Education Fellows GB

Directions

Education Fellows GB Education Fellows GB

میں گلگت بلتستان ہوں میرا تعلق دنیا کے حسین ترین سر زمین گلگت بلتستان سے ہے جو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے گلگت بلتستان پاکستان کے شمال مین واقع ہے گلگت بلتستان ہی کی وجہ سے پاکستان دنیا کے خوبصورت علاقوں میں شامل ہے گلگت بلتستان بنیادی حقوق سے محروم علاقہ ہے جہاں پہ لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ۔ہماری خواہش ہے کہ یہاں کے لوگوں کو بنیادی حقوق دئیے جاے تاکہ وہ خوشگوار زندگی گزار سکیں

18/09/2026

ایجوکیشن فیلوز گلگت بلتستان کا مطالبہ

یکم اگست سے تنخواہ دیا جائے

ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایجوکیشن سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ہمیں ہمارا جائز حق دیا جائے۔

منجانب: ایجوکیشن فیلوز ، گلگت بلتستان
‏Amjad Hussain Advocate
‏Hafiz Hafeez Ur RehmanSkardu TVPAMIR TIMES

Congratulations to all education fellow gilgit baltistan
15/09/2026

Congratulations to all education fellow gilgit baltistan

12/09/2026

ایجوکیشن فیلوز کا معاملہ، رانا محمد فاروق کا اسمبلی میں پھر سوال ؟

گلگت بلتستان کے 1254 ایجوکیشن فیلوز کی ایکسٹینشن کا نوٹیفکیشن دو ماہ گزرنے کے باوجود جاری نہ ہو سکا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن رانا محمد فاروق نے 1254 ایجوکیشن فیلوز کے ایکسٹینشن معاملے پر ایک بار پھر اسمبلی میں سوال اٹھا دیا۔

صوبائی کابینہ کی جانب سے تقریباً دو ماہ قبل ایجوکیشن فیلوز کو ایک سال کی ایکسٹینشن دینے اور مستقبل میں مستقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی، تاہم تاحال PDCN اور AKDN کی جانب سے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث معاملہ زیرِ التوا ہے۔

ایجوکیشن فیلوز کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے جہاں اساتذہ میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی پائی جا رہی ہے، وہیں سکولوں میں بچوں کی پڑھائی، سلیبس اور نئے تعلیمی سال کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔

رانا محمد فاروق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو فوری طور پر حل کرکے ایجوکیشن فیلوز کی ایکسٹینشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، تاکہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
Rana Farooq

10/09/2026

1254 ایجوکیشن فیلوز کا مستقبل اندھیرے میں!

1254 ایجوکیشن فیلوز گزشتہ تین ماہ سے ایکسٹینشن کے نام پر غیر یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ محکمہ تعلیم اور AKDN/PDCN کے درمیان مبینہ طور پر ایجوکیشن فیلوز کی تین ماہ کی تنخواہوں کے معاملے پر رسہ کشی جاری ہے، جبکہ اس صورتحال کا براہِ راست اثر اساتذہ اور طلبہ دونوں پر پڑ رہا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ تعلیمی سال تیزی سے گزر رہا ہے، نومبر میں بچوں کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں، لیکن تاحال سلیبس مکمل نہیں ہو سکا۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پورے تعلیمی نظام کو متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔

ایجوکیشن فیلوز کو واضح اور تحریری طور پر بتایا جائے کہ:

- ایکسٹینشن کا حتمی فیصلہ کب ہوگا؟
- گزشتہ تین ماہ کی تنخواہیں کب ادا کی جائیں گی؟
- ایجوکیشن فیلوز کے مستقبل کے بارے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کا واضح لائحۂ عمل کیا ہے؟

1254 نوجوانوں کے مستقبل اور ہزاروں طلبہ کی تعلیم کو مزید غیر یقینی کا شکار نہ بنایا جائے۔

محکمہ تعلیم اور AKDN سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا مستقل اور شفاف حل نکالا جائے۔

تعلیم کے نام پر خاموشی نہیں، جواب چاہیے!

