Razia Mahsood Development Foundation-RMDF

Razia Mahsood Development Foundation-RMDF 🌟 Razia Mahsood Development Foundation-RMDF(Regd): Empowering communities for sustainable change in Pakistan.

Education 📚 Healthcare 🏥 Women's empowerment 👩‍🦱 Environment 🌳 Skills 💡 Join us! 💻 www.rmdfpk.org 🌍"
Faith || Family || Future

18/09/2026
17/09/2026

RMDF Plants & Distributes 3,000+ Plants 🌱 | Green Dera Plantation Drive | Forest Department D.I. Khan

🌱 GREEN DERA PLANTATION DRIVE | RMDF
Razia Mahsood Development Foundation (RMDF) planted and distributed 3,000+ plants in collaboration with the District Forest Department, D.I. Khan, as part of our commitment to a greener, healthier and more sustainable future.
This initiative promotes:
🌳 More trees and green spaces
🌱 Environmental protection
🌍 Climate change action
💚 Cleaner and healthier communities
🤝 Community participation
🤝 Special Thanks
Our sincere thanks to Mr. Amin Ullah Khattak the District Forest Department, D.I. Khan, for their cooperation and support in this plantation initiative.
💚 Support RMDF

RMDF is working to support communities and create sustainable social and environmental impact. Your contribution can help RMDF continue plantation drives and other community initiatives.
Every contribution can make a difference.
🌱
🏦 RMDF Donation Bank Accounts
Habib Metropolitan Bank
Account Title: Razia Mahsood Development Foundation-RMDF
Account Number: 06-98-19-29319-714-0106430
IBAN: PK94MPBL9819 7371 4010 6430
Branch Code: 9819
________________________________________
Bank AL Habib
Account Title: Razia Mahsood Development Found-RMDF
Account Number: 0081-006374-01-8
IBAN: PK85BAHL5520008100637401
Branch Code: 5520
________________________________________
Meezan Bank — Dera Ismail Khan
Account Title: Razia Mahsood Development Foundation (RMDF)
Account Number: 2601 0113893352
IBAN: PK76MEZN0026010113893352
Branch Code: 2601

📱 EasyPaisa
EasyPaisa: 0346 7850690

🌐 Donate Online
You can also support RMDF through our website:
www.rmdfpk.org

Support RMDF. Plant a tree. Build a greener future. 🌳💚

بیٹیاں انسان ہیں، قرض نہیںوزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ویڈیو کسی نے میرے ساتھ شیئر کی۔ ویڈیو میں وہ خاتون اپ...
11/09/2026

