ROSE-CHITRAL

ROSE-CHITRAL ROSE CHITRAL supporting needy & talented students getting Higher education by providing Scholarship

Regional Organization for Supporting Education Chitral is a registered non profit organization set up to support the financially constrained but talented youth of chitral in pursuing their higher educaiton in various reputed institutes of Pakistan.It has been working informally since 2007 and has helped a number of financially constrained but talented students of chitral in various universities in different disciplines of higher education.Now it is working with a formal setup and has extended its collaboration with different sectors of community within and outside Pakistan to promote global peace and literacy through education.

میجر (ر) مصطفیٰ زیدی، سابق پرنسپل فرنٹیئر کور پبلک اسکول چترال نے اپنے حالیہ دورۂ چترال کے دوران اپنے دوستوں اور رفقائے ...
27/09/2026

میجر (ر) مصطفیٰ زیدی، سابق پرنسپل فرنٹیئر کور پبلک اسکول چترال نے اپنے حالیہ دورۂ چترال کے دوران اپنے دوستوں اور رفقائے کار کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں سابق ایم این اے شہزادہ افتخار، سابق لاء سیکریٹری امیر گلاب، آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول چترال کے پرنسپل طفیل نواز، چیئرمین ’’روز چترال‘‘ ہدایت اللہ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر چیئرمین ’’روز چترال‘‘ نے میجر (ر) مصطفیٰ زیدی کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے علم و تعلیم سے وابستہ ان شخصیات کو ایک جگہ مل بیٹھنے، باہمی خیالات کے تبادلے اور خوشگوار یادیں تازہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

اللہ تعالیٰ میجر صاحب کے مال، جان اور صحت میں برکت عطا فرمائے اور انہیں ہمیشہ خوش و سلامت رکھے۔ آمین۔

Scholarship  # 762 ”روز چترال” اپنے معاون تعلیمی اداروں کی معاونت کے ذریعے چترالی طلبہ کو اعلی تعلیم میں اسانیاں پیدا کر...
23/09/2026

Scholarship # 762
”روز چترال” اپنے معاون تعلیمی اداروں کی معاونت کے ذریعے چترالی طلبہ کو اعلی تعلیم میں اسانیاں پیدا کرنے کے اپنے مشن میں مصروف ہے۔ اسی سلسلے میں آج ادارے کے دفتر میں ایک نشت منعقد ہوئی جس میں بکراباد چترال سٹی سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ سویرا وسیع کو رفاء انٹرنشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں “روز کوٹہ” کے تحت ایم - ایس فزکس کے لئے نومینشن لیٹر دیا گیا۔ اس سکالر شپ کے نتیجے میں طالبہ کو فیس میں چار لاکھ روپے سے زائد کی رعایت ملے گے۔ تقریب کے خاص مہمان وادی تریچ کے نامور شخصیت اور کہوار زبان کے محقق اور تاریخ دان جناب انوار الرحمن المعروف “دردان جہان“ تھے جنہوں نے طالبہ کو لیٹر پیش کیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں تعلیم پر سرمایہ کاری کرتی ہیں، اس کے ثمرات انہیں صدیوں تک اپنی آنے والی نسلوں کی صورت میں ملتے رہتے ہیں، جبکہ تعلیم سے محروم اقوام کی نسلیں طویل عرصے تک دوسروں کی محکومی کا شکار رہتی ہیں۔
برطانوی دور میں قائم کیے گئے تعلیمی اداروں نے برصغیر میں ایک ایسا تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جس کے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس مغل بادشاہوں کی اولاد، جس کے پاس کبھی اقتدار اور دولت کی فراوانی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو گئی۔
اصل طاقت محض اقتدار یا دولت نہیں، بلکہ تعلیم، علم اور ادارہ سازی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور قوموں کے مستقبل کو تشکیل دیتا ہے۔

چیرمین ’’روز چترال‘‘ ہدایت اللہ صاحب نے اپنے حالیہ دورۂ پشاور کے آخری روز ’’روز چترال‘‘ کے بانی خیال، ابتدائی دنوں میں ...
23/09/2026