03/09/2026

📢 ایجوکیشن فیلوز کے ساتھ یہ غیر یقینی اور ذہنی دباؤ آخر کب تک؟

ایجوکیشن فیلوز اس وقت شدید ذہنی پریشانی اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ PDCN کے ملازم ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض افسران کی جانب سے ڈیوٹی کے حوالے سے دباؤ اور تنخواہ میں کٹوتی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس کی بات سنیں؟

ہمارا کنٹریکٹ ختم ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال PDCN کی جانب سے کوئی واضح اور باضابطہ لیٹر جاری نہیں کیا گیا۔ ہم بے روزگار ہیں، گھروں کے اخراجات اور بچوں کی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہم کہاں جائیں اور کس ادارے سے اپنا مسئلہ حل کروائیں؟

ہم متعلقہ حکام سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ خدارا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

اگر ایجوکیشن فیلوز سے ڈیوٹی لینی ہے تو PDCN کی جانب سے واضح اور تحریری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ہر EF کو معلوم ہو کہ اس کی قانونی اور ادارہ جاتی حیثیت کیا ہے۔

اور اگر ایجوکیشن فیلوز کو محکمہ تعلیم کے تحت کام کرنا ہے تو انہیں براہِ راست محکمہ تعلیم کے انتظامی دائرے میں لانے کے حوالے سے واضح فیصلہ کیا جائے۔

زبانی احکامات، دباؤ اور دھمکیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پہلے ہی ایجوکیشن فیلوز کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ہم نہیں چاہتے کہ مسلسل پریشانی اور دل آزاری کی وجہ سے کسی EF کے ساتھ خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔ اس لیے متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ فوری طور پر مداخلت کریں، PDCN سے واضح لیٹر جاری کروائیں اور ایجوکیشن فیلوز کے مستقبل کے بارے میں دوٹوک فیصلہ کریں۔

🙏 خدارا! ایجوکیشن فیلوز کی آواز سنیں اور اس مسئلے کو مزید طول نہ دیں۔

30/08/2026

*ایجوکیشن فیلوز اساتذہ کی حکومتِ گلگت بلتستان سے چند گزارشات و سوالات*

ایجوکیشن فیلوز وہ اساتذہ ہیں جو اسکولوں میں سب سے زیادہ محنت سے پڑھا رہے ہیں۔ تمام سائنسی مضامین بھی ایجوکیشن فیلوز ہی پڑھا رہے ہیں۔ لیکن بدلے میں حکومت ان اساتذہ کو مراعات دینے کے بجائے ہر سال ایک ماہ، بیس دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے کی تنخواہ سے محروم رکھتی ہے۔

پچھلے سال بھی ایجوکیشن فیلوز یکم اگست سے ڈیوٹی دے رہے تھے، لیکن انہیں تنخواہ 20 اگست سے دی گئی۔ اس سال بھی بہت سے ایجوکیشن فیلوز 11 اگست سے ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں، لیکن انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان دنوں کی تنخواہ ملے گی بھی یا نہیں۔

حکومت سے ہمارا سوال ہے:
کیا ایجوکیشن فیلوز اور ان کے اہلِ خانہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں کھانا نہیں کھاتے؟
کیا ان مہینوں میں ان کے بچوں کی فیس معاف ہو جاتی ہے؟
کیا ان مہینوں میں ان کے گھر کا بجلی اور گیس کا بل نہیں آتا؟

اگر نہیں، تو پھر یہ ناانصافی کیوں؟
سب سے زیادہ طلبہ کے پسندیدہ اساتذہ کے ساتھ یہ سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟

کیا اس لیے کہ ان اساتذہ نے کلاس روم کو حقیقی معنوں میں سیکھنے کا ذریعہ بنایا؟
کیا اس لیے کہ ان اساتذہ نے طلبہ کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم دی؟
کیا اس لیے کہ ان اساتذہ نے نہ صرف طلبہ بلکہ کمیونٹی کے دل میں بھی اپنا مقام بنایا؟
کیا اس لیے کہ ان اساتذہ کی آمد کے بعد بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس اور میتھمیٹکس جیسے مشکل سائنسی مضامین میں 98 فیصد نتیجہ آیا؟

آخر میں حکومتِ گلگت بلتستان سے گزارش ہے:

