M.Z Azam

M.Z Azam M.Z Azam's Social media page

ایک گاؤں میں مسلسل کئی سالوں سے سیلاب آ رہا تھا۔ جب بھی سیلاب آتا، لوگ مسجدوں میں جا کر توبہ کرتے، اپنے گناہوں کی معافی ...
01/07/2026

ایک گاؤں میں مسلسل کئی سالوں سے سیلاب آ رہا تھا۔ جب بھی سیلاب آتا، لوگ مسجدوں میں جا کر توبہ کرتے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہا، مگر سیلاب آنا بند نہ ہوا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ سیلاب ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، نئے پودے نہ لگانے، غیر ضروری پلاسٹک کے استعمال، ماحول کو آلودہ کرنے، اپنی عیاشی کے لیے پٹرول اور ڈیزل کے بے جا استعمال، اور انسانی ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی وجہ سے آ رہا تھا۔

درخواست

قرآنِ مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جزا و سزا کا اصل دن قیامت کو مقرر فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ میری امت کو ان کے گناہوں کی وجہ سے دنیا میں اجتماعی عذاب نہ دیا جائے، اور یہ دعا قبول ہوئی۔

اگر ہر سیلاب صرف گناہوں کی سزا ہوتا، تو یورپ، دبئی، آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر آزاد پرست ریاستیں کب کی دنیا کے نقشے سے مٹ چکی ہوتیں۔

اس لیے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے صرف دعا ہی کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں، پلاسٹک جیسی مضر اشیاء کا غیر ضروری استعمال ترک کریں، زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی بند کریں، اور چلغوزے کے جنگلات میں اضافے کے لیے کم از کم دس سال تک چلغوزے کے کاروبار پر پابندی لگائیں، تاکہ قدرتی جنگلات کو دوبارہ پنپنے کا موقع مل سکے۔

دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، کیونکہ ایک محفوظ ماحول ہی آنے والی نسلوں کو سیلاب اور دیگر ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے۔

چترال پاکستان کا شمال مغربی خطہ ہے، جہاں صدیوں سے مختلف خاندانوں نے حکومت کی ہے۔ کالاش دور سے لے کر آج تک اہلِ چترال نے ...
01/07/2026

