01/07/2026
ایک گاؤں میں مسلسل کئی سالوں سے سیلاب آ رہا تھا۔ جب بھی سیلاب آتا، لوگ مسجدوں میں جا کر توبہ کرتے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہا، مگر سیلاب آنا بند نہ ہوا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ سیلاب ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، نئے پودے نہ لگانے، غیر ضروری پلاسٹک کے استعمال، ماحول کو آلودہ کرنے، اپنی عیاشی کے لیے پٹرول اور ڈیزل کے بے جا استعمال، اور انسانی ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے آ رہا تھا۔
درخواست
قرآنِ مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جزا و سزا کا اصل دن قیامت کو مقرر فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ میری امت کو ان کے گناہوں کی وجہ سے دنیا میں اجتماعی عذاب نہ دیا جائے، اور یہ دعا قبول ہوئی۔
اگر ہر سیلاب صرف گناہوں کی سزا ہوتا، تو یورپ، دبئی، آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر آزاد پرست ریاستیں کب کی دنیا کے نقشے سے مٹ چکی ہوتیں۔
اس لیے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے صرف دعا ہی کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، پلاسٹک جیسی مضر اشیاء کا غیر ضروری استعمال ترک کریں، زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی بند کریں، اور چلغوزے کے جنگلات میں اضافے کے لیے کم از کم دس سال تک چلغوزے کے کاروبار پر پابندی لگائیں، تاکہ قدرتی جنگلات کو دوبارہ پنپنے کا موقع مل سکے۔
دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، کیونکہ ایک محفوظ ماحول ہی آنے والی نسلوں کو سیلاب اور دیگر ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے۔