21/05/2026
میرپورخاص ۔۔ضلع بدین کے گاؤں خیرپور کنبوہ کی رہائشی زہرش لغاری نے اپنے شوہر نیاز احمد لغاری اور والدہ ریحانہ کے ہمراہ ایوانِ صحافت میرپورخاص میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد زاہد لغاری نے 2012 میں ان کی والدہ کو طلاق دے دی تھی، جس کے بعد انہیں اپنے کزن فاطمہ کے گھر چھوڑ دیا گیا جہاں وہ پرورش پاتی رہیں۔
زہرش لغاری نے بتایا کہ ان کے والد نے 2021 میں دوسری شادی کرلی اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رمضان المبارک کے بعد ان کی زبردستی 70 سالہ قائم لغاری نامی شخص سے شادی کرانے کی کوشش کی جارہی تھی جبکہ بعد ازاں ان کے والد خود تیسری شادی کرنے والے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات سے تنگ آکر انہوں نے اپنی برادری کے 26 سالہ نوجوان نیاز احمد لغاری سے پسند کی شادی کرلی۔ جوڑے کے مطابق پسند کی شادی کرنے پر ان کے خلاف دو مقدمات درج کروائے گئے۔ ایک مقدمہ پنگریو پولیس اسٹیشن میں اغوا کے الزام میں درج کیا گیا، تاہم عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ ہونے کے بعد مقدمہ ختم ہوگیا۔ بعد ازاں عمرکوٹ پولیس اسٹیشن میں سندھ چائلڈ میریج ایکٹ کے تحت دوسرا مقدمہ درج کیا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران زہرش کی والدہ ریحانہ نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی صرف دو سال کی تھی تو سابق شوہر نے اسے ان سے الگ کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر 17 سال بعد ان کی بیٹی دوبارہ ان کے پاس آئی ہے اور اب اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔
متاثرہ جوڑے نے الزام عائد کیا کہ زاہد لغاری، غلام محمد لغاری، مجد لغاری، غلام حسین لغاری، حبیب اللہ لغاری، عیسیٰ لغاری اور فیاض لغاری ان کے جانی دشمن بن چکے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی۔