Chakwal Volunteer's

Chakwal Volunteer's Volunteers

17/04/2025

*صحافت کیا ہے؟ ایک دینی و اخلاقی فریضہ

تحریر: عرفان علی سید نوشہروی*

صحافت محض اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، ایک ایسا عمل ہے جو قوموں کی فکری سمت متعین کرتا ہے۔ صحافت قوم کے ضمیر کی آواز ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جو زبانِ خلق کو نقارۂ خدا بنا سکتا ہے، بشرطیکہ سچائی، تحقیق اور دیانت کو اپنا شعار بنایا جائے۔ ایک صحافی کی زبان اور قلم وہ طاقت رکھتے ہیں جو نظاموں کو جھنجھوڑ سکتے ہیں اور باطل کو بے نقاب کر سکتے ہیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب صحافت اپنے اصل مقام پر قائم رہے۔
اسلام ہمیں سچ بولنے، انصاف کرنے اور گواہی میں دیانت داری کا درس دیتا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "اور ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔" (سورہ البقرہ: 143) یہ آیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ گواہی دینا محض عدالتی فریضہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، اور صحافی درحقیقت قوم کا گواہ ہوتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، وہی بیان کرتا ہے اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
دورِ حاضر میں جہاں جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کیا جا رہا ہے، وہاں ایک سچا صحافی امید کی کرن ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے ہمیں واضح ہدایت دی ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کرلو۔" (الحجرات: 6) اس آیت میں نہ صرف خبر کی تحقیق کا حکم ہے بلکہ صحافت کی بنیاد بھی بیان ہو گئی ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری) ایک صحافی اگر اپنی زبان یا قلم سے کسی کی عزت نفس مجروح کرتا ہے، کسی کی ساکھ برباد کرتا ہے، یا بغیر تحقیق کسی پر الزام لگاتا ہے تو وہ اس حدیث کی روشنی میں قابلِ گرفت ہے۔ سچی صحافت وہ ہے جو عزتوں کی محافظ ہو، معاشرتی ہم آہنگی کی داعی ہو، اور انصاف کی علمبردار ہو۔
صحافت اگر خیر خواہی بن جائے تو وہ دین کے قریب ہو جاتی ہے۔ دین کی بنیاد نصیحت پر ہے، جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الدین النصیحة"۔ ایک صحافی جب نیت کو خالص رکھ کر سچ کو پھیلانے، ظلم کو بے نقاب کرنے، اور اصلاح کی نیت سے قلم اٹھاتا ہے تو وہ بھی دین کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے۔
آج جب دنیا میں صحافت کو کاروبار بنا دیا گیا ہے، اور بعض اوقات ذاتی مفادات، سیاسی دباؤ یا مالی لالچ کی بنا پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، تو ایسے میں سچے اور دیانت دار صحافی قوم کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ ایک صحافی کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی کوشش کرے۔ وہ مختلف طبقات اور مکاتبِ فکر کے درمیان پل بنے، نہ کہ خلیج پیدا کرے۔
اگر ایک صحافی اختلافی خبروں کو اس انداز سے پیش کرے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی رائے سمجھنے کا موقع ملے، اگر وہ تنقید میں شائستگی اور نرمی اختیار کرے، اور اگر وہ دلیل و تحقیق کو بنیاد بنائے تو اختلافات کو زوال مل سکتا ہے، اور اتحاد و یکجہتی کو فروغ مل سکتا ہے۔
صحافت ایک بہت بڑی امانت ہے، اور ہر خبر، ہر تحریر اور ہر تصویر کے پیچھے ایک ذمہ داری ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے: "اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہ ہو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں سوال ہوگا۔" (الاسراء: 36) ایک سچا صحافی وہی ہے جو اس احساسِ جواب دہی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ زندگی گزارے۔
آج کا دور سوشل میڈیا، جھوٹی خبروں اور سنسنی خیزی کا ہے۔ ایسے میں ایک ذمہ دار اور باوقار صحافی وہی ہے جو اپنے قلم کی حرمت کو جانتا ہو، جو سچائی کو ہر حال میں ترجیح دیتا ہو، جو قوم و ملت کے مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھتا ہو، اور جو ہمیشہ اللہ کے سامنے اپنے قول و عمل کے لیے جواب دہی کو یاد رکھتا ہو۔
صحافت اگر اسلامی اقدار، اخلاقی اصولوں اور انسانی ہمدردی کو اپنا شعار بنائے تو یہ نہ صرف ایک پیشہ، بلکہ ایک عبادت بن جاتی ہے۔ اس راستے پر چلنے والے صحافی یقیناً معاشرے کے معمار ہوتے ہیں، جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔

Awareness of the importance of trees for the environment: -* Organize tree planting events in local communities, schools...
23/02/2025

Awareness of the importance of trees for the environment: -
* Organize tree planting events in local communities, schools and city parks.
* Provide free or reasonably proved tree seedlings.
* Disseminate information on The Benefits of planting trees for climate and ecosystems.