چترال پاکستان کا شمال مغربی خطہ ہے، جہاں صدیوں سے مختلف خاندانوں نے حکومت کی ہے۔ کالاش دور سے لے کر آج تک اہلِ چترال نے مختلف طرزِ حکومت، متعدد حکمرانوں اور بدلتے ہوئے سیاسی نظاموں کا مشاہدہ کیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں مغرب سے افغان، جنوب سے پٹھان اور مشرق سے گلگتی ریاستوں نے چترال پر بارہا حملے کیے۔ ان طاقتور اقوام کے درمیان اگر کسی قدرتی نعمت نے چترال کی شناخت، ثقافت اور انفرادیت کو سب سے زیادہ تحفظ فراہم کیا، تو وہ ہندوکش کے فلک بوس پہاڑ تھے، جو ربِ کائنات کی طرف سے اہلِ چترال کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوئے۔
اس کے باوجود مختلف حملہ آور چترال پر قابض ہوئے اور کئی دہائیوں تک حکومت کرتے رہے۔ تاہم صدیوں پر محیط یہ تمام سیاسی تبدیلیاں بھی چترال کی بنیادی شناخت، ثقافت اور لسانی انفرادیت کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکیں۔
جب مغربی جمہوریت کی لہر نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہی نظاموں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا، تو ریاستِ چترال بھی اس سے متاثر ہوئی۔ چنانچہ قیامِ پاکستان کے تقریباً چوبیس برس بعد، ایڈمنسٹریشن ریگولیشن 1969 کے تحت ریاستِ چترال قانونی طور پر پاکستان کا ایک باقاعدہ انتظامی ضلع بن گئی۔
ہزاروں سال پر محیط مختلف ادوار، ریاستیں اور حکمران چترال کی شناخت کو مٹا نہ سکے، بلکہ خود وقت کے دھارے میں گم ہو گئے۔ اس حقیقت کی ایک واضح مثال بیسویں صدی کے آخر میں افغان مہاجرین کی چترال آمد ہے۔ اگرچہ افغانوں اور پشتونوں کی زبان اور ثقافت میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے، جبکہ چترالی زبان اور ثقافت ان دونوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے، اس کے باوجود افغان مہاجرین نے چترال میں مستقل سکونت اختیار کی اور اسی معاشرے کا حصہ بن گئے۔ یہ امر خود چترال کی مضبوط اور منفرد شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی منفرد شناخت کے پیشِ نظر چترال کو ایک الگ انتظامی ضلع قرار دیا گیا اور پاکستان کی بڑی بڑی اقوام کے درمیان قومی اسمبلی میں اسے ایک مستقل نمائندگی دی گئی۔ یہ نشست چترال کے لیے وہی اہمیت رکھتی ہے جو ماضی میں اس کی جغرافیائی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے ہندوکش کے پہاڑوں کی تھی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی چترال کی شناخت کو مختلف سیاسی مداخلتوں کا سامنا ہے۔ یہ صورتِ حال کسی حد تک ماضی میں پڑوسی ریاستوں کی جانب سے ہونے والی یلغار کی یاد تازہ کرتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ حملے عسکری نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔
اسی تناظر میں طلحہ محمود کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، جو خود کو چترال کا خیرخواہ اور چترالی عوام کے حقوق کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاید انہیں خود بھی اس بات کا احساس نہیں کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں چترال کے مستقبل پر کس قدر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
مزید افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں چترال میں متعارف کرانے والے جماعت علمائے اسلام کے وہ علماء ہیں جو خود کو اہلِ علم اور اہلِ دستار سمجھتے ہیں، لیکن وہ اپنی ہی قوم کی اس تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں، جو صدیوں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت کے سائے میں محفوظ رہی ہے۔ الیکشن ہارنے کے بعد ہی جے یو آئی سے چھومنتر ہونا حضرت کی سیاسی پختگی اور وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔ اپر چترال کے اسمائیلی برداری کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے چترال کے دوسرے بڑے پارٹی پیپلز پارٹی پاکستان میں شمولیت ان صاحب کی نیشنل اسمبلی کی سیٹ کے پیاسا ہونے کو کھلم کھلا ظاہر کرتا ہے۔ یہاں یہ سوال چترال کی سیاسی لیڈران سے ضروری بنتا ہے کہ کیا جے یو آئی چترال یا پیپلز پارٹی چترال میں ایک بھی چترالی شخصیت نہیں بچا ہے جو چترال کو لیڈ کرسکے۔ اگر نہیں تو آئندہ کبھی بھی ان جماعتوں کے دعووں کو چترالیوں نے پسے پشت ڈالنا ہے۔ کیونکہ آج ان پارٹیوں نے اپنی ذاتی مفاد کے خاطر چترال کی شناخت کو پسے پست ڈالا ہوا ہے۔ اور ہمارا اللّٰہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ انہیں حقیقت کو سمجھنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
طلحہ محمود خواہ کتنے ہی بااثر، باصلاحیت یا نیک نیت کیوں نہ ہوں، لیکن چترال کے سیاسی مستقبل کے تناظر میں بیرونی سیاسی اثر و رسوخ ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ ایسی شخصیات کا چترال کی سیاست پر غلبہ اس خطے کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر چند مفاد پرست عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں چترال کا مخلص ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہندوکش کے پہاڑوں کی طرح چترال کی شناخت، تہذیب اور سیاسی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر دور میں کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسے عناصر سامنے آئے، مگر وہ چترال کی شناخت کو مٹانے میں ناکام رہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج بھی چترال اپنی ثقافت، زبان، رہن سہن اور تہذیبی انفرادیت کے باعث دنیا کی دیگر اقوام کے درمیان ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔

محرر: محمد زین اعظم
طالبِ علم، عالمی سیاسیات،
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد۔


12 ستمبر 2025 کو سینیٹر طلحہ محمود صاحب اپنے آیون یو سی کے دورے کے موقع پر آیون ریور ان ہوٹل میں تشریف فرمایا تھا۔ اپنی ...
01/06/2026

