Qirtaas

Qirtaas is non-profit organization for Urdu language, literature and culture.

Qirtaas is a non profitable organization for Urdu literature, language and culture.

28/05/2026

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

بشیر بدر انتقال کر گئے

يَا خَدِيجَةُ، مَنْ يُصَدِّقُنِي؟اے خدیجہ! میرا کون یقین کرے گا ؟🥺(اللہ اکبر)صل اللہ علیہ وسلم!!!
23/05/2026

يَا خَدِيجَةُ، مَنْ يُصَدِّقُنِي؟
اے خدیجہ! میرا کون یقین کرے گا ؟🥺
(اللہ اکبر)

صل اللہ علیہ وسلم!!!

پیاری بیٹی، تمہارا باپ فقیر ہے، اتنا فقیر کہ اگر تم اور تمہاری ماں اس کے ساتھ نہ ہوں تو وہ کسی ایک تکیے پہ بیٹھا بیٹھا ز...
21/05/2026

پیاری بیٹی، تمہارا باپ فقیر ہے، اتنا فقیر کہ اگر تم اور تمہاری ماں اس کے ساتھ نہ ہوں تو وہ کسی ایک تکیے پہ بیٹھا بیٹھا زندگی پوری کر دے۔

اس کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں ہے، روزی کمانا، اتنی کہ جس سے گھر چل جائے، اس میں رہنے والے خوش رہیں، بس، اس کے علاوہ اس نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔ غلطی سے ہوئی بھی تو اوقات اپنی جان کے ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیا۔

اس کی ساری زندگی سکون کی تلاش میں گزری ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر پیٹ بھرنے جتنی روٹی مل جائے تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ بڑے ہوٹلوں کی طرف دیکھنے والی آنکھ کبھی نہیں بھر سکتی، اونچا دیکھنے والی گردن تھک جاتی ہے اور لاحاصل کے پیچھے دوڑنا ٹریڈ مل پہ بھاگنے سے زیادہ برا ہے، گناہ بے لذت!

اسے کوئی خاص روحانی تجربے کبھی نہیں ہوئے لیکن اس نے سیکھا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں، کیونکہ اس کی زندگی میں جو کچھ ہوا وہ ہمیشہ آٹومیٹک طریقے سے ہوا۔

پیدا ہونے کے بعد اس کی پہلی یادداشت باتھ روم میں رکھے گہرے نیلے رنگ کی بڑی پانی والی ڈرم نما ٹینکی ہے، سوکھے دودھ کی پڑیا جو اللہ بخش چونی کی بنا کے دیتا تھا اور لکڑی کا دو کواڑ والا دروازہ ہے گھر کے باہر، جہاں عرفان کھڑا ہے، اسے سکول لے جانے کے لیے۔ عرفان اس کا دوست تھا، وہ اپنے گھر سے سکول جاتے وقت اسے بھی لے جاتا تھا۔

تمہارے باپ کو نہیں یاد کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے کوئی کام کیا ہو، پرفیکشنسٹ تو کیا وہ سرے سے کام والا انسان ہی نہیں تھا۔ سکول عذاب لگتا تھا اور پڑھائی پھندا، خدا ہی نے اس آزمائش سے باہر نکالا، اس کے ماں باپ نے بھی سکون کا سانس لیا ہو گا۔

نوکریوں میں بھی یہی ہوا، ٹیوشنیں پڑھائیں، انشورنس بیچی، چھوٹے موٹے کاروباروں کی کوشش کی، ایک لوکل سے ہوٹل میں ریسپشنسٹ کا انٹرویو دینے گیا تو فارماسیوٹیکل کی نوکری مل گئی، اس نوکری پہ گیا تو انہوں نے کہا ہم ایک دن پہلے کسی اور کو بھی اسی پوسٹ پہ رکھ چکے ہیں، وہ زیادہ پڑھا لکھا ہے۔ ادھر سے کان لپیٹ کے نکلا تو قسمت نے دوسرا وسیلہ بنا دیا۔