کہ ان اساتذہ کے ساتھ یہ ناانصافی بند کی جائے اور انہیں ان کا جائز حق دیا جائے۔
یا پھر اس پروجیکٹ کو ختم کر کے دو ماہ کے اندر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جتنی بھی آسامیاں خالی ہیں انہیں مشتہر کر دیا جائے۔
منجانب:

ایجوکیشن فیلوز گلگت بلتستان.
Amjad Hussain Advocate

25/08/2026

ایجوکیشن فیلوز اساتذہ کے ساتھ یہ کیسا نظام ہے؟

گلگت بلتستان کے تعلیمی نظام کے ذمہ داران سے ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر حکومت نے نوجوانوں کو EFs کے طور پر تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں سونپی تھیں، تو پھر ان کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیوں پیدا کی جا رہی ہے؟

یہ صرف ایک کنٹریکٹ کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک استاد کی عزتِ نفس، اس کے مستقبل اور طلبہ کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ ایک استاد پوری محنت سے بچوں کو پڑھائے، پھر اچانک اس کا نام پیریڈز اور لیکچر شیڈول سے نکال دیا جائے اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کی ملازمت جاری رہے گی یا نہیں,یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔

حکومت کو سوچنا چاہیے کہ بچے اپنے استاد کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ ایک طرف نوجوانوں کو روزگار کا سہارا دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف انہیں ایسی عارضی ملازمت دی جاتی ہے جس میں مستقبل کی کوئی واضح ضمانت نہیں۔

اگر حکومت کو واقعی نوجوانوں اور تعلیم کی فکر ہے تو EFs اساتذہ کے لیے واضح، باعزت اور شفاف پالیسی بنائی جائے۔ کارکردگی اچھی ہے تو کنٹریکٹ میں توسیع کی جائے، اور اگر مستقل ملازمت ممکن نہیں تو کم از کم آئندہ کا واضح راستہ اور میرٹ پر بھرتی کا باقاعدہ معیار دیا جائے۔

نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ تجربات اور کھلواڑ بند ہونا چاہیے۔
اساتذہ کو عزت، تحفظ اور واضح مستقبل دیا جائے۔

وزیرِ اعلیٰ،وزیر تعلیم اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور EFs اساتذہ کے کنٹریکٹس اور مستقبل کے حوالے سے واضح پالیسی کااعلان کیا جائے۔

17/08/2026
11/08/2026

ایجوکیشن فیلوز کی تعیناتی: گلگت بلتستان میں تعلیمی انقلاب:

گلگت بلتستان میں ایجوکیشن فیلوز کی تعیناتی کے بعد نظامِ تعلیم میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ خصوصاً گلگت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں عرصے سے موجود سبجیکٹ اسپیشلسٹ کا خلا اب پورا ہو چکا ہے۔

اس پروجیکٹ کے تحت فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی کمپیوٹر سائنس اور انگلش جیسے اہم مضامین میں مہارت رکھنے والے انتہائی قابل اور قابلِ فخر اساتذہ کو شامل کیا گیا ہے۔ قریباً 1000 فیلو ٹیچرز PhD,M.phil اور MSc ڈگری رکھتے ہیں ۔ان فیلو ٹیچرز کی محنت اور لگن کی بدولت سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔

فیلو ٹیچرز نے طلباء کو نہ صرف جدید سائنسی اور تعلیمی بنیادوں پر استوار کیا ہے بلکہ انہیں اخلاق، کردار اور ایک بہتر انسان بننے کا سبق بھی دیا ہے۔ آج اس کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ نہ صرف طلباء بلکہ والدین بھی فیلو ٹیچرز کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن اور خوش ہیں۔

یہ پروجیکٹ واقعی گلگت بلتستان کے لیے "تعلیمی انقلاب" ہے

Performance of Education Fellows in SSC-I & SSC-II Final Examinations  Education Department, Gilgit-BaltistanSubjects Ta...
11/08/2026

Performance of Education Fellows in SSC-I & SSC-II Final Examinations
Education Department, Gilgit-Baltistan

Subjects Taught by Education Fellows in Government Schools Throughout Gilgit-Baltistan.
Amjad Hussain Advocate

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Education Fellows GB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share