02/11/2025
درہ شوہال محلہ جبڑ — روڈ کے نام پہ ظلم کی ایک داستان
درہ شوہال کے محلہ جبڑ میں ایک بیوہ عورت کی زمین پہ زبردستی قبضہ کی کوشش نہ صرف ایک قانونی جرم ہے بلکہ ایک ایسی اخلاقی گراوٹ کی مثال ہے جو دل ہلا دینے والی ہے۔
جب کوئی شخص یا گروہ "عوامی مفاد" یا "روڈ کی تعمیر" جیسے خوبصورت نعروں کے پیچھے کسی مظلوم کی ملکیت ہڑپنے نکلے، تو یہ ترقی نہیں، دراصل ظلم کا نیا چہرہ ہوتا ہے۔ شریعتِ محمدی ﷺ میں کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناحق لینے پر سخت وعید آئی ہے —
> "جس نے کسی کی زمین کا ایک بالشت بھی ظلم سے لی، قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔"
(بخاری شریف)
ایک بیوہ — جس کا سہارا اس کا ایمان، اس کا صبر اور اس کی زمین ہے — اگر اس کی زمین پر ہاتھ ڈالا جائے تو یہ ظلم صرف اس پر نہیں، بلکہ انسانیت پر ہے۔
اخلاقاً، جس سماج میں طاقتور کمزور کا حق کھا جائے، وہاں مسجدیں اونچی اور دل خالی ہو جاتے ہیں۔ قانوناً، کسی بھی منصوبے یا راستے کے لیے زمین لینا صرف رضامندی، معاوضے اور عدالتی اجازت سے ممکن ہے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا مشینوں کے زور سے۔
ایسے لوگ جو "ترقی" کے نام پر مظلوموں کا حق چھینتے ہیں، وہ دراصل ترقی کے نہیں، تباہی کے ٹھیکیدار ہیں۔ زمین کی مٹی گواہی دیتی ہے، آنسو اور بددعائیں اثر کرتی ہیں، اور انصاف کی دیوار دیر سے ہی سہی مگر ضرور کھڑی ہوتی ہے۔
یہ تحریر ان سب کے ضمیر کے لیے ہے جو طاقت کے نشے میں کمزوروں کی چیخیں نہیں سنتے — یاد رکھو!
> بیوہ کی زمین پہ کھڑی کی گئی دیواریں ہمیشہ انصاف کی آواز سے گرا کرتی ہیں۔