بیٹیاں انسان ہیں، قرض نہیں
وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ویڈیو کسی نے میرے ساتھ شیئر کی۔ ویڈیو میں وہ خاتون اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ کسی مقامی بچے کے پاس امداد کی غرض سے گئی ہوئی تھی اور اپنی روداد بیان کر رہی تھی۔ باقی معاشی مشکلات اپنی جگہ، مگر مجھے جس بات نے سب سے زیادہ چونکا دیا وہ یہ تھی کہ اس عورت کے بقول وہ بیوہ ہے اور اس کے مرحوم شوہر نے اپنی بیٹیوں کو قرض کے عوض گروی رکھا ہوا ہے۔ اس کے پاس صرف اس کا چھوٹا بیٹا ہے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس کی بیٹیاں کسی کے پاس گروی ہیں، جبکہ وہ خود راشن اور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے فریاد کر رہی ہے۔
اب حیرت تو ہوتی ہی ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ ایک طرف ہم عورت کو بنیادی حقوق دینا تو دور کی بات، بعض اوقات اسے انسان تک کا درجہ نہیں دیتے۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو بعض جگہ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی قیمت لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ستر ہزار کما لیے، یعنی جب جوان ہوگی تو ستر ہزار میں بیاہ دی جائے گی جو کسی وقت بیٹی کے بیاہنے کی قیمت ہوا کرتی تھی ۔ گویا بیٹی انسان نہیں بلکہ ایک مقررہ ریٹ ہے۔
اور اگر گھر میں معاشی مشکلات آجائیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کو کسی کے پاس قرض کے عوض گروی رکھ دیا جاتا ہے، جیسے وہ انسان نہیں بلکہ ہمارے پیٹ پالنے اور ہمارے حالات بہتر کرنے والی کوئی مشینیں ہوں۔ ان کا کوئی درد نہیں، کوئی احساس نہیں، کوئی خواب نہیں، کوئی خوشی غم نہیں، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کی کوئی اہمیت نہیں، بس ہماری مجبوری آئی اور ہم نے اپنی بیٹی کو اس مجبوری کا حل بنا دیا۔
والد کی بے بسی اپنی جگہ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک باپ اپنی چھوٹی بچی کو کسی کے پاس گروی رکھتے ہوئے اس کے مستقبل کے بارے میں کیسے نہیں سوچتا؟ اور جو لوگ کسی مجبور خاندان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر چھوٹی بچیوں کو اپنے پاس گروی رکھنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، وہ کیسے انسان ہیں؟
ویسے بھی ہمارے معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو وہ مقام حاصل نہیں جو انہیں ملنا چاہیے۔ اب اگر کوئی بچی قرض کے عوض کسی گھر میں آتی ہے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟ گھر کا سارا کام اس کے ذمہ، بچوں کی دیکھ بھال اس کے ذمہ، چشمے سے پانی بھر کر لانا اس کے ذمہ، مال مویشی چرانا اس کے ذمہ اور گھر کے باقی کام بھی اس کے ذمہ۔ کیونکہ جب ہم اپنی ہی بیٹیوں کو انسانوں والا مقام نہیں دیتے، اپنی بیٹی کو صرف یہ کہہ کر پرایا سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے ایک دن دوسرے گھر چلے جانا ہے، تو پھر قرض کے عوض کسی گھر میں آنے والی بچی کو ہم کیسے انسانوں والا مقام دے سکتے ہیں؟
اسی وزیرستان سے ایک مجبور باپ کی ایک ویڈیو بھی میری نظر سے گزری تھی جس میں وہ اپنی بیمار ماں کے علاج کے لیے اپنی چھوٹی بیٹی کو دینے کی بات کر رہا تھا۔ وہ مجبوری میں کہہ رہا تھا کہ سات آٹھ لاکھ روپے دے دو اور میری بیٹی لے لو، لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ بچی چھوٹی ہے اور اس کی قیمت پچاس ہزار سے زیادہ نہیں۔ ذرا سوچیں، ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک معصوم بچی کی قیمت بھی لگائی جاتی ہے؟
مختصر یہ کہ ہم نے بیٹی کو انسان سے قیمت بنا دیا ہے۔ اپنی بے بسی اور اپنی وقتی ضرورت کا حل ہم نے بیٹی کو گروی رکھ کر نکال لیا، لیکن اس بچی کی پوری زندگی تباہ کردی۔ نہ اس کی ماں کا سوچا، نہ اس بچی کی جسمانی اور ذہنی حالت کا، نہ اس کے مستقبل کا۔
افسوس، صد افسوس۔
ہمارے مشران آج کل عورتوں کی شادی بیاہ پر جرگے کرتے ہیں، لیکن عورت کے بنیادی حقوق پر کہاں جرگے ہوتے ہیں؟ بچیوں کی تعلیم، وراثت میں ان کے حصے، ظلم و زیادتی، جبری شادی، عورت کی صحت اور عزت کے مسائل پر ہماری آواز کہاں ہوتی ہے؟ لینڈ مائنز میں خواتین متاثر ہوں، خاموشی۔ عورت کے ساتھ ظلم ہو، خاموشی۔ بچیوں کے حقوق چھینے جائیں، خاموشی۔ لیکن عورت کی شادی کا معاملہ ہو تو فوراً جرگے شروع ہوجاتے ہیں۔
ایک سوال جو میں اپنے مشران کے سامنے ضرور رکھوں گی کہ کیا آپ لوگوں کی آواز اور جرگے صرف عورت کے شادی بیاہ کا ریٹ فکس کرنے تک محدود ہیں؟ کیا عورت کو اپنے مفاد کے لیے کلاس فور کی نوکریاں دلوانا، پھر اسے اپنی تنخواہ رکھنے سے روک دینا ہی عورت کے حقوق ہیں؟ کیا عورت کے نام پر سکول اور ترقیاتی منصوبے منظور کروانا مگر عملی طور پر عورت کو اس کا فائدہ نہ دینا ہی ہماری خدمت ہے؟ کیا عورت کے نام پر سلائی مشینیں حاصل کرنا اور پھر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرکے رقم اپنی جیب میں رکھ لینا ہی عورتوں کی ترقی ہے؟
آخر مشران صرف اس لیے مشران ہوتے ہیں کہ ان کی سفید داڑھی ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ عمر میں بڑے ہیں؟ یا کسی سرکاری عہدے پر ہیں؟یا کسی سرکاری لسٹ میں مشران ہیں میرے خیال میں اصل مشر وہ ہے جو بڑے پن کا مظاہرہ کرے، احساس ذمہ داری رکھے، کمزور کے لیے کھڑا ہو، ظلم کے سامنے خاموش نہ رہے، آسانیاں بانٹے اور انسانیت کے ساتھ معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
مشر وہ نہیں جو کمزور کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے، مشر وہ ہے جو کمزور کی مجبوری ختم کرے۔
اگر واقعی میں خود کو اپنے معاشرے کے مشران سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، ان کی عزت اور تحفظ کے لیے کھڑے ہوں اور یہ بات سب کو سمجھائیں کہ بیٹی کوئی قرض نہیں، کوئی قیمت نہیں، کوئی سودا نہیں، بیٹی ایک انسان ہے۔رضیہ محسود

