ROSE-CHITRAL

ROSE-CHITRAL ROSE CHITRAL supporting needy & talented students getting Higher education by providing Scholarship

Regional Organization for Supporting Education Chitral is a registered non profit organization set up to support the financially constrained but talented youth of chitral in pursuing their higher educaiton in various reputed institutes of Pakistan.It has been working informally since 2007 and has helped a number of financially constrained but talented students of chitral in various universities in

different disciplines of higher education.Now it is working with a formal setup and has extended its collaboration with different sectors of community within and outside Pakistan to promote global peace and literacy through education.

24/04/2026

اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔ اب بات کرتے ہیں تمہاری۔ ہاں تمہاری۔ جو یہ پوسٹ پڑھ رہی ہو۔ اسکول میں ہو، کالج میں ہو، یا یونیورسٹی میں۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا: سارہ کی طرح لیب کا راستہ۔ رات دس بجے گارڈ کے طعنے سننا، مگر انجن بنا کر نکلنا۔ دوسرا: انسٹاگرام کا راستہ۔ ریل بنانا، لائک گننا، اور دس سال بعد پچھتانا کہ “کاش میں نے بھی کچھ کر لیا ہوتا”۔ سارہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ لڑکوں کا فیلڈ نہیں ہے۔ R&D پاکستان میں نہیں ہو سکتی یہ جھوٹ ہے۔ جیٹ انجن ہم نہیں بنا سکتے یہ بہانہ ہے۔ اس نے کر کے دکھا دیا۔ اب بال تمہارے کورٹ میں ہے۔ تمہارا باپ سائنسدان نہیں ہے؟ سارہ کا تھا۔ تم فائدہ اٹھاؤ۔ اپنے بھائی کو، والد کو، استاد کو اپنا پارٹنر بناؤ۔ ٹیم بناؤ۔ سارہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے والد مسعود لطیف قریشی اس کے کو-فاؤنڈر ہیں۔ باپ بیٹی نے مل کر دنیا ہلا دی۔ تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو۔ اور سب سے ضروری بات: مسئلہ ڈھونڈو۔ رونا بند کرو۔ دنیا گلوبل وارمنگ سے رو رہی تھی۔ سارہ نے انجن بیچ کر اربوں بھی کمائے اور دنیا بھی بچا لی۔ تمہارے گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے؟ سولر پمپ بناؤ۔ لوڈ شیڈنگ ہے؟ بیٹری بناؤ۔ بے روزگاری ہے؟ ایپ بناؤ۔ بہانہ مت بناؤ۔ سارہ کے پاس ہزار بہانے تھے۔ “میں لڑکی ہوں” سب سے آسان تھا۔ اس نے استعمال نہیں کیا۔ تم بھی مت کرو۔

2026 ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے دس لاکھ لوگوں کو AI سکھائیں گے۔ مگر AI سے پہلے ایرو اسپیس ہے۔ جیٹ انجن ہے۔ ہارڈ ویئر ہے۔ اگر ہم نے سارہ جیسی دس لڑکیاں اور پیدا نہ کیں، تو کل ہم AI بھی باہر سے خریدیں گے، انجن بھی، اور جہاز بھی۔ اور ہماری بیٹیاں ایئر ہوسٹس بن کر ان جہازوں میں چائے سرو کریں گی جو ہماری ہی کسی بہن نے ایجاد کیے ہو سکتے تھے۔ فیصلہ ابھی کرو۔ یہ پوسٹ اس لڑکی کو بھیجو جو کہتی ہے “مجھ سے نہیں ہو گا”۔ اس کے ماتھے پر مارو یہ پوسٹ۔ اسے بتاؤ کہ NUST کی اس کلاس میں ساٹھ لڑکوں کے سامنے ایک سارہ کھڑی ہوئی تھی۔ آج پوری دنیا اس کے سامنے کھڑی ہے۔ تم بھی کھڑی ہو سکتی ہو۔ شرط صرف ایک ہے: کلاس کا راستہ مت پوچھو، کلاس کا راستہ بناؤ۔ اور جب انجن بن جائے تو دنیا کو بتانا مت بھولو کہ “ہاں، میں پاکستان کی بیٹی ہوں۔ اور میں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا”۔ کمنٹ میں “انجن” لکھ کر اعلان کرو کہ اگلی سارہ قریشی تم ہو۔ میں گن رہا ہوں۔ پاکستان گن رہا ہے۔

