YDA Bhakkar Official

YDA Bhakkar Official Dignity of white coat

*داجل چیک پوسٹ حملہ کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال بھکر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی**سی ای او ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاک...
24/02/2026

*داجل چیک پوسٹ حملہ کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال بھکر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی*

*سی ای او ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مظہر عباس خان ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال ڈاکٹر ہارون طاہر کے ہمراہ فوری طوری پر ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچے اور زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عمدہ ترین طبی سہولیات کی فراہمی کے احکامات*

*جبکہ اطلاع ملتے ہی فزیشن ڈاکٹر فرخ جمیل،سرجن ڈاکٹر صفدر حسین بخاری ، آرتھو پیڈک سرجنز ڈاکٹر طلحہ خان ، ڈاکٹر عتیق الرحمان قریشی ، سرجن ڈاکٹر رمیض حسن خان ڈاکٹر خالد اسراں،ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹر مزمل، نیور سرجن ڈاکٹر خرم حمید ، ڈاکٹر وقار عظیم ، ڈاکٹر مہر مبشر ، ڈاکٹر عامر خان ڈھانڈلہ ، ڈاکٹر ناصر کامران گھانگلہ ، ڈاکٹر ذکااللہ خان ، ڈاکٹر طاہر ، ڈاکٹر سہیل ، ڈاکٹر دانیال ثاقب، ڈاکٹر بلال عبدلللہ ، ڈاکٹر موسی خان سمیت تمام کنسلٹنٹ، میڈیکل آفیسرز اور تمام پیرا میڈیکل سٹاف فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی*

شہریوں کی بڑی تعداد نے خون کے عطیات جمع کروائے ، عوامی حلقوں نے ڈی ایچ کیو بھکر کی کارکردگی کو ہنگامی صورت حال کے دوران سراہا ہے*

متعلقہ حکام کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھکر اس وقت میڈیکل/وومن میڈیکل آفیسرز...
25/01/2026

متعلقہ حکام کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھکر اس وقت میڈیکل/وومن میڈیکل آفیسرز کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی مؤثر اور ہموار کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال بھکر آر ۔ایچ۔ سی اور ٹی۔ایچ۔کیو کے
تمام ریفرل کیسز کو بھی سنبھالتا ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود افرادی قوت کی کمی، بالخصوص میڈیکل اور وومن میڈیکل آفیسرز کی قلت، مزید سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس اضافی بوجھ کے باعث مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
لہٰذا، ہم متعلقہ حکامِ بالا سے گزارش کرتے ہیں کہ اس نہایت اہم معاملے پر فوری توجہ دی جائے اور ایڈہاک کے عمل کو اعلیٰ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ ضلع کے عام عوام بالخصوص غریب اور مستحق مریضوں کو ان کے بنیادی حقوق
معیاری اور بروقت طبی سہولیات سے محروم نہ ہونا پڑے۔

ٹیم۔وائی۔ڈی۔اے بھکر

ایچ پی وی ویکسین صرف ایک ویکسین نہیں، بلکہ کینسر سے بچاؤ کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔                          حکومت 15 ...
31/08/2025

ایچ پی وی ویکسین صرف ایک ویکسین نہیں، بلکہ کینسر سے بچاؤ کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔


حکومت 15 ستمبر سے پہلی بار قومی ویکسینیشن مہم شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایچ۔پی۔وی ویکسین کیا ہے اور یہ کس لیے ضروری ہے؟

ایچ پی وی ویکسینیشن کیا ہے؟

ایچ پی وی ویکسین ایک ایسی ویکسین ہے جو ہیومن پیپیلوما
کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔
ہیومن پیپیلوما وائرس غیر محفوظ جنسی تعلق سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ جس میں مخصوص جگہ پہ موکے یا مسے بن جاتے ہیں۔

ایچ پی وی ویکسینیشن کیوں ضروری ہے؟

تقریباً ہر جنسی فعال شخص زندگی میں کسی نہ کسی وقت ایچ پی وی کے کسی نہ کسی قسم سے متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ تر انفیکشنز خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، لیکن اگر انفیکشن برقرار رہے تو کینسر یا جنسی مسوں/موکوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ویکسین طویل مدتی اور مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔

کسے اور کب لگوانی چاہیے؟

عمر: یہ ویکسین عام طور پر 9 سے 26 سال کی عمر کےلڑکوں اور لڑکیوں کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔

بہترین وقت: اسے جنسی سرگرمیوں کا آغاز ہونے سے پہلے لگوانا سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
بالغ افراد: 27 سے 45 سال کی عمر کے بعض بالغ افراد بھی ڈاکٹر کے مشورے سے ویکسین لگوا سکتے ہیں اگر وہ پہلے سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔

نوٹ: یہ ویکسین ایک سے زیادہ ڈوز (عام طور پر دو یا تین)
میں لگائی جاتی ہے۔

ایچ پی وی ویکسین صرف ایک ویکسین نہیں، بلکہ کینسر سے بچاؤ کا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ نہ صرف عورتوں میں سروائیکل(بچہ دانی کے) کینسر سے بچاتی ہے بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں میں گلے، مقعد، اور دیگر کینسرز کے ساتھ ساتھ جنسی مسوں سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اپنے یا اپنے بچوں کے لیے ڈاکٹر سے اس کے بارے میں ضرور مشورہ کریں۔

اس ویکسین کو لگوانا اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کے لیے
ایک ذمہ دارانہ اور عقلمندانہ فیصلہ ہے۔

آگاہ رہیں
محفوظ رہیں۔

وائے۔ ڈی۔اے بھکر

07/05/2025

اعلامیہ وائے ڈی اے بھکر۔۔ہم انڈیا کی جانب سے نہتے پاکستانی شہریوں پر بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ہم اس موقع پر اپنی افواج اور دفاعی اداروں کے قدم بقدم ساتھ کھڑے ہیں۔اور امید کرتے ہیں کہ افواج پاکستان اس موقع پر تاریخی جوابی کارروائی کرے گی۔۔پاکستان زندہ باد۔

07/05/2025
أج پی ایم اے،واٸ ڈی اے اورہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن بھکر کی طرف سے پورا ضلع میں گرینڈ ہیلتھ الاٸنس پنجاب کے ساتھ اظہا...
30/04/2025

أج پی ایم اے،واٸ ڈی اے اورہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن بھکر کی طرف سے پورا ضلع میں گرینڈ ہیلتھ الاٸنس پنجاب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلٸے پرامن احتجاج کیاگیا۔۔۔أج پورے ضلع میں ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈکس اور ہیلتھ سپورٹ سٹاف نے کالی پپٹیاں باندھ کراپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔۔۔
بھکر کے تمام ہسپتالوں میں جن میں ڈی ایچ کیو بھکر،تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منکرہ،دریا خان،کلورکوث اورتمام دیہی مراکز صحت شامل ہیں،میں تمام سٹاف ممبرز نے نہ صرف کالی پٹیاں باندھیں بلکہ ہسپتال میں اکٹھے ہوکر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا۔۔۔
اس موقع پر پنجاب میں حکومت کی طرف سے گرینڈ ہیلتھ الاٸنس پر جاری تشدد اور انتقامی کارواٸیوں کی مذمت کی گٸی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہسپتالوں کی نجکاری کا عمل روکا جاۓ اور تمام برطرف ملازمین کو فی الفور بحال کیاجاۓ۔۔۔

29/04/2025

ہم ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر ریاستی جبر کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

بنیادی اور دیہی مراکز صحت کی نجکاری کا معاملہ اور محکمہ صحت کے غریب ملازمین بشمول ینگ ڈاکٹرز کا دھرنا۔از قلم ڈاکٹر مہر م...
27/04/2025

بنیادی اور دیہی مراکز صحت کی نجکاری کا معاملہ اور محکمہ صحت کے غریب ملازمین بشمول ینگ ڈاکٹرز کا دھرنا۔

