15/08/2025
*گولڑہ لنک روڈ اجتماعی سوچ اور اخلاص کا عملی نمونہ ،*
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گاؤں گولڑہ لنک روڈ کی حالت ایسی تھی کہ سنجوال روڈ سے جب کوئی بندہ گاؤں کی طرف مڑتا تھا تو یقین نہیں آتا کہ یہ راستہ کسی گاؤں کو جاتا ہو گا ،ہر جگہ کھڈے اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے گاڑی تو کیا موٹر سائیکل کا چلنا بھی مشکل تھا بارشوں کے دنوں میں تو پیدل بھی بندہ کپڑے خراب کیے نہیں گزر سکتا تھا، گاؤں میں لوگوں کی خوشی غمی میں شرکت کے لیے باہر سے آنے والے ان کے دوست احباب بھی روڈ کی خستہ حالی کا شکوہ کرتے۔
اس وقت کے سیاسی اور انتظامی حالات میں مستقبل قریب میں ایسی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی کہ ہمارے گاؤں کے لنک روڈ کی نئے سرے سے تعمیر ہو سکے۔
کچھ عرصہ بعد ایک اچھی خبر ملی کہ اس وقت کے ایم پی اے صوبائی وزیر سید یاور عباس بخاری نے گاؤں کے لنک روڈ کے لیے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی کوئی کام ہوتا نظر نہیں آیا تو سب لوگ مایوس ہو گئے لیکن پھر ایک دن اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے یاور عباس بخاری صاحب کی مہربانی سے روڈ کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری ہوئی۔اور ہمارے گاؤں کا ایک بہترین لنک روڈ تعمیر ہوا۔
اس پراجیکٹ کی منظوری سے لیکر تکمیل تک جن افراد نے خصوصی دلچسپی لی ان میں ملک لیاقت خان لمبردار(مرحوم )،حاجی نصرت خان (ٹھیکیدار )،حاجی غلام سرور (ٹھیکیدار),جنھوں نے یاور بخاری صاحب کے چچا جناب اعجاز بخاری صاحب موجودہ ایم پی اے سے مل کر گاؤں کے لنک روڈ کے فنڈز کی فراہمی کے لئے بات کی جس پر انہوں نے خصوصی طور پر یاور بخاری صاحب کو ہدایات دیں اور فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی، اس کے علاوہ بلال بھائی(پی ٹی آئی )کا بھی کردار رہا جنھوں نے یاور بخاری صاحب کےساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور کافی ڈور دھوپ کی، ڈاکٹر احمد فراز صاحب نے بھی اس مسئلہ کو اجاگر کیا۔
فنڈز کی منظوری سے روڈ کی مکمل تعمیر تک گولڑہ یوتھ کونسل کا بہت اہم اور بنیادی کردار رہا، اس منصوبے کے ڈرافٹنگ اور ٹھیکیدار کے آخری دن کے کام تک یوتھ کونسل اس پراجیکٹ سے ہمہ وقت جڑی رہی یوتھ کونسل کے صدر محمد افضال، محمد اعجاز، الطاف حسین، شفقت محمود،ریاست محمود اور بھی دیگر ممبران جنھوں نے دن دیکھا نہ رات ہر وقت ٹھیکیدار کے ساتھ مل کر روڈ کی بہترین تعمیر کو ممکن بنایا، اس کے علاوہ وہ تمام بھائی جنھوں نے جہاں کہیں کوئی نقص یا کمی دیکھی تو اس کو فوری یوتھ کونسل کے علم میں لایا جس سے بروقت اس مسئلہ کو مقامی ضرورت کے مطابق حل کیا گیا، جس وجہ سے اس روڈ کی تعمیر میں کوئی کمی بیشی نہیں رہی،
گولڑہ یوتھ کونسل کے ممبران نے نہ صرف متعلقہ ٹھیکیدار سے اعلی کوالٹی کا کام کروایا بلکہ جہاں جہاں روڈ کو چوڑا کرنا ممکن تھا مقامی افراد کی مشاورت سے اس جگہ روڈ کو کھلا بھی کروایا،
آپ جب بھی گاؤں سے جاتے وقت یا واپس لوٹتے وقت اس روڈ پر سفر کو انجوائے کریں تو ان لوگوں کی خدمات کو ضرور یاد کیا کریں جنھوں نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کیا اپنا وقت دیا اور اجتماعی سوچ کے تحت اپنا مثبت کردار ادا کیا.
ناصر محمود