Education Fellows GB

Education Fellows GB Education Fellows GB

میں گلگت بلتستان ہوں میرا تعلق دنیا کے حسین ترین سر زمین گلگت بلتستان سے ہے جو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے گلگت بلتستان پاکستان کے شمال مین واقع ہے گلگت بلتستان ہی کی وجہ سے پاکستان دنیا کے خوبصورت علاقوں میں شامل ہے گلگت بلتستان بنیادی حقوق سے محروم علاقہ ہے جہاں پہ لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ۔ہماری خواہش ہے کہ یہاں کے لوگوں کو بنیادی حقوق دئیے جاے تاکہ وہ خوشگوار زندگی گزار سکیں

The winter camp session at Boys Degree College, Astore, is being managed successfully. The program is running smoothly w...
09/02/2026

The winter camp session at Boys Degree College, Astore, is being managed successfully. The program is running smoothly with active participation from students and dedicated efforts by the staff. The organized activities and disciplined environment have made the winter camp productive and effective.

🌱
28/01/2026

🌱

14/01/2026

To
The Chief Minister
Government of Gilgit-Baltistan

Subject: Urgent Request for Resolution of Issues Concerning Education Fellows – Salary Increase, Service Extension, Budget Placement, and Permanent Status

Respected Sir,

With due respect, it is humbly submitted that the Education Fellows of Gilgit-Baltistan wish to draw your kind attention towards several critical issues affecting our job responsibilities, financial stability, and service continuity. We request your immediate intervention to address the following concerns:

1. *Unjust salary deductions & delayed payments*: Education Fellows were re-engaged from 1st August, but salaries were issued from 20th August, resulting in an illegal deduction of 20 days’ salary without justification. Moreover, a recent PDCN notification states that November–December salaries cannot be paid on time due to lack of funds, causing severe financial distress for fellows and their families.

2. *Unequal assignment of duties*: The department has been assigning Education Fellows exclusively to winter camps while regular, highly paid government teachers are on vacation with compensation. This selective treatment is inequitable and demotivating.

3. *Requests for improvement*: In addition to resolving the above grievances, the Education Fellows respectfully request your honour to consider the following measures for the betterment of the program and its participants:
- *Increase the salary* of Education Fellows to reflect their responsibilities and dedication.
- *Extend the service tenure* of Education Fellows in a timely manner to ensure continuity in educational programs.
- *Place Education Fellows in the regular budget* so that salary payments are secured and timely.
- *Grant permanent status* to Education Fellows to safeguard their job security and future benefits.

4. *Impact on service*: Education Fellows have been contributing positively to the education sector of Gilgit-Baltistan, as acknowledged in AKU/PDCN annual reports. However, ongoing administrative and financial challenges have created an atmosphere of uncertainty, leading to demoralization and potential resignations.

In light of the above, we humbly request your honour to kindly intervene and take prompt action to resolve these concerns at the earliest, ensuring fair treatment, financial stability, and job security for Education Fellows.

Thanking you in anticipation.

Yours faithfully,

Education Fellows
Gilgit-Baltistan

EFs met Ex CM Gilgit-Baltistan Hafiz Hafeez Ur Rehman to discuss education fellows' issues, including salary increment, ...
13/01/2026

EFs met Ex CM Gilgit-Baltistan Hafiz Hafeez Ur Rehman to discuss education fellows' issues, including salary increment, age waiver, and permanent positions. He assured support and appreciated the fellows' work in schools. Thanks to Hafeez Sahib. Attendees included Ishaq (Thore), Sadam Alimo (Hundur), and Ishaq Bhai (Thak Nait) from District Diamer.

