08/07/2026
اپیل!
مولانا خانزیب شہید کا مشن – ایک عزم، ایک تجدیدِ عہد
السلام علیکم دوستو!
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ 10 جولائی کا دن باجوڑ سمیت پوری پختون قوم کے لیے ایک نہایت غمگین اور دردناک دن ہے، کیونکہ اس دن ہم نے وہ نقصان اٹھایا جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو۔ اسی دن ہم سے ہمارا ملی مشر، مخلص مفکر، سیاست دان، لکھاری اور پختونوں کو ان کے وسائل سے باخبر کرنے والی عظیم شخصیت، مولانا خانزیب کو بے دردی سے ہم سے جدا کیا گیا۔
انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔ یقیناً وہ قیامت خیز، دکھ اور تکلیف سے بھرا دن، جس نے ہم سے ہمارا ملی مشر، استاد، رہبر، پیشوا اور دانشور چھین لیا، آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔
اس برسی کے موقع پر، یعنی 10 جولائی کو، ہم دردِ دل کے ساتھ ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور قوم کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس مختصر سے کاوش کے ذریعے ان کے قاتلوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے ایک توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی، مگر اس دھرتی پر ان کے مشن کو زندہ رکھنے والے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ اسی سلسلے میں ہم مولانا خانزیب کی قیمتی کتاب "شتمنہ پختونخوا" کی 70، 80 کاپیاں ان لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں جو پختون قوم کی بیداری کا درد اپنے سینوں میں رکھتے ہیں۔
ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ یہ کتاب سب سے پہلے ان بااثر اور دردمند لوگوں تک پہنچے، جو خود بھی اس کا گہرا مطالعہ کریں اور پھر عوام اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان کے حقوق اور دھرتی کے وسائل سے صحیح معنوں میں آگاہ کریں۔
پہلے مرحلہ
علماء کرام اور آئمہ مساجد: یقیناَ علماء کرام کی بات پر ہماری قوم بہت آسانی سے یقین اور عمل کرتے ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس پیغام کو صحیح معنوں میں عوام تک پہنچائیں گے۔
اساتذہ کرام: جو نسلوں کے معمار ہیں۔ اگر وہ اس کتاب سے اپنے شاگردوں کو روشناس کرائیں، تو یہ قوم کی تقدیر بدلنے والی ایک بڑی تحریک بن سکتی ہے۔
دوسرا مرحلہ
گھروں کے بزرگ: جن کی دعائیں اور تجربہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ کتاب پڑھ کر اپنی اگلی نسلوں کو بیدار کریں۔
خواتین: کیونکہ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر آج ہماری مائیں اور بہنیں یہ کتاب پڑھ لیں، تو وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے ان کے حقوق کے لیے تیار کر سکتی ہیں۔
نوجوان: کیونکہ ملک کا زیادہ تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوان ہی کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر کتابیں بچ گئیں تو ہم اپنے ان نوجوانوں کو دیں گے جن کی رگوں میں تبدیلی کا لہو دوڑ رہا ہے اور جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہماری استطاعت محدود سہی، لیکن عزم اٹل ہے۔ ہم ذاتی طور پر ہر گھر، ہر استاد اور ہر فرد تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اگر ہم 70, 80 کتابیں بھی صحیح ہاتھوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے، تو ہم سمجھیں گے کہ ہم نے اپنے استاد کے مشن کا حق ادا کر دیا۔
اس سفر میں ہمیں آپ سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی اس مشن میں شامل ہونا چاہے تو کسی بھی شکل میں ہمارا دست و بازو بن سکتا ہے۔ جس کے پاس یہ کتاب موجود ہے وہ ہمیں دے سکتا ہے، صاحبِ استطاعت مالی معاونت کر سکتے ہیں، اور جو کچھ نہیں دے سکتے، وہ اپنا قیمتی وقت دے کر ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر اسے پڑھنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔
رحمت اریان
Easypaisa
03038419702