FYWO Educating,innovating and empowering the youth and specially the destitutes of KP۔
#ہر بچہ سکول میں

انسان څومره غټ ظالم دی💔.Hamdillah Hamdani 💔🙏✍️يوه مرغئ چې په حساب «څو کلونه» عمر لري، د انسان د وجې په بنده پنجره کې تير...
30/07/2026

انسان څومره غټ ظالم دی💔.
Hamdillah Hamdani 💔🙏✍️

يوه مرغئ چې په حساب «څو کلونه» عمر لري، د انسان د وجې په بنده پنجره کې تيروي🥲. انسان له دا سوچ پکار دی چې؛ که چرته دغه مرغئ د خپل حق په خاطر ما د يو انصاف والا قاضي دربار کې اودروي، نو فيصله به څه کيږي؟

قتل خو يوازې د مخلوق ساه بندول ندي، بلکې د هغوي نه د ژوند اختيار اغستل غټ قتل دی🙏.

هر هغه انسان غټ ظالم او قاتل دی چې په خپل اختيار کې د بل ژوند راولي، بيا که هغه ته د شوق نوم ورکوي او که د مخلوق سره د مينې. خو دغه نه مينه ده او نه شوق، بلکې قتل دی او ظلم دی.

بندې مرغئ دې ازادې شي 🤲.

مرغئ بندوونکی ظالم هم دی او قاتل هم دی💔🙏

مینہ ځان له غواړي مستانه لکه خان زیبځان وار باندې کـــڑي دانا لکه خان زیب.څوک هم که معیار د سړیتوب کیښودل غواړي،مونږ به ...
23/07/2026

مینہ ځان له غواړي مستانه لکه خان زیب
ځان وار باندې کـــڑي دانا لکه خان زیب.

څوک هم که معیار د سړیتوب کیښودل غواړي،
مونږ به ورته کېږدو پیمانه لکه خان زیب.

بیا به زه نفرت د مولانا د ټکي نه کړم،
ته راله پیدا کړه مولانا لکه خان زیب.

د رحمت آریان د سربراہی لاندې د شهید مولانا خان زیب په وینو او قربانۍ لیکل شوی کتاب «شتمنه پښتونخوا» یو ځل بیا مو په ګڼ شمېر علماوو، مفتیانو او د ممبر خاوندانو ته د ډالۍ په توګه ووېشل، چی د ممبر له لارې د خپلو طبیعي شتمنیو او وسایلو په اړه د پوهاوي پیغام د هر پښتون تر غوږونو ورسېږي.

د کتابونو د وېش پر مهال مو یو کتاب هغه عالم ته هم ډالۍ کړ
چې په قذافي مدرسه کې د دورې تفسیر استاد دی او له کویٹې سره تعلق لري.
مولانا صاحب د مننې وروسته خپلو شاګردانو ته وویل: دا ډېر د کار سړی و، کاشک چی موږ مخکې ترې خبر وای.
ویل نن که مولانا صاحب زموږ ترمنځ نشته، خو د هغه د فکر، مشن او د خپلو وسایلو د پېژندنې پیغام رسول د هر چا فرض داسی دی."

هماغه وخت کې راته د خوشحال خان خټک دا بیت رایاد شو

یم حیران په دغو خلکو، نه پوهېږم
تږي مري ولاړ تر حلقه په دریا کې

رښتیا هم، موږ د خپلو شتمنیو او وسایلو نه دومره بې خبره یو چې نه ډېر عالمان، نه استادان او نه هم عام خلک کنڈ شمیر خلک ترې خبر دي.

همدا وجہ دہ چې زموږ پر وسایلو د پنجاب تور خامار اڑم شوی دی. یو ڈی جی آئی ایس پی آر هم ویلي وو چې دا وسایل پښتنو ته په جهیز یا میراث کې نه دي پاتې شوي.
نو اصلي ستونزه دا ده چې موږ خپله د خپلو شتمنیو پوښتنه نه ده کړې؛ کله چې موږ نه یو خبر، نو نور به ولې زموږ حق پنجاب لہ ویسي؟

د رحمت شاه سایل دا شعر هم همدا حقیقت بیانوي

زما وطن د سرو او سپینو نه ډک،
زه مزدورۍ پسې بهر ګرځمه.
زه یو پښتون، خانه بدوش د وطن،
کډه پر سر او در په در ګرځمه.

