My Ishkoman

My Ishkoman My Ishkoman (www.ishkomanparadisegilgit.com) an online encyclopedia of Gilgit Baltistan’s culture, traditions and history many people visit the site

۔۔۔۔۔۔۔ خلیفۂ خدمت کی رحلت — ایک عہد کا اختتام۔۔۔۔۔۔۔از : انمول الکریمی الحسینی ( دارلحزن کراچی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
10/02/2026

۔۔۔۔۔۔۔ خلیفۂ خدمت کی رحلت — ایک عہد کا اختتام۔۔۔۔۔۔۔

از : انمول الکریمی الحسینی
( دارلحزن کراچی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یارو نہ فراموش کرو آیہ ء خدمت
کونین میں ملتا ہے سدا میوہ ء خدمت
خدمت جو عبادت ہے تو تب قبلہ بھی ہو گا
مولائے زمانہ ہے میرا قبلہ ء خدمت
سردار جو دانا ہے وہ قوم کا خادم ہے
ہر شخص نہیں جانتا یہ مرتبہ ء خدمت
۔۔۔
بعض شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ عہد، روایت اور روحانی تسلسل کی علامت بن جاتی ہیں۔ جب ایسی ہستیاں اس دارِ فانی سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک انسان نہیں جاتا بلکہ ایک پورا دور، ایک روشنی کا مینار اور ایک روحانی سہارا رخصت ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ شہنشاہِ خدمت، خلیفہ محمد سلیم المعروف مچی خلیفہ کی رحلت بھی اسی نوعیت کا سانحہ ہے جس نے نہ صرف ایک خاندان یا ایک بستی بلکہ پوری جماعت کے دلوں کو سوگوار کر دیا ہے۔
اسماعیلی فلسفہ میں خدمت، علم اور روحانی رہنمائی کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ امامِ وقت کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ مومن اپنی زندگی کو خدمتِ خلق، علم کے فروغ اور اخلاقی بلندی کے لئے وقف کرے۔ خلیفہ کا منصب اسی روحانی اور سماجی ذمہ داری کا تسلسل ہوتا ہے۔ خلیفہ جماعت اور روحانی نظام کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو لوگوں کی دعاؤں، امیدوں اور عملی ضروریات کو ایک مقدس ذمہ داری سمجھ کر پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مرحوم مچی خلیفہ نے اپنی پوری زندگی اسی فلسفے کی عملی تصویر بن کر گزاری۔ دن ہو یا رات، سردی ہو یا گرمی، ہر موقع پر وہ جماعت کی رہنمائی، مدد اور دلجوئی کے لیے موجود رہتے۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، حلیمی اور خلوص اس قدر رچا بسا تھا کہ لوگ انہیں محض ایک مذہبی عہدیدار نہیں بلکہ روحانی سرپرست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ہر اہم موڑ پر، خوشی کے آغاز سے لے کر غم کے آخری لمحے تک، ان کی دعا اور موجودگی لوگوں کے لیے باعثِ سکون بنتی رہی۔
اسماعیلی روایت میں علم کو نور سمجھا جاتا ہے، اور جو شخص علم کی شمع روشن رکھے وہ معاشرے کا حقیقی محسن ہوتا ہے۔ مچی خلیفہ علم دوستی اور علم پروری کے اس وصف کے حامل تھے۔ ان کے حلقے میں بیٹھنے والے افراد نہ صرف مذہبی بلکہ اخلاقی اور سماجی بصیرت بھی حاصل کرتے تھے۔ ان کی رحلت گویا متلاشیانِ علم کے لیے ایک ایسا خلا چھوڑ گئی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔
خلیفہ کا منصب محض رسمی نہیں بلکہ روحانی اعتماد کا نشان ہوتا ہے۔ مومنین اپنی نذر اور خیرات کو خلیفہ کے توسط سے پیش کر کے اپنے رزق کی پاکیزگی اور برکت کی امید رکھتے ہیں۔ یہ اعتماد نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، اور مچی خلیفہ نے تین نسلوں کو اپنی دعا، شفقت اور روحانی سرپرستی سے نوازا۔ اسی لیے ان کی رحلت کو لوگ اپنے خاندان کے بزرگ کے بچھڑنے کے مترادف محسوس کر رہے ہیں۔
اسماعیلی فکر کے مطابق موت اختتام نہیں بلکہ ایک سفر سے دوسرے سفر کی طرف انتقال ہے۔ ایک مومن کی نیک خدمات، اس کی دعائیں اور اس کے اخلاقی اثرات دنیا میں باقی رہتے ہیں۔ مچی خلیفہ بھی اپنی خدمات، تربیت یافتہ دلوں اور دی گئی دعاؤں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے خدمت، عاجزی اور روحانی وابستگی کا نمونہ بنا رہے گا۔
یقیناً ایک عہد تمام ہوا، مگر ان کی روشن یادیں، ان کی دعائیں اور ان کی دی ہوئی تربیت جماعت کے اجتماعی شعور میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ایسے بزرگوں کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت خدمت، محبت اور انسانیت کی بھلائی میں ہے۔
پروردگار مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

در شانِ امام زمان بروزِ عیدِ سالگرہجہاں کے دل پہ ترا نُورِ لا زوال آیافضا میں رنگِ تجلی کا اک کمال آیاتُو مہرِ صبحِ ہدای...
11/10/2025

در شانِ امام زمان بروزِ عیدِ سالگرہ

جہاں کے دل پہ ترا نُورِ لا زوال آیا
فضا میں رنگِ تجلی کا اک کمال آیا

تُو مہرِ صبحِ ہدایت، تُو مِہرِ جانِ جہاں
کہ تیرے بعد نہ کوئی دِلِ مثال آیا

وجودِ خاک میں پیدا ہوا وہ نُورِ قدیم
کہ جس کی جلوہ گری سے نیا خیال آیا

خموشیاں بھی تری مدح میں زباں بنی
کہ حرفِ عشق پہ بھی لطفِ بے مثال آیا

تُو آئینہ ہے تجلیِ ء ذاتِ کردگار
تری نظر سے ہی ہر دِل کو اتّصال آیا

عطا کے باب کھلے، فضل کے سمندر بہے
جہاں بھی تُو گیا، فیضِ لا زوال آیا

خدا کرے کہ ترے ذکر سے رہے معمور
یہ خاکداں کہ جہاں میں ترا جمال آیا

ترے وجود سے ہے وقت کو بقا حاصل
ترے سکوت سے بھی حرف میں کمال آیا

یہ جشن عیدِ ولادت یہ نُورِ حق کا ظہور
کہ عرش تک بھی ترے نام کا خیال آیا

جو قلب و لوح پہ انمول کا طلوع ہوا
تو ہر سخن میں نیا ذوقِ لا زوال آیا

انمول الکریمی الحسینی

Proud Son of Ishkoman Ishkoman Times Ishkoman Valley Ishkoman Valley Ishkoman Wakhi Welfare Organization
21/09/2025

Proud Son of Ishkoman
Ishkoman Times
Ishkoman Valley
Ishkoman Valley
Ishkoman Wakhi Welfare Organization

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when My Ishkoman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share