly.

عوام کے ذہنوں کو گلگت بلتستان کے بنیادی ، قانونی، جمہوری اور انسانی غصب شدہ حقوق اور مسئلے سے الگ رکھ کر، گذشتہ 76 برسوں...
02/01/2024

عوام کے ذہنوں کو گلگت بلتستان کے بنیادی ، قانونی، جمہوری اور انسانی غصب شدہ حقوق اور مسئلے سے الگ رکھ کر، گذشتہ 76 برسوں سے غیر آئینی جعلی سرکار کی طرف سے گہری منصوبہ بندی سے مسلط کردہ کالے قوانین اور جبری آرڈرز کو سیاسی اور فول پروف انداز میں بنانے اور سنوارنے کی کسی بھی دھوکے باز اور بیک ڈوری تحریک، دراصل عوامی بنیادی حقوق کو غصب رکھنے کی تحریک ہے۔
اگر عوامی ایکشن کمیٹی سمیت دیگر سیاسی مذہبی اور قومی جماعتیں واقعی گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کی تحریک چلانا چاہتی ہیں تو 76 برسوں سے یہاں کے محکوم عوام پر جبری طور پر مسلط کالے قوانین اور جبری آرڈرز کے خاتمے کی تحریک کا آغاز کریں اور گلگت بلتستان کے خودمختار اسمبلی کے قانونی، جمہوری اور انسانی حق کی بحالی کے لیے عوام کے ساتھ ملکر قانونی تحریک کا آغاز کریں، ایسی تحریک میں گلگت بلتستان کے تمام تر مسائل اور غصب شدہ حقوق کا قانونی جمہوری اور انسانی حل موجود ہے۔
ریاست پاکستان نے عالمی ادارے اقوام متحدہ کے کمیشن میں 26 اپریل 1949 کو اپنا قانونی موقف تحریری طور پر جمع کر کے یہ موقف اختیار کر چکا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے، یکم نومبر 1947 کو گلگت میں قائم ہونے والی آزاد حکومت ایک مؤثر لوکل اتھارٹی حکومت ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہاں کے باشندوں اور سہولتکار رہنماؤں کو یہ جھوٹی کہانی پڑھائی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947 میں پاکستان سے الحاق کیا ہے۔ جب تک یہ جھوٹا موقف ہم بیان کرتے رہیں گے ہمارا سیاسی ،معاشی ، جغرافیائی گھیراؤ اور ہمارے ساتھ 1947 سے آج تک جاری بلیک میلنگ اور جعل سازیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، لہذا ریاست پاکستان کے موقف کی روشنی میں متنازعہ خطے کے آزاد قانونی حیثیت کے حقوق کی بحالی کیلئے قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ سیاسی منافقانہ موقف حسب سابق جاری رہا تو ہمارے انفرادی اور اجتماعی حقوق مزید غصب ہوتے رہیں گے۔

۔

10/11/2023

خفیہ سمجھوتے بازی اور املا خوریوں کی سیاست قائد ملت
جوہر علی خان ایڈووکیٹ کی "جوہری سیاست" کی بدترین توہین ہے۔GB

گلگت بلتستان میں میری قانونی جدوجہد کا ھدف یہاں کے باشندوں کو گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن کے مطابق ان کے قانونی ج...
10/11/2023

گلگت بلتستان میں میری قانونی جدوجہد کا ھدف یہاں کے باشندوں کو گلگت بلتستان کی آزاد قانونی پوزیشن کے مطابق ان کے قانونی جمہوری اور انسانی حقوق کی بحالی ہے کیونکہ 17 نومبر 1947 سے آج تک کالے قوانین اور جبری آرڈرز کو گلگت بلتستان کے محکوم عوام پر مسلط رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مگر بزدل موقع پرست سیاسی مذہبی اور قومی سہولتکار دلال عناصر جن کی وجہ سے گذشتہ کئی برسوں سے شدید ترین سیاسی اور معاشی گھیراؤ کا شکار ہوں ان عناصر کی کوشش ہے کہ میں گلگت بلتستان کی قانونی پوزیشن پر کوئی بات نہ کروں اور غاصبان حقوق کے ساتھ کوئی Back door خفیہ سمجھوتے بازی کر کے اپنا سیاسی اور معاشی گھیراؤ ختم کروں اور عوام کو وطن دوستی حق پرستی کے نام پر ان کی طرح "چ"بنانے کی سیاست کروں۔