آخری خبری۔۔۔۔۔
که موږ د خپلو وسایلو او شتمنیو په ارزښت یو شو، نو هم به یې ساتنه وکړو او هم به د خپل حق غوښتنه وکړو. د همدې شعور راویښول او د ولس یو موټی کول د شهید مولانا خان زیب د مبارک مشن اساسي موخه وه.

عطاء اللہ

سفرِ اسلام آباد اور ایک کلومیٹر کا فاصلہ: گھر کی دہلیز سے سڑک تک کتابوں کا بیگ خالی ہونے کی داستان!گھر سے اسلام آباد واپ...
16/07/2026

سفرِ اسلام آباد اور ایک کلومیٹر کا فاصلہ:
گھر کی دہلیز سے سڑک تک کتابوں کا بیگ خالی ہونے کی داستان!

گھر سے اسلام آباد واپسی کا رختِ سفر باندھتے ہوئے، میں نے اپنے بیگ میں دیگر تحریروں کے ساتھ ساتھ مولانا خانزیب شہید کاے لکھیں ہوئے کتاب شتمنہ پختونخوا کی چند کاپیاں بھی رکھ لیں۔ ان میں سے ایک نسخہ میرے ذاتی مطالعے کے لیے تھا، جبکہ پانچ کتابیں میں نے اسلام آباد میں مقیم اپنے ان ہم خیال دوستوں کے لیے مختص کی تھیں جو علم دوست بھی ہیں اور اپنی مٹی و قوم سے گہری وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ یہ فکری اثاثہ ان تک پہنچے تاکہ وہ اس کا سنجیدہ مطالعہ کر سکیں۔

تاہم، گھر کی دہلیز چھوڑتے ہی صورتحال نے ایک غیر متوقع اور خوش آئند رخ اختیار کر لیا۔ ہمارے گھر سے مین شاہراہ (سڑک) تک کا فاصلہ محض ایک کلومیٹر ہے۔ اس مختصر سے راستے کو طے کرنے کے دوران جیسے ہی مقامی لوگوں سے علیک سلیک اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو روایتی احوال پرسی کے فوراً بعد ہر ایک کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا: "ہمیں مولانا صاحب کی کتاب فراہم کی جائے

چنانچہ، میں ضرورت اور اشتیاق کو دیکھتے ہوئے ایک ایک کر کے بیگ سے کتابیں نکالتا رہا۔ ابھی میں مین سڑک پر پہنچ کر گاڑی تک پہنچا ہی نہیں تھا کہ میرا بیگ ان کتابوں سے مکمل طور پر خالی ہو چکا تھا۔ مولانا کی فکر اور کتاب کے حصول کی اس دوڑ میں صرف نوجوان یا اساتذہ ہی پیش پیش نہیں تھے، بلکہ ان میں 60 سال تک کے عمر رسیدہ بزرگ اور جید علماء بھی شامل تھے، جن کا مطالعے کا شوق دیدنی تھا۔

اگرچہ یہ کتابیں اسلام آباد میں دوستوں کی امانت تھیں، لیکن راستے میں ہی ان کا اس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جانا ایک مثبت پیغام ہے۔ اس منظر نے دلی مسرت اور اطمینان کا احساس دلایا کہ تمام تر سماجی چیلنجز کے باوجود، ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے باشعور نوجوان، اساتذہ اور بزرگ موجود ہیں جو اپنی دھرتی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور فکری و علمی مطالعے کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں۔ وہ دوست جن کے لیے یہ کتابیں تھیں، ان سے معذرت خواہ ہوں اور عزم کرتا ہوں کہ اگلی بار ان کا حصہ ان تک ہر صورت پہنچاؤں گا۔

کتابیں سونپتے وقت میں نے ہر پڑھنے والے سے صرف ایک ہی گزارش کی:
"اس کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کریں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے حالات، حقوق اور قومی وسائل سے ضرور آگاہ کریں

رحمت اریان

علم سے شعور تک، شعور سے خود مختاری تک!ش*ہ*ی*دِ ملت مولانا خانزیب شہید کی کتاب "شَتمَنہ پختونخوا" کو ہر نوجوان کے ہاتھ می...
15/07/2026

علم سے شعور تک، شعور سے خود مختاری تک!

