10/06/2026
گزشتہ روز ٹانک اور گومل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں نے ہمارے تعلیمی اداروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جنان کوٹ کڑی کوٹ کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ گومل میں تین بڑے پرائیویٹ اسکولز—غزالی سکول اینڈ کالج، گومل اسکول اینڈ کالج، اور عبد الاکبر اسکول—کو سرکاری اور انتظامی کارروائی کے تحت بند کر دیا گیا۔ یہ حملے نہ صرف طلبہ اور اساتذہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی بنیاد یعنی تعلیم کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ہم اس بات پر حکومت کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے ادارے کسی بھی طرح کے تشدد یا خوف کے ماحول سے محفوظ ہوں۔ حکومت وقت، جس نے اپنی ذمہ داری قبول کی ہے، فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ
1. حملے کے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
2. تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ طلبہ اور اساتذہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
3. متاثرہ اداروں کی بحالی اور طلبہ کی تعلیم کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے۔
اسلامی جمعیت طلبہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت وقت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور عوام کے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کرے۔ تعلیم پر حملے ہر شہری اور ہر والدین کے لیے ناقابل قبول ہیں، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ذمہ دار حکومت اس بات کو نظر انداز نہیں کرے گی۔
نوید احمد غزنوی
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ڈیرہ اسماعیل خان مقام