21/05/2026
پیاری بیٹی، تمہارا باپ فقیر ہے، اتنا فقیر کہ اگر تم اور تمہاری ماں اس کے ساتھ نہ ہوں تو وہ کسی ایک تکیے پہ بیٹھا بیٹھا زندگی پوری کر دے۔
اس کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں ہے، روزی کمانا، اتنی کہ جس سے گھر چل جائے، اس میں رہنے والے خوش رہیں، بس، اس کے علاوہ اس نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔ غلطی سے ہوئی بھی تو اوقات اپنی جان کے ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیا۔
اس کی ساری زندگی سکون کی تلاش میں گزری ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر پیٹ بھرنے جتنی روٹی مل جائے تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ بڑے ہوٹلوں کی طرف دیکھنے والی آنکھ کبھی نہیں بھر سکتی، اونچا دیکھنے والی گردن تھک جاتی ہے اور لاحاصل کے پیچھے دوڑنا ٹریڈ مل پہ بھاگنے سے زیادہ برا ہے، گناہ بے لذت!
اسے کوئی خاص روحانی تجربے کبھی نہیں ہوئے لیکن اس نے سیکھا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں، کیونکہ اس کی زندگی میں جو کچھ ہوا وہ ہمیشہ آٹومیٹک طریقے سے ہوا۔
پیدا ہونے کے بعد اس کی پہلی یادداشت باتھ روم میں رکھے گہرے نیلے رنگ کی بڑی پانی والی ڈرم نما ٹینکی ہے، سوکھے دودھ کی پڑیا جو اللہ بخش چونی کی بنا کے دیتا تھا اور لکڑی کا دو کواڑ والا دروازہ ہے گھر کے باہر، جہاں عرفان کھڑا ہے، اسے سکول لے جانے کے لیے۔ عرفان اس کا دوست تھا، وہ اپنے گھر سے سکول جاتے وقت اسے بھی لے جاتا تھا۔
تمہارے باپ کو نہیں یاد کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے کوئی کام کیا ہو، پرفیکشنسٹ تو کیا وہ سرے سے کام والا انسان ہی نہیں تھا۔ سکول عذاب لگتا تھا اور پڑھائی پھندا، خدا ہی نے اس آزمائش سے باہر نکالا، اس کے ماں باپ نے بھی سکون کا سانس لیا ہو گا۔
نوکریوں میں بھی یہی ہوا، ٹیوشنیں پڑھائیں، انشورنس بیچی، چھوٹے موٹے کاروباروں کی کوشش کی، ایک لوکل سے ہوٹل میں ریسپشنسٹ کا انٹرویو دینے گیا تو فارماسیوٹیکل کی نوکری مل گئی، اس نوکری پہ گیا تو انہوں نے کہا ہم ایک دن پہلے کسی اور کو بھی اسی پوسٹ پہ رکھ چکے ہیں، وہ زیادہ پڑھا لکھا ہے۔ ادھر سے کان لپیٹ کے نکلا تو قسمت نے دوسرا وسیلہ بنا دیا۔
دس سال وہیں کام کرتا رہا، اسی دوران اس کے یہاں تم بھی آ گئی۔ دس سال بعد اس سے بہتر کمپنی بھی یاد تک نہیں کیسے مل گئی، وہاں چلا گیا۔ پھر سات آٹھ سال نکال دیے۔ پھر مولا نے ترس کھایا اور اسے میز، کرسی، کمپیوٹر والی نوکری پہ بٹھا دیا۔ بیٹھا ہے بس، بڑا شکر ہے، لیکن تم سے دور ہے، اپنے ماں باپ سے دور ہے۔
یہ سفر دو لائنوں کا نہیں تھا میری بیٹی، یہ وہ عمر ہے جس کا تقریباً آدھا حصہ تم نے گزرتے دیکھا۔
تم نے اپنے باپ کو زیادہ تر دور دیکھا، سفر سے کوفت کھاتے دیکھا، پہاڑوں کی بغل میں بیٹھ کے ان تک جانے کی نیت سے بھی بھاگتے دیکھا، کھانا اسے لیٹ کے کھاتے دیکھا، گاڑی، موٹر سائیکل اتنی چلاتا ہے جس میں دفتر آنا جانا پورا ہو جائے، تو وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے؟ اس کی تفریح کیا ہے؟ وہ ایسا کیوں ہے؟ اس کے اتنے سکون طلب ہونے کی سزا تم لوگ کیوں بھگتو؟
