27/03/2023
26 مارچ
پنجاب کے قابل فخر، سپوت محمد عبداللہ خان بھٹی عرف دلا بھٹی کا یوم شہادت
دلا بھٹی، پنجاب میں دہلی حکومت کے خلاف، مزاحمت کا استعارہ ہے.
دلا بھٹی پنجاب کے علاقے ساندل بار , پنڈی بھٹیاں سے تھا . دلا بھٹی کا اصل نام " عبدالله خاں بھٹی " تھا ۔ اور آج اس کو لوگ پنڈی بھٹیاں کے راجپوت شیر کی نسبت سے جانتے ہیں ۔ وہ مسلمان راجپوت تھا اور زمیندار طبقے کے موروثی مقامی دیہی سرداروں کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد فریدبھٹی اور دادا ساندل بھٹی کو اکبر کے نافذ کردہ دینِ الٰہی کی مخالفت کی پاداش میں اور زمین کی مرکزی مالگذاری قوانین کی مخالفت پر سزائے موت دی گئی تھی۔ دلا بھٹی کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے 12 دن بعد ہوئی۔ اس کی والدہ کا نام لدھی تھا۔
دلا بھٹی نے اپنے دادا اور والد کی طرح اکبر بادشاہ سے محالفت کی اور اپنے علاقے کی زمینوں کا لگان دینا بند کر دیا اور اکبر بادشاہ کے قافلوں کو لوٹ کر غریبوں میں بانٹنا شروع کر دیا ۔ اس پر اکبر بادشاہ نے ایکشن لیا اور اپنا دارالخلافہ دہلی سے لاہور شفٹ کر لیا. آخر کار دلا بھٹی کو گرفتار کر لیا گیا اور 26 مارچ1599ء میں اسے لاہور میں پھانسی دی گئی۔ اکبر کے خیال میں اسے سر عام پھانسی عوام کے لیے ایک مثال بنانے کے لیے تھی کہ تختہ دار پر موت کا خوف دیگر مزاحمت کاروں کی ہمت توڑ دے گا، لیکن دلا بھٹی بہت ثابت قدم ثابت ہوا۔ شاہ حسین صوفی شاعر نے اس کے آخری الفاظ کو اس طرح بیان کیا۔ "پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سرزمین کو فروخت نہیں کرے گا.