بنڈہور شریف تتہ پانی آزاد کشمیر

بنڈہور شریف تتہ پانی آزاد کشمیر visiting gideline

08/01/2025

مولا علی سے شکوہ نبی کریم کی اذیت کا باعث بنتا ہے

حضرت عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ والوں میں شمار ہوتے ہیں آپ فرماتے ہیں ہم حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ یمن کی طرف روانہ ہوئے ۔
مجھے مولا علی( علیہ السلام ) سے دوران سفر شکوہ ہوا جب ہم واپس آئے تو میں نے مسجد میں( بعض صحابہ کرام کے سامنے) ان کی شکایت کا اظہار کیا ۔یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی ۔
میں ایک دن صبح کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں جلوہ گر تھے ۔آپ نے جب مجھے دیکھا تو ناراضگی کے ساتھ مجھے گُھورا تا ہم میں بھی وہیں بیٹھ گیا جب میں بیٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو! خدا کی قسم تو نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ۔میں نے عرض کی ۔میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اس بات سے کہ آپ کو تکلیف پنچاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے علی (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچائی ۔اُس نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔
کتب اہلسنت المستدرک الحاکم والیم نمبر 4حدیث نبمر 4619 صحفہ نمبر 248

تمام امت مسلمہ کو میری طرف سے رمضان مبارک
11/03/2024

تمام امت مسلمہ کو میری طرف سے رمضان مبارک

The official schedule of Tarawih and Tahajjud prayers in   Mosque for the year 1445 AH 🕋💛
05/03/2024

The official schedule of Tarawih and Tahajjud prayers in Mosque for the year 1445 AH 🕋💛

14/02/2023

حضرت محبوب الہٰی حضور خواجہ سید نظام الدین اولیاء رحمتہ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں جب امیرالمومنین حضور مولا علّی علیہ السلام نعرہ مارتے تو اس نعرے کی ہیبت سے چرند، پرند اور درند ہلاک ہوجاتے
پھر اسی موقع کی مناسبت سے فرمایا ایک مرتبہ آقا کریم رؤف الرحیم صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حضرت سیّدنا داؤد علیہ السلام کی بابت بیان ہورہا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں لوہا موم ہوجاتا اور پھر اس سے زرہ تیار کرتے.آپ صلّی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم نے مسکرا کر فرمایا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام ہاتھ میں لوہا لیا کرتے تو امیر المومنین حضرت مولا علّی علیہ السلام کا نام لیا کرتے اور لوہا آپؓ علیہ السلام کے ہاتھ میں موم ہوجاتا.
کتاب:ہشت بہشت
کتاب افضل الفوائد جلد 1صفحہ 72

مولا علی کے فضائل سُن کر مومن کی معرفت بڑھتی ہے اور منافق کی منافقت میں اضافہ ہوتا ہے جس طرح بارش ہر جگہ برابر برستی ہے ...
13/02/2023

مولا علی کے فضائل سُن کر مومن کی معرفت بڑھتی ہے اور منافق کی منافقت میں اضافہ ہوتا ہے جس طرح بارش ہر جگہ برابر برستی ہے لیکن بارش کے بعد باغ کی خوشبو میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کچراخانہ کی بدبو بڑھ جاتی ہے۔ جس کا جیسا ظرف ویسے اُسکی تخلیق..
( حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام )

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم   ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسل...
04/10/2022