07/09/2026

ڈاکٹر صفورہ شاہد، ماہر امراضِ نسواں سرویکل کینسر، اس سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور باقاعدہ طبی معائنے کی اہمیت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر رہی ہیں۔

آئیں مل کر آگاہی پھیلائیں، خواتین کو بروقت اسکریننگ کی ترغیب دیں اور درست معلومات کے ذریعے خواتین اور بچیوں کو محفوظ بنائیں۔ بروقت آگاہی زندگی بچا سکتی ہے۔

#آگاہی

05/09/2026

She Needed a Laptop for Her Education — RMDF Responded | South Waziristan**
**تعلیم کے لیے لیپ ٹاپ کی ضرورت تھی — RMDF نے فوری مدد کی | جنوبی وزیرستان**

A female university student from **South Waziristan Upper** needed a laptop for her research, assignments, and academic presentations.

She tried to seek support by contacting the **Education Minister** and the **Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa**, but unfortunately, she could not get the assistance she needed.

Then she contacted **Razia Mahsood Development Foundation (RMDF)**.

RMDF responded quickly to her request and provided her with a laptop so she could continue her education, research, and academic work with greater confidence.

💻 **A laptop is not just a device. For a student, it can be a gateway to education, research, digital skills, and a better future.**

RMDF believes that students from underserved communities should not be left behind because they lack essential educational resources.

❤️ **You can help RMDF support more deserving students and young people.**

🌍 **Donate Online from Anywhere in the World:**
[Donate to RMDF Online — Worldwide https://rmdfpk.org/donate/

**Your donation can turn a need into an opportunity.**

جنوبی وزیرستان اپر سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کو اپنی تعلیمی تحقیق، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز کے لیے لیپ ٹاپ کی ضرورت تھی۔

انہوں نے مدد کے لیے وزیرِ تعلیم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے انہیں مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا۔

اس کے بعد انہوں نے Razia Mahsood Development Foundation (RMDF) سے رابطہ کیا۔

آر۔ایم۔ڈی۔ایف نے ان کی درخواست پر فوری ردِعمل دیا اور انہیں لیپ ٹاپ فراہم کیا، تاکہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور تعلیمی سرگرمیاں اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔

💻 **ایک لیپ ٹاپ صرف ایک ڈیوائس نہیں، بلکہ ایک طالب علم کے لیے تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل مہارتوں اور بہتر مستقبل کی طرف ایک راستہ ہے۔**

آر۔ایم۔ڈی۔ایف کا یقین ہے کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیمی مواقع سے محروم نہیں ہونے چاہئیں۔

❤️ **آپ بھی RMDF کے ساتھ مل کر مزید مستحق طلبہ اور نوجوانوں کی مدد کر سکتے ہیں۔**