12 ستمبر 2025 کو سینیٹر طلحہ محمود صاحب اپنے آیون یو سی کے دورے کے موقع پر آیون ریور ان ہوٹل میں تشریف فرمایا تھا۔ اپنی لمبی تقریر میں چترال کی تعمیر و ترقی اور چترال کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ تقریر کے دوران میں بالکل طلحہ محمود صاحب کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
چترال میں الیکشن لڑنے کیلئے چترال آنے سے لیکر اب تک میرا طلحہ محمود صاحب کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں۔ بحیثیت سیاسیات کا طالب علم، ان اختلافات میں سے جو سب سے بڑھ کر ہے، وہ یہ ہے کہ، جس سیٹ کیلئے طلحہ محمود صاحب الیکشن لڑنے چترال آئے تھے اور اب بھی اپنی سیاسی مقبولیت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے، وہ اصل میں پورے ملک میں چترال کیلئے مختص کردہ صرف ایک ہی سیٹ ہے، جو چترالیوں کی پہچان ہے. (جو سیاسیات کے طالب علم ہیں وہ "Identity Politics" کو بخوبی سمجھتے ہیں، اور میرے کہنے کا کیا مطلب ہے، یہ بھی سمجھتے ہونگے).
میرا طلحہ محمود صاحب سے سیاسی اختلافات اس وقت کم ہونا شروع ہوئیں، جب الیکشن ہارنے کے بعد بھی وہ چترال کیلئے آواز اٹھانے لگا لیکن اب میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ یہ آواز صرف آواز کے حد تک ہیں، کوئی عملی کام نظر نہیں آرہا۔ لیکن مذکورہ اختلاف میرا جوں کہ توں باقی رہا۔
کاش کہ میرا یہ گماں سچ ہوتا کہ واقعی سینیٹر صاحب چترال کے غم خوار ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، سینیٹر صاحب بھی بیان باز اور فیس بکی شہرت کا بھوکا نکلا۔
نیچے شیئر کئے گئے لنک میں جو ویڈیو ہے، جس میں جو وعدہ کیا جارہا ہے، یہ وعدہ بھی صرف فیس بک کے حد تک باقی رہا۔ سینیٹر صاحب کو فیس بک میں واہ واہ ملے، اس کی سیاسی ساق اوپر گئی، مجھے سینیٹر کے کارندے کرپٹ انسان بنانے لگے اور اہلیان آیون درخناندہ اس وعدے کی تکمیل کو ترستے رہے۔
میں کئی مرتبہ سینیٹر صاحب سے ملنے کی کوشش کی، اپنے علاقے کے ناظم جناب وجیہہ الدین صاحب کو اسلام آباد میں سینیٹر صاحب سے ملوانے کیلئے اس کے گھر بھیجا، چترال میں ان کے دفتر میں کئی مرتبہ گیا، لیکن کچھ نہیں ہوا۔
اختلافات کے باوجود میں نے یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ میں یہ تجزیہ کرنا چاہتا تھا کہ آیا طلحہ محمود صاحب چترال کے تعمیر و ترقی کیلئے سنجیدہ ہے یا نہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ طلحہ محمود صاحب کے کچھ کارندے میرے علاقے میں یہ بات پھیلائے ہوئے تھے کہ مجھے سینیٹر صاحب نے پیسہ دیا ہوا ہے، اور میں نے وہ پیسے ہڑپ کرلئے ہیں۔ اس تحریر کے ذریعے میں اپنی صفائی اور سینیٹر صاحب کی اصلیت لوگوں کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔
اس روڈ کیلئے کوئی اتنی بڑی رقم نہیں چاہئے تھا، پورے اسٹیمیٹ لگا کر، 18-20 لاکھ روپے میں یہ روڈ مکمل ہونا تھا۔ مگر مجھ سے یہ کہ کر مجھے فارغ کر دیا گیا کہ آپ کے روڈ میں جھگڑا ہے، آپ کو ہم پیسے نہیں دے سکتے۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
میں نے سینیٹر صاحب کے لوگوں سے، جن میں مبشر صاحب، عمر صاحب، ظہور صاحب اور حتیٰ کہ میں نے فیس بک پر قاضی سیف اللہ صاحب کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا۔ آخر میں جب مجھے یہ لگا کہ یہ لوگ پیسے نہیں دیں گے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ کم از کم آپ میں سے کوئی اپنے کسی پیچ پر اس روڈ کیلئے رقم دینے سے معزرت کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کریں، تاکہ میں ان لوگوں کو دیکھا سکوں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے طلحہ محمود صاحب سے پیسے لیکر کھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ کرنے سے بھی انکار کردیا۔ اب میں مجبور ہوکر یہ تحریر لکھ رہا ہوں کیونکہ میرے علاقے کے لوگ مجھ پر بہتان لگا رہے ہیں۔
اگر سینیٹر صاحب کو ان چیزوں کے بارے میں پتہ نہیں ہے تو اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد ان لوگوں کے مطالبات پر نظر ثانی کرے تو شاید میرا گماں بھی صحیح نکلے، ورنہ میں یہی سمجھوں گا کہ سینیٹر صاحب پیسہ کیمروں کے سامنے دیتا ہے، کیمروں کے علاؤہ کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ کیا میرا یہ اندازہ درست ہے؟ کمینٹس کیجئے۔۔۔https://www.facebook.com/share/p/1Cm1dPPDDA/





Address

Post Office Ayun, Darkhanandeh
Chitral Lines
17210

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Z Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share