12/01/2026

گلگت بلتستان کا تعلیمی خلا اور ایجوکیشن فیلو پروگرام کی ناگزیر حیثیت

تحریر ۔عینی عنایت

گلگت بلتستان قدرتی وسائل اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال خطہ ہے، مگر تعلیمی میدان میں یہ خطہ آج بھی شدید محرومی کا شکار ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی سہولیات کا فرق اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ دیہی گلگت بلتستان میں تعلیم ایک بنیادی حق کے بجائے مسلسل جدوجہد بن چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ہوں یا زمینی حقائق، دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہزاروں بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔
شہری مراکز میں اگرچہ سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کسی حد تک فعال نظر آتے ہیں، تاہم دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ کئی سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں عمارت موجود ہے مگر استاد نہیں، اور جہاں استاد ہے وہاں سہولیات ناپید ہیں۔ نتیجتاً والدین تعلیم پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں اور بچے کم عمری میں ہی تعلیمی نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔
اساتذہ کی کمی: تعلیمی بحران کی جڑ
گلگت بلتستان میں تعلیمی بحران کی بنیادی وجہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ بروقت بھرتیوں کا فقدان، غیر مؤثر ٹرانسفر پالیسی، سیاسی مداخلت اور دور دراز علاقوں میں تعیناتی سے گریز نے اس مسئلے کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ متعدد اسکول ایک یا دو اساتذہ کے سہارے چل رہے ہیں، جہاں ایک استاد بیک وقت کئی جماعتوں کو پڑھانے پر مجبور ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف تدریسی معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور سیکھنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ ایسے حالات میں شرحِ خواندگی میں اضافے کی امید محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔
دیہی علاقوں میں سہولیات کی ناپیدگی
اساتذہ کی کمی کے ساتھ ساتھ دیہی گلگت بلتستان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ بیشتر اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، فرنیچر، صاف پانی، بیت الخلا اور بجلی جیسی سہولیات موجود نہیں۔ سخت موسمی حالات، طویل فاصلے اور بند راستے بچوں کے لیے اسکول تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
خصوصاً بچیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہے۔ خواتین اساتذہ کی کمی اور سماجی خدشات کے باعث ہزاروں بچیاں ابتدائی تعلیم کے بعد اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جو ایک اجتماعی ناکامی کے مترادف ہے۔
ایجوکیشن فیلو پروگرام: ایک عملی اور مؤثر قدم
ایسے حالات میں ایجوکیشن فیلو پروگرام گلگت بلتستان کے تعلیمی نظام کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل حل بن کر سامنے آیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ریاستی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا اور تدریسی معیار کو بہتر بنانا تھا۔ اس کے تحت نوجوان، تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد کو خاص طور پر دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں تعینات کیا گیا۔
ایجوکیشن فیلوز کی تعیناتی سے نہ صرف سینکڑوں اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں بحال ہوئیں بلکہ کئی ایسے اسکول دوبارہ فعال ہوئے جو برسوں سے غیر مؤثر پڑے تھے۔ فیلوز نے تدریس کے ساتھ ساتھ بچوں میں اعتماد، نظم و ضبط اور سیکھنے کا شوق بھی پیدا کیا۔
تدریسی معیار میں نمایاں بہتری
ایجوکیشن فیلو پروگرام کی ایک نمایاں خوبی اساتذہ کی باقاعدہ تربیت تھی۔ جدید تدریسی طریقوں، سرگرمیوں پر مبنی تعلیم اور طلبہ کی نفسیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی تربیت کے باعث کلاس روم کا ماحول یکسر تبدیل ہوا۔ طلبہ کی حاضری میں اضافہ ہوا، والدین کا اعتماد بحال ہوا اور تعلیمی نتائج میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی۔
دیہی علاقوں کے بچوں کے لیے یہ تجربہ ایک مثبت تبدیلی ثابت ہوا، جہاں رٹے کے بجائے سمجھ بوجھ پر مبنی تعلیم کو فروغ ملا۔
انتظامی عدم تسلسل: ایک افسوسناک حقیقت
تمام تر مثبت نتائج کے باوجود ایجوکیشن فیلو پروگرام کو انتظامی عدم تسلسل کا سامنا رہا۔ تنخواہوں میں تاخیر، کنٹریکٹ کی غیر یقینی صورتحال اور پالیسی سطح پر عدم دلچسپی نے فیلوز کے حوصلے کو متاثر کیا۔ ایک ایسا پروگرام جو مستقل بنیادوں پر تعلیمی نظام کو سہارا دے سکتا تھا، اسے وقتی منصوبہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا۔
ایجوکیشن فیلو پروگرام کی ناگزیر اہمیت
گلگت بلتستان جیسے جغرافیائی اور انتظامی چیلنجز سے بھرپور خطے میں تعلیمی مسائل کا حل روایتی طرزِ حکمرانی سے ممکن نہیں۔ ایجوکیشن فیلو پروگرام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ درست منصوبہ بندی اور شفاف عملدرآمد کے ذریعے قلیل مدت میں بھی اساتذہ کی کمی جیسے سنگین مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ پروگرام محض ایک عارضی بندوبست نہیں بلکہ دیہی گلگت بلتستان کے بچوں کے لیے امید کی علامت ہے۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو ترجیح دینا چاہتی ہے تو ایجوکیشن فیلو پروگرام کو بند کرنے کے بجائے اسے مستقل، مضبوط اور وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تعلیمی ادارے عمارتوں سے نہیں بلکہ اساتذہ سے زندہ رہتے ہیں — اور گلگت بلتستان کا مستقبل اسی حقیقت سے جڑا ہوا ہے۔

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Education Fellows GB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share