DrSaraQureshi

گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف چترال میں چیئرمین “روز چترال” ہدایت اللہ نے ایک اہم سیمینار سے خطاب کیا، جس کا موضوع “نوجوان تبد...
23/04/2026

گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف چترال میں چیئرمین “روز چترال” ہدایت اللہ نے ایک اہم سیمینار سے خطاب کیا، جس کا موضوع “نوجوان تبدیلی کے معمار اور مستقبل کے قائدین” تھا۔ اس موقع پر انہیں علامہ محمد اقبال کے شہرۂ آفاق شعر:

“سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا”

کی روشنی میں اظہارِ خیال کا موقع ملا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں اس شعر کی نہایت فکرانگیز تشریح پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو محض ڈگریوں کے حصول تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سچائی، انصاف اور جرأت جیسے اعلیٰ اوصاف کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس شعر میں طلبہ کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات موجود ہے۔ صداقت سے مراد یہ ہے کہ طالب علم امتحان میں نقل سے اجتناب کرے، کلاس روم میں باقاعدگی سے حاضری یقینی بنائے، یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرے، کتابوں سے محبت پیدا کرے اور اپنے تعلیمی ادارے کے ساتھ مخلص رہے۔ یہی حقیقی سچائی ہے جو کردار سازی کی بنیاد بنتی ہے۔

اسی طرح عدالت سے مراد انصاف اور ذمہ داری کا احساس ہے۔ والدین نے جس مقصد کے لیے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجا ہے، اس کے مطابق وقت دینا، وقت کو ضائع نہ کرنا اور دستیاب وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرنا انصاف ہے۔ اس کے برعکس، تعلیم سے غفلت برتنا، مطالعہ نہ کرنا اور مواقع کو ضائع کرنا دراصل خیانت اور ناانصافی کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ شجاعت صرف ظاہری بہادری کا نام نہیں بلکہ اخلاقی جرأت کا مظہر ہے۔ برائیوں، منفی خیالات، آوارہ گردی اور تعلیمی اداروں میں منفی سرگرمیوں سے دور رہنا ہی اصل بہادری ہے۔ منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے خود کو بچانا بھی شجاعت کی اعلیٰ مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمارا معاشرہ جن سنگین چیلنجز سے دوچار ہے—خواہ وہ تعلیمی پسماندگی ہو، بے روزگاری ہو یا اخلاقی زوال ان تمام مسائل کا حل ایک باشعور، باکردار اور متحرک نوجوان نسل میں پوشیدہ ہے۔ اگر نوجوان علامہ محمد اقبال کے اس پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو وہ نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

ہدایت اللہ نے زور دیا کہ قیادت محض کسی عہدے کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ حقیقی قائد وہی ہوتا ہے جو مشکل حالات میں بھی سچ کا ساتھ دے، انصاف قائم کرے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے عملی جدوجہد کرے۔

آخر میں انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ خود اعتمادی کو اپنا شعار بنائیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور معاشرے کی بہتری کے لیے عملی میدان میں آگے بڑھیں، کیونکہ آنے والا کل انہی کے ہاتھوں سے تشکیل پانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صداقت، عدالت اور شجاعت سے بھرپور زندگی ہی انسان کو بڑے مقاصد تک پہنچاتی ہے، جبکہ ان اصولوں کے بغیر زندگی بے مقصد اور آلودہ بن کر رہ جاتی ہے۔

https://www.facebook.com/share/p/1DqJofFGS7/
20/04/2026

https://www.facebook.com/share/p/1DqJofFGS7/

یہ کہانی ہے ہنری فورڈ (Henry Ford) کی — ایک ایسے انسان کی جسے بار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے ہار ماننا نہیں سیکھا۔ ہنری فورڈ ایک سادہ گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے پاس کوئی خاص وسائل نہیں تھے، مگر اس کے ذہن میں ایک خواب تھا — ایسی گاڑی بنانا جو عام انسان بھی خرید سکے۔ اس وقت گاڑی صرف امیروں کے لیے ہوتی تھی، اور لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ کبھی نہیں بدل سکتا۔

