Believe Welfare Trust

Believe Welfare Trust We are here to help poor children for Education, Free Medical assistance to the needy people , Helpi

Price : 16000 RsWhats app: 03335111389✅ Brand: Dell✅ Series: ‎Dell 3189 Convertible Chromebook✅ 4GB RAM✅ 16GB Storage✅ P...
15/11/2024

Price : 16000 Rs
Whats app: 03335111389

✅ Brand: Dell
✅ Series: ‎Dell 3189 Convertible Chromebook
✅ 4GB RAM
✅ 16GB Storage
✅ Processor: ‎1.60 GHz celeron_N3060
✅ Playstore/windows 10 Supported
✅ Touch Screen
✅ 11.6″ Screen
✅ 360-degree Hinge
✅ 2-in-1 Laptop/Tablet
✅ Best for Online Classes
✅ Zoom App
✅ Intel Dual Band Wireless-AC 7265 802.11AC Wi-Fi
✅ BT 4.0 LE Wireless Card (2×2)
✅ Long-Lasting Battery
✅ 3-cell battery
✅ Fresh Condition
✅ HDMI Support
✅ USB 3.1

27/03/2023

" انسان کم از کم اتنی امید تو کر سکتا ہے کہ اپنا انجام درست پچھتاووں پہ کر سکے۔"
آرتھر ملر

27/03/2023

26 مارچ
پنجاب کے قابل فخر، سپوت محمد عبداللہ خان بھٹی عرف دلا بھٹی کا یوم شہادت
دلا بھٹی، پنجاب میں دہلی حکومت کے خلاف، مزاحمت کا استعارہ ہے.
دلا بھٹی پنجاب کے علاقے ساندل بار , پنڈی بھٹیاں سے تھا . دلا بھٹی کا اصل نام " عبدالله خاں بھٹی " تھا ۔ اور آج اس کو لوگ پنڈی بھٹیاں کے راجپوت شیر کی نسبت سے جانتے ہیں ۔ وہ مسلمان راجپوت تھا اور زمیندار طبقے کے موروثی مقامی دیہی سرداروں کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد فریدبھٹی اور دادا ساندل بھٹی کو اکبر کے نافذ کردہ دینِ الٰہی کی مخالفت کی پاداش میں اور زمین کی مرکزی مالگذاری قوانین کی مخالفت پر سزائے موت دی گئی تھی۔ دلا بھٹی کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے 12 دن بعد ہوئی۔ اس کی والدہ کا نام لدھی تھا۔
دلا بھٹی نے اپنے دادا اور والد کی طرح اکبر بادشاہ سے محالفت کی اور اپنے علاقے کی زمینوں کا لگان دینا بند کر دیا اور اکبر بادشاہ کے قافلوں کو لوٹ کر غریبوں میں بانٹنا شروع کر دیا ۔ اس پر اکبر بادشاہ نے ایکشن لیا اور اپنا دارالخلافہ دہلی سے لاہور شفٹ کر لیا. آخر کار دلا بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور 26 مارچ1599ء میں اسے لاہور میں پھانسی دی گئی۔ اکبر کے خیال میں اسے سر عام پھانسی عوام کے لیے ایک مثال بنانے کے لیے تھی کہ تختہ دار پر موت کا خوف دیگر مزاحمت کاروں کی ہمت توڑ دے گا، لیکن دلا بھٹی بہت ثابت قدم ثابت ہوا۔ شاہ حسین صوفی شاعر نے اس کے آخری الفاظ کو اس طرح بیان کیا۔ "پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سرزمین کو فروخت نہیں کرے گا.