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
کیا قران مجید میں نبیوں کی ولادت کا ذکر مبارک موجود ہے؟جی! مخصوص دن کے ذکر کے ساتھ موجود ہے؟ یاد رہے! مخصوص ولادت کے دن کا بھی
قرآن مجید میں حضرت یحیٰ علیہ السلام کی ولادت کے یوم کا ذکر ان الفاظ میں ہے وَسَلاَمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاO مريم، 19 / 15 ’اور یحییٰ پر سلام ہو، ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کلام کی نسبت کرکے قرآن مجید فرماتا ہے وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّاO مريم، 19 / 33’’اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا قرآن پاک میں عید کا تصور کیا ہے؟قرآن پاک میں عید کا ذکر کچھ یوں ہے۔قَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَة مِّنَ السَّمَاء تَكُونُ لَنَا عِيداً لاِوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَة مِّنكَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ﴿114﴾سورۃ المائدہ (114) عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے یعنی ہم اس کے نُزول کے دن کو عید بنائیں ، اس کی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لائیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکرِ الٰہی بجا لانا طریقۂ صالحین ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ سیدِ عالَم ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ، اس لئے حضور ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجا لانا اور اظہارِ فرح اور سرور کرنا مستحَسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔یعنی اللہ جل جلالہ کی ایک نعمت کو عید کہا گیاخوشی/فرحت کا اظہار کیوں/کب/کس پر کرنا چاہیے؟سورۃ یونس میں اللہ عز وجل کا ارشاد ہے۔قُلْ بِفَضْلِ اللّه وَبِرَحْمَتِه فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ هوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿58﴾(58) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہےاللہ کا بڑا فضل کیا ہے؟سورۃ احزاب میں اللہ عز وجل نے فرمایا ہے۔يَا أَيُّها النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿45﴾ وَدَاعِيًا إِلَی اللَّه بِإِذْنِه وَسِرَاجًا مُّنِيرًا ﴿46﴾ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهم مِّنَ اللَّه فَضْلًا كَبِيرًا ﴿47﴾(45) ( اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا(46) اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے دینے والا آفتاب(47) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہےاللہ کی رحمت کیا ہے؟سورۃ الانبیاءوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَ رَحْمَة لِّلْعَالَمِينَ ﴿107﴾(107) اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیےاب اللہ کے حکم کو دیکھتے ہیں۔ " تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔"ثابت ہوا اللہ کے بڑے فضل اور رحمت کے حصول کے شکرانے میں اظہار فرحت کرنا بدعت نہیں بلکہ عین رضائے خداوندی ہے۔سورۃ الصف سے ذکر محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ولادت پاک سے چھے صدیاں پہلے سے ثابت ہے۔وَإِذْ قَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّه إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاة وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُه أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءهم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿6﴾(6) اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو ہے۔سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں، (81) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کیا حدیث پاک میں میلادالنبی کا ذکر مبارک ہے؟

ترمذی شریف میں باب "باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم"الجامع ترمذی شریف میں ایک باب ہے "باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم" جو امام ترمذی نے باندھا ہے۔ تب تک میلاد النبی منانا بدعت نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بدعت کا بہتان بہت بعد کی ایجاد ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ 604 ہجری کے بعد میلادالنبی منانے کا رواج پڑا۔ جبکہ امام ترمذی 209 ہجری میں پیدا ہوئے اور 279 میں فوت ہوئے۔ اور اس الزام کا پردہ چاک ہوا۔ سرکار نے خود اپنا میلاد منایا، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یَومَ وُلِدْتُ و یَومَ اُنْزَلُ عَلَیَّاسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی(صحیح مسلم،2/819،رقم:1162/امام بیہقی: السنن الکبری،4/286، رقم:8182)نیز حدیث سے ثابت ہے کہ حضور نے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کیلئے بکرا ذبح فرمایا۔(امام سیوطی:الحاوی للفتاوٰی، 1/196/حسن المقصد فی عمل المولد، 65/امام نبہانی: حجۃ اللہ علی العالمین، 237) اس سے معلوم ہوا کہ میلاد منانا سنت رسول ہے۔بے مثل نعمتِ عظمٰی

رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر

بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)

اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں



صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں بہت بری

حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر )

صحیح بخاری‘‘ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے کہ جب ایک یہودی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ جس دن آیت۔ اَلْیَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ۔ نازل ہوئی اس دن کو بطور عید مناتے ہیں؟ اگر ہماری تورات میں ایسی آیت اترتی تو ہم اسے ضرور یومِ عید بنا لیتے۔ اس کے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور جگہ کو جہاں یہ آیت اتری تھی خوب پہچانتے ہیں۔ یہ آیت یومِ حج اور یومِ جمعۃ المبارک کو میدانِ عرفات میں اتری تھی اور ہمارے لیے یہ دونوں دن عید کے دن ہیں۔1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه، 1 : 25، رقم : 452. مسلم، الصحيح، کتاب التفسير، 4 : 2313، رقم : 30173. ترمذي، الجامع الصحيح، أبواب تفسير القرآن، باب من سورة المائدة، 5 : 250، رقم : 30434. نسائي، السنن، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان، 8 : 114، رقم : 5012اس پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر تکمیلِ دین کی آیت کے نزول کا دن بطورِ عید منانے کا جواز ہے تو جس دن خود محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اسے بہ طور عید میلاد کیوں نہیں منایا جاسکتا؟ یہی سوال فضیلتِ یومِ جمعہ کے باب میں اَربابِ فکر و نظر کو غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل خود اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ پر خوشی منائی۔روایات شاہد ہیں کہ ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پورا سال نادر الوقوع مظاہر اور محیر العقول واقعات کا سال تھا۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نزول جاری رہا یہاں تک کہ وہ سعید ساعتیں جن کا صدیوں سے انتظار تھا گردشِ ماہ و سال کی کروٹیں بدلتے بدلتے اس لمحۂ منتظر میں سمٹ آئیں جس میں خالق کائنات کے بہترین شاہکار کو منصہ شہود پر بالآخر اپنے سرمدی حسن و جمال کے ساتھ جلوہ گر ہونا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد کے موقع پر اِس قدر چراغاں کیا کہ شرق تا غرب سارے آفاق روشن ہو گئے۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ نے اُن سے بیان کیا :شهدت آمنة لمَّا وُلِدَ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، فلمَّا ضربها المَخَاض نَظَرْتُ إلي النجوم تدلي حتي إني لأقول : إنها لتقعن عليّ. فلما ولدت خرج منها نور أضاء له البيت الذي نحن فيه والدَّار، فما شيء أنظر إليه إلا نور.’’جب ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقت آیا تو میں سیدہ آمنہ سلام اﷲ علیھا کے پاس تھی۔ میں دیکھ رہی تھی کہ ستارے آسمان سے نیچے ڈھلک کر قریب ہو رہے ہیں یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے اوپر گرپڑیں گے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو سیدہ آمنہ سے ایسا نور نکلا جس سے پورا گھر جس میں ہم تھے اور حویلی جگمگ کرنے لگی اور مجھے ہر ایک شے میں نور ہی نور نظر آیا۔‘‘ 1. شيباني، الآحاد والمثاني : 631، رقم : 1094 (أم عثمان بنت أبي العاص رضي اﷲ عنها)2. طبراني، المعجم الکبير، 25 : 147، 186، رقم : 355، 4573. ماوردي، أعلام النبوة : 2474. طبري، تاريخ الأمم والملوک، 1 : 4545. بيهقي، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة، 1 : 1116. أبونعيم، دلائل النبوة : 135، رقم : 767. ابن جوزي، المنتظم في تاريخ الأمم والملوک، 2 : 2478. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 3 : 799. ابن عساکر، السيرة النبوية، 3 : 4610. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 26411. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 8 : 22012. ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 17313. عسقلاني، فتح الباري، 6 : 583حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بارگاہِ رِسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کی نبوتِ مبارکہ کی شروعات کیسے ہوئی؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :دعوة أبي إبراهيمَ، وبُشري عيسي، ورأت أمي أنه يخْرُجُ منها نور أضاءت منه قصور الشام.’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت ہوں۔ اور (میری ولادت کے وقت) میری والدہ ماجدہ نے دیکھا کہ اُن کے جسم اَطہر سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔‘‘1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 262، رقم : 22315 2. ابن حبان نے ’’الصحیح (14 : 313، رقم : 6404)‘‘ میں ایک اور سند سے انہی الفاظ پر مشتمل طویل روایت بیان کی ہے۔3۔ بخاری نے ’’التاریخ الکبیر (5 : 342، رقم : 7807 ! 1736)‘‘ میں مختلف سند سے انہی الفاظ پر مشتمل طویل روایت بیان کی ہے۔4۔ بخاری نے ’’التاریخ الاوسط (1 : 13، رقم : 33)‘‘ میں مختلف سند سے انہی الفاظ پر مشتمل طویل روایت بیان کی ہے۔5. ابن أبي أسامه، المسند، 2 : 867، رقم : 9276. روياني، المسند، 2 : 209، رقم : 12677. ابن الجعد، المسند : 492، رقم : 34288. طيالسي، المسند : 155، رقم : 11409. طبراني، المعجم الکبير، 8 : 175، رقم : 772910. طبراني، مسند الشاميين، 2 : 402، رقم : 158211. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 1 : 46، رقم : 11312. لالکائي، اعتقاد أهل السنة والجماعة، 1 : 422، 423، رقم : 140413. أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 6 : 9014. ابن جوزي، المنتظم في تاريخ الأمم والملوک، 2 : 24815. ابن عساکر، السيرة النبوية، 1 : 12716. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 275، 306، 322 17۔ ہیثمي نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (8 : 222)‘‘ میں کہا ہے کہ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔18. سيوطي، کفايۃ الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 1 : 79حضرت آمنہ اپنے عظیم نونہال کے واقعاتِ ولادت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں :لما فصل منّي خرج معه نور أضاء له ما بين المشرق إلي المغرب.’’جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہوا تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے شرق تا غرب سب آفاق روشن ہوگئے۔‘‘1. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 1022. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 523. ابن عساکر، السيرة النبوية، 3 : 464. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 2645. ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 1726