دس سال وہیں کام کرتا رہا، اسی دوران اس کے یہاں تم بھی آ گئی۔ دس سال بعد اس سے بہتر کمپنی بھی یاد تک نہیں کیسے مل گئی، وہاں چلا گیا۔ پھر سات آٹھ سال نکال دیے۔ پھر مولا نے ترس کھایا اور اسے میز، کرسی، کمپیوٹر والی نوکری پہ بٹھا دیا۔ بیٹھا ہے بس، بڑا شکر ہے، لیکن تم سے دور ہے، اپنے ماں باپ سے دور ہے۔

یہ سفر دو لائنوں کا نہیں تھا میری بیٹی، یہ وہ عمر ہے جس کا تقریباً آدھا حصہ تم نے گزرتے دیکھا۔

تم نے اپنے باپ کو زیادہ تر دور دیکھا، سفر سے کوفت کھاتے دیکھا، پہاڑوں کی بغل میں بیٹھ کے ان تک جانے کی نیت سے بھی بھاگتے دیکھا، کھانا اسے لیٹ کے کھاتے دیکھا، گاڑی، موٹر سائیکل اتنی چلاتا ہے جس میں دفتر آنا جانا پورا ہو جائے، تو وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے؟ اس کی تفریح کیا ہے؟ وہ ایسا کیوں ہے؟ اس کے اتنے سکون طلب ہونے کی سزا تم لوگ کیوں بھگتو؟

یہ سوال وہ شخص اکثر خود سے بھی کرتا ہے کہ ایک آدمی کی بے سمتی اور آرام طلبی کیا اس کے آس پاس ہر انسان کو لپیٹ میں لے لیتی ہے؟

اس کا جواب میری بیٹی صرف یہ ہے کہ تمہارا باپ مقدر کی فقیری لایا تھا، اس کے پاس جو کچھ ہے تمہاری ماں اور تمہارے پیدا ہونے کے بعد آیا، تمہارے لیے آیا، تم ہی دونوں سے آیا، تم کھاتے ہو تو وہ بھی کھا لیتا ہے، ورنہ وہ جھوٹا بھی کھا لیتا، تم کہیں جاتے ہو تو وہ سمجھتا ہے وہ بھی چلا گیا، تم خوش ہوتے ہو تو وہ بھی ہو جاتا ہے، تم پریشان ہوتے ہو تو اسے وہی سبق یاد آتا ہے کہ لاحاصل کے پیچھے دوڑنا ٹریڈ مل پہ بھاگنے سے زیادہ برا ہے، جو ملنا ہے مل جائے گا، تمہارے مقدروں کا فقیر کو بھی مل جائے گا۔

وہ اپنی زندگی میں سب کر چکا، اپنے سب شوق اپنے ہاتھوں ختم ہوتے دیکھ چکا، وہ اپنی اصل پر لوٹ جانا چاہتا ہے لیکن فقیر کو چلتے رہنا ہوتا ہے، سو چل رہا ہے۔

کبھی کبھی وہ سوچتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت دولت، زمین، جائیداد، روپے ہوتے تو وہ کیا کرتا، اس کا جواب اسے یہی ملتا ہے کہ تب بھی ایسے ہی بیٹھے رہنا تھا، یہی روٹی سالن کھانا تھا، نیا ہو یا لنڈے کا مال، اس کے لیے برابر ہونا تھا، یہ ضرور ہوتا کہ آدھا مہینہ ماں باپ کے پاس رہتا، آدھے مہینے تم دونوں کے پاس آ جاتا ۔۔۔ بس تم اور تمہاری ماں زیادہ موج میں ہوتے تب ۔۔۔۔

لیکن کوئی کام بھی نہ ہوتا تو وہ کرتا کیا؟

اس سوال سے اسے بہت ڈر لگتا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس نے کام ہی دیکھا ہے، پڑھنا کام تھا، نوکری بھی کام تھی، گھر بھی کام تھا ۔۔۔ یہ سب نہ ہو تو شاید وہ اکیلا اپنے دماغ سے ریسیں لگاتا لگاتا تھک کے گر چکا ہوتا۔

