Markazi Jamiat Ahlehadees Nepal

Markazi Jamiat Ahlehadees Nepal stablished in 1989 by ulamaye ahlehadees of Nepal

23/10/2024

ہندوستان اور پاکستان کی 100 یونیورسٹیاں اور لائبریریاں کھنگال لیجیے۔۔ اس ایک گھنٹے کی گفتگو جتنا علم نہیں ملے گا۔۔ اہل حدیث علماء اور طلباء کو، یہ تقریر سننا...

09/10/2024
08/10/2024

https://us04web.zoom.us/j/74040627300?pwd=K5kaeIWjmMkQ9WxUTaZM6yClbbkhX8.1

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
معزز احباب جماعت:
آج کے محاضرہ میں اوپر دیئے گئے لنک کے ذریعہ شرکت کر سکتے ہیں
آپ تمامی حضرات سے شرکت کی پرزور گزارش ہے
محاضر:فضیلتہ الشیخ محمد نسیم مدنی حفظہ اللہ
موضوع: مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی،عوامل محرکات اور انسانی دنیاپہ اس کے مضر اثبات
وقت ۹ بجے بعد نماز عشاء
باہتمام:مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال

Zoom is the leader in modern enterprise video communications, with an easy, reliable cloud platform for video and audio conferencing, chat, and webinars across mobile, desktop, and room systems. Zoom Rooms is the original software-based conference room solution used around the world in board, confer...

https://www.urdu.carekhabar.com/2024/09/13584/
28/09/2024

https://www.urdu.carekhabar.com/2024/09/13584/

کٹھمنڈو / کئیر خبر جمعرات سے ہونے والی مسلسل بارش نے وادی کٹھمنڈو کے کئی حصوں میں گاڑیوں کی آمدورفت اور لوگوں کی معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، سڑکوں پر پانی ب...

24/09/2024

✍✍✍ دکتور محمد نسیم عبدالجلیل مدنی حفظہ اللہ
)نیپال)

پیسہ یا غلہ کے بدلے کسی کو کھیتی کی زمین دینے کا حکم

اگر کوئی انسان اپنا کھیت کچھ پیسہ یا کچھ غلہ کے عوض کسی اور کو دیتا ہے, تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اس باب میں متعدد حدیثیں وارد ہوئی ہیں, جو کہ کتب حدیث کے مختلف ابواب میں پھیلی ہوئی ہیں, کچھ حدیثیں آپ کو (باب المساقاۃ), کچھ (باب المزارعۃ) تو کچھ (باب کراء الأرض) یا (باب المؤاجرۃ) میں ملیں گی۔

کئی مقام پر تو یہ احادیث بظاہر متعارض بھی نظر آتی ہیں, اسی لیے مسئلے کے صحیح حکم تک پہونچنے میں کئی لوگوں کو دشواری ہوتی ہے۔

چونکہ موجودہ وقت میں یہ مسئلہ کثرت کے ساتھ پیش آنے والے مسائل میں سے ہے, خاص طور سے دیہی علاقوں میں, جہاں کے لوگ زراعت پیشہ ہیں, اس لیے انتہائی مختصر اور ممکن حد تک آسان انداز میں مسئلے کو محرر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے, وباللہ التوفیق۔

جب کوئی انسان اپنی کھیتی کسی اور کے حوالے کرتا ہے تو اس کی دو شکلیں ہوتی ہیں:
1. یا تو من باب الاحسان دیتا ہے جس کو کہ فقہاء کی زبان میں (منحۃ) کہتے ہیں, دینے والے کا مقصد خالص احسان کرنا ہوتا ہے, نہ کہ کوئی مادی فائدہ۔ وہ کھیتی کرنے والے سے کسی عوض کا نہ تو مطالبہ کرتا ہے, نہ اس کی امید کرتا ہے, بلکہ وہ چاہتا ہے کہ میری زمین سے کھیتی کرنے والا فائدہ اٹھائے۔ ایسی صورت میں زمین میں جو بھی غلہ پیدا ہوگا وہ مکمل کھیتی کرنے والے کا ہوگا۔
اس شکل کے جواز میں نہ تو کوئی اختلاف ہے نہ ہی کوئی پیچیدگی۔
یہی شکل اس حدیث میں بیان کی گئی ہے: عن ابْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا» صحیح مسلم.