27/03/2023

پیسہ محبت نہیں خرید سکتا، لیکن یہ آپ کی سودے بازی کی پوزیشن بہتر کردیتا ہے

کرسٹوفر مارلو

27/03/2023

‏ہر وہ شخص جسے ہم جانتے ہیں اس کے اندر ایک ایسا شخص چھپا ہوتا ہے جسے ہم نہیں جانتے۔۔ ۔۔۔

27/03/2023

قحط الرجال کیا ہوتا ہے؟

صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئ ایک بھی سائینس دان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی طریقہ دریافت کیا ہو ؟

کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو ؟

کوئی ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟

کوئی ایک بھی انجینیئر ہے جس نے تعمیراتی طبی یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی ایجاد کی ہو ؟

کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی طریقہ بتایا ہو؟

جب صرف گلوکار ، بھانڈ ، اداکار ہی قومی ہیروز اور قابلِ فخر قرار پائیں !
یہی تو
قحط الرجال ہے....

28/04/2020

افغانستان میں امریکی فوج آنے سے پہلے مارخور کو پتا چل گیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں آ رہا ہے اور براستہ بہانہ افغانستان نشانہ پاکستان
امریکہ نے آنے سے پہلے پہلے اپنے جمہوری بچوں کے ذریعے سے اپنے نیٹ ورک مضبوط کر رکھے تھے ۔
اور بہت وقت سے ان پر انویسمنٹ کرکے ان کو اپنے پکے ایجنٹ بنا رکھا تھا نواز شریف زرداری اچکزی الطاف حسین
سیاسی حوالے سے بھی مذہبی حوالے سے بھی پھر ان کے بعد آنے والے وقت کے لئے بھی کچھ غدار تیار کیے جارہے تھے جیسے منظور پشتین وغیرہ۔
اس وقت پاک آرمی کی قیادت جنرل پرویز مشرف صاحب نے حالات کو بھانپتے ہوئے۔اہم ملٹری قیادت کی خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں مارخور بھی موجود تھا۔

