نصرت المساکین نورڑ

نصرت المساکین نورڑ Non Profit Organization

24/05/2026

طارق کوٹکہ بہرام نورڑ جو پیدائشی معذور ہے۔ خاندان کا واحد کفیل ہے۔ گزشتہ دنوں ٹھوکر کھا کر ہاتھ بھی زخمی کروا بیٹھے ہیں۔ تنظیم نصرت المساکین ویلفیئر فاؤنڈیشن نورڑ نے "اپنا کاروبار" کے سلسلے میں طارق کے چھوٹے سے دکان کے لیے سامان خرید کر دے دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے لیے راشن کا انتظام کیا اور اس کے علاج کرنے کا بھی فیصلہ کیا
اس قسم کے لوگوں کی مدد کے لیے تنظیم کا ساتھ دیتے رہیں
ایزی پیسہ ۔03488508492

20/05/2026

توجہ سے پڑھیں ۔ عید الاضحی کے موقع پر اس پاس کے غریبوں کو نہ بھولیں

یہ بلکل سچا واقعہ ہے۔ میرے ہی گاؤں کا اپنے بچپن میں ہمارے مرحوم امام صاحب سے سنا تھا۔
عصر کی اذان کو کچھ ہی وقت گزرا تھا۔ گرمیوں کی شام اپنے نرم سائے پھیلا رہی تھی۔ سورج ڈھلنے کو تھا، مٹی کی گلیوں میں ہلکی ہوا چل رہی تھی، کہیں بچے شور مچا رہے تھے، کہیں مویشیوں کو واپس باڑوں کی طرف ہانکا جارہا تھا، اور پورے گاؤں میں قربانی کے گوشت پکنے کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ ایسے ہی وقت میں ایک باریش بزرگ، جنہیں پورا گاؤں عزت سے امام صاحب کہتا تھا، آہستہ قدموں سے گاؤں کی دکان میں داخل ہوئے۔ دکان پر معمول سے زیادہ رش تھا۔ کوئی چینی لے رہا تھا، کوئی مصالحے، کوئی برف۔ دکاندار جلدی جلدی سامان نکالنے میں مصروف تھا۔ امام صاحب خاموشی سے ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں ان کی نظر ایک شخص کے سامان پر پڑی۔ تھیلی میں تھوڑی سی دال، چند سبزیاں اور معمولی سا راشن تھا۔ امام صاحب نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا اور نرم لہجے میں پوچھا، “بیٹا خیر تو ہے؟ گھر میں کوئی بیمار ہے کیا؟” وہ شخص چونکا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ بنا کر بولا، “نہیں امام صاحب، سب خیریت ہے۔” امام صاحب نے دوبارہ تھیلی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولے، “آج کے دن کس کے گھر دال بنتی ہے؟ پورے گاؤں میں تو ہر گھر سے گوشت کی خوشبو آرہی ہوگی۔” یہ سنتے ہی اُس شخص کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے ٹوٹ گئی۔ اس نے نظریں جھکالیں۔ آواز بھاری ہوگئی۔ “امام صاحب… صبح سے شام ہوگئی۔ بچے بھی انتظار کرتے رہے کہ شاید کسی کے گھر سے قربانی کا گوشت آجائے گا۔ مگر پورے گاؤں میں سات سو کے قریب گھر ہیں، اور ابھی تک ہمارے دروازے پر کوئی نہیں آیا۔ اب مجبوراً دال لے جارہا ہوں تاکہ بچے بھوکے نہ سوئیں۔” یہ الفاظ ایسے تھے جیسے کسی نے خاموشی سے دل پر پتھر رکھ دیا ہو۔ دکان پر کھڑے کئی لوگ خاموش ہوگئے۔ کچھ نے نظریں چرا لیں۔ امام صاحب چند لمحے اُس کو دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ انہوں نے فوراً اُس شخص کا ہاتھ پکڑا اور محبت سے کہا، “چلو میرے ساتھ۔” وہ اُسے اپنے گھر لے گئے۔ صحن میں قربانی کا گوشت رکھا تھا۔ امام صاحب نے اپنی حیثیت کے مطابق اچھا حصہ اُس کے حوالے کردیا۔ وہ شخص بار بار شکریہ ادا کررہا تھا مگر امام صاحب کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی۔ شاید اس لیے کہ سات سو گھروں والے گاؤں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں بچے صرف دوسروں کے گھروں سے آنے والی خوشبوؤں سے اندازہ لگا رہے تھے کہ آج عید ہے۔ اُس دن امام صاحب نے ایک بات کہی تھی جو آج بھی دل میں گونجتی ہے، “قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، قربانی تب مکمل ہوتی ہے جب تمہارے آس پاس کوئی بھوکا نہ رہ جائے۔” آج بھی جب عید آتی ہے، بازار سجتے ہیں، جانوروں کی قیمتوں پر بحث ہوتی ہے، تصویریں بنائی جاتی ہیں، تو یہ واقعہ انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے کہ کہیں ہماری خوشیوں کے شور میں کسی غریب کے بچوں کی خاموش بھوک دب تو نہیں رہی۔ کیونکہ سال میں یہ چند دن ایسے ہوتے ہیں جن کا انتظار وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے گھروں میں مہینوں گوشت نہیں پکتا، اور اگر ہمارے ہوتے ہوئے بھی اُن کے چولہے خالی رہ جائیں تو پھر صرف جانور ذبح ہوتے ہیں، قربانی ادا نہیں ہوتی۔

