Islamic Q/A

Islamic Q/A ​Researcher & Religious Scholar. PhD in Comparative Tafsir | Arabic TOEFL | ICDL & AI Expert. Author of 30+ research Articles.

Defending the Ahlulbayt (AS) school of thought and promoting the true teachings of Islam through Quran & Traditions.

جواب:اے ابو خزیمه! تمہاری یہ جهالت بھری پوسٹ تمہارے فکری دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔​شیعه عقیدہ بالکل واضح اور روشن...
28/07/2026

جواب:
اے ابو خزیمه! تمہاری یہ جهالت بھری پوسٹ تمہارے فکری دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
​شیعه عقیدہ بالکل واضح اور روشن ہے:
​۱. عقیدۂ توحید و رسالت: ہم حضرت محمد مصطفی (صلی الله علیه و آله و سلم) کو اللہ کے آخری نبی اور رسول مانتے ہیں، اور آپ کے بعد کسی کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ جو نبی اور امام میں فرق نہیں سمجھتا، وہ یا تو جاہل ہے یا تعصب کی عینک پہنے ہوئے ہے۔
​۲. مقامِ امامت: شیعہ عقیدے کے مطابق امام نبی نہیں ہوتا، بلکہ نبی کا جانشین، معصوم رہبر اور محافظِ شریعت ہوتا ہے، جس پر وحی نازل نہیں ہوتی۔
​۳. تمہاری کتب سے دلیل: خود تمہارے نزدیک حضرت عمر کا یہ قول کتابوں میں موجود ہے کہ جب رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) نے مرضِ وفات میں قلم اور کاغذ مانگا تو عمر نے کہا: "إن النبي غلب عليه الوجع، وعندنا كتاب الله حسبنا" (بخاري، ج ۱، ص ۳۷) — کیا تم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ تم نبی اور امتی کے درمیان کیا فرق کرتے ہو؟
اے نادان! نبی اور امام کے درمیان فرق پوچھنے سے پہلے اپنے فکری تضاد کو دیکھو۔ شیعہ مکتبِ فکر میں نبی اور امام کا فرق بالکل واضح اور آفتاب کی طرح روشن ہے:
۱. وحی کا نزول: نبی پر خدا کی طرف سے وحیِ تشریعی نازل ہوتی ہے اور وہ صاحبِ شریعت ہوتا ہے، جب کہ امام پر وحی نازل نہیں ہوتی اور وہ صرف شریعتِ محمدی کا محافظ اور مفسر ہوتا ہے۔ (اصول کافی، ج ۱، ص ۱۷۶)
۲. مقامِ نبوت: حضرت محمد مصطفی (صلی الله علیه و آله و سلم) اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہے۔ امام نبی کے بعد صرف منصبِ امامت پر فائز ہوتا ہے، نبوت پر نہیں۔ (بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۳۲)
۳. تشریع و قانون سازی: نبی اللہ کے حکم سے نئے احکام اور شریعت لے کر آتا ہے، جب کہ امام کی ذمہ داری صرف اسی شریعت کی حفاظت اور تبلیغ کرنا ہے، وہ خود کوئی نئی شریعت نہیں بناتا۔
۴. معصوم بلا واسطہ بمقابلہ جانشین: نبی خدا کی طرف سے براہِ راست مبعوث ہوتا ہے، جب کہ امام خدا کے حکم اور نبی کے نص (تعین) کے ذریعے اس کا جانشین بنتا ہے۔ (إحقاق الحق، ج ۱۲، ص ۴۱۵)
۵. مقامِ عصمت و علم: اگرچہ امام معصوم اور صاحبِ علمِ لدنی ہوتا ہے، لیکن وہ درجے میں کبھی بھی مقامِ نبوت اور رسالت تک نہیں پہنچ سکتا۔ انبیاء علیہم السلام تمام مخلوق سے افضل ہوتے ہیں۔
پہلے اپنے گھر کی خبر لو، جہاں تمہارے اپنے اکابرین (جیسے قاسم نانوتوی وغیرہ) ختمِ نبوت کے مفہوم پر بحث کرتے ہیں، اور پھر شیعوں پر اعتراض کرو!
abu khuzaima balouch Islamic Q/A

19/07/2026

علاقہ بتائیں ❤️

آپ احباب کہاں کہاں سے ایران کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

«المُؤمِنُ فِی الدُّنیا غَریبٌ، لا یَجزَعُ مِن ذُلِّها ولا یُنافِسُ فِی عِزِّها.»بحارالانوار، جلد ۷۸، صفحه ۲۵۴Islamic Q/...
19/07/2026

«المُؤمِنُ فِی الدُّنیا غَریبٌ، لا یَجزَعُ مِن ذُلِّها ولا یُنافِسُ فِی عِزِّها.»
بحارالانوار، جلد ۷۸، صفحه ۲۵۴

Islamic Q/A Hasan Rizvi TopFan

19/07/2026

نمبر تو قرآن مجید کا بھی چوتھا ہے
مگر پہلی تینوں کتابوں سے افضل ہے
💓

جواب سن لو !!!! Yasir Soharwardi تم نے معاویہ کو بڑا صحابی ثابت کرنے کے لیے غزوہ حنین کا ذکر کیا۔ یہ انعامات نئے مسلمان ...
17/07/2026

جواب سن لو !!!! Yasir Soharwardi
تم نے معاویہ کو بڑا صحابی ثابت کرنے کے لیے غزوہ حنین کا ذکر کیا۔ یہ انعامات نئے مسلمان ہونے والوں کو "تالیفِ قلب" کے لیے دیے گئے تھے، ایمان یا فضیلت کی بنا پر نہیں .