اس نے کام شروع کیا… مگر ناکامی ملی۔
پھر دوبارہ کوشش کی… پھر ناکامی۔
ایک نہیں، دو نہیں بلکہ کئی بار اس کے کاروبار بند ہو گئے۔ سرمایہ ختم ہو گیا، لوگوں نے ساتھ چھوڑ دیا، اور کئی لوگوں نے اسے ناکام قرار دے دیا۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر لوگ رک جاتے ہیں…
لیکن وہ نہیں رکا۔

اس نے ہر ناکامی سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ اپنی غلطیوں کو سمجھا، اپنے طریقے کو بہتر کیا، اور پھر سے کوشش کی۔ آخرکار اس کی محنت رنگ لائی، اور اس نے ایسی گاڑی تیار کی جو عام لوگوں کی پہنچ میں تھی۔
یہ صرف ایک کامیابی نہیں تھی…
یہ ایک سوچ کی جیت تھی۔
آج اس کا نام دنیا کے کامیاب ترین کاروباری لوگوں میں لیا جاتا ہے — مگر اس کے پیچھے چھپی ہوئی کہانی مسلسل ناکامی اور نہ رکنے کی ہے۔

اصل بات یہ ہے:
ناکامی آپ کو روکنے کے لیے نہیں آتی… وہ آپ کو بہتر بنانے کے لیے آتی ہے۔
کیا آپ بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں؟ یا آپ پہلی ناکامی کے بعد رک جاتے ہیں؟

آج سے 31 سال پہلے، پاکستان کے شہر لاہور کے قریب ایک گاؤں میں ایک 12 سالہ لڑکے کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ...
19/04/2026

آج سے 31 سال پہلے، پاکستان کے شہر لاہور کے قریب ایک گاؤں میں ایک 12 سالہ لڑکے کو اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے کزنز کے ساتھ سائیکل چلا رہا تھا۔

اس کا نام اقبال مسیح تھا۔

صرف چار سال کی عمر میں، اس کے خاندان نے اسے 600 روپے کے قرض کے بدلے ایک قالین فیکٹری کے مالک کے ہاتھوں بیچ دیا، جو کہ 12 ڈالر سے بھی کم رقم بنتی ہے۔ اگلے چھ سال تک وہ کھڈی کے ساتھ زنجیروں میں جکڑا رہا۔ وہ روزانہ 12 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن، معمولی اجرت پر کام کرتا تھا۔ جب وہ سست پڑتا تو اسے قالین بنانے والے اوزار سے مارا جاتا۔ فیکٹری مالکان جان بوجھ کر بچوں کو کم خوراک دیتے تاکہ ان کی انگلیاں باریک رہیں اور وہ باریک بُنائی کر سکیں۔

دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کا قد صرف چار فٹ رہ گیا تھا، جو اس عمر کے ایک عام بچے سے ایک فٹ کم تھا۔

ایک دن وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ ایک ٹریکٹر کے پیچھے لٹک کر ایک ایسے اجتماع تک پہنچا جہاں جبری مشقت کے خلاف بات ہو رہی تھی۔ وہاں اس نے پہلی بار سنا کہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ جب مقرر نے پوچھا کہ کیا کوئی کچھ کہنا چاہتا ہے، تو اقبال مائیک کے سامنے آ گیا۔

اور پھر وہ کبھی خاموش نہیں ہوا۔

اس نے پاکستان بھر میں قالین کی فیکٹریوں سے تین ہزار سے زائد بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کروانے میں مدد دی۔ اس نے تین سال میں پانچ سال کی تعلیم مکمل کی۔ اس نے سویڈن اور امریکہ میں بین الاقوامی کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ بوسٹن میں ایک ہال بھرے بڑوں کے سامنے اس نے کہا کہ وہ وکیل بننا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کے ہر غلام بچے کو آزادی دلا سکے۔ اس وقت اس کی عمر صرف 12 سال تھی۔ Brandeis University نے اسے مکمل اسکالرشپ کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ اس کا انتظار کریں گے۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی پاکستان کیوں واپس جانا چاہتا ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، تو اس نے جواب دیا کہ اس کا مشن اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے۔

1995 کے ایسٹر کے دن، جب وہ سائیکل پر گھر واپس جا رہا تھا، اسے پیچھے سے گولی مار دی گئی۔ اس کے جسم پر شاٹ گن کے 120 سے زائد چھروں کے نشانات تھے۔ اس کے کزنز کو معمولی چوٹیں آئیں، اصل نشانہ وہی تھا۔