08/05/2026

الحمد اللہ
ایک بار پھر تنظیم نصرت المساکین ویلفیئر آرگنائزیشن نورڑ غریبوں کی آس پر لبیک کہتے ہوئے ایک یتیم لڑکی کی شادی میں بھرپور مدد کی۔ تفصیل ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں
اس قسم کے غریب لوگوں کی مدد کے لیے تنظیم کا ساتھ دیتے رہیں
ایزی پیسہ نمبر۔03488508492

23/04/2026

تعاون کا شکریہ۔۔
تنظیم نصرت المساکین کے دوستوں نے یتیم بچی کیلئے جہیز کا سامان خرید کر اس کی ماں کا ارمان پورا کرلیا۔۔
اس قسم کے لوگوں کی مدد کے لیے تنظیم کا ساتھ دیتے رہیں
تنظیم ایزی پیسہ نمبر 03488508492

10/04/2026

کیا آپ اللّہ تعالیٰ کا دوست بننا چاہتے ہیں؟ بہت آسان ہے
اس تحریر کو غور سے پڑھیں

ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔

“میرے عزیز” ان کا مخصوص تکیۂ کلام تھا۔

اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔

میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:

“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”

میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی؛ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔

وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتب پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کے میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔

اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔

گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:

“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”

وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:

“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”

اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

وہ بس اتنا بولا:

“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”

اور خاموش ہو گیا۔

میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”

میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا:

“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”

بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔

چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:

“آپ اللہ ہو؟”

میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:

“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”

وہ بولا:

“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:

اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”

یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔

شیخ صاحب رُک گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ بولے:

“اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس… یہی دوستی ہے۔”

وہ بار بار دہرا رہے تھے:

“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”

اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے 🩷

14/03/2026

تنظیم کا سالانہ خصوصی اجلاس کل سہ پہر ساڑھے تین بجے دفتر میں منعقد ہوگا۔ جس میں اصول و ضوابط کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی کے پاس کوئی تجویز، مشورہ یا تحفظات ہوں تو شرکت ضرور کریں

23/02/2026

تنظیم نصرت المساکین ویلفیئر آرگنائزیشن نورڑ نے رمضان المبارک کے سلسلے میں 27 لاکھ کا فوڈ پیکج 210 خاندانوں میں تقسیم کیا۔ جب کہ عید کے لئے انہی خاندانوں کے 12 سو سے زائد افراد ( چھوٹے بڑے، مرد و عورت) میں 9 لاکھ 80 ہزار ( تقریبا) کا کپڑا تقسیم کیا
رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں اپنے عطیات و زکوٰۃ میں تنظیم کو بھی یاد رکھیں
سات آٹھ مریضوں کا مستقل علاج بھی جاری ہے

06/02/2026

نُصرت المسکین یتیموں غریبوں کی آخری اُمید ،

30/01/2026

بلڈ ڈونر سوسائٹی سے بلڈ بینک کے قیام کی جانب قدم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں بہت سوں کے پیاروں کو اچانک خون کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اور لواحقین مارے مارے پھرتے ہیں۔ پوسٹ کرتے ہیں۔ الغرض بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔
بہت سے علاقوں میں اس سلسلے میں بلڈ ڈونر سوسائٹی/ گروپ بنائے گئے ہیں۔ نورڑ کے کچھ جوانوں نے بھی اس میدان کچھ بڑھ کرکرنے کا عزم کیا ہے۔ یعنی بلڈ بینک ،جیاں ہر وقت خون دستیاب ہو۔
اس کے لیے ابتدائی طور پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شہزاد نورڑ کے کلینک میں خون کا فری چیکنگ ہوگا۔ جو نام لکھنا چاہتے ہیں۔ اور جب فنڈ مل جائیں تو خون محفوظ رکھنے کے دیگر لوازمات (فریج وغیرہ) کا بھی انتظام ہوگا۔
اس مہم کا ساتھ دینے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں
ڈاکٹر شہزاد 03369198851

24/01/2026

یہ ہیں ہمارے مسافر بھائی جو اپنے وطن، رشتہ داروں ، والدین اور اولاد سے دور ہیں۔ اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے کتنی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اس کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔
انہی مسافروں کو اپنے اولاد کی طرح غریب اور نادار لوگوں کی بھی فکر ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب مقیم ہمارے بھائی بندے اکھٹے ہوئے ہیں اور نصرت المساکین ویلفیئر آرگنائزیشن کی بھرپور اعانت کا اعلان کیا ہے
ان دوستوں کو دعا میں یاد نہ رکھنا انتہائی زیادتی ہوگی
اللّہ تعالیٰ دونوں جہاں میں صلہ عطا فرمائے آمین

19/01/2026

نصرت المساکین ویلفیئر آرگنائزیشن نورڑ کا خصوصی اجلاس آج دفتر میں جمیل نواز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نئے سال ( رمضان المبارک) کے لیے مستحقین ( نادار ) خاندانوں کی فہرست از سر نو مرتب کی گئی ۔ رمضان المبارک سے پہلے تقریباً 220 خاندانوں کے 1300 سے زائد افراد ( مرد و عورت، چھوٹے بڑے) کے لیے کپڑے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جس پر 11 لاکھ سے زائد خرچ کا تخمینہ لگایا گیا
تنظیم کے پاس اس وقت 8 لاکھ روپے موجود ہیں۔ 3 لاکھ سے زائد مزید رقم کی ضرورت ہے۔ مخیر حضرات سے مدد کی اپیل ہے۔ اگر کوئی صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو ایزی پیسہ نمبر 03488508492 پر رابطہ کرے

Address

Bannu Cantonment
28100

Telephone

+923429816483

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نصرت المساکین نورڑ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share