04/01/2026
بیوہ اور یتیموں کی فریاد,
لکی مروت کے انتہائی پسماندہ گاؤں وانڈہ نمانڑی میں رہنے والی میرم جانہ کی زندگی ایک خاموش المیہ بن چکی ہے۔ چند سال قبل ان کا سہارا، ان کا شوہر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شوہر کی وفات کے ساتھ ہی جیسے ان کی زندگی پر غم، آزمائش اور بے بسی کے دروازے کھل گئے۔
آج میرم جانہ کی پوری دنیا صرف تین معصوم بچے اور ایک بوسیدہ سا کمرہ ہے۔ فوتگی کے ابتدائی دنوں میں چند ہمدردیاں ضرور ملیں، چند آنسو بہائے گئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب نے منہ موڑ لیا۔ رشتہ دار، اپنوں اور سہارا دینے والوں نے انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
گھر میں کمانے والا کوئی نہیں، اخراجات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ مقامی دکانداروں نے ادھار دیا، مگر جب ادائیگی ممکن نہ ہو سکی تو وہ دروازے بھی بند ہو گئے۔ پڑوسیوں کی ہمدردیاں بھی وقتی ثابت ہوئیں۔
گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ اکثر ان کے گھر میں فاقے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار ایک وقت کا کھانا نصیب ہو جاتا ہے، مگر اکثر شام کے وقت اس بوسیدہ کمرے سے بچوں کے رونے اور ایک ماں کے اپنے معصوم بچوں کو جھوٹے دلاسے دینے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ نہ پانی ہے، نہ بجلی، نہ زندگی کی بنیادی سہولتیں—بس صبر، آنسو اور خاموشی ہے۔
مگر اس سب کے باوجود یہ باہمت عورت عزت اور حیا کے دامن کو تھامے ہوئے ہے۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے پہلے سو بار سوچتی ہے، مگر حالات نے اسے فریاد پر مجبور کر دیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے بیواؤں اور یتیموں کا خاص خیال رکھنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ آج یہ ہماری دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ ہم اس مجبور بہن اور اس کے یتیم بچوں کا سہارا بنیں۔
خدارا! ان معصوم یتیم بچوں پر رحم کیجیے۔ آئیے، اپنی حیثیت کے مطابق صرف اللہ کی رضا کے لیے ان کی مدد کیجیے تاکہ ایک ماں اپنے بچوں کو روتا ہوا نہیں بلکہ مسکراتا ہوا دیکھ سکے۔
مدد کے لیے:
ایزی پیسہ / جاز کیش اکاؤنٹ نمبر: 03028083730
بنام: میرم جانہ