ش*ہ*ی*دِ ملت مولانا خانزیب شہید کی کتاب "شَتمَنہ پختونخوا" کو ہر نوجوان کے ہاتھ میں پہنچانے کی ایک مہم، تاکہ پختونخوا کا ہر بیٹا اور بیٹی اپنے وسائل اور اپنی طاقت کو پہچان سکے۔

شہید مولانا خانزیب صاحب کے مشن کی ترویج ایک سفرِ عزم و آگہیافغان ملت کے شہید، عالمِ مفکر، دانشور، سیاستدان اور پختون قوم...
12/07/2026

شہید مولانا خانزیب صاحب کے مشن کی ترویج
ایک سفرِ عزم و آگہی

افغان ملت کے شہید، عالمِ مفکر، دانشور، سیاستدان اور پختون قوم کی توانا آواز شہید مولانا خانزیب صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے اور ان کی تصنیف "شتمنہ پختونخوا" عوام تک پہنچانے کے سفر کے سلسلے میں، ہم اپنے علاقے کے نامور تعلیمی ادارے 'قذافی پبلک ہائی اسکول اینڈ کالج' کی طرف روانہ ہوئے۔ اس سفر میں میرے دو دوست، عطاء اللہ اور حمداللہ حمدانی بھی میرے ہمراہ تھے۔

تاہم، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مذکورہ کالج بند ہو چکا ہے اور دوسری جگہ کالج کی ایک نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے، جس کے باعث اساتذہ بھی وہیں منتقل ہو چکے ہیں۔ چنانچہ ہم بھی کالج کی اس دوسری زیرِ تعمیر عمارت کی طرف چل پڑے، جہاں تعمیراتی کام تیزی سے جاری تھا اور اساتذہ سمیت کالج کے ایک ڈی (عہدیدار) محمد اصغر صاحب بھی موقع پر موجود تھے۔

جس وقت ہم وہاں پہنچے، کالج کے اساتذہ چھٹی کر کے گھروں کو لوٹنے والے تھے۔ ہم نے اندر داخل ہو کر انہیں گیٹ پر ہی روکا اور ان سے کچھ وقت دینے کی درخواست کی، جس پر انہوں نے انتہائی خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا۔ کالج کا تدریسی عملہ چونکہ پہلے سے ہمارے تعارف سے واقف تھا، اس لیے وہ جان گئے تھے کہ ہمارا یہاں آنا کسی خاص مقصد اور پیغام کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

اس تناظر میں، ہم نے پہلے ہی منٹ سے مولانا صاحب کے افکار و پیغامات کو ان تک پہنچانے کا عمل شروع کیا اور اساتذہ کو ان کی یہ قیمتی کتاب فراہم کی۔ ہم نے ان کے سامنے یہ موقف رکھا کہ اگر آپ چاہیں، تو ہم سے کہیں زیادہ بہتر اور موثر طریقے سے مولانا صاحب کے مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور نوجوان طلبہ کو اپنے وسائل و حقوق سے بہتر طور پر باخبر کر سکتے ہیں۔ ہماری اس گفتگو سے تمام اساتذہ بے حد مسرور ہوئے اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مولانا صاحب کے مشن کو طلبہ تک ضرور پہنچائیں گے۔

اسی دوران ایک استاد صاحب نے کتاب کے شکرانے (قیمت) کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ اپنا عملی حصہ ڈال سکیں، لیکن میں نے ان سب کو جواباً عرض کیا کہ آپ کا اصل شکرانہ یہ ہے کہ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں، اس کا ایک ایک حرف طلبہ تک پہنچائیں اور اگر ممکن ہو تو پڑھنے کے بعد یہ کتاب کسی دوسرے کتاب دوست شخص کو دے دیں۔

ان سب نے ہماری اس گزارش کو تہہ دل سے تسلیم کیا اور 'انشاء اللہ' کہہ کر اپنے عزم کو دہرایا۔ اس کامیاب نشست کے بعد، ہم اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔
رحمت اریان

کل 10 جولائی بروز جمعہ، شہید مولانا خانزیب صاحب کی فکر انگیز کتاب "شتمنہ پختونخوا" کو اساتذہ کرام اور علمائے کرام تک پہن...
11/07/2026