کیا ہماری جمہوری قانونی اور انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد "نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو."
کے حدیث مبارک کے معیار پر پوری نہیں اترتی ہے۔؟
انسانی حقوق کے حصول میں تعاون کے بجائے غاصبوں کی سہولتکاری اور دلالی کیوں۔۔۔؟
بزدل، موقع پرست، خفیہ سمجھوتے باز اور منافق طبقات ہمیشہ سے اپنی ذات نسل ، گروہ یا فرقے بات کرتے ہیں، ہم جی بی کی آزاد قانونی پوزیشن کے مطابق پورے گلگت بلتستان کے عوام کے غصب شدہ بنیادی قانونی جمہوری اور انسانی حقوق کی بحالی بات کرتے ہیں۔

ھم نے اخلاص کے شیشے میں لہو پیش کیا،
پھر بھی جو لوگ منافق تھے منافق ہی رہے،

اس پر آپ احباب کی کیا رائے ہوگی۔؟؟

نثار حسنین رمل

گلگت بلتستان کے متنازعہ خطے کے باشندوں کے سیاسی معاشی ، جغرافیائی اور انسانی حقوق کو غصب رکھنے کے لیے یہاں کے عوام کو  پ...
15/10/2023

گلگت بلتستان کے متنازعہ خطے کے باشندوں کے سیاسی معاشی ، جغرافیائی اور انسانی حقوق کو غصب رکھنے کے لیے یہاں کے عوام کو پچھلے 40 برسوں سے قوم پرستی اور 76 برسوں فرقہ پرستی کے نام پر سنی، شیعہ اسماعیلی مسلکی تعصبات کے علاوہ غدار غدار اور ایجنٹ ایجنٹ کے سازشی تقسیم میں الجھائے رکھا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان کے باشندوں کا اپنے غصب شدہ بنیادی قانونی ،جمہوری اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھانا قوم پرستی یا فرقہ پرستی ہرگز نہیں ہے۔ یہ انسانی حق اور حق پرستی ہے۔
گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے سکردو شہر میں تحریک کے ریجنل دفتر کو بلتستان انتظامیہ کی طرف سے سیل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے پر GBUM کے رہنماء شبیر مایار کی گرفتاری سیاسی جبر دہشت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
گلگت بلتستان کے متنازعہ خطے میں سرگرم انسانی حقوق کے ادارے بلخصوص ایشین ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے ملٹری مبصرین گروپ کے ذمہ داران لائن آف کنٹرول پر سیز فائر نگرانی کے ساتھ ساتھ خطے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری سیاسی اور معاشی گھیراؤ کے خلاف اقوام متحدہ کے مرکز کو رپورٹ کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔
عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان ۔

Despite gaining independence from the Dogra Raj on November 1, 1947, forcing the residents of Gilgit-Baltistan to contin...
03/10/2023

Despite gaining independence from the Dogra Raj on November 1, 1947, forcing the residents of Gilgit-Baltistan to continue receiving black laws and coercive orders till date is an insult to human freedom and sovereignty and the worst violation of human rights.
Pakistan should not consider Gilgit-Baltistan as Occupied Kashmir. The independent legal position of November 1, 1947, which is recognized by Pakistan in the United Nations . Therefore, Pakistan should take immediate steps to restore the rights of this independent legal status in Gilgit-Baltistan.GB

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami Action Tehreek عوامی عمل تحریک گلگت بلتستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share