اسے کام پسند ہے لیکن سورج کی طرح کا، اپنے مدار پہ گھومنے والا۔ وہ چاند نہیں ہے، وہ زمین نہیں بن سکتا کہ جو طے شدہ دائرے پہ چکر لگاتے رہیں، ہاں سورج ضرور ہے وہ، جو اگر ہلے گا بھی تو اپنے ہی گرد گھومے گا اور شام گئے لوٹ جائے گا۔ تپش اب کم ہے، کوشش کرتا ہے جو پاس ہو اسے جلائے نہ، سکون میں رہنے دے۔

تو میری پیاری بیٹی، اچھے کی امید رکھو، جب ایک فقیر اپنی پوری زندگی وسیلوں پہ کاٹ سکتا ہے تو اس کی بھاگوان اولاد کے لیے بھی وقت نے آسرے پیدا کر ہی دینے ہیں۔

کم سوچو، زیادہ مصروف رہو، اچھی فلمیں دیکھو، سستی تفریح ڈھونڈو، اپنے آپ کے ساتھ کمفرٹیبل رہو، باقی خدا نے خیر کی تو یوں چٹکی بجاتے زندگی گزر جائے گی۔

ایک بات یاد رکھو، انسان تکلیف کو گلوریفائی کرنا چاہتا ہے اور خوشی جتنی بھی ہو پیسے کی طرح اسے کم لگتی ہے۔ جس دن اس فارمولے کا الٹ تم نے جان لیا، تم تھم جاؤ گی، تمہیں ہر چیز بے معنی لگے گی، تمہارا سکون تمہارے دماغ کے اندر پایا جائے گا اور تب ۔۔۔ تمہیں لگے گا کہ یہ سب تو مجھے پہلے بھی علم تھا ۔۔۔

پتہ سب کچھ ہوتا ہے بیٹی، درک وقت دیتا ہے۔

جیتی رہو، خوش رہو، ہماری آنکھوں کی روشنی بنی رہو، مولا کی امان میں رہو۔

تمہارا بابا

۔۔۔۔۔

بیٹی کے نام لکھا گیا ایک خط
حسنین جمال
اگست 2025

21/05/2026

ایرانی سنیما کا یہی تو حسن ہے کہ وہ انسانی جذبات کے سب سے پیچیدہ اور سنگین موڑ کو بغیر کسی سستی ڈراما بازی یا چیخ و پکار کے، نہایت سادگی اور سلیقے کے ساتھ پیش کر دیتا ہے۔ مشہور ایرانی سیریل "یاغی" کا یہ منظر روایتی فلمی منظر نگاری سے ہٹ کر انسانی نفسیات اور ضبط کی ایک ایسی لازوال تصویر ہے جو دیکھنے والے کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ڈائریکٹر نے یہاں ایک ہی وقت میں زندگی کے دو سب سے بڑے اور متضاد سچائیوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے، جہاں ایک طرف موت کا مہیب سکون ہے اور دوسری طرف زندگی کا بھرپور جشن۔

منظر کا آغاز ایک بوڑھے باپ کی خاموش رخصت سے ہوتا ہے۔ مرکزی اداکار علی شادمان نے اس لمحے کو جس کمال سے جیا ہے، وہ دنگ کر دینے والا ہے۔ وہ اپنے باپ کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھتا ہے، ان کی پیشانی اور ہاتھوں کو چومتا ہے، لیکن اس کے چہرے پر کوئی روایتی واویلا نہیں ملتا۔ وہ اپنے اس گہرے دکھ کو اس وقت گھر کے باقی لوگوں پر بھی ظاہر نہیں کرتا جو پاس ہی اپنے کاموں میں مصروف ہیں، کیونکہ وہ شاید اس تلخ حقیقت کو چند لمحوں کے لیے صرف اپنے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔

اصل جذباتی طوفان تب شروع ہوتا ہے جب یہ بیٹا اس اداس کمرے سے باہر نکلتا ہے جہاں بچوں کی سالگرہ کی تقریب چل رہی ہے۔ وہاں غبارے ہیں، قہقہے ہیں اور خوشی کی پھوار ہے۔ زندگی اپنے پورے رنگ کے ساتھ ناچ رہی ہے اور اسی دوران ایک معصوم بچی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جشن میں شامل ہونے کے لیے کھینچتی ہے۔ وہ شخص، جس کا باپ ابھی چند سیکنڈ پہلے دنیا چھوڑ گیا ہے، اس معصوم بچی کا دل رکھنے کے لیے میکانکی انداز میں اپنے ہاتھ ہلانے لگتا ہے۔ خوشی اور غمی کا یہ تضاد، اور اپنوں کے لیے اپنے سب سے بڑے دکھ کو اندر ہی اندر پی جانے کا یہ منظر دیکھنے والے کا دل کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر سگریٹ سلگانا، اس کے دھوئیں میں اپنے اندر کے غبار کو اڑانے کی کوشش کرنا اور باپ کے بے جان ہاتھ کو ہونٹوں سے لگا کر رو پڑنا، یہ سب خاموش اشارے اس بات کی گواہی ہیں کہ بعض اوقات زندگی ہمیں کھل کر ماتم کرنے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں دکھ کی گھڑی میں اس طرح کے سحر انگیز ضبط اور سلیقے کا فقدان نظر آتا ہے، لیکن یہ کلپ ثابت کرتا ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور چیخیں دم توڑ دیتی ہیں، وہاں چہرے کی خاموشی اور آنکھوں کا سپاٹ پن سب سے بڑا نوحہ بن جاتا ہے۔ واقعی، یہ ایک ایسا شاہکار منظر ہے جو دیر تک ذہن سے محو نہیں ہوتا۔ اور یہ صرف ایرانی سنیما کا کمال ہے ۔

راشد خان

20/05/2026

حدیقہ کیانی کے پہلے شوہر حماد حسن ان کے لیے بطور ویڈیو اینیمیٹر کام کرتے تھے۔ 1997 میں ان کی شادی ہوگئی۔ مختلف انٹرویوز ...
19/05/2026

حدیقہ کیانی کے پہلے شوہر حماد حسن ان کے لیے بطور ویڈیو اینیمیٹر کام کرتے تھے۔ 1997 میں ان کی شادی ہوگئی۔ مختلف انٹرویوز سے معلوم ہوا ہے کہ شادی کے پہلے دن سے ہی حالات بدل گئے اور انہیں اپنا کریئر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2003 میں ان کی طلاق ہو گئی۔

پہلی طلاق کے بعد حدیقہ نے 2007 میں انگلینڈ میں مقیم افغان تاجر سید فرید سروری سے شادی کی۔ یہ شادی صرف تین ماہ چلی اور 2008 میں طلاق ہو گئی۔ حدیقہ نے بتایا کہ یہ شادی جذباتی سے زیادہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر کی گئی تھی۔ اکثر مبصرین اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گود لیے ہوئے بیٹے ناد علی کے پاسپورٹ میں باپ کا نام درج کرانا چاہتی تھیں۔ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

2005 کے تباہ کن زلزلے کے موقع پر حدیقہ کیانی ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ایسے میں ان کے سامنے ایک بچہ آیا جس کی فیملی کا کوئی اتا پتا نہیں تھا تو گلوکارہ نے فوری طور پر اسے گود لینے کا فیصلہ کیا۔ حدیقہ کیانی نے بیٹے کا نام ناد علی رکھا۔ خود حدیقہ کیانی نے بعد میں بیٹے ناد علی کو زندگی میں لانے کا سہرا بلقیس ایدھی کو دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

حدیقہ کیانی نے ایک ویب شو میں بتایا کہ جب ان کی پہلی طلاق ہوئی تو اس کے بعد کافی عرصہ دوسری شادی نہیں کی لیکن اس دوران ان کا دل چاہتا تھا کہ وہ ماں بنیں۔ انہوں نے ایک قریبی شخص سے یہ خواہش شیئر کی کہ وہ کسی بچے کو گود لینا چاہتی ہیں جس پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ اگر یہ ان کی خواہش ہے تو ضرور کریں۔