کل 10 جولائی بروز جمعہ، شہید مولانا خانزیب صاحب کی فکر انگیز کتاب "شتمنہ پختونخوا" کو اساتذہ کرام اور علمائے کرام تک پہنچانے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی مہم کا ہم نے باقاعدہ آغاز کیا۔ مہم کے آغاز پر اگرچہ متعدد دوست اپنی گوناگوں مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے، تاہم ہمارا عزم تھا کہ اس علمی مقصد کے لیے تعداد کے بجائے نظریاتی ہم آہنگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

اسی سلسلے میں نے محترم عطاء اللہ اور حمداللہ ہمدانی سے رابطہ کیا، جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مہم کا حصہ بننے کی ہامی بھری اور مجھے ایک مشترکہ مقام پر پہنچنے کی دعوت دی۔

جب میں طے شدہ جگہ پر پہنچا، تو وہ "اسٹوڈنٹس ٹیچرز کیفے" کے نام سے ایک منفرد اور زبردست کیفے تھا۔ وہاں بیٹھ کر گفتگو کا آغاز ہی ہوا تھا کہ میری نظر دیوار پر قائم ایک مختصر لائبریری (Mini Library) پر پڑی۔ اگرچہ اس لائبریری میں اس وقت کتابوں کی تعداد کم تھی، لیکن نوجوان نسل کے لیے یہ علمی گوشہ دیکھ کر دلی مسرت ہوئی۔

ساتھی عطاء اللہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ یہ کیفے ان کے ایک تعلیم یافتہ اور متحرک دوست جاسر نے حال ہی میں قائم کیا ہے۔ اس لائبریری کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہاں آنے والے طلبہ اور شہری چائے یا جوس کے انتظار میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے مطالعہ کتب میں صرف کر سکیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کتابوں کے ذخیرے میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

بعد ازاں، کیفے کے نوجوان مالک جاسر سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی، جن سے سوشل میڈیا کے توسط سے پہلے ہی سے تعارف موجود تھا۔ انہوں نے بھی اس علمی منصوبے پر تفصیلی گفتگو کی اور اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر میں نے ساتھیوں کے سامنے تجویز رکھی کہ چونکہ ہمارا بنیادی مقصد بھی مولانا خانزیب صاحب کے مشن، افکار اور کتاب کے پیغام کو عوام الناس تک پہنچانا ہے اور اس وقت کتابیں بھی ہمارے پاس دست یاب ہیں، لہٰذا کیوں نہ اس لائبریری کے لیے "شتمنہ پختونخوا" کا ایک نسخہ بطور ہدیہ پیش کیا جائے۔ تمام احباب نے اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا۔

ہم نے نوجوان جاسر کی اس علمی و شعوری کاوش کو زبردست الفاظ میں سراہا، انہیں مستقبل میں مزید کتب فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کو خطے کے وسائل، مسائل اور اپنے حقوق سے باخبر کرنے کے اس مشن کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے ہمارے اس جذبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

اس کامیاب نشست کے بعد ہم نے ان سے اجازت لی اور مہم کے اگلے مرحلے کی جانب گامزن ہو گئے

رحمت اریان ۔

د جولای په 10 مه د شهیدِ ملت، عالم، مفکر، دانشور، سیاستوال او د پښتون قوم د توانا غږ شهید مولانا خانزیب صاحب په برسي (تل...
09/07/2026

د جولای په 10 مه د شهیدِ ملت، عالم، مفکر، دانشور، سیاستوال او د پښتون قوم د توانا غږ شهید مولانا خانزیب صاحب په برسي (تلین) باندې د FYWO ټیم د هغه مشن عوامو ته د رسولو لپاره د هغه قیمتي کتاب "شتمنه پختونخوا" په اتمان خېل تحصیل کې علماو کرامو او اساتذو ته د رسولو هڅه کوي.

له تاسو ټولو د کومک او تعاون اپیل دی چې راشئ یو ځای د هغه مشن مخکې بوځو او د هغه پیغامونه عوامو ته ورسوو ترڅو هر پښتون له خپلو وسائلونو خبر شي.
موږ با ستاسو د کومک په تمه يو.
شکريه.
Easypaisa
Abdus Salam
03025652125

اپیل!مولانا خانزیب شہید کا مشن – ایک عزم، ایک تجدیدِ عہدالسلام علیکم دوستو!امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ جیسا کہ آپ سب ...
08/07/2026

اپیل!
مولانا خانزیب شہید کا مشن – ایک عزم، ایک تجدیدِ عہد

السلام علیکم دوستو!

امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ 10 جولائی کا دن باجوڑ سمیت پوری پختون قوم کے لیے ایک نہایت غمگین اور دردناک دن ہے، کیونکہ اس دن ہم نے وہ نقصان اٹھایا جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو۔ اسی دن ہم سے ہمارا ملی مشر، مخلص مفکر، سیاست دان، لکھاری اور پختونوں کو ان کے وسائل سے باخبر کرنے والی عظیم شخصیت، مولانا خانزیب کو بے دردی سے ہم سے جدا کیا گیا۔

انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔ یقیناً وہ قیامت خیز، دکھ اور تکلیف سے بھرا دن، جس نے ہم سے ہمارا ملی مشر، استاد، رہبر، پیشوا اور دانشور چھین لیا، آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔

اس برسی کے موقع پر، یعنی 10 جولائی کو، ہم دردِ دل کے ساتھ ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور قوم کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس مختصر سے کاوش کے ذریعے ان کے قاتلوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے ایک توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی، مگر اس دھرتی پر ان کے مشن کو زندہ رکھنے والے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ اسی سلسلے میں ہم مولانا خانزیب کی قیمتی کتاب "شتمنہ پختونخوا" کی 70، 80 کاپیاں ان لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں جو پختون قوم کی بیداری کا درد اپنے سینوں میں رکھتے ہیں۔

ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ یہ کتاب سب سے پہلے ان بااثر اور دردمند لوگوں تک پہنچے، جو خود بھی اس کا گہرا مطالعہ کریں اور پھر عوام اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان کے حقوق اور دھرتی کے وسائل سے صحیح معنوں میں آگاہ کریں۔

پہلے مرحلہ

علماء کرام اور آئمہ مساجد: یقیناَ علماء کرام کی بات پر ہماری قوم بہت آسانی سے یقین اور عمل کرتے ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس پیغام کو صحیح معنوں میں عوام تک پہنچائیں گے۔

اساتذہ کرام: جو نسلوں کے معمار ہیں۔ اگر وہ اس کتاب سے اپنے شاگردوں کو روشناس کرائیں، تو یہ قوم کی تقدیر بدلنے والی ایک بڑی تحریک بن سکتی ہے۔

دوسرا مرحلہ

گھروں کے بزرگ: جن کی دعائیں اور تجربہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ کتاب پڑھ کر اپنی اگلی نسلوں کو بیدار کریں۔

خواتین: کیونکہ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر آج ہماری مائیں اور بہنیں یہ کتاب پڑھ لیں، تو وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے ان کے حقوق کے لیے تیار کر سکتی ہیں۔

نوجوان: کیونکہ ملک کا زیادہ تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوان ہی کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر کتابیں بچ گئیں تو ہم اپنے ان نوجوانوں کو دیں گے جن کی رگوں میں تبدیلی کا لہو دوڑ رہا ہے اور جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہماری استطاعت محدود سہی، لیکن عزم اٹل ہے۔ ہم ذاتی طور پر ہر گھر، ہر استاد اور ہر فرد تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اگر ہم 70, 80 کتابیں بھی صحیح ہاتھوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے، تو ہم سمجھیں گے کہ ہم نے اپنے استاد کے مشن کا حق ادا کر دیا۔

اس سفر میں ہمیں آپ سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی اس مشن میں شامل ہونا چاہے تو کسی بھی شکل میں ہمارا دست و بازو بن سکتا ہے۔ جس کے پاس یہ کتاب موجود ہے وہ ہمیں دے سکتا ہے، صاحبِ استطاعت مالی معاونت کر سکتے ہیں، اور جو کچھ نہیں دے سکتے، وہ اپنا قیمتی وقت دے کر ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر اسے پڑھنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔

رحمت اریان
Easypaisa
03038419702

29/04/2026

تعلیم دشمن ہر دستور نا منظور نا منظور ۔

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے، اور بچپن سیکھنے کی سب سے زرخیز عمر ہوتی ہے۔ اگر ہمارے بچوں کے سکول ہفتے میں صرف تین دن کھلیں، تو اس کے تعلیمی نقصانات بہت گہرے ہوں گے۔