📜 حقیقتِ حال کچھ یوں ہے:

· مقصدِ تقسیم: جنگِ حنین کے مالِ غنیمت میں سے یہ بڑے حصے مؤلفۃ القلوب کو دلجوئی کے لیے دیے گئے، تاکہ اسلام سے ان کا دل بہل سکے، جیسا کہ قرآن (سورہ توبہ: ۶۰) میں ذکر ہے .
· شامل افراد: ابوسفیان، اس کے بیٹے معاویہ و یزید، صفوان بن امیہ، حکیم بن حزام اور دیگر مکہ کے سردار شامل تھے .
· مقدار: ابوسفیان اور معاویہ کو ۱۰۰ اونٹ اور چاندی دی گئی .
· انصار کا ردعمل: اس تقسیم پر خود انصار (مدینہ کے مہاجرین) کو بھی غصہ آیا، تو نبیﷺ نے انہیں تسلی دی کہ یہ دنیا انہیں دی جا رہی ہے، اور آپﷺ انصار کے ساتھ ہیں !

نتیجہ کلام : اگر یہ عطیات صحابیت کی علامت ہیں، تو ابوسفیان (جو فتح مکہ تک دشمن تھا) اور مشرکینِ مکہ بھی بڑے صحابی ٹھہرے! یہ تو محض سیاسی حکمتِ عملی تھی، فضیلت نہیں۔ تاریخی حقیقت کو آگے بڑھانے کی بجائے، اپنی کتب میں جھانک کر دیکھ لو!

Q/A

جواب سن لو !!!!!!!   Hafiz Muhammad Awais کا یہ دعویٰ کہ مولا علی (ع) نے سیدہ فاطمہ الزہرا (س) کی نمازِ جنازہ ابوبکر کے ...
14/07/2026

جواب سن لو !!!!!!! Hafiz Muhammad Awais
کا یہ دعویٰ کہ مولا علی (ع) نے سیدہ فاطمہ الزہرا (س) کی نمازِ جنازہ ابوبکر کے پیچھے پڑھی، تاریخی حقیقت کے خلاف اور من گھڑت ہے۔
اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں:
۱. تاریخی حقیقت: مستند روایات کے مطابق، مولا علی (ع) نے سیدہ (س) کی وصیت کے مطابق، رات کے اندھیرے میں ان کی تدفین فرمائی تاکہ ان پر ظلم کرنے والے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں۔ [ صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، حدیث ۴۲۴۰]
۲. سیدہ کی ناراضگی: صحیح بخاری کی متفقہ روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ (س) ابوبکر سے اپنی وفات تک ناراض رہیں اور ان سے کلام نہیں کیا۔ [صحیح بخاری، کتاب الفرائض، حدیث ۶۷۲۶]
سوال یہ ہے: جو سیدہ (س) اپنی حیات میں ان سے ناراض رہیں، کیا وہ ممکن ہے کہ اُن کے جنازے کی امامت وہی شخص کرے؟ یہ کھلا تضاد ہے!
نتیجہ: آپ کا دعویٰ جھوٹ اور اہل بیت (ع) کے خلاف تعصب پر مبنی ہے۔ تاریخی حقائق کو مسخ کرنا بند کریں۔

او مولانا عبدالرشید محسود!!!!تعصب کی عینک اتارو اور ذرا غیرتِ ایمانی سے حقائق پڑھو!​عین الاسد پر براہِ راست حملہ: ایران ...
10/07/2026

