Imam Ali ibn Musa Raza as

Imam Ali ibn Musa Raza as ★Wali-e-Khurasan,★
★Alim-e-Ale Muhammad (s.w.m), ★
★Gharib-ul-Ghuraba, ★
★Imam Hashtum

Mashhad Imam Reza as ki Ziyarat ki Arzo hy ?
09/08/2026

Mashhad Imam Reza as ki Ziyarat ki Arzo hy ?

08/08/2026

کیا آپ نے مشھد امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی ہے ؟

06/08/2026

مشھد آنے کے لیے دل نہیں تڑپتا؟

مام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہے عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ بیان کرتے ہیں :تمام معصومینؑ نبیِ...
03/07/2026

مام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہے
عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ بیان کرتے ہیں :
تمام معصومینؑ نبیِ اکرمؐ سے لے کر الإمام الحسن العسكريؑ تک جب کوئی زائر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ اس وقت اس پر توجہ فرماتے ہیں جب زائر خود بھی دل سے متوجہ ہو یعنی جتنا انسان خلوص اور توجہ کے ساتھ ان کی طرف رخ کرتا ہے اسی قدر وہ بھی اس پر عنایت فرماتے ہیں
لیکن الإمام علي بن موسى الرضاؑ کی ایک خاص خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ زائر کے آنے سے پہلے ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اس کے دل کو اُنس و سکون عطا کرتے ہیں یہاں تک کہ اگر انسان ابتدا میں غافل یا بے توجہ بھی ہو تب بھی وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں
اسی لیے آپؑ کو انیسُ النفوس
( دلوں کو اُنس دینے والے روحوں کو سکون بخشنے والے ) کہا جاتا ہے
یہ لقب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام رضاؑ کی ذات میں ایک خاص روحانی کشش اور تاثیر ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے اپنی ےمبارگاہ کی طرف جذب کر لیتی

حرمِ امام علی ابنِ موسیٰ الرضا ع
24/05/2026

حرمِ امام علی ابنِ موسیٰ الرضا ع

امام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہے؟نقل کیا جاتا ہے کہ السيد منير الخباز نے عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد ال...
01/05/2026

امام رضاؑ کو "انیسُ النفوس" کیوں کہا جاتا ہے؟

نقل کیا جاتا ہے کہ السيد منير الخباز نے عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ کے حوالے سے بیان کیا:

تمام معصومینؑ—نبیِ اکرمؐ سے لے کر الإمام الحسن العسكري علیہ السلام تک—جب کوئی زائر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، تو وہ اس وقت اس پر توجہ فرماتے ہیں جب زائر خود بھی دل سے متوجہ ہو۔ یعنی جتنا انسان خلوص اور توجہ کے ساتھ ان کی طرف رخ کرتا ہے، اسی قدر وہ بھی اس پر عنایت فرماتے ہیں۔

لیکن الإمام علي بن موسى الرضا علیہ السلام کی ایک خاص خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ زائر کے آنے سے پہلے ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اس کے دل کو اُنس و سکون عطا کرتے ہیں—یہاں تک کہ اگر انسان ابتدا میں غافل یا بے توجہ بھی ہو، تب بھی وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔

اسی لیے آپؑ کو "انیسُ النفوس" (دلوں کو اُنس دینے والے، روحوں کو سکون بخشنے والے) کہا جاتا ہے۔

یہ لقب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام رضاؑ کی ذات میں ایک خاص روحانی کشش اور تاثیر ہے، جو انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے اپنی بارگاہ کی طرف جذب کر لیتی ہے۔

---
دعاؤں کی قبولیت کیلئے لکھیں سلام مولا رضا ع کہیں اور کمنٹ میں ڈن لکھیں

30/04/2026

ولادتِ باسعادت امام علی رضا علیہ السلام کے پرمسرت موقع پر باب المراد ٹرسٹ آپ کے لیے ایک نایاب تحفہ لایا ہے۔ اب آپ آستانِ قدس رضوی کے متبرک قالینوں کے ٹکڑے بطور تبرک حاصل کر سکتے ہیں۔
🎁 تبرک حاصل کرنے کا طریقہ:
یہ تبرکات ان مؤمنین کے لیے بطور ہدیہ ہیں جو ہمارے فلاحی منصوبوں میں سے کسی ایک میں اپنا حصہ ڈالیں گے:
1️⃣ دیہاتوں میں ذکرِ امام رضا (ع) کا انعقاد
2️⃣ سفید پوش بیٹیوں کا جہیز
3️⃣ مستحق خاندانوں کا راشن
4️⃣ یتیم بچوں کی تعلیم اور دیگر فلاحی کام

