27/03/2025
ایک تحریر: انقلابی کونسل جامعہ زرعیہ،فیصل آباد کے نام۔
سناں پے سج گئے لیکن جھکے نہ سر اپنے
ستمگروں سے ھماری حمیتیں پوچھو
#یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے سنہ 2009 میں ایف ایس سی(پری ایگریکلچر )کے نصاب پہ ڈگری کا آغاز کیا اور شاید کم و بیش تیس سال بعد اس ڈگری کے اجراء کا سہرا اس دور کے وائس چانسلر کے سر پہ جاتا ہے کہ انھوں نے اس سنگ میل کو انتہائی مستعدی اور دانشمندی سے عبور کیا۔
ایف ایس سی(پری ایگریکلچر ) کی کلاسز کو لگ بھگ چار یا پانچ سمسٹر ہی گزرے تھے کہ انٹر بورڈ چئیرمین کمیٹی(آ بی سی سی)اسلام آباد والوں کو اس بات کی بھنک پڑ گئی اور انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو پہ در پہ نوٹس جاری کیے ۔جس میں آیئ بی سی سی نے یہ موقف اختیار کیا چونکہ اس ڈگری کا سلیبس ہم سے منظور شدہ نہیں لہذا آپ یہ ڈگری جاری نہیں رکھ سکتے ۔
داخلہ لینے والے طلباء و طالبات میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ایک طرف ڈگری نہ ملنے کا غم تو دوسری طرف چار سال کا ضیاع گلے میں طوق کی شکل میں نظر آ رہا تھا ۔ہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ زور پکڑنے لگا اور اسی دوران آئی بی سی سی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی بے نتیجہ ملاقاتیں بھی چلتی رہی ۔جس دوران آئی۔بی۔سی۔سی نے نوٹیفیکیشن جاری کیا کہ سنہ2012 تک انرول طلباء کی ڈگری کو منظور کیا جائے گا لیکن بعد ازاں یہ نوٹیفیکیشن بھی منسوخ کر دیا گیا۔
⬅اگر اس حوالے سے طلباء کے موقف کو دیکھا جائے تو میں یہ بات کہنے پر حق بجانب ہوں کہ طلباء و طالبات کو رونے کیلئے نہ تو یونیورسٹی انتظامیہ نے کندھا دیا اور نہ ہی آئی بی سی سی اور پاکستان ویٹرنری میڈیسن کونسل نے اپنی ہٹ دھرمی میں کوئی لچک دکھائی ۔
⬅اس تمام مسئلہ پر آواز تو تمام طلباء تنظیموں نے اٹھائی لیکن اگر عملی کاروائی کے حوالے سے دیکھا جائے تو انقلابی کونسل طلباء تنظیم کو پہلی صفوں میں پایا گیا ہے ۔اسی تنظیم کے طلباء نے اپنی مدد آپ کے تحت عدالت عالیہ میں ایک رٹ بعنوان "سلمان اشرف بنام آئی بی سی سی وغیرہ "کے نام سے سنہ 2016 میں دائر کی ۔واضح رہے کہ اس پر آنے والے تمام اخراجات انقلابی کونسل کے اراکین اپنی جیب سے کرتے رہے ۔
⬅انقلابی کونسل کے نمائندوں کی جانب سے دسمبر 2016 اور جنوری2017 میں آئی۔بی۔سی۔سی(اسلام آباد) کے سیکرٹری اور کوالیفیکیشن و ایکویلینس سرٹیفکیٹ برانچ کے ڈائریکٹر سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔
⬅اسی دوران یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی انقلابی کونسل کے موقف کو مانتے ہوئے عدالت عالیہ سے رجوع کا فیصلہ کیا اور اسی سبجیکٹ پہ ایک رٹ عدالت عالیہ میں دائر کر دی ۔ پری ایگریکلچر ڈگری کیس عزت مآب جسٹس عابد عزیز شیخ صاحب کے سنگل بینچ میں سنا گیا۔ جسٹس عابد عزیز صاحب نے طلبا اور یونیورسٹی انتظامیہ کے موقف اور طلباء کے مسقبل کو مدنظررکھتے ہوے یونیورسٹی انتظامیہ، آئی۔بی۔سی۔سی اور پی۔وی۔ایم۔سی کو مسئلہ باہمی فہم سے حل کرنے کی ہدایات جاری کی۔