2. دوسری شکل یہ ہے کہ زمیں دینے والے کا مقصد اس سے مادی فائدہ حاصل کرنا ہو۔
اصل اشکال اسی دوسری شکل میں ہے, اور اسی میں ا ختلاف بھی ہے۔

مسئلے کو زیادہ آسان اور بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے ایک اصولی بات کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ:
دو انسانوں کے درمیان ہونے والے مالی معاملات کی بہت ساری قسمیں ہیں, انہیں اقسام میں سے دو قسمیں ہیں:
1. عقد المشارکۃ
2. عقد المؤاجرۃ
المشارکۃ کو ہم اپنی زبان میں (شراکت داری) یا (پارٹنر شپ) وغیرہ نام سے جانتے ہیں۔
اور المؤاجرۃ کو اجرت, رینٹ, یا کرایہ داری وغیرہ کہا جاتا ہے۔

دونوں کے درمیان کچھ فروق ہیں, جن میں سے:
(1) پہلا فرق یہ ہے کہ: عقد المشارکۃ (شراکت داری) میں دونوں ہی شرکاء نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوں گے, کوئی ایسی شکل جائز نہیں ہوگی جس میں ایک کا فائدہ اور دوسرے کا نقصان ہو, فائدہ ہوا تو بھی دونوں کا, اور نقصان ہوا تو بھی دونوں کا۔ اسی کو فقہاء (مشارکۃ فی المغنم والمغرم) کہتے ہیں, اگر ایسا نہ ہوا تو یہ جوا (قمار ومیسر) میں داخل ہو جائے گا۔
جبکہ عقد المؤاجرۃ (کرایہ داری) میں ایک فریق کو دوسرے فریق کے نفع نقصان سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے, ہر فریق پر اتنا ہی واجب ہوتا ہے جس پر اتفاق ہوا ہے, سامان دیا, کرایہ لیا, بات ختم, اب سامنے والا اس سامان سے فائدہ اٹھاتا ہے یا نہیں, کتنا فائدہ اٹھاتا ہے, اس سے دوسرے فریق کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔

(2) دوسرا فرق یہ ہے کہ: عقد المؤاجرۃ میں اجرت کی مقدار کا فکس ہونا ضروری ہے, اگر ایسا نہیں ہے تو یہ عقد جائز نہیں, جبکہ عقد المشارکۃ میں شراکت داری کے نتیجے میں آنے والے فائدے میں ہرشریک کا حصہ پرسینٹ میں معلوم ہونا چاہئے, نہ کہ فکس مقدار میں, اگر مقدار فکس کردی جائے تو یہ شراکت داری جائز نہیں ہے۔

(3) تیسرا فرق یہ ہے کہ: عقد المؤاجرۃ میں ایک فریق کا مقصد اجرت (کرایہ), اور دوسرے فریق کا مقصد اجرت پر لیا گیا سامان ہوتا ہے, جبکہ عقد المشارکۃ میں فریقین کا مقصد اس شراکت داری سے آنے والا فائدہ ہوتا ہے۔