اس کے جنازے میں 800 افراد شریک ہوئے۔ اگلے دنوں میں لاہور کی سڑکوں پر تین ہزار افراد نے مارچ کیا، جن میں نصف کی عمر 12 سال سے بھی کم تھی۔

اس کی شہادت کے بعد، امریکہ کے ریاست میساچوسٹس کے ایک اسکول کے ساتویں جماعت کے طلبہ، جہاں اقبال نے کبھی خطاب کیا تھا، نے 25 ہزار ڈالر جمع کر کے پاکستان میں اس کے نام سے ایک اسکول قائم کیا۔ آج 16 اپریل کو بچوں کی غلامی کے خلاف عالمی دن کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس کے اعزاز میں “اقبال مسیح ایوارڈ برائے انسدادِ چائلڈ لیبر” بھی قائم کیا، جو آج بھی ہر سال دیا جاتا ہے۔

Grateful to the University of Chitral for the opportunity to speak at the one-day seminar on “Youth for Good Governance ...
18/04/2026

Grateful to the University of Chitral for the opportunity to speak at the one-day seminar on “Youth for Good Governance and Sustainable Future.”

It was an honor for the Chairman of ROSE-CHITRAL to share thoughts on empowering youth through education and collective responsibility. Conversations like these matter because they shape the mindset of the next generation and open doors to real change.

Appreciation to the Department of Sociology and the District Youth Office for organizing such a meaningful platform, and to all fellow speakers and participants for making it engaging and impactful.

The future belongs to informed, responsible, and empowered youth—and Chitral is moving in the right direction.

وادی گرم چشمہ (لٹکوہ) کے انتہائی دور افتادہ اور افغان سرحد سے متصل علاقے گبور میں پچھلی اڑھائی دہائیوں سے علم کی روشنی پ...
16/04/2026

وادی گرم چشمہ (لٹکوہ) کے انتہائی دور افتادہ اور افغان سرحد سے متصل علاقے گبور میں پچھلی اڑھائی دہائیوں سے علم کی روشنی پھیلانے والا "المختار کمیونٹی ہائی سکول" علاقے کے بچوں کے لیے امید کی ایک بڑی کرن ہے۔ یہ چترال کا وہ واحد نجی تعلیمی ادارہ ہے جہاں ایک مخیر شخصیت کے تعاون سے بچوں کو مفت تعلیم اور درسی کتب فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ جیسا کہ آپ ہمارے فیس بک پیج کے ذریعے باخبر ہیں کہ گزشتہ برس جب فنڈنگ میں کمی کے باعث یہ سکول مالی بحران کا شکار ہوا، تو ROSE-CHITRAL نے فوری طور پر نصابی کتب فراہم کیں۔ اس کے ساتھ ہی، چیئرمین ROSE-CHITRAL کی قیادت میں ہماری ٹیم نے گبور کا دورہ کیا اور مقامی عمائدین کی مشاورت سے سکول کو مستقل بنیادوں پر چلانے کے لیے 50,000 روپے کی ابتدائی رقم سے ایک انڈومنٹ فنڈ (Endowment Fund) بھی قائم کیا تھا تاکہ اس مشن میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

اسی عہدِ وفا کو نبھاتے ہوئے اور اپنے تعلیمی مشن کو بلاتعطل جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ، رواں تعلیمی سال کے آغاز پر جب سکول انتظامیہ (خطیب حبیب اللہ صاحب) کی جانب سے درسی کتب کے لیے دوبارہ رابطہ کیا گیا، تو ROSE-CHITRAL نے اپنے ایک مہربان ڈونر کی تعاون سے 60,000 روپے کی خطیر رقم کتب کی فراہمی کے لیے 'نور بک ڈپو' کو ادا کر دی۔ اس احسن اقدام کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کجو بالا چترال سے تعلق رکھنے والے ہائی کورٹ کے سینئر وکیل محترم محمد عظیم بیگ صاحب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ محترم مہمانِ خصوصی نے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے ROSE-CHITRAL کی ان مخلصانہ اور تسلسل کے ساتھ جاری کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن قوموں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا وہی آج دنیا کی امامت کر رہی ہیں، اور چترال کی ترقی کا واحد راستہ بھی ہماری نوجوان نسل کی اعلیٰ تعلیم میں ہی پوشیدہ ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ، ROSE-CHITRAL بغیر کسی بین الاقوامی فنڈنگ کے، محض مقامی مخیر حضرات کے تعاون اور آپ کے عوامی اعتماد کی بدولت اپنا یہ سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم اہالیانِ چترال، بالخصوص لٹکوہ کے صاحبِ استطاعت افراد سے پرزور التجا کرتے ہیں کہ المختار سکول گبور کے اس انڈومنٹ فنڈ کو مضبوط بنانے اور ROSE-CHITRAL کے اس عظیم تعلیمی مشن میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ کا یہ تعاون محض ایک عطیہ نہیں بلکہ ایسا صدقہ جاریہ ہے جو نہ صرف ایک دشوار گزار علاقے کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائے گا بلکہ پورے معاشرے کو ایک روشن سمت عطا کرے گا۔ آئیں، مل کر اس کارِ خیر میں شامل ہوں، کیونکہ: زندگی کبھی بھی صفر سے شروع کی جاسکتی ہے۔۔!!

