07/05/2026
ریشن راغین میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت
ریشن راغین، جو 2015 سے پہلے اپنی قدرتی خوبصورتی، گھنے جنگلات اور زرخیز زمین کی وجہ سے ایک معروف علاقہ تھا، آج موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل سیلابوں کے باعث شدید تباہی کا شکار ہو کر ایک بنجر اور غیر آباد خطے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے دریا کے مسلسل کٹاؤ نے اس علاقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ 2015 سے اب تک تقریباً 35 مربع کلومیٹر جنگلات ختم ہو چکے ہیں اور کافی زرعی زمین دریا برد ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں 7 گھرانے مکمل طور پر بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ باقی آبادی بھی شدید خطرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اگر 2015 کی تصاویر اور موجودہ حالات کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جہاں پہلے سرسبز جنگلات اور خوبصورت مناظر تھے، وہی علاقہ آج 2026 تک ایک ویران اور اجاڑ زمین کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ حکومتی عدم توجہی کا واضح ثبوت بھی ہے، کیونکہ اس عرصے میں علاقے کے تحفظ کے لیے کوئی مستقل اور مؤثر حفاظتی بند تعمیر نہیں کیے گئے۔
اس کے باوجود یہ بات قابل ذکر ہے کہ آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (AKAH) نے اپنی محدود وسائل کے باوجود اس علاقے کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ AKAH نے دو حفاظتی پشتے تعمیر کیے، جن کی وجہ سے کچھ حد تک نقصان پر قابو پایا جا سکا، تاہم یہ اقدامات موجودہ خطرے کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
حالیہ صورتحال میں، عوامی مسلسل مطالبے کے بعد ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی جانب سے ایک پروٹیکشن وال کی منظوری دی گئی ہے، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر اس منصوبے پر عملی کام شروع کرے اور پہلے سے موجود حفاظتی ڈھانچوں کی مرمت و بحالی کو یقینی بنائے، کیونکہ وہ شدید خستہ حالی کا شکار ہیں۔
ہم حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ریشن راغین جیسے حساس اور متاثرہ علاقے کو ترجیحی بنیادوں پر تحفظ فراہم کیا جائے، مستقل حفاظتی بند تعمیر کیے جائیں اور دریا کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
آخر میں ہم ریشن راغین کے عوام، ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی اور آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (AKAH) کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر علاقے کو مزید تباہی سے بچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
شکریہ
شمشیر بیگال