جب کوئی انسان اپنا کھیت کسی اور کو فائدے کی غرض سے دیتا ہے, تو کبھی عقد المؤاجرۃ (کرایہ) پر, اور کبھی عقد المشارکۃ (شراکت داری) پر دیتا ہے, اور چونکہ دونوں عقود کے احکام میں فرق ہے, اسی وجہ سے بعض حدیثوں میں اپنی زمین کسی اور کو دینے سے منع کیا گیا ہے, اور بعض میں اجازت دی گئی ہے, جن لوگوں نے ان دونوں قسموں کی حقیقت اور ان کے شروط واحکام نیز ان کے درمیان پائے جانے والے فروق کو ملحوظ نہیں رکھا ان سے مغالطہ ہوا, اور انہوں نے زمین کو مطلقا کرائے پر دینے سے منع کر دیا, حالانکہ اگر کسی کو فقہ المعاملات کے اصولوں کا علم ہے, اور وہ ان تمام حدیثوں کو اکٹھا کرکے ان اصولوں کو تطبیق دے تو خلاصہ کچھ یوں ہو گا:
• اپنی زمین کسی کو کرائے پر دینا جائز ہے, کرایہ چاہے پیسے کی شکل میں ہو, یا غلے کی شکل میں۔ البتہ کرایہ اگر غلے کی شکل میں ہے تو یہ شرط لگانا جائز نہیں کہ غلہ اسی زمین کا ہو۔
• اپنی زمین میں کسی کے ساتھ شراکت داری کرنا جائز ہے, بایں طور کہ ایک آدمی کی زمین, اور دوسرے کی محنت ہو, غلہ دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے, بشرطیکہ:
1. زمین کی شراکت داری میں دونوں شرکاء کا حصہ پرسینٹ میں ہو, نہ کہ فکس۔
2. ایک شریک اپنے لیے زمین کے کسی خاص حصے کا غلہ فکس نہ کرے۔
3. ایک شریک غلے کی ایک خاص مقدار اپنے لیے فکس نہ کرے۔
• اگر ان تینوں شرطوں میں سے کسی شرط کی مخالفت ہوتی ہے تو یہ شراکت داری کے اصولوں کے خلاف ہے, اور انہیں مخالفات کی وجہ سے بعض حدیثوں میں زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا گیا ہے۔

کرایہ یا شراکت کی بنیاد پر اپنے کھیت کو کسی اور کے حوالے کرنے کی پانچ صورتیں بن سکتی ہیں, جن میں دو عقد المؤاجرۃ (کرایہ) اور تین عقد المشارکۃ (شراکت داری ہیں), پہلی تین صورتیں جائز اور دو صورتیں نا جائز ہیں۔
جن احادیث میں زمین کو کرایہ یا مزارعۃ پر دینے کی اجازت دی گئی ہے ان سے مراد یہی تینوں صورتیں ہیں, جن حدیثوں میں زمین کو کرایہ یا مزارعۃ پر دینے سے منع کیا گیا ہے ان سے مراد یہی دونوں صورتیں ہیں, تفصیل اس طرح ہے:

پہلی صورت: کوئی اپنا کھیت کسی کو ایک متعینہ مدت تک کے لیے اس طرح دے رہا ہے کہ اس کے بدلے میں مجھے پچاس ہزار روپیہ (مثلا) چاہئے, تو یہ جائز ہے, کیوں کہ یہ (عقد المؤاجرۃ) ہے۔ اورپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ عقد المؤاجرۃ میں اجرت کا فکس ہونا ضروری ہے, اور فریقین کا ایک دوسرے کے نفع نقصان سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ہے, اب اگر زمین کو کرایہ پر لینے والا چاہے اس پر کھیتی کرکے اس سے فائدہ اٹھائے, یا اسے یونہی چھوڑ رکھے, یا کھیتی کرنے کے باوجود بھی اس میں غلہ پیدا نہ ہو, کوئی فرق نہیں پڑتا ہے, کیوں کہ اجرت کا یہی اصول ہے۔
اس کی بعض دلیلیں یہ ہیں:
• عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ، وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» صحیح مسلم
• عن حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ» صحیح مسلم
• عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: «كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ، وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا» صحیح مسلم
• عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الأَرْضِ «فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ»، فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: «لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ»، وَقَالَ اللَّيْثُ: «وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الفَهْمِ بِالحَلاَلِ وَالحَرَامِ، لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ المُخَاطَرَةِ» صحیح البخاری

دوسری صورت: کوئی اپنا کھیت کسی کو ایک متعینہ مدت تک کے لیے دے, اور اس سے کہے کہ مجھے اس کا کرایہ سو کلو گیہوں چاہئے, وہ گیہوں آپ کہاں سے لاکر دیں گے, مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صورت بھی عقد المؤاجرۃ کی ہے, اور پہلی صورت ہی کی طرح جائز ہے, دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی صورت میں اجرت پیسہ تھا, اور یہاں اجرت غلہ ہے۔
اور اس صورت کی دلیلیں بھی وہی ہیں جو پہلی صورت کی۔