https://rose.org.pk/donate

10/04/2026

کیڈٹ کالج مظفرآباد میں تین روزہ “Teaching for Impact” پروگرام ایک منفرد تربیتی تجربہ ثابت ہوا۔ اس میں مظفرآباد اور پلندری کے اساتذہ نے شرکت کی اور روایتی لیکچرز کے بجائے عملی، فکری اور مقصدی لرننگ پر زور دیا گیا۔

اہم نکات:

• موضوعات: قومی ترقی میں کردار، طلبہ کی صلاحیتوں کی سمت، ہمہ جہتی تربیت، اور طالب علم مرکز تدریس۔
• عملی انداز: 350 کیڈٹس کی Aptitude Reports پر مبنی Case Studies کے ذریعے طلبہ کی انفرادی رہنمائی۔
• ادارہ جاتی قیادت: پرنسپل بریگیڈیئر (ر) عسرت محمود کی بھرپور شمولیت۔

یہ پروگرام اس وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان کی تیاری نہیں بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو مستقبل میں ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔

10/04/2026

کسی نوجوان تعلیم یافتہ شخص سے دشمنی کرنی ہو، اسکا مستقبل تباہ کرنا ہو، اسے اس کا حق لینے سے محروم کرنا ہوں تو اسے یقین دلا دیں کہ اس ملک میں سفارش اور رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا-
یقین کریں وہ کبھی بھی نہ کسی مقابلے کے امتحان میں شریک ہو گا- نہ اس نے محنت کرنی ھے کیونکہ اسکا کوئی فائدہ اسے نظر نہیں آئے گا-
میں نے زندگی میں بہت سے قابل ترین بچوں کو صرف منفی راہنمائی کی وجہ سے غرق ہوتے دیکھا ھے-
اپنے بچوں کو بتائیں کہ کجتنی زبردست محنت کرو گے اسی حساب سے اپنا مقام کبھی نہ کبھی ضرور پا لو گے-
ابھی بھی اس ملک میں سی ایس ایس ، پی ایم ایس ، آئی ایس ایس بی وغیرہ میں شاندار میرٹ ھے-
پھر ڈیولیپمنٹ سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر میں میرٹ کے بغیر کام ہو ہی نہیں سکتا-
اپنے بچوں کو غلط پٹی نہ پڑھائیں اور انہیں تباہ نہ کریں یہ کس کے کہ اس ملک میں تو سفارش اور رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا!
سعد راجہ

چیئرمین “ROSE, Chitral”  ہدایت اللہ صاحب نے آج پشاور میں شادی کی ایک تقریب کے موقع پر ادارے کے قابلِ قدر سرپرستوں جناب س...
05/04/2026

چیئرمین “ROSE, Chitral” ہدایت اللہ صاحب نے آج پشاور میں شادی کی ایک تقریب کے موقع پر ادارے کے قابلِ قدر سرپرستوں جناب سعود انصاری صاحب، جناب کامران انصاری صاحب اور جناب عادل خان صاحب سے ملاقات کی۔
یہ شخصیات چترال اور چترالی عوام سے گہری محبت اور والہانہ لگاؤ رکھتی ہیں۔ مستحق چترالی طلبہ کی تعلیمی و مالی معاونت میں ان کا کردار انتہائی قابلِ تحسین اور مثالی رہا ہے۔
چیئرمین “روز چترال” نے ان شخصیات کی فراخدلی، خلوص اور بے لوث تعاون کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ادارے کے ساتھ ان کا یہ تعلقِ محبت نہ صرف مستقبل میں بھی جاری رہے گا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو گا۔
“روز چترال” چترالی نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنے تمام معاونین کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہے۔