چیرمین ’’روز چترال‘‘ ہدایت اللہ صاحب نے اپنے حالیہ دورۂ پشاور کے آخری روز ’’روز چترال‘‘ کے بانی خیال، ابتدائی دنوں میں ادارے کے بھرپور معاون اور ہر مشکل مرحلے میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے والی محسن شخصیت، ناصر اللہ صاحب سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ہدایت اللہ صاحب نے انہیں ’’روز چترال‘‘ کی موجودہ سرگرمیوں اور مختلف شعبوں میں جاری اقدامات سے آگاہ کیا اور متعدد امور میں ان سے قیمتی رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے ناصر اللہ صاحب سے درخواست کی کہ وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ادارے کے ساتھ اپنی وابستگی کو فعال بنائیں، اپنا دستِ شفقت سر پر رکھیں اور اپنے وسیع سماجی و پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو ’’روز چترال‘‘ کے تعلیمی و فلاحی مشن کے لیے دوبارہ متحرک کریں۔
ناصر اللہ صاحب آج کل نظام پور، نوشہرہ کے ہائر سیکنڈری اسکول میں بطور پرنسپل تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ’’روز چترال‘‘ کے ابتدائی سفر میں ان کی رہنمائی، تعاون اور حوصلہ افزائی ادارے کے لیے ہمیشہ قابلِ قدر رہی ہے جس کے لئے ادارہ انکا ممنون ہے۔

کل پشاور میں کراچی و سندھ کے لیے ’’روز چترال‘‘ کے کوارڈینیٹر جناب انجینئر عمران صدیقی صاحب نے چیئرمین ’’روز چترال‘‘ ہدای...
21/09/2026

کل پشاور میں کراچی و سندھ کے لیے ’’روز چترال‘‘ کے کوارڈینیٹر جناب انجینئر عمران صدیقی صاحب نے چیئرمین ’’روز چترال‘‘ ہدایت اللہ صاحب اور دیگر معزز مہمانوں کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا اہتمام کیا۔
انجینئر عمران صدیقی صاحب ہمیشہ ’’روز چترال‘‘ کی سرگرمیوں اور فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیمی معاونت ہو یا ضرورت مند افراد کی مدد، ان کا تعاون ہر موقع پر قابلِ قدر اور قابلِ تحسین رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی جان، مال اور وقت میں برکت عطا فرمائے، ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

پشاور کے ایک کلب میں انگریز افسر اسکواش کھیلتے تھے ۔۔ اور کورٹ سے باہر نکلنے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا...
20/09/2026

پشاور کے ایک کلب میں انگریز افسر اسکواش کھیلتے تھے ۔۔ اور کورٹ سے باہر نکلنے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا رہتا تھا۔

افسر کھیلتے ۔۔ وہ انہیں غور سے دیکھتا۔

وہ شاٹ لگاتے ۔۔ لڑکا گیند اٹھا کر واپس کردیتا۔

پھر شام ہوتی ۔۔ افسر کلب سے چلے جاتے ۔۔ کورٹ خالی ہوجاتا ۔۔ اور وہی بال بوائے ہاتھ میں ریکٹ پکڑ کر ان کے کھیلے ہوئے شاٹس دہرانے لگتا۔

اس بچے کا نام ہاشم خان تھا۔

وہ پشاور کے قریب نواکلی کے ایک سادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد برطانوی فوجی افسروں کے کلب میں ملازم تھے۔

ہاشم ابھی چھوٹے تھے کہ والد ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے۔ تعلیم چھوڑنا پڑی ۔۔ اور کلب میں گیندیں اٹھانا اور کورٹ صاف کرنا زندگی کا ذریعہ بن گیا۔

لیکن جس کورٹ پر وہ صفائی کرتے تھے ۔۔ وہی کورٹ ان کی درس گاہ بھی بن گیا۔

کوئی باقاعدہ اکیڈمی نہیں تھی ۔۔ جدید کوچنگ نہیں تھی ۔۔ مہنگا سامان نہیں تھا۔

صرف کھیل کو غور سے دیکھنے والی دو آنکھیں ۔۔ مسلسل محنت کرنے والا جسم ۔۔ اور یہ یقین کہ ایک دن وہ صرف گیند اٹھانے والا لڑکا نہیں رہے گا۔

افسر چلے جاتے تو ہاشم خان کورٹ میں اترتے ۔۔ کبھی ٹوٹے پرانے ریکٹ سے پریکٹس کرتے، کبھی دیوار کو حریف بنا لیتے۔

وقت گزرتا گیا ۔۔ بال بوائے ایک بہترین کھلاڑی بن گیا۔

1944 میں انہوں نے آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور اگلے دو سال بھی اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔

پاکستان قائم ہوا تو وہ پاکستان ایئر فورس سے وابستہ ہوئے اور 1949 میں نئے ملک کی پہلی قومی اسکواش چیمپئن شپ جیت لی۔

مگر عالمی سطح پر انہیں ابھی کوئی خاص طور پر نہیں جانتا تھا۔

پھر 1951 میں پاکستان نے انہیں برٹش اوپن کھیلنے کے لیے انگلستان بھیجا۔

ہاشم خان تقریباً 37 برس کے تھے ۔۔ ایک ایسی عمر جس میں آج کئی کھلاڑی ریٹائرمنٹ کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب مصر کے محمود کریم تھے، جو کئی مرتبہ یہ اعزاز جیت چکے تھے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ پشاور کا یہ غیرمعروف کھلاڑی کیا کرنے والا ہے۔

فائنل شروع ہوا ۔۔ اور ہاشم خان نے دفاعی چیمپئن کو 9-5، 9-0 اور 9-0 سے شکست دے دی۔

جس کھیل کو انہوں نے کبھی انگریز افسروں کی گیندیں اٹھاتے ہوئے سیکھا تھا ۔۔ اسی کھیل کی سب سے بڑی ٹرافی اب ان کے ہاتھ میں تھی۔

اس دور میں برٹش اوپن کو اسکواش کی غیررسمی عالمی چیمپئن شپ سمجھا جاتا تھا۔

ہاشم خان صرف ایک مرتبہ نہیں جیتے۔

انہوں نے 1951 سے 1956 تک مسلسل چھ برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کیے ۔۔ اور پھر 1958 میں ساتویں مرتبہ یہ اعزاز جیت لیا۔

پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر نیا ملک تھا ۔۔ وسائل محدود تھے ۔۔ مگر ہاشم خان نے دنیا کو ایک ایسا نام یاد کروادیا جس کے بعد کئی دہائیوں تک عالمی اسکواش پر پاکستانی کھلاڑیوں کی حکمرانی قائم رہی۔

ہاشم کے بعد اعظم خان، روشن خان، قمر زمان، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے نام سامنے آئے۔

لیکن اس بادشاہت کی پہلی اینٹ اس بال بوائے نے رکھی تھی ۔۔ جو دوسروں کا کھیل دیکھتے دیکھتے خود دنیا کا بہترین کھلاڑی بن گیا۔

ہاشم خان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدا کتنی چھوٹی ہے، یہ اہم نہیں ۔۔ انسان اپنی محنت سے کہاں پہنچتا ہے، اصل کہانی وہ ہوتی ہے۔

کبھی کسی کے ہاتھ میں ٹرافی دیکھیں تو صرف اس کی آخری جیت نہ دیکھیں ۔۔ اس بچے کو بھی تلاش کریں جو برسوں پہلے خالی کورٹ میں اکیلا پریکٹس کررہا تھا۔

پاکستان کو اپنے ایسے ہیروز کو دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔

عبید اللہ صاحب کی وال سے ۔ تصویر اے آئی سے بنی ہے ۔

Scholarship  # 761 ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی اور مسرت حاصل ہو رہی ہے کہ ROSE چترال نے چترالی نوجوانوں کو اسکا...
19/09/2026

Scholarship # 761

ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی اور مسرت حاصل ہو رہی ہے کہ ROSE چترال نے چترالی نوجوانوں کو اسکالرشپ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اب ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی دفعہ چترال سے باہر ایک طالب علم کو سکالر شپ فراہم کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ اسکالرشپ ایوارڈنگ پروگرام اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے پروفیسر ڈاکٹر اظہر محمود ملک بھی موجود تھے۔ کراچی کے لئے “روز چترال” کے کوارڈینیٹر انجینئر عمران صدیقی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر کراچی سے تعلق رکھنے والے ریحان ذیشان کو اسکالرشپ دیا گیاجو اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں زیرِ تعلیم ہیں۔
اس اسکالرشپ کے نتیجے میں ریحان ذیشان کو فیس کی مد میں تقریباً آٹھ لاکھ روپے کی رعایت حاصل ہوگی۔ ریحان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو بائیک چلانے کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔ وہ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلیم کے سلسلے میں اسلام آباد میں مقیم ۔
۔ روز چترال کی جانب سے فراہم کی جانے والی اسکالرشپ کے ذریعے ریحان کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے اور اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی ۔
روز چترال ایک ایسا ادارہ ہے جو چترالی کمیونٹی، بالخصوص تعلیم اور کیریئر کے حوالے سے نوجوانوں کی رہنمائی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اظہر محمود ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روز چترال ایک شاندار ادارہ ہے، جو غریب اور مستحق طلبہ کی زندگیوں میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ نوجوانوں کی سرپرستی، تعلیم اور مستقبل سنوارنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایک فرد کو تعلیم دلانا دراصل صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کی تعلیم کا ذریعہ بنتا ہے۔ تعلیم ایک صدقۂ جاریہ ہے، جس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اس مرحلے پر طلبہ کو سمسٹر فیس، ہاسٹل چارجز، امتحانی فیس اور سفری اخراجات سمیت مختلف مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو مالی معاونت نہ ملے تو ان کی تعلیم اور کیریئر ادھورا رہ سکتا ہے۔
انہوں نے انجینئرز، ڈاکٹروں، پروفیسرز اور دیگر صاحبِ حیثیت افراد سے اپیل کی کہ روز چترال کے تعلیمی اور اعلیٰ تعلیمی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ مالی تعاون کے ذریعے مستحق طلبہ کی ذمہ داری اٹھائیں، تاکہ وہ تعلیم مکمل کرکے اپنی قوم اور انسانیت کی خدمت کر سکیں۔