او مولانا عبدالرشید محسود!!!!
تعصب کی عینک اتارو اور ذرا غیرتِ ایمانی سے حقائق پڑھو!
​عین الاسد پر براہِ راست حملہ:
ایران دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکہ پر براہِ راست حملہ کیا۔ جنوری 2020 میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے "عین الاسد" پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جس میں 100 سے زائد امریکی فوجی دماغی طور پر مفلوج ہوئے اور پینٹاگون نے اس ذلت کو تسلیم کیا۔ (حوالہ: CNN اور پینٹاگون رپورٹ، جنوری 2020)
​امریکی بیڑے (Abraham Lincoln) کا خوف:
تم جیسے جاہل کو یہ نہیں معلوم کہ امریکی بحری بیڑہ ایرانی موشکوں کے خوف سے بندر عباس کے قریب آنے کی جرات ہی نہیں کرتا۔ وہ ایرانی خلیج فارس بیلسٹک میزائلوں (Khalij-e-Fars Anti-ship Missile) اور 'ابو مہدی' کروز میزائلوں کے خوف سے سینکڑوں میل دور بحیرہ عرب (Arabian Sea) میں چھپا رہتا ہے۔ امریکی سینٹکام خود اعتراف کر چکا ہے کہ خلیج فارس اب امریکی بحریہ کے لیے دنیا کا خطرناک ترین خطہ بن چکا ہے۔ (حوالہ: US Naval Institute - USNI Report)
​اصل منافقت کس کی ہے؟
ایران تو ہزاروں میل دور جا کر بھی مظلوم فلسطینیوں اور مسلمانوں کے دفاع میں امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑ رہا ہے۔ شرم تو تمہارے ان حکمرانوں کو آنی چاہیے جنہوں نے اپنی سرزمین پر امریکہ کو اڈے دیے ہوئے ہیں، جو غدارِ امت بن کر اسرائیل سے دوستیاں کر رہے ہیں اور جن کے اڈوں سے اڑنے والے امریکی طیارے مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں!
​جنگیں سستے پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نہیں، عسکری حکمتِ عملی سے لڑی جاتی ہیں۔ جاؤ، پہلے اپنے غدار حکمرانوں کو امریکی غلامی اور اسرائیل کی چاپلوسی سے آزاد کراؤ، پھر ایران پر انگلی اٹھانا-

امام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہےعارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ بیان کرتے ہیں :تمام معصومینؑ نبیِ...
07/07/2026

امام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہے
عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ بیان کرتے ہیں :
تمام معصومینؑ نبیِ اکرمؐ سے لے کر الإمام الحسن العسكريؑ تک جب کوئی زائر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ اس وقت اس پر توجہ فرماتے ہیں جب زائر خود بھی دل سے متوجہ ہو یعنی جتنا انسان خلوص اور توجہ کے ساتھ ان کی طرف رخ کرتا ہے اسی قدر وہ بھی اس پر عنایت فرماتے ہیں
لیکن الإمام علي بن موسى الرضاؑ کی ایک خاص خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ زائر کے آنے سے پہلے ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اس کے دل کو اُنس و سکون عطا کرتے ہیں یہاں تک کہ اگر انسان ابتدا میں غافل یا بے توجہ بھی ہو تب بھی وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں
اسی لیے آپؑ کو انیسُ النفوس
( دلوں کو اُنس دینے والے روحوں کو سکون بخشنے والے ) کہا جاتا ہے
یہ لقب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام رضاؑ کی ذات میں ایک خاص روحانی کشش اور تاثیر ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے اپنی بارگاہ کی طرف جذب کر لیتی ہے.

Jamiat Ahlihadith  Bewora Bijbehara آپ کا یہ دعویٰ کہ معاویہ 'کاتبِ وحی' تھے، ایک تاریخی فریب ہے۔ اول تو کاتبانِ وحی کی ...
07/07/2026

Jamiat Ahlihadith Bewora Bijbehara
آپ کا یہ دعویٰ کہ معاویہ 'کاتبِ وحی' تھے، ایک تاریخی فریب ہے۔ اول تو کاتبانِ وحی کی فہرست میں ان کا نام مستند روایات میں کہیں نہیں ملتا۔ ثانیاً، اگر وہ کاتبِ وحی ہوتے تو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کی زندگی کا وہ سیاہ باب نہ ہوتا جس میں انہوں نے اہلِ بیتِ نبوی ﷺ سے جنگیں کیں، حضرت علیؑ پر سب و شتم کیا اور نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسنؑ سے معاہدہ توڑ کر خلافت کو ملوکیت میں بدلا۔
​تاریخ گواہ ہے کہ معاویہ صرف 'کاتبِ نامہ جات' (خطوط لکھنے والے) تھے، نہ کہ کاتبِ وحی۔ خود صحیح مسلم اور دیگر کتب میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں بددعا دی کہ: 'لا اشبع اللہ بطنہ' (اللہ اس کا پیٹ کبھی نہ بھرے)۔ کیا کاتبِ وحی کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ایسی بددعا ممکن ہے؟ یہ عظیم صحابہ کی توہین ہے کہ آپ جیسے لوگ ایک طلقاء (آزاد کردہ غلام) کو کاتبِ وحی بنا کر اہلِ بیتؑ کے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں۔ اپنی جہالت کو علم کا نام دینا بند کریں۔
Islamic Q/A Hasan Rizvi

تمامی ممالک کے نمائندوں کے لیے قران کی ایات کا انتخاب کس انداز میں کیا گیا ملاحظہ فرمائیں۔۔
05/07/2026

تمامی ممالک کے نمائندوں کے لیے قران کی ایات کا انتخاب کس انداز میں کیا گیا ملاحظہ فرمائیں۔۔

Address

Mashhad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Q/A posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Islamic Q/A:

Shortcuts

Share