لگ بھگ 1 سال تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں کچھ دنوں پہلے آئی بی سی سی اور یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کے مستقبل کی پرواہ کرتے ہوئے مل بیٹھ کہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے۔جس پر تمام طلباء و طالبات اور یونیورسٹی انتظامیہ مبارک باد کی مستحق ہے ۔
⬅یونیورسٹی انتظامیہ میں جن لوگوں نے اس کارخیر میں بہتر انداز سے کاوش کی ہے ان میں موجود وائس چانسلر اقبال ظفر صاحب جوکہ ایک انتہائی علم دوست و ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں ۔یہ اقبال ظفر صاحب اور ڈی ایس اے شہباز طالب ساہی صاحب کی انتھک محنت کا ہی ثمر ہے جنہوں نے مستقبل کے معماروں کے وقت اور صلاحیتوں کو زنگ آلود ہونے سے بچالیا ۔
⬅اب تھوڑا ذکر ان خود ساختہ طلبا تنظیموں کا جنہوں نے ماسوائے زبانی جمع خرچ کہ کچھ نہ کیا۔جس میں خود ساختہ انقلابی کونسل جس کو اگر "گلابی کونسل" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ گلابی کونسل کے چاہنے والا ایک گروہ جو انقلابی کونسل کے نام کو غلط استعمال کرنے میں قدم بقدم تھا اور اس گھناؤنی سازش کو غلط فہمی کہتا ہے۔ ماشاءاللہ سے صبح اگر لشکر حسین کے ساتھ کھڑی ہوتے ہیں تو شام کے وقت یزید کی صفوں میں پائے جاتے ہیں۔ جناب کدھر ہیں نظر نہیں آ رہے میرے انوکھے لاڈلے۔ نام کام کرنے سے بنتا ہے اور کام عملی طور پر کرنا پڑتا ھے جس کی توفیق اللہ پاک عطا کرتا ہے لیکن صرف ان کو جو نیت صاف رکھتے ھوں۔
⬅اب بات ھو جائے اسلامی جمعیت طلبہ کی ۔
جب انقلابی کونسل کے طلباء قانونی اور اخلاقی جنگ میں اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے تو آجکل جمعیت کچھ رکن صبح سے شام تک یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو یہ بات باور کروانے میں مصروف عمل ہیں کہ اس سارے کے سارے مسئلے کو اسلامی جمیعت طلبا تنظیم نے اپنے بل بوتے اور اخلاقی جرات سے حل کروایا جناب ضرور محنت کی ھوگی آپ نے لیکن پری ایگریکلچر اور انقلابی کونسل کے طلباء ھر موڑ پر احتجاجی مظاہروں میں شریک رہے اور طلباء سیاست کو ایک طرف رکھتےہوئے غیرجانبدار رہے تاکہ کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچا جا سکے۔ لیکن آپ تو بڑے کاریگر نکلے سارا مال غنیمت خود ہی سمیٹنے چلے تھے۔
لیکن اب کوئی ان افلاطونوں اور ٹھیکیداروں کو سمجھائے کہ کسی بھی کام کا کریڈٹ مانگنے سے نہیں بلکہ اس کام کو ایمانداری اور منافقانہ روئیے بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کو حل کرنے سے ملتا ہے۔
⬅نوٹیفکیشن کے حصول پر انقلابی کونسل اور پری ایگریکلچر کی طرف سے جامعہ مسجد میں نوافل ادا کئے جائیں گے اور اس کیبعد احباب کونسل 2009 و 2010 کی جانب سے جشن کا اہتمام کیا جائےگا ۔
جیئے پاکستان ،جیئے جامعہ زرعیہ
جیئے کونسل۔
بیحمتے نے جہیڑے شکوہ کرن مقدراں دا
اگن والے اگ پیندے نے سینا چیر کے پتھراں دا