تسلسل ٹوٹ جاتا ہے:
علم ایک زنجیر کی طرح ہے۔ جب بچہ تین دن پڑھے اور چار دن چھٹی کرے، تو پچھلا سبق ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔ ریاضی، سائنس اور زبانیں روزانہ کی مشق مانگتی ہیں۔ وقفہ زیادہ ہونے سے بچہ "صفر" سے شروع کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

2.نصاب ادھورا رہ جائے گا:
سال کا کورس 6 مہینے میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اساتذہ جلدی میں صرف اہم اسباق پڑھائیں گے، بچوں کی بنیاد کمزور رہ جائے گی۔

3. نظم و ضبط ختم:
روزانہ سکول جانا بچے میں وقت کی پابندی، محنت اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ ہفتے میں 4 چھٹیاں اسے سست اور غیر سنجیدہ بنا دیں گی۔

مستقبل کیوں خراب ہوگا؟

جب بنیاد ہی کمزور ہو گی تو عمارت کیسے مضبوط بنے گی؟ آج جو بچہ روز کی مشق سے محروم ہے، کل وہ مقابلے کے امتحان، بورڈ پیپر یا نوکری کے ٹیسٹ میں پیچھے رہ جائے گا۔ ٹیکنالوجی اور سائنس کا دور ہے، یہاں صرف ڈگری نہیں، مہارت چاہیے۔ جو وقت سیکھنے کا تھا، وہ ضائع ہو گیا تو کل ہمارے بچے دوسروں کے محتاج ہوں گے۔

قوموں کی تقدیر کلاس روم میں لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کو ہفتے میں صرف تین دن علم دیا، تو کل وہ ہم سے اپنا پورا مستقبل مانگیں گے۔

*حل کیا ہے؟
ہمیں بحیثیت والدین اور معاشرہ آواز اٹھانی ہے کہ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ سکول روز کھلنے چاہییں، کیونکہ بند سکول صرف دروازے نہیں، قوم کا مستقبل بند کرتے ہیں۔

تحریر لکھوال عطاء اللہ خان ✍️

د کتاب نړۍ واله ورځ.کتابونه د فټ پات په سينه بوج دېپېزارونه په دکان  کښې ميلاوېږي.کله چې ېو ټولنه د کتاب سره مينه کوي نو...
23/04/2026

د کتاب نړۍ واله ورځ.

کتابونه د فټ پات په سينه بوج دې
پېزارونه په دکان کښې ميلاوېږي.