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھو...
05/04/2026

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھوپ میں جل کر مر چکے تھے۔

اس نے اپنے اردگرد پھیلے اس سنسان، بے جان منظر کو دیکھا اور ایک ایسا عہد کیا جس نے ایک دن 1,360 ایکڑ زمین کو زندگی سے بھر دینا تھا۔

اس کا نام جادھو پائینگ تھا۔

یہ جگہ تھی مجولی جزیرہ، آسام، بھارت۔ وہ ریتلا ٹکڑا صرف ریت اور گاد پر مشتمل تھا۔ نہ کوئی پودا، نہ سایہ، نہ زندگی۔ یہ سانپ سیلاب کے دوران وہاں پھنس گئے تھے۔ جب پانی اتر گیا تو ان کے پاس تیز دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ نہ تھی۔ اس لیے وہ سب مر گئے۔

جادھو مقامی محکمہ جنگلات کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اس ریتلے علاقے میں درخت لگائے جائیں۔

وہ ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا، “یہاں کچھ نہیں اگے گا۔ یہ صرف ریت ہے۔ ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔”

تب جادھو نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام خود کرے گا۔

وہ صرف سولہ سال کا تھا۔ اس کے پاس نہ پیسہ تھا، نہ رسمی تعلیم، نہ جنگلات یا نباتات کی تربیت۔ وہ میسنگ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، ایک مقامی برادری جسے اکثر مرکزی سماج سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

لیکن وہ ایک بات سمجھتا تھا جو ان ماہرین نے نہیں سمجھی، اگر آپ درخت لگائیں اور ان کی دیکھ بھال کریں، تو وہ اگتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریت میں بھی۔

اس نے ابتدا بانس سے کی، کیونکہ بانس مضبوط ہوتا ہے، تیزی سے پھیلتا ہے، اور زمین کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ اس نے ایک چھوٹے سے حصے میں 20 پودے لگائے۔

ہر روز وہ واپس آتا، ان کو پانی دیتا، دریا سے برتن بھر بھر کر پانی لاتا، شدید گرمی میں گھنٹوں چلتا رہتا۔

آہستہ آہستہ بانس نے جڑ پکڑ لی۔

حوصلہ پا کر اس نے اپنا کام بڑھا دیا۔ اس نے آس پاس کے جنگلات سے بیج جمع کیے، مثلاً کاٹن کے درخت، برگد، ارجن، موج اور دوسرے پودے۔ وہ ان کو لگاتا، پانی دیتا، جانوروں سے بچاتا۔

سال بہ سال، دہائی بہ دہائی۔

اس کے گھر والوں کو لگتا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ وہ اپنی زندگی ایک بے کار ریتلے ٹاپو پر کیوں ضائع کر رہا ہے۔ وہ کھیتی باڑی کر سکتا تھا، پیسہ کما سکتا تھا، ایک عام زندگی گزار سکتا تھا۔

لیکن اس نے درخت لگانے کا راستہ چنا۔ اکیلا، ہر دن۔

لوگ پوچھتے، “اس کا کیا فائدہ؟ یہ تو صرف ریت ہے۔ یہاں کبھی کچھ نہیں ہوگا۔”

جادھو نے بحث نہیں کی۔ وہ بس درخت لگاتا رہا۔

بانس پھیلنے لگا۔ درخت بلند ہونے لگے۔ ان کی جڑوں نے مٹی کو تھاما۔ گرتے پتوں نے نامیاتی مادہ پیدا کیا۔ ریت آہستہ آہستہ زرخیز زمین میں بدلنے لگی۔

پانچ سال بعد پہلے جانور نمودار ہوئے۔ پرندوں نے شاخوں پر گھونسلے بنائے۔ کیڑے مکوڑے آئے۔ چھوٹے جانوروں کو پناہ ملنے لگی۔

دس سال بعد وہاں ایک چھوٹا جنگل واضح نظر آنے لگا۔ پورا نظام زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا، پودے، جانور، کیڑے، سب اپنی اپنی جگہ بناتے جا رہے تھے۔