سيوطي، کفاية الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 1 : 797. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 83ایک روایت میں سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ وقتِ ولادت اُن سے ایسا نور خارِج ہوا جس کی ضوء پاشیوں سے اُن کی نگاہوں پر شام میں بصریٰ کے محلات اور بازار روشن ہوگئے یہاں تک اُنہوں نے بصریٰ میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں بھی دیکھ لیں۔1. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 1022. طبراني، المعجم الکبير، 24 : 214، رقم : 5453. ابن حبان، الصحيح، 14 : 313، رقم : 64044. عبد الرزاق، المصنف، 5 : 3185. دارمي، السنن، 1 : 20، رقم : 136. شيباني، الآحاد والمثاني، 3 : 56، رقم : 13697. شيباني، الآحاد والمثاني، 4 : 397، رقم : 24468. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 2 : 673، رقم : 42309۔ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (8 : 222)‘‘ میں کہا ہے کہ اِسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے، اور احمد کی بیان کردہ روایت کی اسناد حسن ہیں۔ 10. هيثمي، موارد الظمآن إلي زوائد ابن حبان : 512، رقم : 209311. ابن إسحاق، السيرة النبوية، 1 : 97، 10312. ابن هشام، السيرة النبوية : 16013. ابن أثير، الکامل في التاريخ، 1 : 45914. طبري، تاريخ الأمم والملوک، 1 : 45515. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 1 : 171، 17216. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 3 : 46617. ابن عساکر، السيرة النبوية، 3 : 4618. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 264، 27519. ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 17320. سيوطي، کفاية الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 1 : 7821. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 8322. أحمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 46سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)

جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔

محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 58)امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)

امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)

امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)



شاہ عبد الرحیم دہلوی (1054۔ 1131ھ)



قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ) کے والد گرامی شاہ عبد الرحیم دہلوی فرماتے ہیں :

کنت أصنع في أيام المولد طعاماً صلة بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فلم يفتح لي سنة من السنين شيء أصنع به طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقليا فقسمته بين الناس، فرأيته صلي الله عليه وآله وسلم وبين يديه هذا الحمص متبهجاً بشاشا.

’’میں ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا، تومیں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش و خرم تشریف فرما ہیں۔‘‘

شاه ولي اﷲ، الدر الثمين في مبشرات النبي الأمين صلي الله عليه وآله وسلم : 40

برصغیر میں ہر مسلک اور طبقہ فکر میں یکساں مقبول و مستند ہستی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اپنے والد گرامی کا یہ عمل اور خواب بیان کرنا اِس کی صحت اور حسبِ اِستطاعت میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرتا ہے۔



27۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ)قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703۔ 1762ء) اپنے والد گرامی اور صلحاء و عاشقان کی راہ پر چلتے ہوئے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔ آپ مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهدة قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة وحداة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، واﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة المؤکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالطه أنوار الملائکة أنوار الرحمة.’’اس سے پہلے میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ درود و سلام عرض کر رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہوا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر اَنوار و تجلیات کی برسات شروع ہوگئی۔ میں نہیں کہتا کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا، نہ یہ کہتا

کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا، نہ یہ کہتا ہوں کہ فقط روحانی نظر سے دیکھا تھا، اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دو میں سے کون سا معاملہ تھا۔ بہرحال میں نے ان اَنوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ اَنوار اُن ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور و مقرر ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اَنوارِ ملائکہ کے ساتھ ساتھ اَنوارِ رحمت کا نزول بھی ہو رہا تھا۔‘‘شاه ولي اﷲ، فيوض الحرمين : 80، 81شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسی ہستی کا یومِ میلاد کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والی محفلِ میلاد میں شرکت کرنا محفلِ میلاد کا جائز اور مستحب ہونا ثابت کرتا ہے۔ ثانیاً اِس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حرمین شریفین میں بھی محافلِ میلاد منعقد ہوتی رہی ہیں۔ اگر آج وہاں اِعلانیہ طور پر ایسی محافل منعقد نہیں ہوتیں تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں کبھی ایسی محافل ہوئی نہیں تھیں۔ اہلِ عشق و محبت تو آج بھی وہاں محبتِ اِلٰہی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترانے الاپ رہے ہیں۔