ناد علی کو گود لینے کے دو ماہ بعد حدیقہ نے دوسری شادی کر لی کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے کو باپ کا نام ملے تاکہ اسے سرپرستی نہ ہونے کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن یہ رشتہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے اکیلے تنہا ماں کی حیثیت سے ناد علی کی پرورش کی۔

گزشتہ کئی دنوں سے حدیقہ کیانی زیر بحث ہیں۔ ان کی گلوکاری اور سماجی خدمات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس دوران چند ایک لوگوں نے بتایا کہ وہ حدیقہ کیانی کو نہیں جانتے۔ حدیقہ کیانی کیانی جیسی خاتون کو نہ جاننا ویسے ممکن تو نہیں ہے البتہ کوشش کرتا ہوں کہ ان سے متعلق معلومات آپ تک پہنچا سکوں۔

دنیا نے بہت سی آوازیں سنی ہیں لیکن کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو روح میں اتر جاتی ہیں۔ حدیقہ کیانی کی آواز انہی میں سے ایک ہے۔ کم از کم میرے لیے تو ایسا ہی ہے۔ ان کے گانوں سے ایک ناسٹیلجیا جڑا ہوا ہے۔

حدیقہ کیانی 11 اگست 1972 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب حدیقہ صرف تین برس کی تھیں یعنی جس عمر میں بچے چلنا سیکھتے ہیں اس عمر میں حدیقہ نے باپ کا سایہ کھو دیا۔

ان کی والدہ، شاعرہ خاور کیانی ایک سرکاری سکول کی پرنسپل تھیں۔ انہوں نے بیٹی کی موسیقی کی صلاحیت دیکھ کر انہیں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں داخل کرایا جہاں ابتدائی تعلیم میڈم نرگس ناہید سے ملی۔ حدیقہ نے کنیئرڈ کالج سے نفسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

حدیقہ کیانی نے اپنے کیریئر کا آغاز بچوں کے ایک میوزک پروگرام 'آنگن آنگن تارے' کی میزبانی سے کیا اور اس دوران ہزاروں گانے گائے۔ 1995 میں انہوں نے اپنا پہلا البم 'راز' ریلیز کیا۔ حدیقہ کیانی کے خاندان کا موسیقی سے جراہ راست کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ایک خاتون کا پاپ البم ریلیز کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا جس نے انہیں منفرد بنایا۔

جنوری 1997 میں حدیقہ پہلی ایشیائی گلوکارہ بنیں جنہوں نے بی بی سی ون کے برٹش نیشنل لاٹری لائیو شو میں پرفارم کیا۔ پھر آیا وہ گانا جو حدیقہ کی پہچان بن گیا 'بوہے باریاں'۔ یہ گانا پاکستان کے نمایاں ترین گانوں میں شمار ہوتا ہے اور آج بھی حدیقہ کا سب سے مقبول گانا مانا جاتا ہے۔ خاص بات یہ کہ اس گانے کے بول ان کی والدہ خاور کیانی نے لکھے تھے. ماں کا قلم ہو اور آواز بیٹی کی ہو۔۔۔ سوچیں کتنا حسین امتزاج ہے۔۔

انہوں نے فروری 2010 میں ریلیز ہونے والا 'جاناں' پشتو گلوکار عرفان خان کے ساتھ گایا اور یہ حدیقہ کا اب تک کا سب سے بڑا ہٹ بن گیا۔ یہ پہلا پاکستانی پاپ گانا تھا جس کا ذکر لاس اینجلس ٹائمز نے کیا۔ ایک پنجابی خاتون کا پشتو میں گانا اس قدر پسند کیا گیا کہ پختون انہیں 'حدیقہ پٹھانی' کہنے لگے۔

حدیقہ کیانی نے پاکستان کو دنیا کے بڑے بڑے سٹیجز پر متعارف کرایا۔ انہوں نے برطانیہ کے رائل البرٹ ہال اور امریکہ کے کینیڈی سنٹر میں پرفارمنس دی۔ انہوں نے صدر جارج ڈبلیو بش کے لیے پرفارم کیا۔ سابق فرسٹ لیڈی لارا بش کی خصوصی فرمائش پر کینیڈی سنٹر میں گاتی رہی اور شہزادہ چارلس کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

