Gaza Foundation Bagh

Gaza Foundation Bagh ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھاٸی ہے ۔۔۔

12/11/2024

Assalamualaikum. I need to discuss a case with all of you. There is a student who cannot pay their university fees because they are extremely needy. Their father has passed away, and there is no one in their household to support their education.
The student's semester fee is Rs. 42,600. I'm initiating a donation drive for this student's semester fees, and I request all of you to contribute as much as possible with a pure intention of helping. Your assistance will enable this student to continue their education.
I hope you'll all cooperate. Anyone willing to donate can send their contribution through EasyPaisa to 03184782968. Thank you.

01/10/2024

السلام علیکم ۔۔۔
کالج آف ایجوکیشن باغ آزاد کشمیر کی طالبہ گھر کے چند مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی فیس نہیں دی سکتی ۔آپ کے دس بیس روپے بھی کسی کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں
15780
03445164055 ایزی پیسہ
اپنا اپنا حصہ ڈالیں جزاک اللہ

03/08/2024
انسانیت کی خدمت میں پہل کیجیے ۔۔۔
28/07/2024

انسانیت کی خدمت میں پہل کیجیے ۔۔۔

آئیں Gaza Foundation Bagh  کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کریں ۔ درج کی گئ تفصیل 03445164055 پر واٹس ایپ کر دیں ۔ تمام تف...
22/06/2024

آئیں Gaza Foundation Bagh کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کریں ۔ درج کی گئ تفصیل 03445164055 پر واٹس ایپ کر دیں ۔ تمام تفصیل ایڈمن کے پاس محفوظ رہیں گی جو بروقت ضرورت ہی استعمال میں لائی جائیں گی ۔
نام :
بلڈ گروپ :
رابطہ نمبر :
گاؤں /ضلع :

Looking for blood donor AB+ location : DHQ Baghcontact no : 03445164055
22/06/2024

Looking for blood donor AB+
location : DHQ Bagh
contact no : 03445164055

21/06/2024

باغ آزادکشمیر میں
” منشیات سے پاک مہم “
میں کیا آپ ہمارے ساتھ شامل ہوں گے ؟

درخت زندگی ہیں۔ اپنے حصے کی شمع جلائیں درخت لگائیں نسلیں بچائیں
19/06/2024

درخت زندگی ہیں۔
اپنے حصے کی شمع جلائیں
درخت لگائیں نسلیں بچائیں

12/06/2024

بدقسمت دیواریں
از قلم : شبیر احمد ڈار

سفیان علی قصبہ برہان کا رہائشی تھا ۔ سفیان نے جماعت ہشتم کا امتحان اعزازی نمبرات سے پاس کیا اور آج جماعت نہم میں اس کا پہلا دن تھا ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول کا ماحول دیکھنے کے لیے بہت بےتاب تھا ۔ اسکول میں پہلا قدم رکھتے ہی ہر شے کو بڑی باریکی سے دیکھتا ہے ۔ گیٹ کے ساتھ موجود دیوار اشتہارات سے مزین ہوتی ہے جو تعلیمی درسگاہ کی بجائے کسی کارخانے کا منظر پیش کرتی ہے ۔ جب کلاس روم میں پہنچتا ہے وہاں بھی طلبہ کی جانب سے کچھ غیر مناسب جملے اور بےوزن اشعار دیواروں پر دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ آخر ہم شعور رکھنے والے کب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے ۔ واش روم کی جانب رخ کرتا ہے تو وہاں دیواریں مختلف قسم کی تصویر اور جملوں سے بھری پڑی ہیں اور ایسے جملے جو کسی بھی تہذیب یا تعلیمی نظام کی عکاس نہیں ۔ ایسی حرکتیں کبھی بھی ایک صاحب علم نہیں کر سکتا اور خاص طور پر طالب علم ۔
واش روم سے باہر نکلتے ہی اس کے چہرے پر عجب تاثرات دیکھ کر اس کے ہم جماعتی طالب علم آفاق آصف نے اسے اپنے پاس بلایا اور اس کی پریشانی اور بےچینی کی وجہ دریافت کی ۔ سفیان نے آفاق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
” بھائی ! یہاں ہم کس مقصد کے لیے آتے ہیں ؟“
آفاق نے فوراً جواب دیا :
” علم حاصل کرنے کے لیے مگر اس سوال کا مقصد سمجھا نہیں ؟“
سفیان نے کہا :
” ہم یہاں حصول علم کے لیے تو آتے ہیں مگر شعور کے لیے کیوں نہیں ؟ یہ دیواریں دیکھ رہے ہو اور خاص طور پر اس ادارے میں موجود واش روم کی بدقسمت دیواریں ۔۔۔۔ کیا کبھی یہ سوچھا ہے کہ ہماری بھائیوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی اس واش روم کا استعمال کرنا ہے جب وہ یہ سب کچھ پڑھتے اور دیکھتے ہوں گے تو ان کے ذہن میں کیا خیال آتا ہو گا ؟ “
آفاق ایک پل کے لیے خاموش ہوا اور پھر ہلکی آواز میں بولا :
” یہاں سب علم کے لیے نہیں کچھ تفریح کے لیے آتے ہیں ۔ شعور تب آئے گا جب ہم اپنی ترجیحات بدلیں گے ۔ ہم میں سے آدھے بچے ان جملوں اور تصاویر کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور باقی دوستوں سے اس کا تذکرہ بھی کرتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ اس قدر بڑھتا ہے کہ حوصلہ شکنی کی بجائے ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔“
سفیان نے آصف کی بات کی تاکید کی اور اضافہ کرتے ہوئے بولا :
” کہ قلم وہ مقدس شے ہے جس سے کارخیر کا کام لیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دیواریں اتنی بدقسمت ہیں جو ایسے بچوں کی ہوس کی تسکین کا نشانہ بن جاتی ہیں ۔“
آصف : ” یہ سب تو ٹھیک ہے مگر اس کا حل کیسے ممکن ہے ؟ “
سفیان : ” تعلیم وتربیت صرف اساتذہ کے ذمہ داری نہیں کچھ ذمہ داریاں والدین کی بھی ہیں ۔ ہمیں گھروں اور اپنے معاشرے میں اپنی بہنوں ، بھائیوں اور دوستوں کو سمجھانا ہو گا کہ ایسی چیزیں کبھی بھی مثبت سرگرمی کو فروغ نہیں دیتی ہیں اور پرنسپل حضرات کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ یہ دیواریں جو تعلیمی درسگاہوں کی معلوم ہوتی ہیں وہ پھر کسی کوٹھے کا منظر پیش کریں گی ۔“
آصف : ”اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو اور ان شاء اللہ ہم مل کر بچوں میں یہ شعور اجاگر کریں گے ۔ ان دیواروں کو صاف ستھرا رکھنے کی تلقین کریں گے جو ممکن ہوا اقدامات کریں گے ۔“
سفیان : ” ان شاء اللہ ۔“

Case Closedآپ کے تعاون کا شکریہ ۔۔۔
10/06/2024

Case Closed
آپ کے تعاون کا شکریہ ۔۔۔

Address

Bagh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gaza Foundation Bagh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gaza Foundation Bagh:

Share