یہ سوال وہ شخص اکثر خود سے بھی کرتا ہے کہ ایک آدمی کی بے سمتی اور آرام طلبی کیا اس کے آس پاس ہر انسان کو لپیٹ میں لے لیتی ہے؟
اس کا جواب میری بیٹی صرف یہ ہے کہ تمہارا باپ مقدر کی فقیری لایا تھا، اس کے پاس جو کچھ ہے تمہاری ماں اور تمہارے پیدا ہونے کے بعد آیا، تمہارے لیے آیا، تم ہی دونوں سے آیا، تم کھاتے ہو تو وہ بھی کھا لیتا ہے، ورنہ وہ جھوٹا بھی کھا لیتا، تم کہیں جاتے ہو تو وہ سمجھتا ہے وہ بھی چلا گیا، تم خوش ہوتے ہو تو وہ بھی ہو جاتا ہے، تم پریشان ہوتے ہو تو اسے وہی سبق یاد آتا ہے کہ لاحاصل کے پیچھے دوڑنا ٹریڈ مل پہ بھاگنے سے زیادہ برا ہے، جو ملنا ہے مل جائے گا، تمہارے مقدروں کا فقیر کو بھی مل جائے گا۔
وہ اپنی زندگی میں سب کر چکا، اپنے سب شوق اپنے ہاتھوں ختم ہوتے دیکھ چکا، وہ اپنی اصل پر لوٹ جانا چاہتا ہے لیکن فقیر کو چلتے رہنا ہوتا ہے، سو چل رہا ہے۔
کبھی کبھی وہ سوچتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت دولت، زمین، جائیداد، روپے ہوتے تو وہ کیا کرتا، اس کا جواب اسے یہی ملتا ہے کہ تب بھی ایسے ہی بیٹھے رہنا تھا، یہی روٹی سالن کھانا تھا، نیا ہو یا لنڈے کا مال، اس کے لیے برابر ہونا تھا، یہ ضرور ہوتا کہ آدھا مہینہ ماں باپ کے پاس رہتا، آدھے مہینے تم دونوں کے پاس آ جاتا ۔۔۔ بس تم اور تمہاری ماں زیادہ موج میں ہوتے تب ۔۔۔۔
لیکن کوئی کام بھی نہ ہوتا تو وہ کرتا کیا؟
اس سوال سے اسے بہت ڈر لگتا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس نے کام ہی دیکھا ہے، پڑھنا کام تھا، نوکری بھی کام تھی، گھر بھی کام تھا ۔۔۔ یہ سب نہ ہو تو شاید وہ اکیلا اپنے دماغ سے ریسیں لگاتا لگاتا تھک کے گر چکا ہوتا۔
اسے کام پسند ہے لیکن سورج کی طرح کا، اپنے مدار پہ گھومنے والا۔ وہ چاند نہیں ہے، وہ زمین نہیں بن سکتا کہ جو طے شدہ دائرے پہ چکر لگاتے رہیں، ہاں سورج ضرور ہے وہ، جو اگر ہلے گا بھی تو اپنے ہی گرد گھومے گا اور شام گئے لوٹ جائے گا۔ تپش اب کم ہے، کوشش کرتا ہے جو پاس ہو اسے جلائے نہ، سکون میں رہنے دے۔
تو میری پیاری بیٹی، اچھے کی امید رکھو، جب ایک فقیر اپنی پوری زندگی وسیلوں پہ کاٹ سکتا ہے تو اس کی بھاگوان اولاد کے لیے بھی وقت نے آسرے پیدا کر ہی دینے ہیں۔
کم سوچو، زیادہ مصروف رہو، اچھی فلمیں دیکھو، سستی تفریح ڈھونڈو، اپنے آپ کے ساتھ کمفرٹیبل رہو، باقی خدا نے خیر کی تو یوں چٹکی بجاتے زندگی گزر جائے گی۔
ایک بات یاد رکھو، انسان تکلیف کو گلوریفائی کرنا چاہتا ہے اور خوشی جتنی بھی ہو پیسے کی طرح اسے کم لگتی ہے۔ جس دن اس فارمولے کا الٹ تم نے جان لیا، تم تھم جاؤ گی، تمہیں ہر چیز بے معنی لگے گی، تمہارا سکون تمہارے دماغ کے اندر پایا جائے گا اور تب ۔۔۔ تمہیں لگے گا کہ یہ سب تو مجھے پہلے بھی علم تھا ۔۔۔
پتہ سب کچھ ہوتا ہے بیٹی، درک وقت دیتا ہے۔
جیتی رہو، خوش رہو، ہماری آنکھوں کی روشنی بنی رہو، مولا کی امان میں رہو۔
تمہارا بابا
۔۔۔۔۔
بیٹی کے نام لکھا گیا ایک خط
حسنین جمال
اگست 2025