23/11/2025
وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وائس چانسلر کا قصور یہی ہے کہ اس نے اتے ھی اصلاھاتی ایجنڈے پر عمل کرتے ھوئے کروڑوں روپے کی کرپشن کو روکا۔ایفلیشن میں اربوں کی کرپشن غبن ھوئی جس پر وائس چانسلر نے بڑے پیمانے پر کرپشن کو روکا۔ھزاروں کی تعداد میں ڈگریاں بیچی گئی جسمیں ایک ڈین سمیت کئی لوگ ملوث ھیں ھاسٹلوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن ھوئی ھر صدر کو پانچ پانچ کمرے مفت دیئے گئے۔لیکن اب اس نئے وائس چانسلر نے اتے ھی اس سارے سسٹم کو ٹھیک کیا تو اب یہ مافیا اور اسمیں ملوث لوگ جن کی گردن پر وائس چانسلرنے احتسابی عمل شروع کیا تو اب یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر کچھ مخصوص ٹولے کو کبھی وائس چانسلر کے دفتر شور مچانے کے لیے بھیجتے ھیں تو کبھی رجسٹرار کے دفتر تاکہ یونیورسٹی کا ماحول خراب ھو اور کسی طریقے سے اس کرپٹ ٹولے کی گرفت میں آجائے
اھم بات یہ ھے کہ پچھلے ھفتے ایک اعلٰی افسر کے گھر ان تمام صدوروں اور ٹولے کی میٹنگ ھوئی جسمیں یہ تمام معاملات طے ھوئے جو اب روزانہ کی بنیاد پر یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
اسں مادر علمی کو لسانیت کا شکار کرنے کی کوشش کی جارہی ھے جو کسی کے مفاد میں نہیں۔ پی ٹی ائ ایک طرف تو جنرل عاصم کی ایکسٹنشن کی مخالفت کررہی ھے اور دوسری طرف ایک وائس چانسلر کو تاحیات گومل یونیورسٹی میں بٹانے کی سازش کررہی ھے
میری تمام سیاسی رہنماؤں، سوشل میڈیا پر اثر رکھنے والے افراد، اور علاقے کے عمائدین سے یہ عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے علاقے کے نوجوانوں اور آنے والی نسل کی بہتری کے لیے اپنی آواز کو استعمال کریں۔ شور کے بجائے شعور کو، جھوٹ کے بجائے حقیقت کو، اور افواہوں کے بجائے حق کو پروموٹ کیا جائے!
یاد رکھیں، گومل یونیورسٹی ہماری اپنی ہے یہ ہمارے علاقے کا مستقبل ہے۔
.. اسے بند کرانا درحقیقت ہماری اپنی بربادی ہے۔
..اسے آباد رکھنا ہماری اپنی ترقی اور آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
لبوں پہ آئی تھی ایک بات حرف حق بن کر
خبر یہ پھیلی جہاں میں کہ زباں دراز ہیں ہم..