18/08/2026
پاکستان کی شاہراہوں پر روشن مستقبل: عمودی ہوائی ٹربائنز سے خود کفیل توانائی کا تصور
تحریر: محمد شکیل خان
پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران اور بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب روایتی ایندھن یعنی تیل اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، دنیا اب سبز اور پائیدار توانائی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ان جدید طریقوں کو اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
انہی پائیدار طریقوں میں سے ایک بہترین حل عمودی ہوائی ٹربائنز (سیدھے محور پر گھومنے والے پون چرخے) کی صورت میں سامنے آیا ہے، جنہیں ہماری قومی شاہراہوں اور تیز رفتار سڑکوں کے درمیان موجود درمیانی پٹی (ڈیوائیڈر) پر نصب کیا جا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
جب شاہراہوں پر گاڑیاں (خصوصاً بھاری ٹرک اور بسیں) تیز رفتاری سے گزرتی ہیں، تو وہ اپنے ساتھ ہوا کا ایک شدید دباؤ اور بہاؤ پیدا کرتی ہیں۔
عمودی ہوائی ٹربائنز کا بناوٹ روایتی پنکھا نما ٹربائنز سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی سمت سے آنے والی ہوا کو جذب کر کے گھومنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سڑک کے درمیان نصب یہ ٹربائنز گاڑیوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی ہوا کی مدد سے مسلسل گھوم کر بجلی پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اس منصوبے کے فوائد
سڑک کے چراغوں کا خودکار نظام:
ان ٹربائنز سے پیدا ہونے والی بجلی کو فوری طور پر شاہراہوں کے چراغوں (اسٹریٹ لائٹس) کو روشن کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے قومی بجلی گھروں پر بوجھ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
زمین کی بچت:
اس منصوبے کے لیے الگ سے کسی زمین کو خریدنے یا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سڑکوں کے درمیان موجود خالی جگہ ہی اس کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
دن اور رات بلا تعطل بجلی:
شمسی توانائ کے تختے (سولر پینل) صرف دن کے وقت دھوپ میں کام کرتے ہیں، جبکہ یہ ہوائی ٹربائنز دن ہو یا رات، گاڑیوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی ہوا کے ساتھ مسلسل کام کرتی رہتی ہیں۔
قومی پرچم کی تھیم اور جدید خوبصورتی:
اگر ان ٹربائنز کو سبز اور سفید (قومی پرچم) کے رنگوں اور چاند تارے کے نقش سے آراستہ کیا جائے، تو یہ نہ صرف ہماری شاہراہوں کو ایک خوبصورت اور جدید منظر فراہم کریں گی بلکہ ایک سرسبز اور خودکفیل پاکستان کی علامت بھی بنیں گی۔
چیلنجز اور عملی اقدامات
اگرچہ یہ ایک انتہائی دلکش اور فائدہ مند تصور ہے، لیکن اس کی کامیابی کے لیے چند امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
ابتدائی لاگت: ان ٹربائنز اور ان کے ساتھ جڑے ذخیرہ اندوزی کے نظام (بیٹریوں) کی ابتدائی لاگت زیادہ ہو سکتی ہے۔
دیکھ بھال: دھول، مٹی اور تیز رفتاری کے ماحول میں ان کی باقاعدگی سے دیکھ بھال اور مرمت ضروری ہوگی۔
نتیجہ
پاکستان کی تیز رفتار شاہراہوں اور جی ٹی روڈ کا وسیع نظام اس منصوبے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ باہمی شراکت داری کے تحت آزمائشی طور پر کسی ایک شاہراہ سے اس کی شروعات کریں، تو یہ نہ صرف بجلی کی بچت کا ذریعہ بنے گا بلکہ پاکستان کو دنیا بھر میں جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے والے ملک کے طور پر پیش کرے گا۔
آئیے! ایک روشن، خودکفیل اور پاک پاکستان کی بنیاد رکھیں۔