ایک بشر دو شجر شجر کاری کا آغاز ہوتے ہی وی ایل جی ڈسٹرکٹ چکوال پریزیڈنٹ نے اپنے ٹیم رضاکاروں کے ہمراہ شجر لگا کر آغاز کر...
22/02/2025

ایک بشر دو شجر

شجر کاری کا آغاز ہوتے ہی وی ایل جی ڈسٹرکٹ چکوال پریزیڈنٹ نے اپنے ٹیم رضاکاروں کے ہمراہ شجر لگا کر آغاز کر دیا۔

چیف آرگنائزر سیوئیرز آرگنائزیشن پاکستان و ڈسٹرکٹ پریزیڈنٹ وی ایل جی چکوال عرفان علی سید نے شجر لگا کر شجر کاری کا آغاز کر دیا۔

عرفان علی سید کا کہنا تھا کہ شجر ہماری زندگی کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ پانی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے چائیے اور سب سے اہم بات یہ کہ پودے وہ لگائے جائیں جو جلد بڑھے ہو اور ان کی دیکھ بھال ضرور کی جائے۔ عرفان علی سید کا مزید کہنا تھا کہ جلد چکوال شہر و گردونواح میں اپنے رضاکاروں کے ہمراہ اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر شجر کاری کریں گے

میرے عزیز و محترم دوست حافظ بلال بشیر صاحب کا انتہائی خوبصورت تحریر ۔ یہ تحریر وقت کی ضرورت تھی اور یہی صحیح موقع تھا۔ ح...
21/02/2025

میرے عزیز و محترم دوست حافظ بلال بشیر صاحب کا انتہائی خوبصورت تحریر ۔ یہ تحریر وقت کی ضرورت تھی اور یہی صحیح موقع تھا۔ حافظ بلال صاحب ویسے بھی بہت خوبصورت دلیل اور ریسرچ کے ساتھ تحاریر لکھتے ہیں لیکن اعمال اور موسمیاتی بے قاعدگیوں میں تعلق پر لکھنا اس وقت انتہائی اہم تھا حافظ بلال بشیر صاحب نے انتہائی خوبصورت انداز ، خوبصورت الفاظ کے چناؤ کے ساتھ اور قرآنی دلائل کے ساتھ یہ تحریر کیا ہے تمام دوست اس کو بغور پڑھے اور عملی زندگی میں اپنی بھی تبدیلی لے کر اور دوسروں کو بھی لائیں ۔ سلامت رہیں حافظ صاحب





Bilal Bashir

*اعمال اور موسمیاتی بے قاعدگیوں میں تعلق*
✒️حافظ بلال بشیر

پاکستان کے بیشتر علاقے شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ زمین پیاسی ہے، درخت سوکھ رہے ہیں، کھیت بنجر ہو رہے ہیں، اور انسان و حیوان پانی کی قلت کی وجہ سے شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق موسمیاتی تغیرات، جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی آلودگی اور پانی کا غیر مؤثر استعمال بارشوں کی کمی کا باعث بن رہے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ قدرتی آفات کے پیچھے ہمارے اعمال کا بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ بارش روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چرند پرند نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا“ (سنن ابن ماجہ)۔
یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار قدرتی آفات کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ آج جب ہم شدید قحط سالی کا سامنا کر رہے ہیں، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے اعمال ہی اس صورتحال کے ذمہ دار تو نہیں؟

خشک سالی اور انسانی اعمال کا واقعی گہرا تعلق ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کی، بدعنوانی، ظلم، اور ناانصافی کو فروغ دیا، تو وہ قدرتی آفات کی زد میں آئی۔ قرآن کریم ہمیں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی مثال دیتا ہے، جنہوں نے ناپ تول میں کمی کی، زمین میں فساد برپا کیا، اور بالآخر اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے، حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو وارننگ دی تو کیا کہا؟ اسی حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے،
“اور اے میری قوم کے لوگو! ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو۔ پھر جب ہمارا (عذاب کا) حکم آ پہنچا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے انہیں اپنی خاص رحمت سے بچا لیا، اور ظالموں کو ایک زوردار چیخ نے آ دبوچا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے“ (سورۃ ہود: 85-86)۔