اس وقت دو ہی راستے تھے ایک یا تو مقابلہ کیا جائے یا پھر دوست بنا کر کام اتارا جائے۔ وہ نتیجہ میرے آپ کے سامنے آچکا آج اٹھارہ سال بعد۔
ہر طرف چیلنج ہی چیلنج تھے اندوستان بارڈر سے بھی افغانستان کے حالات بھی سامنے تھے دیگر سمندروں سے بھی اور۔اندرونی سیاسی جمہوریت کی آڑ میں جمہوریت کی بچے پارٹیاں ساری تیار تھی ۔
صرف اور صرف ملٹری کے علاوہ تقریبا نظام امریکہ نے اپنے کنٹرول میں کر رکھا تھا سیاست جمہوریت بلکہ مذہبی جماعتوں کے اندر سے بھی ۔ میڈیا کی بھی تیاریاں کی جا چکی تھی۔
اب دنیا کی تاریخ کے خطرناک جنگ شروع ہوچکی ہے۔
اس سے پہلے جمہوریت کو خیرباد کہے کہ ملٹری نے قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی مجبوری تھی کیونکہ دنیا کی خطرناک ترین جنگ ان سیاسی جمہوری اداروں کے ہاتھ پر رکھ کر نہیں لڑی جا سکتی تھی۔اور سیاسی بھی وہ جو کنفرم ان کے ایجنٹ تھے۔
افغانستان کی جنگ۔شروع تھی۔
اس دوران دشمن بھی شک میں تھے جنرل پرویز مشرف کو راستے سے ہٹانا تھا ۔
کئی دفعہ قاتلانہ ناکام حملے بھی ہوئے۔
آخرکار محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔سی آئی اے کے پلان کے مطابق
پلان اے یہ تھا کہ اسی دوران خانہ جنگی کرا کر ملک توڑنا تھا۔شام کی طرح پھر امریکی فوجی انٹری مارتی۔لیکن وہ بھی ناکام ہوا۔پلان بی۔
بیک پلان زرداری کو لانا تھا۔
مارخور کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا سوائے پرویز مشرف کو سائیڈ پر ہٹانے کے۔مجبورا جمہوریت سامنے آگئی۔
اب جنگ یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ چل رہی ہے ساتھ ساتھ ۔
اس دوران ملکی تاریخ کی میڈیا بھی لانچ کر دی گئی۔
امریکہ کی طرف سے خاص پیغام اور پرموٹ کیا گیا کیونکہ اس وقت دوکھا چل رہا تھا دوست بنا کر ایک خطرناک جنگ افغانستان میں چل رہی تھی امریکہ کی ہر بات مان کر چلنا مجبوری تھی۔
نواز شریف زرداری الطاف حسین اچکزئی اسفندیارولی ان لوگوں نے جو ملک میں خونریزی اور تماشا بنایا ۔ قرضے کے دلدل سے لے کر قوم پرستی فرقہ پرستی۔دہشت گرد خارجیوں کو راستہ دینے سے سہولت کاری تک تمام وہ کام یہ سیاسی جمہوری جماعتوں کے اندر ہی رہیں کر کر رہے تھے۔
ایک طرف افغانستان میں دنیا کی خطرناک ترین جنگ جاری تھی۔
دوسری طرف بھارت کے بارڈر پر بھی حالات کشیدہ تھے۔
تیسری طرف اندر کے تمام وہ مہرے دشمن کے میڈیا غدار سیاستدان تمام وہ کام کر رہے تھے۔
لیکن سب کی لسٹ تیار ہو رہی تھی
کیونکہ اس وقت ان پر ہاتھ ڈالا جاتا تو دشمن کو شک ہو جاتا کہ دشمن کے مھروں پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد یہی تھا کہ دشمن کو وقت سے پہلے ہوشیار کر دینا ۔یہ صرف اور صرف اشارے دے رہا ہوں مکمل تفصیل جس دن سامنے آئی دل دہلادینے والے انکشافات ہو گے
اور دنیا کی خطرناک ترین جنگ جب شروع ہوئی تھی یہ اسلام اور پاکستان کے بقاء کی جنگ تھی۔