جناب داود قریشی کوارڈینیٹر “روز چترال” برائے پنجاب ریجن نے اپنے حالیہ دورۂ چترال کے دوران ادارے کی مختلف سرگرمیوں اور پر...
18/09/2026

جناب داود قریشی کوارڈینیٹر “روز چترال” برائے پنجاب ریجن نے اپنے حالیہ دورۂ چترال کے دوران ادارے کی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے علاقے کی متعدد معزز، سماجی اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں اور ادارے کے اغراض و مقاصد، جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے لائحۂ عمل کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔
دورے کے اختتام پر ایون میں جناب داود قریشی کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں جناب بہلول دانا، مولانا روم اور جناب نعیم شاہ سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔ ظہرانے کے دوران ادارے کو درپیش موجودہ مشکلات، مختلف پروگراموں کی کارکردگی، آئندہ کی منصوبہ بندی اور پنجاب ریجن میں ادارے کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کے امکانات پر تفصیلی اور سیرحاصل گفتگو ہوئی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے کے مقاصد کے حصول کے لیے باہمی رابطہ، مشاورت، تعاون اور منظم حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ اس موقع پر ادارے کو درپیش مسائل کے ممکنہ حل، آئندہ پروگراموں کی ترجیحات اور عوامی سطح پر ادارے کے پیغام کو زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانے کے حوالے سے بھی مفید تجاویز پیش کی گئیں۔
ان ملاقاتوں اور مشاورت کے مثبت نتائج سے توقع ہے کہ مستقبل میں ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی، پروگراموں میں وسعت آئے گی، باہمی تعاون مضبوط ہوگا اور ادارے کو درپیش مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔

Scholarship # 760“روز چترال” کے دفتر میں ایک تقریب میں مروئے، چترال سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم عبدالواسیع کو قرط...
16/09/2026

Scholarship # 760

“روز چترال” کے دفتر میں ایک تقریب میں مروئے، چترال سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم عبدالواسیع کو قرطبہ یونیورسٹی پشاور میں روز چترال کے کوٹے پر بی ایس پولیٹیکل سائنس (BS Political Science) میں داخلے کے لیے نومینیشن لیٹر پیش کیا گیا۔
اس نومینیشن کے تحت عبدالواسیع کو اپنی تعلیم کے دوران مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ روپے کی فیس رعایت حاصل ہوگی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب سلطان احمد بیگ، جنرل سیکرٹری چترال چیمبر آف کامرس تھے، جنہوں نے طالب علم کو نومینیشن لیٹر پیش کیا۔
روز چترال کا مقصد چترال کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور مالی مشکلات کے باوجود ان کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں معاونت کرنا ہے۔
ایک طالب علم کی تعلیم، ایک خاندان کی امید اور ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔
روز چترال اسی عزم کے ساتھ چترال کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Scholarship  # 759آج ROSE چترال کے دفتر میں ایک  تقریب منعقد ہوئی، جس میں سوئیر دروش سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم ...
15/09/2026

Scholarship # 759

آج ROSE چترال کے دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں سوئیر دروش سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم عشرت حسین کو قرطبہ یونیورسٹی میں بی-ایس انگلش میں داخلے کے لیے “روز چترال “ کے کوٹے پر نومینیشن لیٹر پیش کیا گیا۔

