28/07/2026
جواب:
اے ابو خزیمه! تمہاری یہ جهالت بھری پوسٹ تمہارے فکری دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شیعه عقیدہ بالکل واضح اور روشن ہے:
۱. عقیدۂ توحید و رسالت: ہم حضرت محمد مصطفی (صلی الله علیه و آله و سلم) کو اللہ کے آخری نبی اور رسول مانتے ہیں، اور آپ کے بعد کسی کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ جو نبی اور امام میں فرق نہیں سمجھتا، وہ یا تو جاہل ہے یا تعصب کی عینک پہنے ہوئے ہے۔
۲. مقامِ امامت: شیعہ عقیدے کے مطابق امام نبی نہیں ہوتا، بلکہ نبی کا جانشین، معصوم رہبر اور محافظِ شریعت ہوتا ہے، جس پر وحی نازل نہیں ہوتی۔
۳. تمہاری کتب سے دلیل: خود تمہارے نزدیک حضرت عمر کا یہ قول کتابوں میں موجود ہے کہ جب رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) نے مرضِ وفات میں قلم اور کاغذ مانگا تو عمر نے کہا: "إن النبي غلب عليه الوجع، وعندنا كتاب الله حسبنا" (بخاري، ج ۱، ص ۳۷) — کیا تم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ تم نبی اور امتی کے درمیان کیا فرق کرتے ہو؟
اے نادان! نبی اور امام کے درمیان فرق پوچھنے سے پہلے اپنے فکری تضاد کو دیکھو۔ شیعہ مکتبِ فکر میں نبی اور امام کا فرق بالکل واضح اور آفتاب کی طرح روشن ہے:
۱. وحی کا نزول: نبی پر خدا کی طرف سے وحیِ تشریعی نازل ہوتی ہے اور وہ صاحبِ شریعت ہوتا ہے، جب کہ امام پر وحی نازل نہیں ہوتی اور وہ صرف شریعتِ محمدی کا محافظ اور مفسر ہوتا ہے۔ (اصول کافی، ج ۱، ص ۱۷۶)
۲. مقامِ نبوت: حضرت محمد مصطفی (صلی الله علیه و آله و سلم) اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہے۔ امام نبی کے بعد صرف منصبِ امامت پر فائز ہوتا ہے، نبوت پر نہیں۔ (بحار الأنوار، ج ۲۳، ص ۳۲)
۳. تشریع و قانون سازی: نبی اللہ کے حکم سے نئے احکام اور شریعت لے کر آتا ہے، جب کہ امام کی ذمہ داری صرف اسی شریعت کی حفاظت اور تبلیغ کرنا ہے، وہ خود کوئی نئی شریعت نہیں بناتا۔
۴. معصوم بلا واسطہ بمقابلہ جانشین: نبی خدا کی طرف سے براہِ راست مبعوث ہوتا ہے، جب کہ امام خدا کے حکم اور نبی کے نص (تعین) کے ذریعے اس کا جانشین بنتا ہے۔ (إحقاق الحق، ج ۱۲، ص ۴۱۵)
۵. مقامِ عصمت و علم: اگرچہ امام معصوم اور صاحبِ علمِ لدنی ہوتا ہے، لیکن وہ درجے میں کبھی بھی مقامِ نبوت اور رسالت تک نہیں پہنچ سکتا۔ انبیاء علیہم السلام تمام مخلوق سے افضل ہوتے ہیں۔
پہلے اپنے گھر کی خبر لو، جہاں تمہارے اپنے اکابرین (جیسے قاسم نانوتوی وغیرہ) ختمِ نبوت کے مفہوم پر بحث کرتے ہیں، اور پھر شیعوں پر اعتراض کرو!
abu khuzaima balouch Islamic Q/A