06/07/2026
کشمیر اور پاکستان ( کشمیری پاکستان کی شہہ رگ ہے )
بیٹا اگر باپ سے اپنا حق مانگے تو یہ جائز ہو سکتا باپ بیٹے پر کو ئ ظلم کر رہا یہ بھی ممکن ہو سکتا اور دونوں چیزیں Justify ہو سکتی ہیں , دنیا بھی اور ہمارا معاشرہ بھی اس پر بات کر سکتا کہ بیٹا اپنے حقوق مانگ رہا جو اسکا حق ہے باپ کو بیٹے کا خیال کرنا چاہیے آخر اسی کا بیٹا ہے ، باپ اگر بیٹے پر ظلم کر رہا یا اسے کچھ حقوق دے رہا کچھ پر اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا اور بیٹا پھر بھی اپنی ضد اور انا کی مستی میں ہر دو دن بعد گھر میں رولا ڈال لے اور ہڑتال کر دے کہ گھر پر کھانا نہیں بنے گا جب تک میرے سارے حق نہیں دو گئے اور گھر میں باقی جو فیملی اسے بھی تنگ کرے اور کچھ کو ساتھ ملا لے اور کچھ اسے سمجھائیں کہ دیکھو جو جائز بات تھی وہ سب مان رہے ہیں پاپا اب کچھ تم بھی گزارا کرو اور وہ بضد ہو کہ نہین نہیں میری ہر بات مانی جائے اور کوئ مجھے نہ سمجھائے اور نہ میں مزاکرات کروں گا بس مجھے جو میں چاہتا وہ دو ، اب یہاں بات سمجھنے کی ہے کہ جب اس حد تک بیٹا باغی ہو جائے اور باپ کو جس نے اسے پیدا کیا بڑا کیا پڑھایا لکھایا فر معاشرہ میں ایک پہچان دی اپنے دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس کا ذیادہ خیال بھی کیا اسے آزادی بھی دے رکھی تھی شادی کرائ اس کو ختی کے جو اس کی ہمت تھی باپ نے وہ کیا اور اب بیٹا حقوق مانگنے تک تو سمجھ میں آتی پر جب وہ باپ کو گالی نکال دے اور کہے تم نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے تو بھائ فر تو بس حد ہی ہو گئ ۔۔۔ اب جب باپ صحیح والا باپ بن کر اسے لگائے گا اور دو چار تمر کی سوٹی سے پٹخائے گا تو محلے والے اندر کی بات جانے بغیر ایک بار تو کہہ ہی دیں گئے کہ باپ بڑا ظالم ہے بیٹا ہی تو ہے اپنا حق ہی تو مانگ رہا ہے ، دے دیتا ۔۔ پر یہاں بات صرف حق کی نہیں رہی وہ ہٹ دھرمی وہ غداری وہ باپ کو گالی دینا جس نے اسے پاؤں پر کھڑا کیا یہ سب باتیں ہیں جو سمجھنے کی ہے ۔۔ اور اگر اسی مسئلے میں بیٹا باپ کے دشمنوں سے ہاتھ ملائے اور انکی بولی بولے تو یہ سونے پہ سہاگا ہو جاتا ہے ۔
اور جو کچھ آج کشمیر میں ہو رہا ہے اس کا پس منظر بلکل ایسا ہی ہے ، اور اب جو لوگ اسے ظلم کہہ رہے وہ باپ کی خاموشی اور بیٹے کی ہٹ دھرمی دیکھ لے ۔۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے، امید ہے عوام سمجھ جائے گی
صاحبزادہ سید نوید کاظمی