یہ نومینیشن لیٹر روز چترال اور قرطبہ یونیورسٹی کے درمیان قائم تعلیمی تعاون کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے طالب علم عشرت حسین کو اپنی ڈگری کی مجموعی فیس میں تقریباً چار لاکھ روپے کی رعایت حاصل ہوگی۔ یہ رعایت ایک مستحق طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان پر موجود مالی بوجھ کو بھی کم کرے گی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی نوویلبز پرائیویٹ لمیٹڈ چترال کے جنرل منیجر جناب ضیاء الرحمن تھے، جنہوں نے طالب علم عشرت حسین کو نومینیشن لیٹر پیش کیا۔
“روز چترال” تمام مخیر حضرات، بیرونِ ملک مقیم چترالیوں، سماجی کارکنوں، کاروباری افراد، اداروں اور تعلیم دوست افراد سےاپیل کرتا ہے کہ وہ اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالیں اور مستحق طلبہ کی تعلیمی معاونت کے لیے اپنی عطیات فراہم کریں۔
آپ کا عطیہ کسی مستحق طالب علم کی یونیورسٹی فیس ادا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کسی ہونہار نوجوان کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔
کسی خاندان کو مالی مشکلات سے نکلنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
چترال کے ایک باصلاحیت نوجوان کو اپنے خواب پورے کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
مستقبل میں معاشرے کی خدمت کرنے والے ایک تعلیم یافتہ فرد کی تیاری میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

تعلیم کے لیے دیا گیا عطیہ ایک ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کے اثرات نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔ آج اگر ہم کسی طالب علم کا ہاتھ تھام لیں تو کل وہی طالب علم اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے کئی دوسرے افراد کے لیے امید کا سبب بن سکتا ہے۔
“روز چترال” کی جانب سے اہلِ خیر سے درخواست ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، خواہ کم ہو یا زیادہ، تعلیمی وظائف اور فیس سپورٹ پروگرام میں ضرور تعاون کریں۔ آپ کا چھوٹا سا تعاون کسی طالب علم کے لیے بہت بڑی امید بن سکتا ہے۔

Scholarship  # 758 آج “روز چترال” کے دفتر میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوئی جس میں چترال چیمبر آف کامرس کے سیکرٹری جنرل جناب...
14/09/2026

Scholarship # 758

آج “روز چترال” کے دفتر میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوئی جس میں چترال چیمبر آف کامرس کے سیکرٹری جنرل جناب سلطان احمد بیگ اور نوو لیبز پرائیویٹ لمیٹڈ کے جنرل منیجر جناب ضیاء الرحمن نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں شاہنگار، دروش سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم وسیم سجاد کو الحمد یونیورسٹی اسلام آباد میں بی ایس اسپورٹس مینجمنٹ میں داخلے کے لیے روز چترال کی جانب سے نومینیشن لیٹر دیا گیا۔
اس اسکالرشپ کے تحت وسیم سجاد کو یونیورسٹی فیس میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے کی رعایت ملے گی۔ موجودہ مہنگائی میں، جب اعلیٰ تعلیم کے اخراجات عام خاندانوں کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکے ہیں، یہ رعایت وسیم اور اس کے خاندان کے لیے یقیناً ایک اچھی مالی مدد ہے۔کیونکہ وسیم سجاد کے والد بھی حیات نہیں ہیں۔
روز چترال مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے چترال کے مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور فیس میں رعایت کا انتظام کر رہا ہے۔ ان تعلیمی شراکت داریوں کے تحت چترالی طلبہ کے لیے سالانہ تقریباً پانچ کروڑ روپے کی معاونت حاصل ہو رہی ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ مالی مشکلات کسی ایسے طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں جس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت اور جذبہ موجود ہو۔ وسیم سجاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
وسیم سجاد کو بہت بہت مبارک ہو۔ دعا ہے کہ وہ محنت سے اپنی تعلیم مکمل کرے اور مستقبل میں اپنے علاقے اور چترال کا نام روشن کرے۔
روز چترال اپنے تمام تعلیمی شراکت داروں، معاونین اور مخیر حضرات کا شکر گزار ہے جن کے تعاون سے ہمارے نوجوانوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھل رہے ہیں۔

Address

Mir Plaza Old PIA Chowk
Chitral
17200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923484413174

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ROSE-CHITRAL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ROSE-CHITRAL:

Shortcuts

Share