جادھو درخت لگاتا رہا۔

اس کے ذہن میں کوئی عظیم منصوبہ نہیں تھا۔ وہ یہ خواب نہیں دیکھ رہا تھا کہ ایک دن وہ دنیا کا سب سے بڑا انسان کے ہاتھوں بنایا گیا جنگل کھڑا کر دے گا۔ وہ صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں سانپ دھوپ میں مرنے پر مجبور نہ ہوں۔

وہ اپنی گایوں کا دودھ بیچ کر گزر بسر کرتا تھا۔ سادہ زندگی گزارتا تھا۔ کبھی جنگل کے اندر اپنی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں سوتا، کبھی اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں میں۔

ہر صبح وہ اپنے درختوں کے پاس واپس آتا۔ لگانا، سنبھالنا، حفاظت کرنا۔

دہائیاں گزر گئیں۔ جنگل بڑھتا گیا۔ اور جادھو پائینگ اسی جنگل میں گم ہو گیا، ان درختوں کے درمیان جنہیں اس نے اپنے ہاتھوں سے اگایا تھا، ایک تنہا انسان، جسے دنیا جانتی بھی نہ تھی۔

پھر 2000 کی دہائی میں ایک غیر معمولی بات ہوئی۔

جنگلی ہاتھیوں نے اس جنگل کو ڈھونڈ لیا۔

100 سے زیادہ ہاتھیوں کا ایک ریوڑ، ایسے ہاتھی جن کے روایتی مسکن تباہ ہو رہے تھے، جادھو کے جنگل تک پہنچا اور وہیں رک گیا۔ اس جنگل نے انہیں خوراک، پانی اور پناہ دی۔

پھر ہرن آئے۔ پھر گینڈے۔ پھر بنگال کے شیر۔

جو جگہ کبھی ویران ریت تھی، وہاں اب ایک مکمل، زندہ ماحولیاتی نظام قائم ہو چکا تھا۔ شکاری بھی، شکار بھی۔ پرندے بھی، کیڑے بھی۔ ایک ایسا گھنا جنگل جو بڑے جانوروں کو بھی سنبھال سکتا تھا۔

اور اس سب کے مرکز میں جادھو پائینگ تھا، وہ انسان جس نے ہر درخت اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔

2008 میں ایک فوٹو جرنلسٹ اس جنگل تک پہنچا۔ وہ دراصل ایک غیر معمولی مقام پر ہاتھیوں کی موجودگی کی خبر کی تحقیق کر رہا تھا۔ جب اس نے یہ جنگل دیکھا تو حیران رہ گیا۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ یہ جنگل تقریباً 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، یعنی نیویارک کے سینٹرل پارک سے بھی بڑا، اور یہ سب ایک ہی انسان نے تیس برس میں بنایا تھا۔

پھر یہ کہانی دنیا تک پہنچی۔ میڈیا آیا۔ وہ “پاگل” آدمی جسے گاؤں والے برسوں تک نظر انداز کرتے رہے تھے، اچانک ایک ماحولیاتی ہیرو کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

سائنس دانوں نے اس جنگل کا مطالعہ کیا۔ تحفظ ماحول کے کارکنوں نے اس کا جشن منایا۔ وہ سرکاری افسران جنہوں نے کبھی اس کی بات نہ سنی تھی، اب اسے اعزاز دینا چاہتے تھے۔

2015 میں اسے پدم شری دیا گیا، جو بھارت کے بڑے سول اعزازات میں سے ایک ہے۔ دنیا اسے “دی فاریسٹ مین آف انڈیا” کے نام سے جاننے لگی۔

لیکن اس شہرت نے جادھو کو نہیں بدلا۔ وہ آج بھی جنگل میں رہتا ہے۔ آج بھی اپنے درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آج بھی نئے پودے لگاتا ہے۔

جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے یہ سب کیوں کیا، تو اس کا جواب بہت سادہ ہوتا ہے:
“سانپ اس لیے مر گئے تھے کیونکہ وہاں درخت نہیں تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور مخلوق بھی اسی طرح مرے۔”

آج مولائی جنگل، جو اس کے عرفی نام پر رکھا گیا، 100 سے زیادہ ہاتھیوں، کئی بنگال ٹائیگرز، بھارتی گینڈوں، ہرنوں، جنگلی سوروں، سینکڑوں پرندوں اور بے شمار چھوٹی مخلوقات کا گھر بن چکا ہے۔ ایک مکمل، پھلتا پھولتا ماحولیاتی نظام، وہاں جہاں کبھی صرف ریت تھی۔