۔ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی (1233۔ 1317ھ)علمائے ہند کے عظیم شیح بالخصوص مدرسہ دیوبند کے نام وَر عالم و فاضل بزرگ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی (1817۔ 1899ء) ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے اور مکہ میں درس دیتے رہے، پھر وہیں ان کی وفات ہوئی اور جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں۔ (1) حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی چاروں سلاسلِ طریقت میں بیعت کرتے تھے، اور دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی (1248۔ 1297ھ / 1833۔ 1880ء) اور دار العلوم دیوبند کے سرپرست مولانا رشید احمد گنگوہی (1244۔ 1323ھ / 1829۔ 1905ء) آپ کے مرید و خلفاء تھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی (1275۔ 1356ھ / 1859۔ 1937ء)، مولانا اشرف علی تھانوی (1280۔ 1362ھ / 1863۔ 1943ء)، مولانا محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ / 1920ء) اور کئی دیگر علماء و مشائخ کا شمار حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے خلفاء میں ہوتا تھا۔’’شمائمِ اِمدادیہ‘‘ کے صفحہ نمبر 47 اور 50 پر درج ہے کہ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی نے ایک سوال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِنعقاد کے بارے میں اُن کی کیا رائے ہے؟ کے جواب میں فرمایا :’’مولد شریف تمام اہل حرمین کرتے ہیں، اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے۔ اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیسے مذموم ہو سکتا ہے! البتہ جو زیادتیاں لوگوں نے اِختراع کی ہیں نہ چاہئیں۔ اور قیام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے۔‘‘1. اِمداد اﷲ، شمائم اِمداديه : 472۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہ عبارت ’’اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق (ص : 52، 53)‘‘ میں نقل کی ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں :’’ہمارے علماء مولد شریف میں بہت تنازعہ کرتے ہیں۔ تاہم علماء جواز کی طرف بھی گئے ہیں۔ جب صورت جواز کی موجود ہے پھر کیوں ایسا تشدد کرتے ہیں؟ اور ہمارے واسطے اِتباعِ حرمین کافی ہے۔ البتہ وقتِ قیام کے اِعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے۔ اگر اِہتمام تشریف آوری کا کیا جائے تو مضائقہ نہیں کیوں کہ عالم خلق مقید بہ زمان و مکان ہے لیکن عالم اَمر دونوں سے پاک ہے۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں۔‘‘1. اِمداد اﷲ، شمائم امداديه : 502۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہ عبارت ’’اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق (ص : 58)‘‘ میں نقل کی ہے۔حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے مذکورہ بالا بیان کے مطابق حرمین شریفین میں میلاد کی تقریبات کا ہونا اس بات کی حتمی و قطعی دلیل ہے کہ اس پر اہل مدینہ اور اہل مکہ میں دو آراء نہیں تھیں، وہ سب متفقہ طور پر میلاد کا اہتمام کرتے تھے۔ اور میلاد کے جواز پر اِس قدر حجت ہمارے لیے کافی ہے جو کہ اِنکار کرنے والوں کے لیے برہانِ قاطع ہے۔حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی نے اِعتقادی نوعیت کے سات سوالات کے جواب میں اپنی کتاب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ (1) لکھی۔ کسی نے اُن سے دریافت کیا کہ میلاد کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ اور معمول ہے؟ تو اِس پر اُنہوں نے جواب دیا :(1) دیوبندی مسلک کے بعض علماء ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کے بارے کہتے ہیں کہ یہ حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کی تحریر نہیں، حالاں کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ’’اشرف السوانح (3 : 355، 356)‘‘ میں تصریح کی ہے کہ یہ حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کی تحریر ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے ’’فتاویٰ رشیدیہ (ص : 130، 131)‘‘ میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے یہ رسالہ کسی سے لکھوایا اور سُن کر اس میں اِصلاحات کروائیں۔ گویا اِس میں جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت کا مسلک و مشرب ہے۔ علاوہ ازیں دیوبند مسلک کے کتب خانوں سے شائع ہونے والے حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے دس رسالوں کے مجموعہ. ’’کلیاتِ اِمدادیہ‘‘. میں بھی ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ شامل ہے؛ جیسا کہ کتب خانہ اشرفیہ، راشد کمپنی، دیوبند (بھارت) نے طبع کیا تھا، اور ادارہ اِسلامیات، لاہور نے بھی شائع کیا ہے۔’’فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف اور لذت پاتا ہوں۔‘‘اِمداد اﷲ، فيصله هفت مسئله : 7ایک جگہ لکھتے ہیں :’’رہا یہ عقیدہ کہ مجلسِ مولود میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں، تو اس عقیدہ کو کفر و شرک کہنا حد سے بڑھنا ہے۔ یہ بات عقلاً و نقلاً ممکن ہے، بلکہ بعض مقامات پر واقع ہو بھی جاتی ہے۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے علم ہوا، آپ کئی جگہ کیسے تشریف فرما ہوئے، تو یہ شبہ بہت کمزور شبہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و روحانیت کی وسعت کے آگے۔ جو صحیح روایات سے اور اہلِ کشف کے مشاہدے سے ثابت ہے۔ یہ ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘اِمداد اﷲ، فيصله هفت مسئله : 6جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں، اُنہیں کم اَز کم اپنے شیخ و مرشد کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے۔28۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1159۔ 1239ھ)خاندان ولی اﷲ کے آفتابِ روشن شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی (1745۔ 1822ء) اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں :وبرکة ربيع الأول بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيه ابتداء وبنشر برکاته صلي الله عليه وآله وسلم علي الأمة حسب ما يبلغ عليه من هدايا الصلٰوة والإطعامات معا.’’اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے۔ جتنا اُمت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اُتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے۔‘‘عبد العزيز محدث دهلوي، فتاوٰي، 1 : 163

۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958۔ 1052ھ)عارِف باﷲ قدوۃ المحدثین شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1551۔ 1642ء) نے اپنی کتاب ما ثَبَت مِن السُّنّۃ فی ايّام السَّنَۃ میں ہر مہینہ اور اس میں خاص خاص شب و روز کے فضائل اور ان میں کیے جانے والے اَعمال مفصل بیان کیے ہیں۔ اُنہوں نے ماہِ ربیع الاول کے ذیل میں میلاد شریف منانے اور شبِ قدر پر شبِ ولادت کی فضیلت ثابت کی ہے۔ اور بارہ (12) ربیع الاول کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا بہ طورِ خاص ثابت کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ قال : في النار، إلا أنه خُفّف کل ليلة اثنتين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار إلي رأس إصبعيه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له.قال ابن الجوزي : فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فما حال المسلم من أمته يسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما کان جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم.ولا يزال أهل الاسلام يحتفلون بشهر مولده صلي الله عليه وآله وسلم ويعملون الولايم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور ويزيدون في المبرّات ويعتنون بقراءة مولده الکريم ويظهر عليهم من مکانه کل فضل عميم.ومما جرّب من خواصه أنه أمان في ذلک العام وبشري عاجل بنيل البغية والمرام، فرحم اﷲ امرأ اتخذ ليالي شهر مولده المبارک أعياداً ليکون أشد غلبة علي من في قلبه مرض وعناد.’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور. اُنگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ. میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔’’ابن جوزی (510۔ 579ھ / 1116۔ 1201ء) کہتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل) سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟

27/09/2022
08/08/2022
جہاں جہاں اُٹھی نظر حسین ہی حسین ہےشجر شجر ثمر ثمر حسین ہی حسین ہےزمیں سے آسماں تلکنظر گئی جہاں تلکدعا  دعا ,  اثر  اثر ...
05/08/2022

جہاں جہاں اُٹھی نظر
حسین ہی حسین ہے
شجر شجر ثمر ثمر
حسین ہی حسین ہے

زمیں سے آسماں تلک
نظر گئی جہاں تلک
دعا دعا , اثر اثر
حسین ہی حسین ہے

نبیﷺ کی پشتِ پاک ہو
یا کربلا کی خاک ہو
غرورِ سجدہ جس کا سر
حسین ہی حسین ہے

جو زیرِ تیغ لا الا
کہا تو کہہ اٹھا خدا
ہے جس پہ مجھ کو ناز
حسین ہی حسین ہے

کٹا کے سر لٹا کے گھر
کرے جو سجدہ خاک پر
ہے زمیں پہ ایسا معتبر
حسین ہی حسین ہے

سلام یا حسین علیہ السلام

جامع مسجد دربار عالیہ بنڈہور شریف میں عید الاضحی کی نماز7:30 ادا کی جائے گی
08/07/2022

جامع مسجد دربار عالیہ بنڈہور شریف میں عید الاضحی کی نماز7:30 ادا کی جائے گی

Address

Gam Kotli

Telephone

+923465246523

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بنڈہور شریف تتہ پانی آزاد کشمیر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to بنڈہور شریف تتہ پانی آزاد کشمیر:

Share