مئی 2007 میں اردن کے ڈیڈ سی پر منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں 28 ممالک کے سربراہان کے سامنے پرفارم کیا۔ 2022 میں نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر سپاٹیفائی نے حدیقہ کیانی کا بل بورڈ لگایا۔۔۔ اور یہ فہرست لمبی ہے۔۔۔

2010 کے سیلاب کے بعد حدیقہ کیانی نے پاک فوج کے ساتھ مل کر متاثرین کی مدد کی اور نوشہرہ میں 250 سے زائد گھر تعمیر کرائے۔ اسی خدمت کے اعتراف میں انہیں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا گڈ ول سفیر مقرر کیا گیا۔ 2022 کے سیلاب میں وہ پھر میدان میں آئیں۔ انہوں نے 'وسیلۂ راہ' منصوبے کے تحت لاہور سے درجنوں ٹرک سامان سیلاب زدہ علاقوں کو بھیجا اور خود بلوچستان اور پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت 370 گھر، مساجد، سکول اور میڈیکل سینٹر تعمیر کیے گئے۔ اپنی سماجی سرگرمیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا ''میں یہ سب ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے کر رہی ہوں۔ کسی سیاستدان کی طرح ووٹوں کے لیے نہیں۔ یہ میرا شہری فریضہ ہے۔ یہ آپ کا فریضہ ہے۔ اپنا حصہ بھی ڈالیں۔'

حدیقہ کی والدہ خاور کیانی 2006 میں فالج کا شکار ہوئیں اور حدیقہ نے تمام مصروفیات کے باوجود ان کی خود دیکھ بھال کی۔ کئی سال تیمارداری کے بعد خاور کیانی 15 اکتوبر 2022 کو انتقال کر گئیں۔ وہ ماں جس نے بیٹی کو موسیقی کا راستہ دکھایا، بیٹی کے گانوں کے بول لکھے اور پوری زندگی اس کی قوت بنی رہی۔۔ اس ماں کو حدیقہ نے وہی محبت لوٹائی جو ملی تھی۔۔۔

2021 میں حدیقہ کیانی نے ڈرامہ 'رقیب سے' کے ذریعے اداکاری میں قدم رکھا اور اپنے کردار 'ثاقبہ' کی وجہ سے ناقدین اور ناظرین دونوں کی داد پائی۔ 2006 حکومت نے انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ 2015 میں ڈیلی ٹائمز نے ان کا نام اس فہرست میں شامل کیا جس میں ملالہ یوسفزئی، شرمین عبید چنائے اور عبدالستار ایدھی شامل تھے۔ حال ہی میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا یا یوں کہہ لیں ستارۂ امتیاز کو حدیقہ کیانی سے نوازا گیا۔

حدیقہ کیانی محض ایک گلوکارہ ہوتی تو بات اور تھی لیکن وہ 'حدیقہ کیانی' بنی۔ وہ حدیقہ کیانی جس نے زلزلے کے بعد ملبے کے ڈھیر سے ایک بیٹے کو اٹھا کر اسے نئی زندگی دی، سیلاب میں ڈوبے لوگوں کو سہارا دیا، کئی امیدوں کو پورا کیا، کئی لوگوں کے لیے امید کی کرن بنی اور یہ سب کرتے ہوئے گاتی بھی رہی۔۔

ادیب یوسفزئی

14/05/2026

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو

اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو

دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے
دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو

اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں
اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

احمد سلمان






urdu poetry
urdu shayari
sad poetry
deep poetry
love poetry
ishq poetry
mohabbat shayari
heart touching poetry
pakistani poetry
poetry lovers
urdu adab
rekhta poetry
emotional poetry
best urdu quotes
shayari lovers

06/05/2026

احمد فراز صاحب ❤️






urdu poetry
urdu shayari
sad poetry
deep poetry
love poetry
ishq poetry
mohabbat shayari
heart touching poetry
pakistani poetry
poetry lovers
urdu adab
rekhta poetry
emotional poetry
best urdu quotes
shayari lovers

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qirtaas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Qirtaas:

Share