📦 ڈلیوری: تبرک بذریعہ کورئیر آپ کے گھر کی دہلیز پر پہنچایا جائے گا۔
📞 رابطہ برائے بکنگ:
واٹس ایپ: 00989023433309
آئیں! امامِ مہربان کی خوشی میں کسی مجبور کا سہارا بنیں اور اپنے گھر کو تبرکِ حرم سے منور کریں

چوکھٹ پر پہنچ جاؤں ذرا مولا رضاؑ کیتب سمجھوں میرا بخت رسا جاگ رہا ہےڈاکٹر ریحان اعظمی مرحوم ✍️
29/04/2026

چوکھٹ پر پہنچ جاؤں ذرا مولا رضاؑ کی
تب سمجھوں میرا بخت رسا جاگ رہا ہے

ڈاکٹر ریحان اعظمی مرحوم ✍️

🟠 یقیناً شہادت کا راستہ امام علی رضا علیہ السلام کی خادمی سے گزرتا ہے۔
29/04/2026

🟠 یقیناً شہادت کا راستہ امام علی رضا علیہ السلام کی خادمی سے گزرتا ہے۔

امام علی رضاؑ کا ایک مشہور و معروف واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے آپؑ کی خدمت با برکت میں آکر عرض کیا : میں آپؑ اور آپؑ کے آب...
29/04/2026

امام علی رضاؑ کا ایک مشہور و معروف واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے آپؑ کی خدمت با برکت میں آکر عرض کیا : میں آپؑ اور آپؑ کے آباء و اجداد کا چا ہنے والا ہوں میں حج کر کے واپس آرہا ہوں میرے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور جو کچھ ہے بھی اس سے کچھ کام حل ہونے والا نہیں ہے اگر آپؑ چاہیں تو میں اپنے شہر واپس پلٹ جائوں جب میرے پاس رقم ہو جائے گی تو میں اُس کو آپؑ کی طرف سے صدقہ دیدوں گا امامؑ نے اُس کو بیٹھنے کا حکم دیا اور آپؑ لوگوں سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے جب وہ سب آپؑ سے رخصت ہو کر چلے گئے اور آپؑ کے پاس صرف سلیمان جعفری اور خادم رہ گئے تو امامؑ اپنے بیت الشرف میں تشریف لے گئے اور پردے کے پیچھے سے فرمایا : خراسانی کہاں ہے ؟
جب وہ کھڑا ہوا تو امامؑ نے اُس کو دو سو دینار دئے اور کہا کہ یہ تمھارے راستے کا خرچ اور نفقہ ہے اور اِن کو میری طرف سے صدقہ نہ دینا وہ شخص امامؑ کی عطا کردہ نعمت سے مالا مال اور خوش ہو کر چلا گیا سلیمان نے امامؑ کی خدمت میں یوں عرض کیا : میری جان آپؑ پر فدا ہو آپؑ نے احسان کیا اور صلۂ رحم کیا تو آپؑ نے اس سے اپنا رخ انور کیوں چھپایا
امامؑ نے جواب میں فرمایا : میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں سوال کرنے والے کے چہرہ میں ذلت کے آثار دیکھنا نہیں چاہتا کہ میں اس کی حاجت روائی کر رہا ہوں کیا تم نے رسول خداؐ کا یہ فرمان نہیں سُنا کہ : چھُپ کر کی جانے والی نیکی ستّر حج کے برابر اورعلی الاعلان برائی انجام دینے والا متروک شمار ہوتا ہو کیا تم نے شاعر کا یہ شعر نہیں سنا :
مَتیٰ آتہِ یَوماً لِاَطْلُبَ حَاجَةً
رَجَعْتُ اِلیٰ أَھْلِْ وَوَجْھْ بِمَائِہِ
جب میں ایک دن کسی حاجت کے لئے اس کے پاس آئوں تو میں اپنے اہل و عیال کے پاس پلٹا تو میری عزت اُن کی عزت سے وابستہ تھی

Address

Mashad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imam Ali ibn Musa Raza as posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share