تیسری صورت: کوئی اپنا کھیت کسی کو کھیتی کرنے کے لیے دے, اس شرط پر کہ اس میں جو کچھ بھی پیدا ہوگا, اس کا پچاس پرسینٹ میرا, پچاس پرسینٹ آپ کا۔ (یا جتنے پرسینٹ پر دونوں کا اتفاق ہو جائے)۔ یہ عقد المشارکۃ ہے, ایک آدمی کا کھیت, دوسرے کی محنت, اور نفع دونوں کے درمیان تقسیم کیا جارہا ہے, نفع فکس بھی نہیں ہے, بلکہ کم زیادہ جو بھی ہوگا دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ اس لیے یہ جائز ہے۔
اس کی سب سے واضح دلیل یہ حدیث ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ» صحیح مسلم

چوتھی صورت: کوئی اپنا کھیت کسی کو کھیتی کرنے کے لیے دے, اس شرط پر کہ اس کھیت میں جو غلہ پیدا ہوگا اس میں سے سو کلو میرا, باقی آپ کا۔
یہ بھی عقد المشارکۃ ہے, کیوں کہ ایک کی زمین, دوسرے کی محنت, فائدہ دونوں کے درمیان تقسیم۔
لیکن یہ جائز نہیں ہے, کیوں کہ عقد المشارکۃ میں فائدہ فکس ہونے سے جوا اور قمار کی شکل بن جاتی ہے, ممکن ہے اس زمین میں سو کلو ہی غلہ پیدا ہو, یا اس سے بھی کم ہو, ایسی صورت میں کھیتی کرنے والے کو کچھ بھی نہیں ملے گا, جب کہ عقد مشارکۃ میں دونوں کا شریک ہونا ضروری ہے۔

پانچویں صورت: کوئی اپنا کھیت کسی کو کھیتی کرنے کے لیے دے, اور یہ شرط رکھے کہ اس کھیت کے فلاں حصے میں جو غلہ پیدا ہوگا وہ میرا, باقی آپ کا۔
یہ بھی عقد مشارکۃ ہی ہے, اور یہ صورت بھی جائز نہیں ہے, سبب وہی ہے جو چوتھی صورت میں بیان کیا جا چکا۔
چوتھی اور پانچویں صورت کے عدم جواز کی بعض دلیلیں یہ ہیں:
• عن ثَابِت بْن الضَّحَّاكِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ» صحیح مسلم
• عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. صحیح مسلم
• عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ، أَوْ حَظٌّ» صحیح مسلم
• عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ» صحیح البخاری
• عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ المَزَارِعِ» فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ المَزَارِعِ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَا عَلَى الأَرْبِعَاءِ، وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ» البخاری
کراء الأرض یا مزارعۃ سے ممانعت کی جو حدیثیں ہیں, ان سے مراد یہی دونوں صورتیں ہیں, نہ کہ مطلق طور سے زمین کو کرائے پر یا مشارکت پر دینا منع ہے, جیسا کہ اس کی وضاحت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کر دی ہے۔
Naseem Khan

31/08/2024

آج کل دنیا بھر میں اور خاص کر عرب دنیا میں ایک فلم کے بڑے چرچے ہیں ۔ اس فلم کا نام Goat Life ہے جس کو عربی میں
" حیاہ الماعز" کہا جاتا ہے۔ اگر چہ یہ فلم نیٹ فلیکس پر موجود ہے لیکن یہاں سعودی عرب میں نہیں دیکھایا جا رہا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جس سچے واقعے کو بنیاد بنا کر انڈیا نے یہ فلم بنائی اس واقعے کا ایک دوسرا مثبت پہلو بھی تھا جو نہیں فلمایا گیا۔ میں نے فلم دیکھی نہیں ہے لیکن اس کے کچھ کلپس اور اس کے بارے میں تبصرے اور اس کی کہانی سنی ہے۔ آج میں آپ کو یہ مکمل اصلی واقعہ سناتا ہوں۔
یہ واقعہ تین سال پہلے ایک سعودی شخص نے ایک چینل پر بیٹھ کر سنایا تھا۔ فلم تو اب بنی ہے اس پر۔ ہوا یوں کہ 1991 میں سعودی عرب کے شھر حفر الباطن میں یہ واقعہ ہوا تھا۔ حفرالباطن سعودی عرب کے مشرقی صوبے کا شہرہے جس کا نزدیکی انٹرنیشنل ائیرپورٹ دمام ہے۔
ہوا یوں کہ ایک ہندوستانی شخص جس کا نام نجیب تھا وہ کسی کمپنی کے ویزے پر آیا۔ اس وقت یہ شخص ہندو تھا نجیب نام بعد میں پڑ گیا تھا۔ اس وقت مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس زمانے میں موبائل ہوتے نہیں تھے زبان سمجھ نہیں آتی تھی پہلی بار آنے والوں کو ۔ کبھی کبھار یار دوست , کفیل یا کمپنی ائیرپورٹ لینے کیلئے نہیں پہنچ پاتی تھی, یا بھول جاتی تھی وغیرہ وغیرہ۔