یہ جنگ لڑنے والے ہمارے محافظ ملٹری کے اعلی دماغ جنرل پرویز مشرف جنرل کیانی صاحب ، احمد شجاع پاشا صاحب ظہیر الاسلام صاحب موجودہ آرمی چیف صاحب سابقہ کا آرمی چیف جنرل راحیل شریف صاحب۔سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر۔موجودہ۔کل تعینات ہونے والے وزیراعظم کے خصوصی معاون مشیر عاصم باجوہ صاحب اور دیگر اعلی قیادت۔میں ضروری نہیں سمجھتا کہ سب کے نام لو ۔آپ سمجھ گئے ہوں گے۔یہ وہ اللہ کے مجاہد۔جن کا اللہ پاک نے انتخاب کیا۔خود سے ہزار گنا بڑی طاقتوں کو راکھ کا ڈھیر کر دیا۔
پاک آرمی کے لیے بہت بڑے بڑے چیلنج تھے بیرونی اندرونی وقت آنے پر اندرونی ، دشمنوں کی صفائی کا وقت شروع ہوا تو وقت پر جمہوری سیاسی بیرونی ایجنٹوں کو۔ایک ساتھ ہاتھ ڈالا گیا اور سب کو۔اچانک سے پکڑ لیا گیا۔ان کے بیرونی۔اقاواں کی اربوں کھربوں روپے کی انویسٹمنٹ اور اگلے پلان بی کے نظام کو ایک ہی جھٹکے میں راکھ کا ڈھیر کر دیا گیا۔
کافی حد تک بیرونی افغانستان جنگ بھی قابو کر لی گئی تھی۔
اندرونی ایجنٹ بھی قابو کر لئے گئے۔
اب وہی قیادت ملٹری جنہوں نے یہ جنگ شروع کی تھی تھی ابھی تک وہی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔
ملٹری قیادت بڑی تیزی کے ساتھ اپنا کام کر رہی۔
جمہوریت میڈیا اندرونی تمام ایجنٹ دشمن نے بنا رکھے تھے جن کو آہستہ آہستہ بڑے غیر محسوس طریقے سے اور پھر اچانک کھل کر ان پر ہاتھ ڈال دیا گیا ۔
جمہوریت سسٹم ہے ہیں بیرونی سسٹم۔یہ سسٹم کے تحت ان کے مھرے ملک کے اندر ہر نظام میں گھس چکے تھے ۔
اور بیرونی تمام سسٹم بھی اس جمہوریت سے وابستہ کر رکھا ہے اگر اس جمہوریت کو ہٹایا گیا تو پوری دنیا سے سمجھنے کٹ کر رہ جائیں گے۔اب جمہوریت بھی رہے گی۔
اور جمہوریت میں رہ کر کام کرنے والے حقیقی لیڈر حقیقی سے خوا وطن کے بیٹے ملک کے نظام کو سنبھالیں گے۔
دشمن کے خوابوں خیالوں میں بھی نہ تھا۔
اسی لئے تو عمران خان کے پیچھے ہاتھ دھو کر سارے دشمن بیرونی اندرونی پڑ چکے ہیں۔
لیکن دشمن کی ناکامی ہر دفعہ مقدر ہو چکی ہے۔
محترمہ بینظیر کو مارنے کا فائدہ صرف اور صرف ملک دشمن قوتوں کو ہوا تھا یا پھر زرداری کو ہوا تھا ۔
۔سی آئی اے کا پلان بے نظیر بھٹو کو شہید کرانے کے بعد ملٹری کو ملک کے اندر خانہ جنگی میں الجھا نہ تھا۔
اور جنرل پرویز مشرف کو ہٹانا تھا۔
ابھی بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
وہی ٹیم اب بھی کام کر رہی ہے جنہوں نے یہ دشمن کی مسلط کردہ جنگ کا مقابلہ کیا تھا۔
انہوں نے حلف آخری سانس تک اٹھا رکھا ہے اس وطن اسلام کی حفاظت کا۔
جنگ ابھی جاری ہے۔
کچھ اشارے دیے ہیں کچھ باتیں پھر کچھ وقت کے لیے رکھ لی ہیں ادھار ہے مجھ پر پھر بتاؤں گا۔
دشمن نے جمہوریت کا جال ہمیں پھنسانے کے لئے پھینکا تھا ہم نے اب اسی جمہوریت کے جال کو دشمن پر ہی الٹا لٹا دینا ہے۔
رہے گی جمہوریت نام کی لیکن کام ہمارا ہوگا اس میں۔
کیا کریں جمہوریت ہے سب کو۔ساتھ لے کر چلنا ہے
اب عوام کی مرضی کے عوام جس کو مرضی لے آئے ۔