اسی طرح، قومِ لوط بے حیائی اور فحاشی میں مبتلا ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست و نابود کر دیا۔
قرآن کریم میں یہ پچھلی قوموں کے واقعات اس لیے بیان کیے گئے ہیں تا کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں کہ جب بھی کوئی قوم اجتماعی طور پر گناہوں میں ملوث ہو جاتی ہے، تو اللّٰہ تعالیٰ کی پکڑ آن پہنچتی ہے

ایک مشہور حدیث جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے، اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللّٰہ تعالیٰ سے پوچھا:
”یا اللہ! جب تو ناراض ہوتا ہے تو اس کی کیا نشانی ہوتی ہے؟“
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“دیکھنا، جب بارشیں بے وقت ہوں، حکومت نالائق لوگوں کے پاس ہو، اور دولت بخیلوں کے ہاتھ میں ہو، تو سمجھ لینا کہ میں ناراض ہوں۔“
پھر موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا:
”یا اللہ! جب تو راضی ہوتا ہے تو اس کی کیا علامت ہوتی ہے؟“
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”جب بارشیں وقت پر ہوں، حکومت نیک اور سمجھ دار لوگوں کے ہاتھ میں ہو، اور دولت سخیوں کے پاس ہو، تو جان لینا کہ میں راضی ہوں۔“

آج اگر ہم اپنی حالت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بے وقت بارشیں، بدانتظامی، کرپشن، اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم عام ہو چکی ہے، جو کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضگی کی واضح نشانیاں ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید سائنس بھی بارشوں کی کمی کے اسباب کو واضح کرتی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے موسمیاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے، جبکہ کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، اور ملتان میں بھی صنعتی دھوئیں، گاڑیوں کے دھوئیں، اور فضلے کے جلنے کی وجہ سے فضا میں زہریلی گیسیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بارشوں میں کمی ہو رہی ہے بلکہ سانس کی بیماریاں، آنکھوں میں جلن، دمہ، اور گلے کی تکلیف جیسے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق درخت فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور بادلوں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، لیکن جب جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ کیا جاتا ہے تو ماحول میں توازن بگڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کی کمی واقع ہوتی ہے۔
بطور مسلمان ہمیں اس خشک سالی کی حالت کو محض ایک موسمی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی اعمال کا عکس سمجھنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی اس مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا، بدعنوانی، ناانصافی، اور ظلم سے توبہ کرنی ہوگی، اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور سچی عاجزی کے ساتھ دعا کرنی ہوگی۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں، قدرت کے اصولوں کو اپنائیں، درخت لگائیں، پانی کو بچائیں، اور اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ممکن ہے کہ آزمائشیں مزید بڑھ جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اپنی رحمت سے ہم پر بارشیں نازل کرے۔ آمین!

All member are you ready?
20/02/2025

All member are you ready?

20/02/2025





InShaAllah
19/02/2025

InShaAllah

10/01/2025

اگر چکوال میں بھی ایسے روڈ بنے تو کیا کہنے پھر چکوال کے ؟

مزے کی دنیا میں آئیں اور مزے سے کھائیں Juice Spot Chakwal اب جوس اسپاٹ چکوال پیش کر رہا ہے۔ فش اینڈ برگر اسپاٹ جہاں آپ ک...
17/10/2023

مزے کی دنیا میں آئیں اور مزے سے کھائیں
Juice Spot Chakwal
اب جوس اسپاٹ چکوال پیش کر رہا ہے۔ فش اینڈ برگر اسپاٹ
جہاں آپ کو ملیں
فنگر فش، فرائی فش ،گرل فش، چکن پکوڑہ، اسپیشل مٹن زنگر برگر ،چکن برگر،زنگر برگر،زنگر چیز برگر
اسکے علاوہ ویجیٹبل کے فرش جوسیز اور سردیوں کا خاص تحفہ (اسپیشل ڈرائی فروٹ جوس )
24 گھنٹے تیز ترین سروس کے ساتھ
ذائقہ اور معیار ایک ساتھ
Juice Spot Chakwal
تو دیر کس بات کی ابھی وزٹ کریں
Opposite to Ashraf Town Near Lahore School System
Pindi Road Chakwal
Contact us : 0333-5200236










Address

Chakwal

Telephone

+923335200236

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chakwal Volunteer's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Chakwal Volunteer's:

Share