24/03/2026
چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا صاحب کو جاپان میں خوش آمدید
ہم جاپان میں Syed Qamar Raza صاحب کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی قیادت سنبھالنے کے بعد ان کا اوورسیز کمیونٹی کے درمیان آنا ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ان کی ترسیلاتِ زر بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتی پالیسی سازی میں انہیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
گاڑیوں سے متعلق اسکیموں میں حالیہ تبدیلیاں
حال ہی میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے موجود واحد مؤثر سہولت — جس کے ذریعے وہ اپنی محنت کی کمائی سے پاکستان میں گاڑی بھیج کر اضافی آمدنی حاصل کر سکتے تھے — اس میں متعدد پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں:
• بیگیج اسکیم پر پابندی
• گفٹ اسکیم میں گاڑی فروخت کرنے کی مدت دو سال سے بڑھا کر تین سال کرنا
• ٹی آر اسکیم میں یہ شرط کہ گاڑی صرف اسی ملک سے بھیجی جا سکتی ہے جہاں اوورسیز پاکستانی مقیم ہو
• گاڑی پاکستان آنے کے بعد ایک سال تک اسی شخص کے نام رجسٹر رہنے کی پابندی، یعنی مالی ایمرجنسی کی صورت میں بھی فروخت کی اجازت نہیں
خصوصاً ٹی آر اسکیم کی شرط عملی طور پر غیر مؤثر ہے کیونکہ زیادہ تر پاکستانی گلف ریاستوں میں مقیم ہیں جہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں، جو پاکستان میں قابلِ رجسٹریشن نہیں ہوتیں۔
ایک سال لازمی رجسٹریشن کی شرط نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اوورسیز پاکستانی کے مالی اختیار کو بھی محدود کرتی ہے۔
ہم نے چیئرمین او پی ایف کے سرکاری پلیٹ فارم پر دیکھا کہ یہ معاملات ان کے نوٹس میں ہیں، تاہم ان تبدیلیوں کو سات سے آٹھ ماہ گزر چکے ہیں اور ایک واضح بیک لاگ پیدا ہو چکا ہے جس سے اوورسیز کمیونٹی اور کار ایکسپورٹ سیکٹر متاثر ہو رہا ہے۔
ہماری گزارشات اور تجاویز
ہم بطور ذمہ دار اسٹیک ہولڈرز مطالبہ کرتے ہیں کہ:
• ایک سال لازمی رجسٹریشن کی شرط ختم کی جائے
• ٹی آر اسکیم میں ملکِ اقامت کی پابندی پر نظرثانی کی جائے
• گاڑی اسکیموں کو آسان، شفاف اور عملی بنایا جائے
ترسیلاتِ زر پر مراعاتی ماڈل کی تجویز
اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مراعاتی فارمولا متعارف کروایا جائے:
• اگر کوئی پاکستانی مخصوص مدت میں 50,000 امریکی ڈالر پاکستان بھیجے تو 660 سی سی گاڑی پر 50٪ ڈیوٹی ویور دیا جائے
• 100,000 ڈالر ریمیٹ کرنے پر 1000 سی سی گاڑی پر 50٪ ڈیوٹی ویور دیا جائے
• 200,000 ڈالر یا اس سے زائد ترسیلات پر 1300–1500 سی سی یا جیپس پر مناسب ڈیوٹی ریلیف دیا جائے
یہ مراعات دراصل قومی خدمت کا اعتراف ہوں گی اور اس سے ترسیلاتِ زر میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔
دیگر ضروری سہولیات
• اوورسیز پاکستانیوں کو آن لائن ایف آئی آر درج کروانے کا اختیار دیا جائے
• پراپرٹی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے
• خصوصی عدالتوں میں اسپیڈی ٹرائل کی سہولت فراہم کی جائے
تاکہ اوورسیز پاکستانی بیرونِ ملک اطمینان اور ذہنی سکون کے ساتھ کام کر سکیں اور وطن کے ساتھ ان کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
ہم اس موقع پر Asad Nawaz اور Chaudhry Asif کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس دورے کے انعقاد میں کردار ادا کیا اور اوورسیز کمیونٹی اور قیادت کے درمیان رابطے کو ممکن بنایا۔
ہمیں امید ہے کہ چیئرمین او پی ایف صاحب اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بن کر ان مسائل پر عملی اور مثبت پیش رفت کریں گے۔
President, Car Exporters Association for Pakistan
راشد محمود اعوان