کله چې ېو ټولنه د کتاب سره مينه کوي نو ته پوهه شه چې دوئي خپلې ستونزې او وسائل پیژني او د حل توان ئې هم لري خو چې کله ټولنه کتاب دشمنه وي لکه د پښتنو ټولنه نو نه به خپلې ستونزې پېژني او نه د حل لارې چارې . سائنس پوهان وائي چې په کم کور کښې د اتېا پورې کتابونه وي نو دهغه کور والا خلکو خوئي خصلت به د نورو هغه خلکو نه ډېر بدل وي څوک چې کتاب نه پېژني . پښتو تر دې دمه پښتنو لیکوالانو پخپل همت پرته د کم رېاستي مرستې د زمانو نه رارسولې خو دغه ليکوالان هم د غربت سره د ډېرو ستونزو ښکار وي خو بېا هم چې پښتانه ليکوالان کتاب پخپل وس همت چاپ کړي نو بېا ئې اخيستونکي نه وي چې د مجبورې نه ليکوال کله ېو چا او کله بل چاته ته ډالې کوي ليکوالانو له عامو خلکو ته دا د ډالو رواېت ختمول غواړي ځکه چې بې پېسو کتاب خلکو ته ډېر ناقدره ښکاري.
د ګرانې علت د نه کتاب کتنې لامل نه دې ځکه چې په کتاب باندې د ژوند په برخه کښې د خوراک او جامو په نسبت ډېرې کمې روپې ځي.
کتاب هغه ستر او نه ختمېدونکې کان دې ، چې هر څومره ئې راسپړې ، دانسان په پوهه ، علم ، فکر او عقل کښې نوې د برېا لارې چارې پرانستل کېږي ، د بريا په لور خوځنده ګامونه هغه څوک اوچتولي شي چې د علم او د پوهې په ګاڼه سمبال وي .د علم او پوهې لاس ته راوړنه په شرعي او ټولنيز ډول د هر انسان طبعي حق دې.
د کتابونو په نړۍ واله ورځ د خپلې مورنۍ ژبې ليکوالو ته د درنښت نه ډکې پېروزنې وړاندې کوو زه ځان کم ليکوال نه ګنړم خو په وطن چې پېښ دي څه روان دي نو پدې کښې د خپلې خاورې او تاريخ په ځان مسئوليت ګنړو چې که ډېر څه نه شو نو کم نه کم پخپله مورنۍ ژبه کښې دې د ليک په وسيله خپله ونډه ګډه کو. په پښتنه ټولنه کښې کتاب ته لار کولاول خپله ټولنه د کتاب او شعور په لار روانول لا ډېر مزل غواړي .
زمونږ د ټولنې د کتاب او شعور په ډګر د پرمختګ لپاره به دا مثال پوره وي چې ما په پښتنو کښې د خپلې سيمې په تاريخ چې کم ړومبې په پښتو ژبه کښې کتاب ليکلې نو د خپلې سيمې په شل لاکهه وګړو کښې زر کاپې په دوه کاله کښې چا لا نه دي اخيستي .
چې څوک مې ويني نو هر کس دا غوښتنه لري مونږ له به خپل کتاب کله راکې ؟
ېو ورځ راته ېو کس وائي کتاب دې ښه کار کړې خو په پښتنو څه کې مړه چرته د ،دين ، کتاب به دې ليکلې وې .
د کتاب د درک موندلو په اړه راته زياتره هغه خلک تماس نيسي چې کله ئې د پولې پټي لانجه شي د خپل ،خېل ټبر قبیلې ، تاريخ ورته نه وائي مالوم نو وائي ېره ستا کتاب به چرته وي ؟ زمونږ د تربورانو سره لانجه ده خپله شجره پکښې ګورو !
زه ورته وائم روره ما د چا د شجرو لانجمن کار نه دې کړې ما د خاورې تاريخ ليکلې .
ددې هرڅه سره مو حوصله لوړه ده ان شاء الله د خپلې ژبې خذمت به کؤو او دغه لړې به روانه وي .

پدې اړوند يو پوهاند داسې وائې : هر انسان بائد کتابونه ولري ، او که داسی ېو کس پېدا شي چې کتابونه نلري نو دوستي دې د داسې ېو پوهاند سره وکړي چې ډېر کتابونه ولري او هر وخت په مطالعه بوخت وي سماجي رسانې د زده کړو ېو مترقي وسيله ده خو د بده مرغه سماجي رسانې هم د کتاب کتنې نه اوس خلک اوباسي بائد چې مونږ هرڅه د ېو ترتيب تابع اوګرځؤ ځکه چې په سماجي رسانو کښې د کتابي علم تش شل سلنه برخه خوندي ده نور علم په کتابونو کښې پروت دې سماجي رسانې چرې هم د کتاب بدیل نشي کېدې .
د ګوګل د سروې ترمخه په پاکستان کښې کتاب کتنه ډېره په ټيټه کچه ده ځکه څلوېښت سلنه وګړي بې سواده دي په سماجي رسنۍ کښې چې د پاکستان خلک کم کتابونه ګوري نو زياتره د ، جنسياتو ،مذهبي مالوماتو ،ډول ډول پخکړو خوراکونو ،او د نسيم حجازي ،پشان د خيالي نړۍ سره تړلي ناولې ګوري ،فلسفه ،تاريخ ،او سائنسي ،کتابونه ډېره په کمه کچه کتل کېږي .
په ټول پاکستان کښې څه درې زره سرکاري کتابتونونه دي هغه هم زياتره په پوهنتونونو او پوهنځيو کښې دي د پاکستان په ټول کتابتونونو کښې چې څومره کتابونه دي نو ددې نه څو چنده زيات فقط د امريکې په کتابتون ،کانګرس کتابتون ،کښې دي چې کچه ئې څه شپاړس کروړه څلوېښت لاکهه ده .
په علمي ادارو کښې د ښوونکو ځوانان کتاب کتنې ته نه آماده کول لويه ستونزه ده ځکه د پاکستان د ايزده کړو د ادارو زياتره استاذان د خپل نصابي کتاب نه پرته شاړې وي چې استاذ د فلسفې او جديد سائنسي علومو د کتاب نه ايزده کوونکې ويروي منع کوي نو شعور به څوک خوره وي.