نجیب کی کمپنی نجیب کو لینے ائیرپورٹ نہیں آئی۔ اسے نہیں معلوم تھا کمپنی کونسے شہر میں ہے, اس دوران ایک سعودی شہری نے اس سے بات چیت کی کوشش کی , ظاہری بات ہے سمجھ کسی کو بھی نہیں آئی ایک دوسرے کی بات۔
سعودی شہری نے شاید اپنا ورکر سمجھ کے اس کو اپنے ساتھ جانے کا اشارہ کیا یا جان بوجھ کر اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی, اللہ کو علم ہو گا, نجیب اس کے ساتھ چل پڑا۔

وہ شخص نجیب کو لے اپنے جانوروں کے طبیلے لے گیا۔ عموما سعودی عرب میں بھیڑ بکریاں, اونٹ رکھنے والے لوگ دور صحرا میں آبادی سے کافی ہٹ کے خیمے لگا کر اور جانوروں کے لئے لکڑی کے لمبے طبیلے سے بنا لیتے ہیں۔ وہاں سے سڑک یا آبادی بہت دور ہوتی ہے۔ نجیب کو وہاں لے جا کر جانوروں کو چرانے پر لگا دیا۔ زبان کی بندش کی وجہ سے کچھ نہیں ہو پا رہا تھا۔

مختصرا یہ کہ نجیب وہاں پانچ سال اپنے گھر سے دور صحرا میں بغیر تنخواہ کے جانور چراتا رہا۔ معمولی سا کھانا ملتا تھا اور بس یہ سب کچھ۔
پانچ سال بعد نجیب نے موقع پایا اپنے کفیل کو کسی لوہے کے راڈ سے سرپر مارا وہاں سے کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہوا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا کفیل اس راڈ کے وار سے انتقال کر گیا تھا۔
ادھر نجیب سڑک تک پہنچ گیا وہاں کسی بھلے آدمی نے اسے اٹھایا شہر یا کسی قصبے لے گیا۔ وہاں پولیس کو کسی نے خبر دی اسے گرفتار کرکے لے گئے۔ عدالت میں کیس چلا۔ نجیب کو دیت کے طور پر مقتول کے بیٹے کو ایک لاکھ ستر ہزار رہال دینے کا حکم ہوا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے پانچ سال قید کی سزا گزارنی تھی اور سزائے موت ہونی تھی۔
بحرحال نجیب پیسے کہاں سے لاتا اس لئے پانچ سال کے لئے جیل چلا گیا۔ یہ کیس اور نجیب کا واقعہ آہستہ آہستہ مقامی لوگوں میں پھیلنے لگا۔ کافی وقت لگا نجیب کی رہائی کی اجتماعی کوشش میں ۔ مقامی سعودیوں نے پہلے جب یہ سارا واقعہ سںنا اور عدالت کا فیصلہ پڑھا تو وہ نجیب کی جیل سے رہائی کے لئے سرگرم ہو گئے اس وقت نجیب کی دیت والی رقم کافی بڑی تھی کوئی اکیلا شخص نہیں دے سکتا تھا بڑی مخنت اور کوشش کے بعد رقم جمع ہو گئی۔ اس وقت سوشل میڈیا تھا نہیں۔ لوگوں کے پاس جا جا کے مانگنا پڑتا تھا۔ بڑی رقم تھی جو دس بیس , سو ریال سے پوری کرنا مشکل تھا۔ بالاخر چند سال کی کوشش سے بالاخر رقم پوری ہو گئ۔