از قلم ڈاکٹر مہر مبشر حسین
چیئرمین وائے۔ڈی۔اے بھکر

عوام الناس کی معلومات میں اضافے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ تمام ڈاکٹرز حضرات اس نجکاری کے خلاف کیوں ہیں۔ مزید جاننے سے پہلے کچھ حقائق پہ نظر ڈالتے ہیں۔
1۔ نجکاری کیے جانے والے یہ ہسپتال صرف اور صرف ڈاکٹرز ہی ٹھیکہ پہ لے سکتے ہیں۔
(اس میں تو ڈاکٹرز کو فائدہ ہے)
2. یہ ہسپتال بہت ہی کم عملہ کے ساتھ چلاہے جائینگے۔
(ٹھیکہ دار ڈاکٹر کا فائدہ)
3. ہسپتال ٹھیکے پہ لینے والے ڈاکٹر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک روز میں مخصوص تعداد سے زیادہ مریض نہیں دیکھے گا کیونکہ گورنمنٹ نے اس ڈاکٹر کو فی مریض کم و بیش 400 روپے دینے ہیں۔ جس میں پینا ڈول کے دو شربت بھی نہیں آتے۔
(اس میں بھی ٹھیکہ دار ڈاکٹر کا فائدہ)
ٹھیکہ دار ڈاکٹر جس روز مرضی چھٹی کرے، ہسپتال آئے یا نہ آئے۔ ٹھیکہ دار کی مرضی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈاکٹرز کو اتنا کچھ مل رہا ہے اور اس کے باجود بھی ڈاکٹرز نجکاری کے خلاف ہیں تو کیوں ہیں۔؟
ڈاکٹرز اس لیے نجکاری کے خلاف ہیں کیونکہ غریبی اور کسمپرسی میں پستی عوام جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کی خاطر پریشان ہے وہ پرائیویٹ ہسپتال کی بھاری بھرکم فیس کیسے ادا کریں گے۔ غربت اور بے بسی کی تصویر ہم ڈاکٹرز سے زیادہ کون دیکھتا ہے جب ایک دیہاڑی دار مزدور کو اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے پیسے میسر نہیں ہوتے اور جب ڈاکٹر اسکو کوئی دوائی لانے کو کہتا ہے تو اسکا سوالیہ چہرہ اور پھٹے پرانے کپڑے اس بات کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں کہ اس کے پاس تو شائد کھانے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اب جب پاکستان کا ہر شہری غربت کے ہاتھوں تنگ ہے، پنجاب گورنمنٹ بجائے اس کے کہ لوگوں کو سستا علاج مہیا کرے، ہماری حکومت سرکاری ہسپتال ٹھیکے پہ دے کر غریب عوام سے سستے علاج جیسی بنیادی سہولت سے بھی انکاری ہے۔ یہاں پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسا محض عالمی بنک کے کہنے پہ کیا جارہا ہے۔ عالمی بنک چاہتی ہے ہے کہ غریب اور کیڑے مکوڑوں جیسی عوام چونکہ حکومت پہ بوجھ ہیں اسلیے انکا علاج نہیں ہوگا تو یہ کیڑے مکوڑے خود ہی مر جائیں گے۔ اگر حکومت نے خرچے کم کرنے ہیں تو سرکاری پروٹوکول پہ صرف ہونے والے خرچے کم کرے۔جن ہسپتالوں میں سکیورٹی اور صفائی کا نظام نصف دہائی سے چل رہا ہے، پہلے اسکا آڈٹ کرایا جائے۔ یہ کمپنیاں جو کسی کی منظور نظر ہیں وہ غریب اور محنت کش لوگوں کی کروڑوں روپے کی تنخواہیں ہڑپ کر چکے ہیں۔ حکومت جن ہسپتالوں کی تزئین و آرائش کر رہی ہے انکا بھی آڈٹ کرایا جائے۔ ایک دیہی مرکز صحت جو دو سال پہلے بھی نیا بنا تھا اسکو توڑ کے اسکی جگہ ناقص ٹائلیں لگا کے عوام کا ٹیکس کا پیسہ برباد کیا جا رہا ہے۔ حکومتکو چاہئے کہ پہلے ماضی درست کرے ۔ اور اگر خرچے کم کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنے والے نکمے سرکاری افسروں کی شاہی خرچیاں کم کرے جہاں ان سرکاری افسروں کے کتوں کے لیے بھی الگ الگ گاڑیاں رکھی جاتی ہیں۔ اسمبلی میں بیٹھے ان سیاستدانوں کو دی جانے والی مراعات پہ نظر ثانی کرے جو عوامی خدمت کا چورن بیچ کر غریب عوام کا خون پینے میں برابر کے مجرم ہیں۔
جس دن یہ سب ٹھیک ہوجائے اس دن سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری پہ بات ہوگی۔ ورنہ ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔ اگر ان حالات میں کوئی غریب عوام کی صحیح ترجمانی کررہا ہے تو وہ ینگ ڈاکڑز اور محکمہ صحت کے باقی ملازمین کررہے ہیں۔

لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے۔

پیٹرن ان چیف: ڈاکٹر عامر اقبال ڈھانڈلہ

صدر: ڈاکڑ احسان اللہ

متحد رہیں
مظبوط رہیں۔

11/04/2025

*پریس ریلیزگرینڈ ہیلتھ الائنس بھکر۔*

نجکاری کے کالے قانون کے خلاف احتجاجی طور پرکام بند کرنے والے اور احتجاج میں شریک ملازمین جو اس وقت لاہور میں اپنے ساتھی ملازمین کے حقوق کی جنگ میں شامل ہیں۔ ان کے خلاف محکمہ صحت بھکر کی جانب سے کی گئی کاروائیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ غیر اخلاقی بھی ہیں۔
اگرانتظامیہ کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کو فلفور نہ روکاگیا توGHA کے پلیٹ فارم سے احتجاج کا دائرہ کاربڑھاتے ہوئے مکمل طورپر پورے بھکر کےہسپتالوں THQsاورDHQ میں بھی سروس بندکرنے کی کال دے دی جائیگی۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس/وائے۔ڈی۔اے بھکر بھکر اس عمل کی نہ صرف پرزور مزمت کرتی ہے بلکہ اس امر کی خواہاں ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بالا اگر اپنے ملازمین کے حق کی جنگ لڑنے سے قاصر ہیں تو کم از کم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے قلم سے کسی غریب ملازم کا چولہا ٹھنڈا نہ ہونے پائے۔

متحد رہیں
مظبوط رہیں

08/04/2025

بتا، تیرا کلیجہ کتنی لاشوں سے ٹھنڈا ہوگا؟”

ایک بار پھر سچ بولنے اور حق کا علم بلند کرنے کی سزا دے دی گئی—صدر وائی ڈی اے پنجاب اور سربراہ گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر شعیب نیازی کو سسٹم کی بھینٹ چڑھا دیا گیا

Address

Bhakkar

Telephone

+923042638800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YDA Bhakkar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to YDA Bhakkar Official:

Share