د لويديځ د پرمختګ لپاره دا ېو مثال هم پوره دی چې د په هره محله کښې کتابتون موجود وي په هر کور کښې و وړوکې کتابتون وي په لويدځ کښې کتاب کتنه د ژوند برخه ګنړل شي د پاکستان د اولس لپاره قانون جوړونکي د قامي اسمبلۍ او سينټ فقط شل سلنه وګړي په هغه کتابتون کښې کتاب ګوري چې دلته کښې ورله جوړه کړې شوې اتيا سلنه غړي کتاب نه پېژني ددې نه د ټول اولس د شعور کچه مالومېږي.

د علامہ جاحظ په اړه راځي چې د کتابونو دکاندار له به ئې پېسې ورکولې کله به چې هغه دکان بند کړو نو جاحظ به په دکان کښې شپه وه ټوله شپه به ئې کتابونه کتل د 92 نوي کالو په عمر کښې ېو کتاب د تونړې نه رخيستو چې تونړې پې رولوېده او د کتابونو لاندې ساه ورکړه.
علامه ابن رشد وائي ما په ژوند کښې هره شپه کتاب کتلې د ليک بنړه ئې د عمر د ورځې په شمېر پينځه اويا پانړې جوړېږي دوه ورځې رانه وائي کتاب کتنه پاتي شوې وه ېو شپه مې چې کله پلار مړ وو او بله مې د واده شپه وه ! امام غزالي وائي چې د بېخونده مرګري نه ځان له ښه ئې او د ځانلوالي نه د کتاب سره. ېو چيني متل دې چې درې ورځې کتاب اونه ګورې نو په څلورمه ورځ به دې په خوئي کښې بد بدلون راځي . نړې ډېر پرمختګ اوکړو نور به هم اوکړي خو د کتاب خوند او اهمیت درې زره کاله پخوا هم او درې زره کاله پس به هم وي د ځنې څيزونو بديل هيڅکله نه وي د شعور لار پخوا هم کتاب وو او نن هم . کم کتاب اوګورم ! دا پوښتنه خلک ډېره کوي خو دا پوښتنه به هیڅکله تاته پیدا نشي چې کله ته کتاب همېش ګورې ځکه چې د کتاب کتنې په برکت به دا صلاحېت پتا کښې پخپله راځي چې تاله کم کتاب کتل پکار دي د پښتنې ټولنې پشان د نړۍ په ډېرو هېوادونو کښې هم خلک کتاب نه لولي پښتنه ټولنه د غربت او بدامنې له وجې هم کتاب دشمنه ده . بې سوادي، نا امني، بې وزلي او د زده کړې ټيټه کچه ئې اصلي لاملونه دي. د نړۍ د هر قام د پرمختګ تر شا د همدې قام پوهان او لیکوالان لوي لاس لرلي او همدا لیکوالان او پوهان دي چې د خپل قام او اولس د پوهولو لپاره کتابونه لیکي او د کتاب له لارې فکري، ټولنیز، سیاسي او فرهنګي بدلونونه رامنځته کوي.
که غټ کتابتون نشې جوړولې نو څومره مو چې وس وي دهغې مطابق په کور کښې کتابتون جوړ کړئ د ماشومانو په ذهني کچه کتابتون ډېر مثبت اغېز کوي او کتاب کتنې ته مائل کېږي.
کتاب د پرمختللې، علمي او ټکنالوژیکي نړۍ دروازه ده. علم او پوهه د کتاب په واسطه د زرګونو کلونو نه تر دې ځایه رارسیدلې ده.
اسماني کتابونه او د پيغمبرانو لارښوونې د کتابونو په واسطه او همدارنګه د ټولو فکري او کلتوري میراثونو انتقال، له ېوه نسل نه بل نسل ته د کتاب په بڼه رسېدلې او همېش به داسې وي...

مولانا خانزېب.




Address

Bajauri Koruna

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FYWO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share