02/10/2026
مقدس شخصیات کی توہین ناقابل برداشت ہے۔فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔ ہیٹ میٹریل کی اشاعت و ترویج کی روک تھام کیلئے متعلقہ سرکاری اداروں اور علماء بورڈ پنجاب کو موثر اور فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔
چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے مرکزی جامع مسجد گول فیصل آباد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مختلف ذرائع سے فرقہ وارانہ مواد اور متنازعہ لٹریچر عام ہونے کی شکایات موجود ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایسا مواد گردش کررہا ہے جو مذہبی اشتعال اور باہمی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ پیغام پاکستان کی کوششوں کو دانستہ طور پر سپوتاز کیا جارہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پورے کرتے ہوئے متنازع مواد کے خلاف قانون کے مطابق روک تھام اور نگرانی کو یقینی بنائیں۔ اگر کوئی بھی فرد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحابہ ؓو اہل بیتؓ و اسلافؒ کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع، تقسیم یا سوشل میڈیا پر پھیلاتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ ہمارے ایمان اور عقیدے کا اہم حصہ ہے۔ مقدس شخصیات کی توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں کارروائی قانون اور ریاستی اداروں کے مقررہ طریقہ ء کار کے مطابق ہونی چاہئے تاکہ امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔
چیئرمین مرکزی علماء کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے تمام مکاتب فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہبی احترام، باہمی برداشت اور ملکی قوانین کی پاسداری کو فروغ دیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے انہوں نے اپیل کی ہے کہ علماء بورڈ پنجاب کو فعال اور مزید بہتر بنایا جائے اور اس میں تمام مکاتب کی مستند اور معتبر شخصیات کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
سیکرٹری اطلاعات مرکزی علماء کونسل پاکستان