25/08/2026
ایجوکیشن فیلوز اساتذہ کے ساتھ یہ کیسا نظام ہے؟
گلگت بلتستان کے تعلیمی نظام کے ذمہ داران سے ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر حکومت نے نوجوانوں کو EFs کے طور پر تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں سونپی تھیں، تو پھر ان کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیوں پیدا کی جا رہی ہے؟
یہ صرف ایک کنٹریکٹ کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک استاد کی عزتِ نفس، اس کے مستقبل اور طلبہ کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ ایک استاد پوری محنت سے بچوں کو پڑھائے، پھر اچانک اس کا نام پیریڈز اور لیکچر شیڈول سے نکال دیا جائے اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کی ملازمت جاری رہے گی یا نہیں,یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔
حکومت کو سوچنا چاہیے کہ بچے اپنے استاد کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ ایک طرف نوجوانوں کو روزگار کا سہارا دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف انہیں ایسی عارضی ملازمت دی جاتی ہے جس میں مستقبل کی کوئی واضح ضمانت نہیں۔
اگر حکومت کو واقعی نوجوانوں اور تعلیم کی فکر ہے تو EFs اساتذہ کے لیے واضح، باعزت اور شفاف پالیسی بنائی جائے۔ کارکردگی اچھی ہے تو کنٹریکٹ میں توسیع کی جائے، اور اگر مستقل ملازمت ممکن نہیں تو کم از کم آئندہ کا واضح راستہ اور میرٹ پر بھرتی کا باقاعدہ معیار دیا جائے۔
نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ تجربات اور کھلواڑ بند ہونا چاہیے۔
اساتذہ کو عزت، تحفظ اور واضح مستقبل دیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ،وزیر تعلیم اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور EFs اساتذہ کے کنٹریکٹس اور مستقبل کے حوالے سے واضح پالیسی کااعلان کیا جائے۔