شکل جمہوریت کی رہے گی ہماری مرضی ہم اپنے اسلامی خلافت نظام کو رکھیں گے سامنے اب یہی ہماری بقا کا راستہ ہے۔

جس نے پڑھ لی ہے۔کاپی کرے اور تحریر کے بعد گمنام سپاہی کو مٹا کر اپنا نام لکھ کر سوشل میڈیا پر اپنی قوم کو سمجھانے کے لیے جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیں۔

تحریر : گمنام سپاہی

28/04/2020
https://youtu.be/f1Q9frKyfCo
18/09/2019

https://youtu.be/f1Q9frKyfCo

Hi viewers, here is another video. This video is all about the negligence and incompetent local administration of Islamabad. You must have seen that in Islam...

07/05/2019
07/05/2019

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے اس بارے کچھ دلچسپ معلومات :-

پہلے دو روزے :-
پہلے ہی دن بلڈ شگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے ۔اعصاب جمع شدہ گلائ کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے ۔ زہریلے مادوں کی صفائ کے پہلے مرحلہ میں نتیجتا سر درد ۔ چکر آنا ۔ منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کےجمع ہوتا ہے

تیسرے سے ساتویں روزے تک :-

جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے ۔جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی ۔خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جا تا ہے ۔ ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔

آتھویں سے پندھدریویں روزے تک :-
آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں ۔ دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں ۔ہو سکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہو نا شروع ہوں ۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لیےپہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے ۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے ۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے ۔روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤکا بہترین علاج ہے ۔

سولویں سے تیسویں روزے تک :-

جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے ۔ آپ اپنے آپ کو چست ۔ چاک و چو بند محسوس کرتے ہیں ۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے ۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے ۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے ۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاد داشت تیز ہو جاتے ہے ۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
یہ تو دنیا کا فائدہ رہا جو بے شک ہمارے خالق ہماری ہی بھلائ کے لیے ہم پر فرض کیا ۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا ۔
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
Copied

21/04/2019

Meet Lassipreneur

آج اس بھائی سے 2 مگے لسی کے پئیے، گپ شپ لگائی، فوٹو بنائی اور سرسری انٹرویو لیا۔۔۔۔ جو کام کی باتیں معلوم ہوئیں وہ یہ تھیں۔۔۔۔۔

روزانہ 15 کلو دودھ کی دھی لگاتا ہوں، جس سے 100 لیٹر چاٹی کی لسی بناتا ہوں، دودھ، آگ، برف، نمک، سرف وغیرہ کا خرچہ روزانہ 2 ہزار سے کم ہی رہتا ہے، 100 لیٹر لسی سے آدھا لیٹر والے 200 سے زیادہ مگے بن جاتے ہیں۔۔۔۔ اور شام تک سکون سے بک بھی جاتے ہیں۔۔۔۔ جس سے 4 ہزار تک رقم مل جاتی ہے، یعنی خرچے نکال کر 2 ہزار روزانہ آمدن ہے۔ 😎
یہ کام مزید صفائی کیساتھ، بوتلوں میں پیک کرکے، یا ڈپوزیبل گلاسوں میں پڑھے لکھے انداز میں بھی کیا جاسکتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کی جاسکتی ہے، اور ہاں 15 کلو دودھ سے لگ بھگ ایک کلو کے قریب دیسی گھی بھی روزانہ حاصل ہوجاتا ہے، جس کی قیمت کم از کم بھی 1200 روپے ہوتی ہے۔ مطلب روزانہ کی خالص آمدن 3 ہزار روپے سکہ رائنج الوقت۔۔۔۔۔۔
ہن دسو۔۔۔۔۔ ایک لکھ روپیہ مہینے دا۔۔۔۔ جس دن مرضی چھٹی مار لو، ویاہ کھا لو، بچے دی دوائی لے آؤ۔۔۔۔۔ نہ کوئی چھک چھک کرنے والا باس نہ کوئی جڑھیں کاٹنے والا چاپلوس چپڑاسی نما کولیگ۔۔۔۔۔
ہمارا سیاپا یہ ہے کہ ہم لسی بیچنے کو تو توہین سمجھتے ہیں۔۔۔۔ لیکن بیچ سڑک کے کھڑے ہوکر مگے پر مگا لسی کا چڑھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

(copied)

20/03/2019
13/06/2017

Bhaio agar aap kisi aisi family2 ko jaantay hayn k jin k gher mein rashan ki kami hai ya eid sahe tarah se celebrate nahe kar saktay onhayn kisi b chez ki zarurat hai wo khud ya agar aap kisi ko janray hayn to msg Kar dayn pls aap b ais naiki k kaam mein shamal ho jayn

Believe welfare trust ki 1  or kawish chack 90gb faisalabad mn taraqyati kamo ka aggaz
19/05/2017

Believe welfare trust ki 1 or kawish chack 90gb faisalabad mn taraqyati kamo ka aggaz

Prize distribution cermany at chak90gb class 1 to class 4th position holder students
31/03/2017

Prize distribution cermany at chak90gb class 1 to class 4th position holder students

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923335189797

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Believe Welfare Trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Believe Welfare Trust:

Share