🌍 **دنیا کے کسی بھی حصے سے آن لائن عطیہ کریں:**
دنیا بھر سے آر۔ایم۔ڈی۔ایف کو آن لائن عطیہ دیں —https://rmdfpk.org/donate/
**آپ کا عطیہ کسی ضرورت کو ایک نئے موقع میں تبدیل کر سکتا ہے۔**

**Razia Mahsood Development Foundation (RMDF)**
**Faith • Family • Future**
ایمان / خاندان / مستقبل

#تعلیم #طالبات

05/09/2026

مجھے اس وقت بہت خوشی، سکون اور اطمینان محسوس ہوتا ہے جب میری وجہ سے کسی مستحق، کسی ضرورت مند یا کسی دردمند انسان کی کوئی...
02/09/2026

مجھے اس وقت بہت خوشی، سکون اور اطمینان محسوس ہوتا ہے جب میری وجہ سے کسی مستحق، کسی ضرورت مند یا کسی دردمند انسان کی کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ممکن ہوتا ہے، اور خاص طور پر اُس طبقے کے لیے فرنٹ لائن پر کردار ادا کرنے کا جو ہر لحاظ سے محروم رہ گیا ہو، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو یہ شرف عطا کیا ہے، میں اس خدمت پر جتنا بھی اللہ کا شکر ادا کروں، کم ہے۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے میرے کام پر تنقید برائے تنقید کرتا ہے۔ کیونکہ اکثر وہی لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں جو خود نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو کچھ کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس تنقید کے سوا شاید کچھ نہیں ہوتا۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اُس نے مجھے فارغ ذہن اور صرف باتیں کرنے والوں کی صف میں شامل نہیں کیا، بلکہ اُن عاجز لوگوں میں شامل کیا جنہیں خدمتِ خلق میں سکون ملتا ہے۔ جن کی زندگی کا ایک ایک دن اس کوشش میں گزرتا ہے کہ آج کسی انسان کے لیے کچھ اچھا کیا جائے، کسی کے لیے آسانی پیدا کی جائے، کسی ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جائے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی مجھ پر خاص مہربانی ہے، ورنہ دنیا میں بے شمار ذہین، ہوشیار، چالاک اور قابل لوگ موجود ہیں، مگر بہت سے لوگ اپنی صلاحیتیں صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان تک محدود رکھتے ہیں۔
میری نظر میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے اپنی زندگی میں صرف اپنے لیے کیا حاصل کیا، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے کتنی زندگیوں میں آسانی آئی، کتنے چہروں پر مسکراہٹ آئی اور کتنے محروم لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ سے صرف یہی دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے قابل رکھے، میری نیت کو خالص رکھے اور مجھے اپنی مخلوق کے لیے آسانی کا ذریعہ بنائے۔
الحمدللہ، خدمتِ خلق ہی میرے لیے سکون ہے۔
رضیہ محسود

01/09/2026

فخرِ محسود | فخرِ وزیرستان

رضیہ محسود — وزیرستان کی باہمت بیٹی
رضیہ محسود ایک باصلاحیت صحافی، مصنفہ، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی شخصیت محنت، حوصلے، شعور اور خدمتِ انسانیت کی خوبصورت مثال ہے۔
وہ RMDF کی چیئرپرسن جبکہ DCSW, SWTD کی چیئرپرسن کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی، خواتین اور نوجوانوں کی آواز کو اجاگر کرنا اور انسانیت کی خدمت ان کی جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔
رضیہ محسود وزیرستان کی ان باہمت بیٹیوں میں سے ہیں جو اپنی صلاحیتوں اور مثبت کردار کے ذریعے اپنے علاقے اور قوم کا نام روشن کر رہی ہیں۔
ہمیں اپنی ایسی باصلاحیت بیٹیوں پر فخر ہے۔
Pride of Mehsud • Daughter of Waziristan
📍 MehsudSpotlight

Address

House #4 Main Street Wensam Society Multan Road D I Khan Khyber Pakhtunkhwa
Dera Ismail Khan
29111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Razia Mahsood Development Foundation-RMDF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Razia Mahsood Development Foundation-RMDF:

Shortcuts

Share