نجیب کے کفیل کے بیٹے کے پاس لوگ گئے اور اسے جیل لے جا کر دیت کی رقم مجرم کے سامنے پیش کرنے کی کاروائی شروع کی , سعودی عرب میں قاتل کو دیت کے لئے مقتولین کے سامنے لاکر معاملہ ختم کیا جاتا ہے۔ نجیب کے کفیل کے بیٹے کے دل میں بھی اتنے لمبے عرصے کے بعد نرمی آ گئی تھی اور نجیب کے ساتھ اپنے باپ کی زیادتی کا احساس ہوا تھا۔
اس نے کہا اگرچہ تو نے میرے والد کو قتل کیا ہے لیکن اپ کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے اس لئےمیں یہ رقم والد کے ہاتھوں اپ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے لئے بطور جرمانہ واپس کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اپ میرے والد کو معاف کر لیں گے۔

جب نجیب جیل سے باہر آیا تو انہیں سعودی لوگوں نے کچھ اور پیسے دئیے جنہوں نے اس کی رہائی کی کوشش کی تھی جس پر نجیب نے پوچھا , کیا آپ لوگ مسلمان ہو؟
انہوں نے کہا الحمداللہ! کیوں پوچھ رہے ہو ایسے؟
نجیب نے پوچھا" کیا میرا کفیل بھی مسلمان تھا"
وہ لوگ سمجھ گئے کہ وہ کیوں یہ پوچھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہم مسلمانوں میں بھی برے اور اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں نجیب نے ان لوگوں کی مدد کرنے اور کفیل کے بیٹے کے روئے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور انڈیا واپس چلا گیا۔
تو یہ تھی مکمل کہانی جسے ایک سعودی نے تین سال پہلے سنائی تھی ۔ یوٹیوب پہ مل جائے گی عربی زبان میں۔ انڈیا نے ادھا ادھورا قصہ فلمایا ہے۔

بات یہ ہے کہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں اور شاید ہو رہے ہوں لیکن پورے سعودی معاشرے کو ایسا سمجھنا نہایت غلط ہو گا۔
چند سال پہلے شاید اپ لوگوں نے ایک ویڈیو دیکھی ہو گی کہ ایک سعودی شہری جیل میں قید ایک پاکستانی ڈرائیور کی تین لاکھ کی دیت کی رقم دے کر اسے آزاد کروا رہا ہے۔ اس ڈرائیور نے ایکسڈینٹ میں 3 لوگوں کو مارا تھا۔

منقول

28/08/2023

بیرگنج / کئیر خبر نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نارائن کاجی شریسٹھا نے نیپالی عوام سے بین ذات اور مذہبی رواداری کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ آج یہاں پریس سینٹر نیپال...

12/07/2023

مئو ناتھ بھنجن / کئیر خبر یہ خبر نہایت ہی رنج و افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ شیخ العرب والعجم استاذ الاساتذہ سند العلماء بقیۃ السلف نامور عالم دین حضرت مولانا محمد اعظمی ص....

30/06/2023

کٹھمنڈو / کئیر خبر عید الاضحی کے موقع پر پورے ملک نیپال میں عید قربان نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی لاکھوں فرزندان توحید و خواتین امت نے قربانیاں کیں اور ملک میں ا....

19/06/2023

کاٹھمانڈو؛ لکھنؤ؛ پٹنہ؛ بردیا؛ نیپال گنج/ کیئر خبر صوبائی جمعیت اہلحدیث ممبئی ؛ جمعیت اہلحدیث نیپال ؛ مرکزی دار القضاء لکھنؤ امارت شرعیہ پٹنہ اور نیپال روئت ہلال کم....

Address

Kathmandu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Markazi Jamiat Ahlehadees Nepal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share