12/02/2026
The floods of 2025 caused serious destruction in Pakistan. More than 1,067 people lost their lives, the same number were injured, and over 209 people went missing. 6.3 million people were affected by the floods, including 2.9 million who were forced to leave their homes. After this disaster, the government took immediate emergency steps. Through NDMA and PDMA, people were moved from dangerous areas to safer places. Relief camps were set up where food, clean drinking water, medicines, and tents were provided. The army and rescue teams helped in rescue and relief work. Damage to homes, agriculture, and roads was also assessed, and temporary medical services were provided in affected areas.
These steps were taken to save lives. However, after this, the government made several plans and promises mainly because the country suffered an economic loss of about 822 billion rupees. The government announced reconstruction and rehabilitation plans to repair homes, agriculture, and infrastructure. Promises were also made to help affected people, improve flood protection and drainage systems, and plan better ways to prevent such disasters in the future. The government also talked about getting international funding and loans, working on climate and environmental policies, and strengthening early warning systems.
These promises gave people hope, but the reality is that only limited work was done. Emergency and relief efforts took place, but most long-term plans moved very slowly or stayed on paper. Real improvement in flood protection, drainage, rehabilitation, and climate planning has still not been seen across the country.
This year, heavy rains will come again. If people do not take serious action, the same situation will happen again. Floods will return, thousands of innocent lives will be lost, millions will be displaced, and the country will face huge financial losses once more. Every year, we take short-term steps and then move on, while the real problems remain unsolved.
If we truly want to protect our country and its people, we must do more than just talk. We need to act and keep our cities clean, plant trees, and work together to make Pakistan safe, green, and secure.
⸻
2025 کے سیلاب نے پاکستان میں غیر معمولی تباہی مچا دی۔ اس قہر آلود آفت کے نتیجے میں 1,067 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور 209 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے۔ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ، سیلاب نے 6.3 ملین لوگوں کی زندگیاں متاثر کیں، جن میں سے 2.9 ملین افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر بے گھر ہونا پڑا۔
اس تباہی کے بعد حکومت نے فوراً ایمرجنسی قدم اٹھائے۔ NDMA اور PDMA نے ان علاقوں سے لوگوں کو محفوظ جگہوں پر شفٹ کیا جہاں سیلاب کا زیادہ خطرہ تھا۔ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جہاں کھانے، پینے کا پانی، میڈیسنز اور ٹینٹس فراہم کیے گئے۔ آرمی اور ریسکیو ایجنسیز نے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی گھروں، زراعت اور سڑکوں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا گیا اور متاثر علاقوں میں عارضی میڈیکل سہولیات بھی دی گئیں۔
یہ تمام فوری قدم لوگوں کی جان بچانے کے لیے اٹھائے گئے۔ لیکن اس کے بعد حکومت نے جو پلاننگ اور وعدے کیے، ان کی بنیادی وجہ تقریباً 822 ارب روپے کا معاشی نقصان تھا۔ اتنے بڑے نقصان کے بعد گھروں، زراعت اور انفراسٹرکچر کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لیے ریکنسٹرکشن اور ری ہیبیلیٹیشن پلانز کا اعلان کیا گیا۔ متاثرہ لوگوں کو مدد اور معاوضہ دینے، فلڈ پروٹیکشن اور ڈرینیج سسٹمز کو بہتر بنانے، اور مستقبل میں ایسی تباہی سے بچنے کے لیے پلاننگ کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ساتھ ہی انٹرنیشنل فنڈنگ اور لونز حاصل کرنے، کلائمیٹ اور انوائرمنٹ پالیسیز پر کام کرنے، اور ارلی وارننگ سسٹمز کو اور اسٹرونگ بنانے کی بات بھی سامنے آئی۔
ان وعدوں کے بعد لوگوں کے دلوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ اب حکومت سنجیدگی سے قدم اٹھائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گراؤنڈ پر کچھ حد تک کام ہوا، مگر زیادہ تر لانگ ٹرم پلانز یا تو سلو رہے یا صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے۔ ایمرجنسی اور ریلیف کا کام تو ہوا، لیکن فلڈ پروٹیکشن، ڈرینیج کی بہتری، پراپر ری ہیبیلیٹیشن اور اسٹرونگ کلائمیٹ پلاننگ جیسی بنیادی چیزیں مکمل طور پر عمل میں نہیں آ سکیں۔ ملک بھر میں کوئی بڑی اور مستقل تبدیلی ابھی تک نظر نہیں آئی۔
اس سال بھی بارشیں ہوں گی، اور اگر عوام نے ابھی بھی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا تو وہی منظر پھر دہرایا جائے گا۔ سیلاب دوبارہ آئے گا، ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوں گی، لاکھوں لوگ بے گھر ہوں گے اور ملک کو پھر اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہم ہر سال فوری قدم اٹھا کر خود کو تسلی دیتے رہیں گے اور بنیادی مسائل کو نظر انداز کرتے رہیں گے، اور یہ تباہی اسی طرح برقرار رہے گی۔
اگر ہم واقعی اپنے ملک اور اس میں بسنے والی جانوں کی حفاظت چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف بات نہیں بلکہ عمل کرنا ہوگا۔ اپنے ملک سے محبت کا اظہار لفظوں سے نہیں، محنت سے کرنا ہوگا اپنے شہروں کو صاف رکھ کر، درخت لگا کر اور اپنے ملک کو ہرا بھرا اور محفوظ بنانے کے لیے مل کر قدم اٹھانا ہوگا۔