07/01/2026
اداروں کی نا اہلی کس طرح شریف انسانوں کو مجرم بنا دیتی ہے ۔
ناصر بٹر اور قیصر بٹر : نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ کے گاؤں کرتو کے دو سگے بھائی جن پر 302 کے 56 مقدمات درج تھے ۔۔۔ایک پولیس ملازم اور دوسرا پٹواری ۔۔۔۔۔یہ دشمن دار تھے یا بدمعاش ۔۔۔؟؟ان کا انجام کیا ہوا تھا ۔۔؟؟ ناصر بٹر اور قیصر بٹر کسی حد تک پڑھے لکھے نوجوان تھے، یہ ایک شریف گھرانہ تھا اور انکے والد زمیندار تھے ، 1989 میں انہوں نے گوجرانوالہ کے علاقہ واہنڈو میں زرعی زمین خریدی اور وہاں کی گجر برادری کے ایک خاندان کو ٹھیکے پر دیدی، کچھ عرصہ تو یہ نظام چلا پھر گجر صاحبان نے نہ صرف ٹھیکہ دینا بند کردیا بلکہ زمین پر بھی قبضہ کر لیا ، بٹر برادران نے علاقہ کے بڑوں سے رابطہ کیا پنچایت کے سامنے کیس رکھا مگر مخالفین نے انہیں بے عزت کرکے پنچایت سے نکال دیا ، یہ بٹر برادران کی زندگی کا ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا اسکے بعد بھی انہوں نے اپنی زمین واپس حاصل کرنے کی پرامن کوششیں کیں مگر جب ہر طرف سے مایوس ہو گئے تو ایک روز دونوں بھائی اپنے کچھ رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ ہتھیاروں سے لیس ہو کر گاؤں واہنڈو گئے اور وہاں ان کا جھگڑا ہو گیا جس میں مخالفین کے دو افراد لقمہ اجل بن گئے ، اس واقعہ کا پرچہ دونوں بھائیوں پر درج ہوا اور یہ اشتہاری ہو گئے ، دوسری جانب انکی نوکریاں بھی ختم ہو گئیں ، اب یہ تاریک راہوں کے مسافر تھے ،کچھ ماہ بعد بٹر برادران نے مخالفین پر ایک اور اٹیک کیا جس میں مخالفین کا ایک اور بندہ ق۔ت۔ل ہو گیا اب پولیس بھی ان دونوں بھائیوں کے پیچھے پڑ گئی اور مخالفین بھی ۔۔ کئی بار جھگڑے ہوئے اور فریقین کے لوگ نشانہ بنتے رہے ، پولیس نے کئی ریڈ کیے مگر یہ دونوں بھائی اور انکے ساتھی پولیس کے ہاتھ نہ لگے ، ان دنوں کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ بٹر برادران کے مخالفین نے ایک سازش کے تحت دو نوجوان انکے پاس بھیجے کہ وہ بٹر گروپ کا حصہ بن جائیں اور موقع ملنے پر انہیں ق۔ت۔ل کردیں مگر بٹر برادران نے سازش کو بھانپ لیا اور ان دونوں نوجوانوں کو اذیت ناک موت سے دوچار کرنے کے بعد نہر میں بہا دیا ، یاد رہے کہ علاقہ کا ایک اور مشہور دشمن دار افضل ٹن ٹن بٹر برادران کا رشتہ دار تھا اس نے بھی دونوں بھائیوں کا ساتھ دیا اور ناصر بٹر اور قیصر بٹر بھی اسکی ہر مم