ایک شخص۔ نہ پیسہ۔ نہ ادارہ جاتی مدد۔ نہ رسمی تربیت۔

صرف عزم۔ صرف ہر روز واپس آنے کی عادت۔ صرف یہ انکار کہ ایک ویران ریتلا ٹاپو ہمیشہ ویران ہی رہے گا۔

محکمہ جنگلات کے ماہرین نے کہا تھا یہ ناممکن ہے۔ فطرت نے جادھو کی مدد سے انہیں غلط ثابت کر دیا۔

تیس برس تک اس نے یہ جنگل اکیلے بنایا، بغیر کسی پہچان، بغیر فنڈنگ، بغیر مدد کے۔ وہ حکومت، جسے مسکن بچانے اور درخت لگانے چاہییں تھے، کچھ نہ کر سکی۔

ایک غریب آدمی، ایک محروم برادری سے تعلق رکھنے والا شخص، اکیلا وہ کام کر گیا جو پورا محکمہ جنگلات نہ کر سکا۔

اور جب ہاتھی “بہت زیادہ” ہونے لگے، کیونکہ اس نے ان کے لیے اتنا اچھا مسکن بنا دیا تھا، تو حکام نے انہیں وہاں سے ہٹانے کا ارادہ کیا، جس سے وہ پورا نظام تباہ ہو سکتا تھا جسے اس نے اپنی زندگی دے کر بنایا تھا۔

جادھو ڈٹ گیا۔ اس نے کہا:
“یہ میرے خاندان کی طرح ہیں۔ انہیں ہٹانا ہے تو پہلے مجھے گولی مارنی ہوگی۔”

ہاتھی وہیں رہے۔

آج جادھو اپنی ساٹھ کی دہائی میں ہے۔ وہ آج بھی درخت لگاتا ہے۔ آج بھی جنگل سنبھالتا ہے۔ آج بھی جانوروں کے درمیان سادہ زندگی گزارتا ہے۔

اس کے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں۔ یہ جنگل قانونی طور پر اس کی ملکیت بھی نہیں، کیونکہ یہ سرکاری زمین پر ہے۔ اس نے کبھی اس سے منافع نہیں کمایا۔

وہ تو صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں سانپ دھوپ میں نہ مریں، جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں زندگی پھل پھول سکے۔

اور آج 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل، جو ہزار سے زیادہ فٹبال میدانوں کے برابر ہے، صرف اس لیے موجود ہے کہ ایک سولہ سالہ لڑکے نے مردہ سانپ دیکھے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ ایک انسان فرق نہیں ڈال سکتا، تو جادھو پائینگ کو یاد کیجیے۔

جب کوئی کہے کہ مسئلہ بہت بڑا ہے، کام بہت مشکل ہے، دنیا بہت خراب ہو چکی ہے، تو اس کہانی کو یاد رکھیے۔

جادھو پائینگ نے ہر روز درخت لگائے۔ چالیس سال تک۔

اور آج وہ ایسے جنگل میں رہتا ہے جہاں ہاتھی اور شیر بستے ہیں، وہاں جہاں سائنس دانوں نے کہا تھا کہ کبھی کچھ نہیں ہو سکتا۔

ایک شخص۔ ایک پودا ایک وقت میں۔ چالیس سال۔

اسی طرح پہاڑ ہلتے ہیں۔ اسی طرح ریت سے جنگل بنتے ہیں۔ اسی طرح “ناممکن” ثابت ہوتا ہے کہ دراصل اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی نے پوری کوشش نہیں کی۔

جادھو پائینگ نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ فنڈنگ کا انتظار نہیں کیا۔ اجازت، منظوری یا تعریف کا انتظار نہیں کیا۔

اس نے ایک مسئلہ دیکھا، اور اپنی زندگی کے چار عشرے اسے حل کرنے میں لگا دیے۔

بھارت کا فاریسٹ مین، جس نے ایک ناممکن جنگل پیدا کر دیا کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکا کہ سانپ دھوپ میں مرتے رہیں۔

اور آج وہ 1,360 ایکڑ اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ایک پختہ ارادے والا انسان واقعی زمین کا منظر بدل سکتا ہے۔

GIKI Admissions
04/04/2026

GIKI Admissions

Address

Mir Plaza Old PIA Chowk
Chitral
17200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923484413174

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ROSE-CHITRAL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ROSE-CHITRAL:

Share