27/04/2026
محمد حمید حاتم بھٹی صاحب 1970 کی دہائی کے فیصل آباد کے ان چیدہ چیدہ ادبی ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے پنجابی زبان و ادب کو ایک نئی جلا بخشی۔ "چناب رنگ" صرف ایک تحریک یا تنظیم نہیں تھی، بلکہ یہ فیصل آباد (لائل پور) کی اس تخلیقی زرخیزی کا نام تھا جس نے پنجابی شاعری کو جدید لب و لہجہ عطا کیا۔
ان کی یادوں اور ادبی خدمات کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ چناب رنگ اور ادبی ماحول
70 کی دہائی میں فیصل آباد ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ حمید حاتم بھٹی نے اس دور میں پنجابی شاعری کے ذریعے سماجی شعور بیدار کیا۔ "چناب رنگ" کے زیرِ سایہ ہونے والے مشاعرے اور نشستیں آج بھی پرانے لکھاریوں کے ذہنوں میں نقش ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پنجابی ادب میں مزاحمتی اور رومانوی رنگ یکجا ہو رہے تھے۔
2۔ شاعری کا اسلوب
حمید حاتم بھٹی کی شاعری میں مٹی کی خوشبو اور عام آدمی کے دکھوں کی عکاسی ملتی تھی۔ ان کے کلام کی خصوصیات یہ تھیں:
سادگی و سلاست: وہ پیچیدہ خیالات کو بھی بہت سادہ اور عوامی زبان میں بیان کرنے کا ملکہ رکھتے تھے۔
ثقافتی جڑیں: ان کی شاعری میں پنجاب کے دیہی اور شہری کلچر کے بدلتے ہوئے رنگ نمایاں تھے۔
فیصل آبادی رنگ: ان کے لہجے میں فیصل آباد کی مخصوص کھری اور سچی پنجابی کا اثر صاف دکھائی دیتا تھا۔
3۔ فیصل آباد کی یادیں
اس دور میں لائل پور (فیصل آباد) کے ادبی حلقوں میں حمید حاتم بھٹی کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک متحرک شخصیت تھے جو نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ چناب کے پانیوں کی طرح ان کی طبیعت میں بھی روانی اور گہرائی تھی۔
4۔ ہم عصر شعراء کے ساتھ تعلق
ان کا دور وہ تھا جب فیصل آباد میں پنجابی کے بڑے نام کام کر رہے تھے۔ ان کی نشستوں میں ہونے والی گفتگو اور تنقیدی بحثوں نے پنجابی شعری روایت کو بہت مضبوط کیا۔
مختصر یہ کہ: محمد حمید حاتم بھٹی جیسے لوگ فیصل آباد کے اس سنہری ادبی دور کی یادگار ہیں جب شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہیں تھی بلکہ زندگی اور معاشرے کی سچی تصویر ہوا کرتی تھی۔ ان کی یادیں آج بھی "چناب رنگ" کے حوالے سے فیصل آباد کے ادبی اثاثے کا حصہ ہیں۔